اداریہ

اداریہ- یومِ پاکستان ایک استعارہ‘ ایک روشنی

23 مارچ 1940 کی مناسبت سے منایا جانے والا یومِ پاکستان‘ قوم کو جہاں قراردادِ پاکستان کی رُوح اور پاکستان کے قیام کے مقاصد سے آشکار کرتا ہے وہاں قوم میں ایک ولولۂ تازہ بھی پیدا کرتا ہے۔ یومِ پاکستان صرف ایک دن نہیں بلکہ ایک عہد کی نشاندہی کرتا ہے۔ اُس روز مسلمانوں نے اپنے لئے ایک ایسی منزل کا تعین کیا اور ایسے راستے کی داغ بیل ڈالی جو پُرخار بھی تھا اور کٹھن بھی‘ لیکن قائداعظمؒ محمد علی جناح کی قیادت میں برصغیر کے مسلمانوں نے صرف 7 برس کے مختصر عرصے میں اقبال کے دیکھے ہوئے اس خواب کو عملی جامہ پہنا کر دُنیا کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیا۔ الحمدﷲ 14 اگست 1947 کو پاکستان کے نام سے ایک آزاد مملکت دنیا کے نقشہ پر پوری آب و تاب کے ساتھ چمک رہی تھی۔

پاکستان کا خواب دیکھنے سے حصولِ پاکستان تک مسلمان قوم کو جن دشمنوں کا سامنا تھا قیام پاکستان کے بعد بھی کم و بیش اُنہی دشمنوں کی سازشوں کی بدولت اسے دولخت ہونا پڑا۔ وہی دشمن آج بھی پاکستان کی سالمیت کے درپے ہیں اور وہ یہاں دہشت گردی اور تخریب کاری کو ہوا دے کر‘ اور اس کی پشت پناہی کر کے‘ پاکستان کے عوام اور ریاست کو مشکلات میں مبتلا رکھنا چاہتے ہیں۔ ایسے میں قوم کی ذمہ داریاں اور بھی بڑھ جاتی ہیں۔

یومِ پاکستان کو صحیح طور پر منانے کا تقاضا ہے کہ ہم اپنے اندر اور باہر موجود اُن عناصر کو پہچانیں جو غیروں کے ہاتھوں میں کھیلتے ہوئے پاکستانی عوام اور وطنِ عزیز کو گزند پہنچا رہے ہیں۔بلاشبہ پاکستان ایک مشکل ترین دور سے گزر رہا ہے لیکن یہ امر بھی طے ہے کہ اقوام اگر مشکلات پڑنے پر بھی اپنا احتساب نہ کریں اور درپیش چیلنجز سے سبق حاصل نہ کریں تو وہ خدانخواستہ مزید مسائل میں دھنستی چلی جاتی ہیں۔

یومِ پاکستان ایک استعارہ ہے‘ ایک روشنی ہے‘ جو قوم کو شعور کی وادیوں تک لے جانے میں رہنمائی فراہم کرتا ہے کہ اپنے معاملات سے آگاہی میں ہی اُن کا حل بھی پوشیدہ ہوتا ہے۔ اس قوم نے گزشتہ ایک دہائی سے دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں جس طرح سے ثابت قدمی کا ثبوت دیا ہے اُس سے قوی اُمید ہے کہ یہ آئندہ بھی اپنے پاؤں پر اسی طرح کھڑی دکھائی دے گی۔ اسی میں اس کی کامیابی پنہاں ہے۔ اﷲ پاکستان کو ہمیشہ قائم رکھے

(آمین)

یہ تحریر 85مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP