متفرقات

ادب کا معاشرے کی تہذیب اور ترقی میں کردار

امن ایک خواب ہے‘ یہ خواب شاعر‘ ادیب اور دانشور معلوم انسانی تاریخ سے دیکھتے چلے آئے ہیں۔ معاشروں کی ترقی اور ترویج میں شاعروں اور ادیبوں کی طرف سے دیکھے گئے خوابوں نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ وہ امریکہ یا افریقی ممالک میں سیاہ فام لوگوں پر روا رکھے جانے والے مظالم ہوں‘ فرانس میں بادشاہت کا کردار ہو یا روس میں زار شاہی عہد‘ وہاں کے لکھنے والوں نے معاشروں کو ساکت و جامد اور مردہ ہونے سے بچایا اور انہیں ترقی کی روشن راہوں پر گامزن کیا۔ اس ضمن میں مولئیر‘‘ خلابیئر‘ روسو‘ ملارمے‘ ژان پال سارتر‘ میکسم گورکی‘ چیخوف اور جوزف کانریڈ سمیت دیگر بے شمار لکھنے والوں کا کردار نمایاں نظر آتا ہے۔ ان لوگوں کی تخلیقات کا مطالعہ کرنے سے یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ ادب نہ صرف زندگی میں نئے امکانات کی دریافت اور ترویج و اشاعت کا نام ہے بلکہ انسان کے زندگی کے مسائل اور معاملات سے عہدہ برآ ہونے کے لئے درکار حوصلے کانام بھی ہے۔ اس کے ڈانڈے اٹھارویں صدی میں پھوٹنے والی روشن خیالی کی تحریک سے شروع ہو کر آج کی مابعدالطبیعاتی اور نفسیاتی تحریکوں سے بھی ملتے ہیں اور اس کے اثرات ہماری آج کی سائنسی اور میکانکی زندگی پر بھی برابر پڑتے محسوس ہوتے ہیں۔۔۔ تبدیلی اور ترقی کے ان بنیادی نکات میں علم دوستی‘ استحصال کی جگہ پیداوار کے نئے ذرائع دریافت کرنے‘ ان ذرائع پیداوار سے شغف رکھنے اور اسے بنی نوعِ انسان کے لئے قابلِ استعمال بنانے جیسے رجحانات شامل ہیں۔۔ ہر عہد میں انسان کی بہتری‘ خوشحالی‘ ترقی اور ترویج کے لئے خواب دیکھنے‘ لکھنے اور ان پر ٹھوس اقدامات کئے جانے کی تمنا رکھنے والے شاعروں اور ادیبوں نے انسانی تاریخ کو کسی لگے بندھے سانچے میں اسیر ہونے کی بجائے نئی راہیں دکھائی ہیں۔ یہ راہیں‘ نئی صبحوں اور ارتقاء کی راہیں ہیں۔ ان کی طرف سے قوم کے لئے عمل میں لائی جانے والی فکری راہنمائی نے ہی اجتماعی تہذیب کا روپ دھارا ہے۔
ایک معاشرہ جس میں بے راہ رو انسانوں کی زندگیوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے سرسیداحمدخان نے لکھا ہے ’’روز پٹتے ہیں‘ کپڑے جھاڑتے ہیں‘ سر سہلاتے ہیں۔ لیکن اپنی ہی امید کے برخلاف اپنی راہ نہیں لگتے۔ روز پٹنے کے لئے واپس آجاتے ہیں۔‘‘ ایسے لوگوں کے لئے ہی علم‘ شعور‘ آگہی‘ تجربے اور دریافت کی بھٹیاں سلگائی جاتی ہیں‘ تعلیم و تربیت کے سانچے میں ڈھلنے کے بعد ترقی کی نئی راہیں متعین ہوتی ہیں‘ اور ان راہوں پر قدم سے قدم ملا کر چلنے سے ایک نئی اور جدید تہذیب تشکیل پاتی ہے۔


علم ‘ شعور اور تہذیب کا لفظ اور حرف کے ساتھ گہرا تعلق بنتا ہے۔ ان سب اشیاء کا مرکب ہے‘ کتاب اور مکتب۔ ادباء و شعراء اور دانشور ایک طرح سے استاد کے منصب پر ہی فائز ہوتے ہیں۔ استاد کی ایک معاشرے میں اہمیت و افادیت مسلمہ ہے۔ اس حوالے سے میکسم گورکی نے عظیم افسانہ نگار چیخوف کے ساتھ اپنا ایک مکالمہ درج کیا ہے۔ کیا خوب صورت اور من لگتی بات ہے جو چیخوف نے کہی:


’’کیا تمہیں اندازہ ہے روس کے دیہی علاقوں میں سب سے زیادہ ضرورت کس کی ہے۔ پڑھے لکھے‘ اچھے اور سمجھدار اساتذہ کی۔ روس میں ہمیں فوری طور پر غیر معمولی ماحول تیار کرنا ہوگا۔ کیوں کہ ہمیں یہ معلوم ہے کہ روس کی ریاست تباہ ہو جائے گی اگر ایسے اساتذہ اس معاشرے میں نہیں ہوں گے جو قریب قریب سب علوم کو جانتے ہوں۔‘‘ ایک شاعر‘ ایک ادیب‘ ایک دانشور بھی معاشرے کے ان پڑھ اور نہ جاننے والی اکثریت کے لئے استاد کی ہی حیثیت رکھتا ہے۔۔۔ ایک عظیم اور بڑے لکھنے والے کی نشانی یہ بھی ہوتی ہے کہ وہ معاشرے میں سفاکیت‘ ظلم و جبر اور توڑ پھوڑ کی جگہ امن و محبت‘ بھائی چارے‘ روا داری اور قدرت کی قائم کی ہوئی رنگا رنگی اور فطرت کی بوُقلمونی میں مزید وسعت اور کشادگی پیدا کرتا ہے۔ ناروے کے عظیم دانشور اور سماجی مصلح فریڈرک ایس ہیفرمیہل نے اپنی ایک تحریر میں انتہائی خوب صورت اور پتے کی بات کہی ہے۔ لکھتے ہیں: ’’ہم کائنات کے واحد سبز سیارے پر رہائش پذیر ہیں۔ جہاں پر دل موہ لینے والی بے انتہا خوب صورتی اور فطرت کی رنگا رنگی اور زندگی کی بہت سی صورتیں پائی جاتی ہیں۔ کسی بھی انسانی نسل کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ معاشروں اور ثقافتوں میں موسیقی‘ رقص‘ مصوری‘ فلسفہ‘ پکوان‘ نگہداشت‘ سائنس‘ تعمیر اور ہنر مندی میں کامیابیوں کی طویل انسانی تاریخ کو ضائع کرے یا اسے کسی خطرے سے دوچار کرے۔ تاریخ کی ایک مخصوص مدت میں ٹیکنالوجی کی بے راہ رو ترقی کے ساتھ چند نظریاتی اختلافات کے میل کا اس کرّۂ ارض پر زندگی کے خاتمے کا سبب بن جانا وسیع تر تناظر میں اور منطقی لحاظ سے نہایت احمقانہ بات ہے۔‘‘


فریڈرک ایس ہیفر ہمیں یہ سمجھانے کی بات کررہے ہیں کہ انسانی ذہن اور آنکھوں نے برس ہا برس پر محیط خوابوں سے دنیا کو جس خوب صورتی اور ترقی کے زینے پرلاکھڑا کیا ہے‘ اس کے پیچھے سبھی معاشروں اور تمام تر جغرافیوں پر آباد انسانوں میں سے منتخب لوگوں نے جنہیں ہم شاعروں‘ ادیبوں ‘ فنکاروں اور صورت گروں کے طور پر جانتے ہیں‘ نمایاں خدمات سرانجام دی ہیں۔ زندگی کی معنویت اور حقیقت نے اُنہیں جہاں اور جس رنگ میں بھی بلایا ہے‘ یہ آئے ہیں اور اسے بہتر بنانے کے لئے اپنا مقدور بھر حصہ ڈال کر گئے ہیں۔ احمدفراز کا کیا خوب شعر ہے:


آواز دے کے چھپ گئی ہر بار زندگی
ہم ایسے سادہ دل تھے کہ ہر بار آگئے


یہ حقیقت ہے کہ ادب معاشرے کی تہذیب وترقی کے لئے اہم کردار ادا کرتا ہے۔ وہ زندگی اور معاشرے کو ساکت و جامد نہیں ہونے دیتا‘ خود متحرک رہتا ہے اور افراد میں تحرک پیدا کرتا رہتا ہے۔ اگر ہم دیکھیں تو قدیم یونانی‘ مصری‘ اطالوی‘ فرانسیسی اور عرب معاشروں میں تبدیلی کا یہ عمل جاری و ساری رہاہے۔ بعینہٖ ہمارے یہاں اردو ادب میں اور یہاں کی قومی زبانوں میں بھی ہماری تہذیب اور معاشرت پر بھی وقت اور زمانے کے ساتھ ساتھ شعراء و ادباء کے یہاں بدلتے رویوں اور رُجحانات کے واضح اثرات مرتب ہوئے جنہیں ہم نے بعد ازاں تحریکوں کا نام دیا۔ ہمارے اُردو ادب میں ترقی پسند تحریک‘ ایک اہم حوالہ ہے۔ اگرچہ یہ کہنا بھی درست ہوگا کہ ترقی پسند تحریک سے وابستگی کا واحد مقصد یہ نہیں کہ گزری ہوئی ہر بات کا انکار کردیا جائے۔ تاہم سب کچھ تقدیر اور قدرت پر چھوڑ دینا اور پھر نتائج کا انتظار کرتے رہنا کہیں کی عقل مندی نہیں ہوگی۔ یہی سبب ہے یہاں کے ادباء اور شعراء اپنی شاعری اور ادب میں یہاں کے لوگوں کی تہذیب کے لئے مختلف اوقات میں مختلف اصناف میں اس امرکا اظہار کرتے رہے ہیں کہ انسانی سفر کے ارتقاء میں اپنا حصہ ڈالنے کے لئے ہم کیا کچھ کر سکتے ہیں۔ اس سلسلے میں بھی ہم دیکھتے ہیں کہ رفتہ رفتہ اپنے خمیر کی شدت پسندانہ رویوں اور اور ترقی پسند لکھنے والوں کی جانب سے لچک نہ دکھانے کے سبب تحریک انتشار کا شکار ہوتی گئی اور بالآخر ماند پڑنے لگی۔ اس سے بھی پہلے سرسید کی عقلی تحریک‘ شاعرِ رومان اخترشیرانی کی رومانی تحریک‘ بعض حقیقت پسند ادیبوں کی جانب سے چلائی جانی والی حقیقت نگاری کی تحریک‘ محمدحسن عسکری کی احساسی تحریک‘ اسلامی فکر و تفہیم سے وابستہ اسلامی ادب کی تحریک یہ سب وہ تحریکیں ہیں جن کے حوالے سے ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے نثری و شعری ادب نیز دیگر علوم و فنون پر گہرے اثرات مرتب ہوئے اور لازمی طور پر ادب کے توسط سے ہماری معاشرت متاثر ہوئی اور فرد معاشرے کا جزو لاینفک ہونے کے سبب اس سے گہرے طور پر متاثر ہوا۔ ہم دیکھتے ہیں ہمارے لکھنے والوں نے مثبت قدروں کو پیشِ نظر رکھا اور لکھتے ہوئے اپنے خیالات‘ اپنی سوچ‘ اپنے رویوں کو معاشرے کے دوسرے افراد پر تھوپنے کے بجائے انسان دوست اور عالمگیر رنگا رنگی کو سچائی‘ انصاف اور حقیقت کا روپ دے کر پیش کیا۔ یہ بتایا کہ فطرت کے لاتعداد رنگ ہماری دنیا کاحسن ہیں‘ یہ انسانی حسن میں اضافے کا سبب ہیں۔ اس رنگا رنگی‘ کا ایک منفرد پہلو یہ بھی ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ انسانی زندگی ارتقاء پذیر رہتی ہے۔ ہمارے رہن سہن‘ طور اطوار‘ لباس‘ علوم و فنون اور تجارتی اور معاشی لائحہ عمل میں تبدیلیاں وقوع پذیر ہوتی رہتی ہیں۔ لہٰذا ان تبدیلیوں کا احساس بھی ادب اور شاعری کے ذریعے گہرے طور پر ہوتا رہتا ہے۔ گزشتہ صدی میں کچھ لوگ کارل مارکس کے فلسفے کو زندگی کی آخری سچائی سمجھ رہے تھے۔ بعض لوگ دنیا کے ہر ایک مسئلے کو فرائیڈ اور ژونگ کے خیالات کی روشنی میں حل کرنا چاہتے تھے۔ جنوبی افریقہ میں گوری حکمران اقلیت‘ انسانی وجود کی رنگت کو معاشرتی سچائی کا پیمانہ قرار دے رہی تھی۔ ہندوستان کے باشندے لاتعداد صدیوں سے ذات پات کی تقسیم کو الہامی اور غیر متبادل سچائی مانتے رہے۔ نازی جرمنی کے رہنما نسل پرستی کے فلسفے کو حتمی حقیقت قرار دیتے رہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس طرح کے خیالات اور ان پر سختی سے کاربند رہنا‘ کسی بھی حقیقی انسانی سچائی تک رسائی میں بہت بڑی رکاوٹ ہیں اور ان سب سچائیوں سے ہمیں شاعروں‘ ادیبوں اور دانشوروں نے آگاہ کیا ہے۔


حقیقت یہ ہے کہ شاعری اور ناول نگاری کے تمام شعبے اس یقین کے ساتھ نشوو نما پاتے ہیں کہ حُسن‘ بقائے باہمی اور ہم آہنگی کائنات کی بقا کے لئے اور انسان کی تہذیب اور ارتقاء کے لئے جزو لازم کی حیثیت رکھتے ہیں۔
موجودہ پاکستانی معاشرہ جن خطوط پر استوار رہے‘ دیکھا جائے تو اس کے پیچھے ہمارے صوفیائے کرام‘ جنہوں نے اپنی شاعری اور فکر کے ذریعے یہاں بسنے والے ان لوگوں کے ذہنوں کی آبیاری اپنی فکر اور سوچ کے ذریعے کی۔ بابا فرید‘ سلطان باہو‘ بلھے شاہ‘ وارث شاہ‘ خواجہ غلام فرید‘ میاں محمدبخش‘ غلام رسول عالمپوری‘ شاہ لطیف بھٹائی‘ سچل سرمت‘ روحل فقیر‘ مست توکلی‘ جام درک‘ رحمان بابا اور خوش حال خان خٹک‘ وہ عظیم شعراء ہیں جنہوں نے اس خطے میں آباد لوگوں کی اخلاقی اور سماجی حوالے سے بہت زیادہ تربیت کی۔


دیکھا جائے تو فکرِ اقبالؒ کے اثرات بھی نمایاں ہیں‘ ان کی شاعری نے پاکستانی معاشرت اور سماج کی تشکیل میں تو گہرا کردار ادا کیا ہی ہے تاہم ان کی نثر نے بھی کچھ کم اثر نہیں ڈالا۔ ہم دیکھتے ہیں کہ ان کے خطاب میں بھی گہری بصیرت موجود تھی جس کی روشنی میں یہاں کے مسلمانوں نے اپنے مستقبل سے جُڑے کئی اہم فیصلے کئے۔ مثال کے طور پر خطبہ الٰہ آباد میں ایک جگہ انہوں نے کہا :
’’مسلمانانِ ہندوستان کو اپنی روایات و تمدن کے ماتحت اس ملک میں آزادانہ نشو ونما کا حق حاصل ہو تو وہ اپنے وطن کی آزادی کے لئے بڑی سے بڑی قربانی سے بھی دریغ نہیں کریں گے۔‘‘ اسی طرح اُن کے اشعار نے بھی ہمارے لئے رہنمائی کاکام کیا۔


سچ کہہ دوں اے برہمن ! گر تو برا نہ مانے
تیرے صنم کدوں کے بت ہو گئے پرانے
کچھ فکر پھوٹ کی کر‘ مالی ہے تو چمن کا 
غنچوں کو پھونک ڈالا اس میں بھری ہوا نے


اسی دوران ہم دیکھتے ہیں کہ سعادت حسن منٹو‘ غلام عباس‘ احمدندیم قاسمی‘ عبداﷲ حسین ‘ انتظار حسین‘ میرا جی‘ ن م راشد‘ مجید امجد‘ فیض احمدفیض‘ منیر نیازی اور محمدسلیم الرحمن جیسے نابغہ ہائے روزگار نے ہماری نظم و نثر میں جدید اور انقلاب آفرین خیالات پیش کئے۔ ان افکار کی روشنی میں پاکستانی معاشرہ اپنے خطوط متعین کررہا ہے‘ اپنے وجود کو تشکیل دے رہا ہے۔ ذیل میں ہم ن م راشد‘ فیض‘ منیر نیازی اور محمدسلیم الرحمن کی نظموں کے کچھ اقتباسات دیکھتے ہیں‘ جو سبق آموز بھی ہیں اور حیات افروز بھی ۔


؂ اے عشق ازل گیرو ابد تاب
میرے بھی ہیں کچھ خواب
وہ خواب جو آسودگی ءِ مرتبہ و جاہ سے
آلودگئ گرد سرِ راہ سے معصوم
(خود زیست کا مفہوم۔ن م راشد)
؂ عرصۂ دہر کے ہنگامے تۂ خواب سہی
گرم رکھ آتشیں پیکار سے سینہ اپنا (فیض احمد فیض)
؂ ستارے جو دمکتے ہیں‘
کسی کی چشمِ حیراں میں‘
ملاقاتیں جو ہوتی ہیں‘ 
جمالِ ابروباراں میں‘
یہ نا آباد وقتوں میں‘ 
دلِ ناشاد میں ہوگی‘ 
محبت اب نہیں ہوگی‘
۔۔۔۔۔۔
؂ یہ کچھ دن بعد میں ہوگی‘‘ (منیر نیازی)
’’ایک بڑے پچھتاوے کے کنارے
آج نہیں توکل یا پرسوں
دل کہتا ہے‘ 
اس دنیا کی جاگنے والی
آنکھوں میں پھوٹے گی سرسوں
پکے رنگوں کی مخموری اور حضوری
جوت جگائے رکھے گی
جل تھل میں برسوں۔

(محمدسلیم الرحمن)


یہ حقیقت ہے کہ شاعری‘ فکشن اور دانش کے ذریعے جہاں ہمیں قدیم تہذیب اور معاشرت کے بارے میں علم ہوتا ہے وہاں پر ہی معاصر ادب‘ مستقبل کے لئے تہذیبی اور تعمیری حوالے سے صورت گری کررہا ہوتا ہے اس لئے یاد رکھنا چاہئے کہ ادب کا معاشرے کی تہذیب اور تعمیر میں نمایاں کردار رہا ہے اور حقیقت یہ ہے کہ شاعروں اور ادیبوں نے اس کردار کو بھرپور طریقے سے بنایا ہے۔ آخر میں علامہ اقبالؒ کے ذیل کے اشعار دیکھیں اور سوچیں کہ ہمیں اپنی معاشرت میں ان کے رنگ اور اثرات مل رہے ہیں یا نہیں؟


؂ اٹھائے کچھ ورق لالے نے‘ کچھ نرگس نے‘ کچھ گل نے
چمن‘ میں ہر طرف بکھری ہوئی ہے داستاں میری
ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں
اسی روز و شب میں اُلجھ کر نہ رہ جا
کہ تیرے زمان و مکاں اور بھی ہیں
ملت کے ساتھ رابطہ استوار رکھ
پیوستہ رہ شجر سے اُمیدِ بہار رکھ


مضمون نگار شاعر‘ کہانی کار اور ناول نگار ہیں

[email protected]

یہ تحریر 39مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP