اداریہ

اداریہ - ملکی سلامتی کے تقاضے

اکیسویں صدی کی پہلی دہائی سے اب تک جنوبی ایشیائی خطے سمیت دنیا بھر کے ممالک کو سلامتی کے مختلف طرح کے روائتی اور غیرروائتی چیلنجز کا سامنا ہے جن سے وہ اپنے اپنے انداز میں نبردآزما ہیں۔ وطنِ عزیز پاکستان کی سالمیت کو گزند پہنچانے کے لئے بھی اندرونی اور بیرونی سطح پر ملک دشمن عناصر سرگرم ہیں اور وہ کوئی ایسا موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے جس سے پاکستان کی ساکھ کو نقصان پہنچ سکتا ہو۔ ایسے میں قوم اور اس کے اداروں کو باہم یکجہتی کی علامت بن کر سامنے آنا ہوتا ہے تاکہ ملک کو درپیش کسی بھی قسم کے خطرے سے نمٹا جا سکے۔ اُن حالات میں کہ جب دشمن مختلف رُوپ دھار کر عوام کی صفوں میں بھی موجود ہو اور اُن عناصر کا حلیف بھی ہو کہ جو خدانخواستہ مادرِ وطن کو صفحۂ ہستی سے مٹا دینے کے خواہاں ہوں تو قوم کی ذمہ داریاں مزید بڑھ جاتی ہیں۔ پھر اسے اس امر کا ادراک کرنا ہو تا ہے کہ ریاست اس عفریت کے خاتمے کے لئے جو بھی فیصلے اور قانون سازی کرے، اُس کو تنقید برائے تنقید کا نشانہ بنانے کے بجائے ان قوانین کی پاسداری کو یقینی بنایا جائے۔

ریاست قوم کی نمائندگی کرتی ہے اور قوم ریاست کے نظم و ضبط اور قومی سلامتی سے وابستہ فیصلوں کو تسلیم کرتی ہے اور یہ اس لئے بھی ضروری ہے کہ قوم اور ریاست انارکی کا شکار ہونے سے بچ سکیں۔ملک کے اندرونی حالات ہوں یا خطے کے معروضی حالات‘ ریاست سے بجا طور پر توقع کی جاتی ہے کہ وہ قومی مفاد کے مطابق ہی فیصلے کرے گی۔ معاشرے اور قوم کے مختلف طبقات کو بھی ان فیصلوں کو طبقاتی‘ لسانی‘ نسلی اور فرقہ وارانہ زاویے سے نہیں دیکھنا چاہئے۔ اسی طرح ریاست کے افراد اور طبقات کو بھی اپنی سرحدوں اور اپنی قوم کے مفادات کو اولین ترجیح دینا ہوتا ہے۔ ملکی استحکام کے لئے ملکی مفاد کو ہر ذاتی اور گروہی تعصب اور مفاد سے بالاتر رکھنا ہی خصوصی طور پر موجودہ حالات کا تقاضا ہے۔

قوموں کو مشکل حالات کا کبھی بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے لیکن جو چیز کسی بھی قوم کو دیگر اقوام سے ممتاز کرتی ہے وہ اس کا عزم‘ حوصلہ اور متانت ہوتی ہے جو افراد میں ہجوم کے بجائے ایک قوم بن کر اُبھرنے کا جذبہ اُجاگر کرتی ہے کہ وہ لسانی‘ گروہی اور فرقہ وارانہ تفکرات سے نکل کر ایک ایسی طاقت بن جاتے ہیں جنہیں کوئی سازش یا جارحیت اپنی جگہ سے ہٹا نہیں سکتی۔ الغرض بین الاقوامی سطح پر ذلت و رسوائی سے بچنے کے لئے قوموں پر گمراہی کے تاریک اندھیروں سے نکل کر شعور کی وادیوں تک کا سفر فرض ہو جاتا ہے جسے طے کئے بغیر ترقی اور عزت دونوں کا حصول ناممکن ہے۔ کسی بھی ملک کی سالمیت اور وقار کو یقینی بنانے کے لئے ضروری ہے کہ معاشرے کی تعمیر اور تشکیلِ نو کے عمل سے گریز نہ کیا جائے کہ ایک معیشت‘ ایک ریاست اور ایک جیسا انصاف روا رکھتے ہوئے ہی قوم کو مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔

بلاشبہ ملکی سلامتی اس امر کی متقاضی ہے کہ قوم کا ایک ایک فرد اور تمام ادارے اپنے اپنے حصے کے فرائض کی انجام دہی یقینی بناتے ہوئے نہ صرف قومی اور ملکی ترقی میں اپنا حصہ ڈالیں بلکہ شعور اور آگہی کی ایسی روشنی پھیلائیں جو دوسروں کے لئے بھی نئے راستے وضع کرے اور یوں پوری قوم ایک سوچ‘ ایک فکر اور ایک لگن لے کر کندھے سے کندھا ملاتے ہوئے آگے بڑھنے کے قابل ہو سکے کہ اسی میں کسی قوم کی بقاء کا راز پنہاں ہوتا ہے۔

یہ تحریر 63مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP