اداریہ

اداریہ - عزم اور حوصلے کے ساتھ

آپریشن ضرب عضب کے ثمرات جہاں اس قوم کو امن و امان کی صورت حال، معمولاتِ زندگی اور کاروبار بہتر ہونے کی صورت میں دکھائی دیئے ہیں وہاں دنیا بھر میں ریاست پاکستان اور اس کی افواج کا وقار بھی بلند ہوا ہے کہ کس طرح سے گزشتہ 14برس سے دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ کو انتہائی کامیابی کے ساتھ پایۂ تکمیل تک پہنچایا جا رہا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں نیٹو اور امریکی افواج مل کر بھی اتنی کامیابیاں نہیں سمیٹ پائیں جس قدر کامیابیاں پاکستانی افواج نے سمیٹی ہیں۔ افواج پاکستان نے مغربی سرحدوں اور ملک کے اندر سے شدت پسندوں کا خاتمہ کر کے امن کی بحالی میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ ظاہر ہے دشمن کو یہ کامیابیاں ایک آنکھ نہیں بھاتیں۔ اسی لئے پاکستان میں دہشت گردی کے کُچھ واقعات ہو جاتے ہیں۔ ان واقعات سے قانون نافذ کرنے والے ادارے آہنی ہاتھوں سے نمٹتے ہیں، لیکن ظاہر ہے یہ واقعات قوم کے دلوں میں گہرے زخم لگا جاتے ہیں۔


قوم کے لئے بہرکیف طمانیت کا باعث ہونا چاہئے کہ دہشت گردی کے واقعات میں بہت حد تک کمی آ چکی ہے۔ لیکن پھر بھی کہیں کوئی واقعہ ہو جاتا ہے تو ہمارے جری سپوت کہیں کیپٹن اسفند یار بن کر، تو کہیں کیپٹن روح اﷲ کی صورت میں دہشت گردوں پر بجلی بن کر گرتے ہیں۔ قوم کے یہ بچے اپنی جانیں نچھاور کر کے اپنے ماں باپ، بہن بھائیوں اور بیو ی بچوں کو غمگسار کر کے چلے جاتے ہیں لیکن قوم کے کروڑوں شہریوں کو ہنسنے مسکرانے اور سراُٹھا کر زندگی جینے کے معنوں سے آشنا کرجاتے ہیں۔ پولیس ٹریننگ اکیڈمی کوئٹہ پر دہشت گردانہ حملے کے پیچھے بھی وہی دشمن، وہی نیٹ ورک اور اُس کے وہی گھناؤنے عزائم ہیں جن کا اظہار اب وہ ببانگ دہل کرنے لگا ہے۔ حیران کن امر ہے کہ کس طرح پڑوسی ملک کی حکمران قیادت چھاتی بجا بجا کر اس امر کا اعلان کر رہی ہوتی ہے کہ ہم بلوچستان میں دہشت گردی کروا رہے ہیں۔ بہرکیف پاکستانی قوم اور افواج جس طرح سے دشمن کی سازشوں سے نمٹ رہی ہیں اس سے دشمن شدید مایوس ہوا ہے اور اب وہ کھسیانی بلی کھمبا نوچے کے مصداق دھمکیوں اور جعلی سرجیکل سٹرائیک کے پراپیگنڈے کر کے دنیا کے سامنے اپنا وقار بحال کر نے کی کوشش کر رہا ہے۔
دشمن جو ایک عرصے سے صوبہ بلوچستان کے بعض عناصر کی پشت پناہی کر کے پاکستان کو گزند پہنچانے کا خواہاں تھا، اب یہ جان چکا ہے کہ پاکستان نہ صرف دہشت گردی کے خاتمے میں کافی حد تک کامیاب ہو چکا ہے بلکہ اپنے اندرونی مسائل پر قابو پانے میں بھی سرخرو ہو رہا ہے لہٰذا اب اس نے دہشت گردی کے حملے کروا کر پاکستانی عوام کو ہراساں کرنے کی راہ اپنائی ہے۔


دشمن کا کام ہی بہرطور وار کرنا ہے۔ دشمن سے کس طرح نمٹنا ہے اور کس انداز میں اسے شکست دینا ہے، یہ کام ہماری افواج کا ہے اور وہ بطریق احسن اپنی ذمہ داریاں نبھا رہی ہیں جس سے دہشت گردی کے ان اِکادُکا واقعات سے بھی چھٹکارا حاصل ہو جائے گا۔ الغرض اب تک کی حاصل کردہ اپنی کامرانیوں کو شک کی نگاہ سے دیکھنے کے بجائے قوم کو مزید مضبوط، پُرعزم اور باحوصلہ ہونے کی ضرورت ہے۔ پھر قوم کے لئے ملک کو درپیش کسی بھی چیلنج سے نمٹنا مشکل نہیں رہے گا۔ پاکستان ہمیشہ رہنے کے لئے قائم ہوا ہے اور اس کا سبز ہلالی پرچم ہمیشہ سربلند رہے گا۔ انشاء اﷲ

یہ تحریر 77مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP