متفرقات

اداکار طلعت حسین

فن اور فنکار کسی بھی معاشرے کی پہچان ہوتے ہیں۔ریڈیو ،تھیٹر ،ٹی وی اور فلم کے معروف اداکار طلعت حسین بلا شبہ پاکستان کی شان ہیں۔ بلا شبہ طلعت حسین کو ڈرامہ نگاری کا شیکسپئر کہا جا سکتا ہے ۔ہلال کے لئے ان سے کی جانے والی گفتگو پیشِ خدمت ہے۔ سوال۔ہمیں اپنی ابتدائی زندگی کے بارے میں کچھ بتائیے؟ جواب۔میرے والدین پڑھے لکھے اور براڈ مائنڈڈ لوگ تھے۔والد تقسیمِ ہندسے پہلے سرکاری ملازم تھے اور والدہ ریڈیو پر شوقیہ پروگرام کیا کرتی تھیں۔ہم دو بھائی ہیں۔ہم لوگ دہلی سے ہجرت کر کے پاکستان آئے تھے۔میرے والدکی پوسٹنگ راولپنڈی میں ہو گئی تھی۔اس وقت میری عمر 2,3سال تھی۔ہم نے بڑی مشکل سے اپنا سامان بچا کر پنڈی بھجوایااور خودکراچی کے راستے پاکستان پہنچے تو پتہ چلا کہ والد صاحب کو کراچی میں تعینات کر دیا گیا تھا۔کچھ دن بعد وہ اپنا سامان لینے گئے تو معلوم ہوا کہ ان کا سارا سازوسامان پنڈی میں لٹ چکا تھا۔والد صاحب کو اس نقصان سے بہت صدمہ پہنچااور وہ بیمار رہنے لگے۔بعد میں ان کو دمے کا مرض لاحق ہو گیا۔اوراوور ڈوز انجکشن کی وجہ سے ان کی ایک ٹانگ مفلوج ہو گئی تو وہ بستر کے ہو کر رہ گئے۔انہی دنوں کراچی ریڈیو کا آغاز ہوا تو میری والدہ نے وہاں ملازمت کر لی اور آخری دم تک ریڈیو سے وابستہ رہیں۔ سوال۔آپ کی اس فیلڈ میں آمد کیسے ہوئی‘ کیا والدہ نے سپورٹ کیا؟ جواب۔نہیں۔ میری والدہ میرے اس فیلڈ میںآنے کے سخت خلاف تھیں۔وہ بالکل نہیں چاہتی تھیں کہ میں یہ کام کروں بلکہ ان کی خواہش تھی کہ میں سول سروس میں جاؤں۔لیکن مجھے بالکل دلچسپی نہیں تھی۔پھر میرے ماموں اور والد صاحب نے سمجھایا کہ اگر یہ کام کرنا چاہتا ہے تو کرنے دیں تو وہ مجھے ریڈیو لے کر گئیں ۔میرا آڈیشن کروایا۔اس زمانے میں بچوں کے لئے ایک پروگرام ہوا کرتا تھا۔’’سکول براڈ کاسٹ ‘‘جس میں تعلیمی نصاب پر مبنی ڈرامائی فیچر ہوا کرتے تھے تو میں نے والدہ سے اصرار کیا اور بہانہ بنایا کہ یہ پروگرام کرنے سے مجھے تعلیم میں بہت فائدہ ہو گا۔ اس طرح میں نے کام شروع کیا۔داد ملتی گئی، لوگ پسند کرنے لگے۔پھر میں نے سٹوڈیو 9میں کام شروع کر دیااورمیری والدہ کوشش کے با وجود مجھے روک نہیں سکیں اور میں کام کرتا چلا گیا۔

میری والدہ نے میری بیگم سے کہا تھا کہ میں تمہیں یہ گارنٹی دیتی ہوں کہ میرا بیٹا دوسری شادی نہیں کرے گا لیکن تمہاری ایک سوتن ہے اور وہ ہے کتاب۔تم اس کو کتاب پڑھنے سے منع مت کرنا۔میرا یہ شوق اب بھی سلامت ہے۔ بیگم صاحبہ بولتی رہتی ہیں لیکن کتاب خریدنے سے یا پڑھنے سے منع نہیں کرتیں۔

سوال۔تعلیم کہاں تک حاصل کی؟ جواب۔میں نے انگلش لٹریچر میں گریجو ایشن کیا۔پھر لندن چلا گیا اور تھیٹر آرٹس میں لندن اکیڈمی آف میوزک اینڈ ڈرامیٹک آرٹ سے ٹریننگ حاصل کی اور گولڈ میڈل حاصل کیا۔ سوال۔آپ نے قرآنِ پاک کاترجمہ بھی کیا،مذہب سے لگاؤ کس حد تک ہے؟ جواب۔میں نے رمضان المبارک میں دو مرتبہ قرآنِ پاک کا ترجمہ ریکارڈ کروایا اور روزانہ ایک سپارہ تلاوت کیا کرتا تھا۔اسلام ایک دین ہے یعنی Way of lifeاور میں پوری کوشش کرتا ہوں کہ اسلام کی تعلیمات پر عمل کروں۔ سوال۔آپ کاہر ڈرامہ اور کریکٹرسپر ہٹ ہوتا ہے ،اس کی کیا وجہ ہے؟ جواب۔اداکاری میراpassion ہے پروفیشن نہیں ہے۔میرا ہمیشہ سے یہ اصول رہا ہے کہ میں نے کبھی ایسا ڈرامہ یا کردار نہیں کیا جو مجھے پسند نہ ہو۔جب بھی کام کیا اپنی پسند سے کیا۔ اس دفعہ کچھ دوستوں کے چکر میں پھنس گیا ہوں ۔سکرپٹ اچھا ہے لیکن میرا خیال ہے یہ کردار میرے علاوہ بھی کچھ لوگ کر سکتے ہیں۔ ْْْسوال۔پہلے اور آج کے ڈرامے میں کیا فرق ہے؟ جواب۔ایک زمانہ تھا کہ انڈیا میں پونہ اورد ہلی کی اکیڈمیز میں ہمارے ڈرامے دکھا کر اداکاری کی تربیت دی جاتی تھی۔ہمارا سکرپٹ اور contentبہت مضبوط ہوا کرتا تھا۔اس وقت ہمارا ٹی وی کمال کا تھا۔جیسے جیسے وقت گزرتا گیا‘ہمارے لوگ انڈیا کے ڈرامے اور فلموں کو کاپی کرنے لگے۔چائنا اور ایران کی فلمیں دیکھنے سے تعلق رکھتی ہیں۔لیکن ہم نے کبھی ان سے مقابلہ کرنے کی کوشش نہیں کی۔ہم مقابلہ کرتے ہیں تو انڈیا سے ۔ انڈیا کو کاپی کرنے کی وجہ سے ہمارے ڈرامے اور فلمیں فلاپ ہو گئیں۔ہمارے یہاں اب بیسیوں چینل ہیں اور سب پر ڈرامے دکھائے جاتے ہیں۔رائٹرز کم ہیں اور اتنے چینلز کے لئے منصوبہ بندی نہیں کی گئی۔اتنے زیادہ چینلز کا پیٹ بھرنے کے لئے باہر سے ڈرامے منگوائے جاتے ہیں۔جس کی وجہ سے ہمارے 7سے8ہزارٹیکننیشن بے روزگار ہوگئے ہیں۔1979میں انڈیا میں ایک چینل آیا تھا’’سٹارورلڈ‘‘ZTVاس کے بعد شروع ہوا تھا۔اس وقت انہوں نے 3000لوگوں کوامریکہ،انگلینڈاور یورپ کے دوسرے ممالک میں ٹریننگ کے لئے بھیجا تھا۔جبکہ ہمارے ہاں ایسی کوئی چیز نہیں ہے۔لوگ جاب کے دوران کام سیکھتے ہیں۔آج چینل زیادہ ہیں‘ رائٹر کم ہیں۔تو ڈرامہ ریپیٹ ہوتا ہے۔ سوال۔ کیا موجودہ دور میں پہلے کی نسبت میڈیا زیادہ مضبوط نہیں ہے؟ جواب۔پہلی بات تو یہ ہے کہ میں پاکستان جیسے ملک میں جہاں ایک سٹینڈرڈ ٹائم ہے اتنے زیادہ چینلز اور24گھنٹے کی ٹرانسمشن کا قائل ہی نہیں ہوں۔ زیادہ سے زیادہ 5چینل ہونے چاہئیں۔اس کی وجہ سے خبریں repeatہوتی ہیں۔انٹرنیشنل نیوز تو یہ لوگ لیتے نہیں ہیں اور قتل و غارت گری اور کرپشن پر مبنی خبریں سن سن کرلوگوں میں لا تعلقی بڑھتی جا رہی ہے۔لوگ یہ سمجھنے لگے ہیں کہ یہ برائیاں تو ہمارے معاشرے کا معمول ہیں۔وقت پورا کرنے کے لئے زرد صحافت رواج پا رہی ہے۔دوسری بات یہ کہ ہر چینل پر ٹاک شوز ہو رہے ہوتے ہیں جن کا نہ کوئی فائدہ ہے نہ رزلٹ ۔سیاست دان بیٹھ کر لڑائیاں کر رہے ہوتے ہیں اور اینکر خوش ہو رہے ہوتے ہیں کہ ہمارے پروگرام کی ریٹنگ ہائی ہو رہی ہے۔ سوال۔ ملکی حالات کی بہتری کے لئے کیا کرنا چاہئے؟ جواب۔ملکی حالات بہتر کرنے کے لئے بہت ساری چیزوں کوٹھیک کرنے کی ضرورت ہے مثلاََ کوٹہ سسٹم۔ جب لوگوں کوعلاقائی بنیادوں پر نوکریاں ملیں گی تو وہ کبھی پاکستانی نہیں بن سکیں گے۔جب بنگلہ دیش ہمارے ساتھ تھاتو وہاں پٹ سن ہوتی تھی جو بہت مہنگی چیز تھی۔اس کو بیچ کر بہت پیسہ کمایا گیاجو کرپشن کی نظر ہو گیااور وہاں کے لوگوں کی غربت اپنی جگہ رہی۔اس وقت این ایف سی ایوارڈ رقبے کے تناسب سے دیا جاتا تھاجو کہ ویسٹ پاکستان کوملتا تھا۔ جب بنگلہ دیش علیحدہ ہو گیا تو رقبے کے حساب سے نہیں بلکہ آبادی کے لحاظ سے این ایف سی ایوار ڈ دینے کا فیصلہ کیا گیا۔اب بلوچستان ناراض ہے۔ اگر رقبے کے لحاظ سے بلوچستان کو این ایف سی ایوارڈ ملتا تو وہ ترقی کے نجانے کس درجے پر ہوتا۔ 69سے پہلے ہمارا تعلیمی نصاب بہت مضبوط تھا۔69میں تعلیمی نظام کو نیشنلائزکر دیا گیا۔تو لوگ پرائیویٹ سکولوں کی طرف بھاگنا شروع ہو گئے۔پرائیویٹ سکولوں نے انگریزی کو رواج دیا۔تو ہم اپنی روایت ے ٹوٹ گئے۔آج کل کا نو جوان نہ صحیح اردو بول سکتا ہے نہ انگریزی۔ہم آدھے تیتر آدھے بٹیر ہو گئے ہیں۔ سوال۔ آپ اداکاری کی ٹریننگ دیتے ہیں،کیا اداکار پیدائشی نہیں ہوتا؟ جواب۔اداکاری کی صلاحیتیں پیدائشی ہوتی ہیں۔تربیت سے ان کو پالش کیا جاتا ہے۔اس سے با صلا حیت لوگ سامنے آجاتے ہیں۔ مجھے جو کچھ آتا ہے وہ سکھانے کی کوشش کر تا ہوں۔ہمارے ہاں ٹیلنٹ بہت ہے جس کے باعث بہت اچھے اداکاراور ہدایتکارسامنے آرہے ہیں۔ ’’فواد‘‘ اور ’’سنیل شنکر‘‘بہت اچھے ایکٹراورڈائریکٹرہیں۔پوری دنیا میں اداکاری کی تربیت کے لئے ڈرامیٹک اکیڈمیز موجود ہیں۔ہمارے ہاں تو صرف ایک نیشنل اکیڈمی آف پرفارمنگ آرٹس(NAPA)ہی ہے۔ سوال۔آپ نے 1965اور1971کی جنگیں دیکھی ہیں‘کیا احسا سات تھے؟ جواب۔کراچی کے لوگوں کا جوش و جذبہ قابلِ دید تھا۔اپنے وطن اور فوج کے ساتھ محبت اور عقیدت نا قابلِ بیان تھی۔میں نے 1971کی جنگ کے دوران ریڈیو پر ایک پروگرام کیا تھا۔’’کیا کرتے ہو مہاراج‘‘ جو جنگ ختم ہونے تک جاری رہا۔ سوال۔یومِ دفاع پاکستان کے بارے میں کیا کہیں گے؟ جواب۔آرمی کا ڈسپلن اور دفاعی نظام نا قابلِ تسخیر ہے۔یہ بڑے قابل لوگ ہیں۔ہر لحاظ سے بہترین اور ناقابل شکست۔ابھی میں نے ایم ایم عالم کی ڈاکومنٹری کی ہے جو ائیر فورس والوں نے تیار کی ہے۔ سوال۔پرسنل لائف کے بارے میں بتائیے‘ شادی کیسے ہوئی؟ جواب۔میں یونیورسٹی میں پڑھتا تھا تو مجھے بیگم صاحبہ نظر آگئیں۔اس زمانے میں یہ سائیکا لوجی میں ماسٹرز کر رہی تھیں۔مجھے اچھی لگیں۔میں نے انہیں اپنی والدہ سے ملوایا۔انہیں پسند آگئیں‘ پیغام بھجوایا اور یوں شادی ہوگئی۔اس زمانے میں ہم یونیورسٹی میں ملا کرتے تھے۔یہ بڑی پڑھی لکھی خاتون ہیں۔ماسٹرز کرنے کے بعد یونیورسٹی میں پڑھانے لگی۔اب ہیڈ آف سائیکالوجی کی حیثیت سے ریٹائر ہوگئی ہیں لیکن پھر بھی آدم جی سکول میں کنسلٹنٹ کے طور پر اور آئی بی اے میں پڑھاتی ہیں۔ سوال۔آپ کی شہرت نے کبھی گھریلو زندگی کو متاثر کیا؟ جواب۔نہیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑا۔میں نے کوشش کی کہ کبھی ایسا کوئی کام نہ کروں جس سے بیگم کی دل آزاری ہو۔ سوال۔آپ لوگوں کے پسندیدہ ایکٹر ہیں آپ کا پسندیدہ اداکار کون ہے؟ جواب۔جب میں نے کام شروع کیا تو اہمیت صرف کام کی ہوتی تھی۔کام میں پرفیکشن ضروری تھی۔جس کا کام اچھا ہے وہی بڑا ایکٹر ہے۔دلیپ کمار صاحب‘ چندر موہن بڑے اچھے ایکٹر تھے۔ سوال۔کتابیں پڑھتے ہیں؟ جواب۔میری والدہ نے میری بیگم سے کہا تھا کہ میں تمہیں یہ گارنٹی دیتی ہوں کہ میرا بیٹا دوسری شادی نہیں کرے گا لیکن تمہاری ایک سوتن ہے اور وہ ہے کتاب۔تم اس کو کتاب پڑھنے سے منع مت کرنا۔میرا یہ شوق اب بھی سلامت ہے۔بیگم صاحبہ بولتی رہتی ہیں لیکن کتاب خریدنے سے یا پڑھنے سے منع نہیں کرتیں۔ سوال۔بچے کتنے ہیں اور کیا کرتے ہیں؟ جواب۔میرے تین بچے ہیں دو بیٹیاں اور ایک بیٹا ۔سب شای شدہ ہیں۔بیٹا ایم بی اے کر کے مینیجر ہیومن ریسورس کام کر رہا ہے۔تزئین یہیں رہتی ہے۔چھوٹی بیٹی نے ڈبل ماسٹرز کیا ہے وہ کینیڈا میں ہوتی ہے۔میرے بچوں کی تر بیت میں زیادہ ہاتھ میری بیگم کا ہے۔

ایک زمانہ تھا کہ انڈیا میں پونہ اورد ہلی کی اکیڈمیز میں ہمارے ڈرامے دکھا کر اداکاری کی تربیت دی جاتی تھی۔

سوال۔خواتین میں کیا چیز اچھی لگتی ہے؟ جواب۔صرف خواتین میں نہیں بلکہ مردوں میں بھی ایک ہی چیز اچھی لگتی ہے وہ ہےDignity۔ سوال۔کتنے ملکو ں کی سیر کی؟ جواب۔ساری دنیا گھوم چکا ہوں۔ترکی ،ایران ،سعودی عرب، انگلینڈ، امریکہ،کینیڈا،فرانس ہر جگہ گھوم چکا ہوں۔سارے ملک اچھے ہیں۔لیکن اپنا ملک اپنا ہی ہوتا ہے۔ سوال۔اب تک کتنے ایوارڈ حاصل کر چکے ہیں؟ جواب۔اتنے ایوارڈ ہیں کہ گنتی نہیں ہے میرے پاس۔پرائڈ آف پرفارمنس حاصل کر چکا ہوں۔ ابھی تازہ ترین میں نے ناروے کی ایک فلم کی تھی میں نے ’’ایکسپورٹ‘‘نارویجن زبان جس میں سکینڈی نیویا کا آسکر ایوارڈملا تھا۔ سوال۔آپ کا اندازِ گفتگو بہت مشہور ہے اس کی کوئی خاص وجہ؟ جواب۔ہماری ساری فیملی میں اسی طرح بات کی جاتی ہے۔میرے سسرال والے بھی اسی طرح بات کرتے ہیں۔میری بیگم پنڈی کی ہیں اور پنچابی ہیں۔میرے والد کشمیری پنجابی تھے۔ سوال۔آپ کے پسندیدہ شاعر کون ہیں اور شعر؟ جواب۔میر تقی میر،غالب اور اقبال میرے پسندیہ شاعر ہیں۔ مجھ میں جو کچھ اچھا ہے سب اس کا ہے میرا جتنا چرچا ہے سب اس کا ہے سوال۔فوجی بھائیوں کے لئے کوئی پیغام ؟ جواب۔میری اتنی اوقات نہیں ہے۔میں ان کے بارے میں کچھ کہوں ۔یہ بہت بڑے لوگ ہیں۔اپنے وطن سے پیار کرنے والے۔جو انسان اپنے لوگوں اور اپنی زمین کے لئے اپنی جان تک قربا ن کرنے کے لئے تیار رہتے ہوں ان سے زیادہ عظیم کون ہو سکتا ہے۔میری ساری دعائیں اور سلام ان کے نام۔

یہ تحریر 23مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP