اداریہ

اداریہ - دہشت گردی کاخاتمہ

افواج پاکستان نے ملک میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے عفریت کو جس دلیری اور حکمت عملی سے آگے بڑھ کر روکا ہے اسے قومی اور بین الاقوامی سطحوں پر سراہا گیا ہے۔ ہماری بہادر افواج نے ان گنت جانی و مالی قربانیاں دے کر نہ صرف دہشت گردی کے نیٹ ورک کو غیرفعال کیا ہے بلکہ ان کی کمین گاہوں تک ان کا پیچھا کیا ہے۔ آپریشن ضرب عضب کی بدولت ملک میں امن و امان کی مجموعی صورت حال سمیت معاشی‘ سماجی اور قومی اعتبار سے استحکام دیکھنے میں آیا ہے۔ آپریشن ضرب عضب کے ذریعے ایک طرف ہماری بہادر افواج مغربی سرحدوں کی جانب ڈیرے جمائے ہوئے شدت پسندوں کا قلع قمع کرنے میں سرگرم عمل ہیں تو دوسری جانب ملک کے دیگر سکیورٹی ادارے اور خفیہ ایجنسیاں ملک کے اندر چھپے ہوئے شرپسندوں اور دہشت گردوں کو ’انٹیلی جنس بیسڈ‘ آپریشن کے ذریعے ٹھکانے لگانے میں اپنا کردار ادا کر رہی ہیں۔ ان تمام آپریشنز کے انتہائی مثبت نتائج سامنے آئے ہیں۔

 

یہ ایک مسلمہ امر ہے کہ جب عوام اور قومی ادارے یکجان ہو کر دشمن کی سرکوبی کے لئے سرگرم عمل ہوں تو دشمن کے پاؤں لڑکھڑا جاتے ہیں۔ ایسے میں وہ سامنے آ کر لڑنے کی بجائے کسی ’’سافٹ ٹارگٹ‘‘ کی تلاش میں رہتا ہے۔ لاہور کے گلشن اقبال پارک میں ہونے والے خودکش دھماکے سے یہی امر عیاں ہوا ہے کہ ہارا ہوا دشمن کبھی سکولوں تو کبھی پارکوں میں خودکش دھماکے کر کے بچوں اور خواتین سمیت بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔ لاہور خودکش دھماکہ یقیناًقوم کے لئے ایک لمحہ فکریہ ہے لیکن اس سے ایسی قوم جو دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے، کے ارادوں کو متزلزل نہیں کیا جا سکتا۔ ایسے واقعات سے عوام کا دل گرفتہ ہونا ایک فطری عمل ہے لیکن دشمن کی ہر بزدلانہ حرکت کے بعد پاکستان کے لوگ زیادہ مضبوط اور پُرعزم قوم بن کر سامنے آتے ہے۔

 

پاکستانی قوم اور اس کی افواج یہ عزم کئے ہوئے ہیں کہ وہ ہر قیمت پر اس سرزمین سے دہشت گردی اور شدت پسندی کا خاتمہ کر کے رہیں گی۔ بہادر قومیں ایسے واقعات کی وجہ سے ڈر کر پیچھے نہیں ہٹتیں بلکہ وہ اپنی سرزمین اور اپنے ملکی وقار کے حوالے سے اور بھی پُرعزم ہو جاتی ہیں اور وہ آگے بڑھ کر دشمن کے ناپاک ارادوں کو خاک میں ملادیتی ہیں۔ دہشت گردوں کا سافٹ ٹارگٹس کو نشانہ بنانے سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ دشمن کس طرح سے عوام کے اندر موجود ہے۔ یقیناًایسے دشمن کا کھوج لگانے اور اس کا خاتمہ کرنے کے لئے جس طاقت ، عزم اور اعتماد کی ضرورت ہے، اس سے ہماری قوم سرشار ہے۔ لہٰذا سبھی اداروں کو اپنے اپنے حصے کا کام کر کے ملکی امن اور عوام کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔ بانئ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے 30اکتوبر 1947کو نوزائیدہ پاکستانی قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا’’ہمیں جو دکھ دیا گیا ہے اُس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔ مگر ابھی ہمیں اور قربانیاں دینی ہوں گی۔مسلمان مصیبت میں گھبرایا نہیں کرتا۔ ہمارے حوصلے بلند ہیں، اگر اسی طرح تمام مِلت ہمت اور لگن کے ساتھ کام کرتی رہی تو ہماری یہ مصیبتیں انشاء اﷲ بہت جلدی ختم ہو جائیں گی۔‘‘

 

یہ قوم اپنے اس عظیم رہنما کو مایوس نہیں کرے گی۔ قوم اس وقت پوری استقامت اور غیرمتزلزل یقین کے ساتھ دنیا کو یہ پیغام دے رہی ہے کہ ہم اپنی اس پاک سرزمین کے دفاع کے لئے ایک ہیں اور ہمیشہ ایک رہیں گے اور اُس وقت تک سکون سے نہیں بیٹھیں گے جب تک دہشت گردی کے کینسر کو جڑ سے نہیں اُکھاڑ پھینکتے۔

یہ تحریر 78مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP