اداریہ

اداریہ- ہیں جذبے جواں

افواج پاکستان لگ بھگ 14برس سے دہشت گردی کے عفریت کے خلاف نبردآزما ہیں۔ افواج نے جس انداز سے دہشت گردوں اور اُن کے وسیع نیٹ ورک کو غیرفعال بنایا ہے اس کی مثال کم کم ملتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ قوموں کے لئے بیس بیس دن کی جنگ لڑنا بھی محال ہو جاتا ہے۔ جبکہ افواج پاکستان کے حوصلوں میں اپنے جوانوں اور افسروں کی جانوں کی قربانیاں دینے کے باوجود لغزش نہیں آئی جو اس امر کی علامت ہے کہ افواج پاکستان نہ صرف جرأت و شجاعت کے جذبے سے سرشار ہیں اور پیشہ ورانہ اعتبار سے مہارت رکھتی ہیں بلکہ جنگی حکمت عملی کے میدان بھی میں ان کا مقابلہ دنیا کی کسی بھی فوج کے ساتھ کیا جا سکتا ہے۔

 

دہشت گردوں نے معصوم بچوں اور بے قصور شہریوں کو نشانہ بنانے سمیت پاکستان کے سٹریٹجک اثاثہ جات کو نشانہ بنانے سے بھی گریز نہیں کیا لیکن پاکستان کی سکیورٹی ایجنسیوں نے جس طرح ہمیشہ ڈٹ کر ان حملوں کا مقابلہ کر کے دہشت گردوں کو پسپا کیا وہ قابل ستائش ہے۔ حال ہی میں بڈھ بیر بیس کیمپ پر حملے کے فوری بعد سکیورٹی اداروں نے دہشت گردوں کو جس طرح صرف ایک ہی جگہ پر محدود کر کے اُن کو ٹھکانے لگا دیا‘ یہ اُن کی پیشہ ورانہ مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

 

اس میں کوئی شک نہیں کہ بین الاقوامی طاقتیں بھی اب یہ تسلیم کرنا شروع ہو گئی ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کو دیگر ممالک کی نسبت زیادہ نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے‘ جبکہ دوسری جانب پڑوسی ملک بھارت نے پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں الجھا ہوا دیکھ کر اسے ایک بہترین موقعے کے طور پر یوں لیا کہ اس نے آئے روز لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر اشتعال انگیز فائرنگ کر کے معصوم شہریوں اور ان کی املاک کو نقصان پہنچا کر انہیں صدمے سے دوچار کیا۔ یقیناًافواج پاکستان کی جانب سے دشمن کی ہر چھوٹی بڑی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جاتا ہے جس کے بعد دشمن دوستی اور مذاکرات کا ڈرامہ شروع کر دیتا ہے۔ لیکن اگلے ہی روز پھر کسی نئی خلاف ورزی کا مرتکب پایا جاتا ہے۔ دشمن کی انہی چالبازیوں اور سازشوں کو بھانپتے ہوئے چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف نے یوم دفاع کے موقع پر واشگاف انداز میں کہا کہ ’’ افواج پاکستان تمام اندرونی اور بیرونی چیلنجز اور خطرات سے نمٹنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں۔چاہے وہ روایتی جنگ ہو یا غیر روایتی،کولڈ سٹارٹ یا ہاٹ سٹارٹ ہم تیار ہیں۔‘‘

 

بلاشبہ چیف آف آرمی سٹاف کا یہ اعلان اُن جواں جذبوں اور حوصلوں کی نشاندہی کرتا ہے جو پاک فوج کے جوانوں اور افسروں کے اندر موجود ہیں۔ گویا چیف آف آرمی سٹاف کا اپنی فوج پر اعتماد اُس کے پیشہ ورانہ اعتبار سے بہترین ہونے کے ساتھ ساتھ اُس کے ہائی مورال کی عکاسی بھی کرتا ہے۔ چیف آف آرمی سٹاف نے عیدالاضحی کے موقع پر بھی فارورڈ پوسٹوں پر تعینات اپنے جوانوں اور افسروں کے ساتھ دن گزارا جو پاک فوج کے سپوتوں کے بلند حوصلوں‘ جذبوں اور عزم کی نشاندہی کرتا ہے جو وہ دشمنوں کے حوالے سے رکھتے ہیں۔ پاکستانی قوم اور افواج پاکستان الحمدﷲ اپنے دشمنوں کو بخوبی پہچانتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اب پوری قوم یک جان ہو کر خطرات کے خلاف متحد ہو چکی ہے اور یہ تہیہ کر چکی ہے کہ وہ دفاع وطن کو یقینی بنانے کے لئے ہر لمحہ اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور اُن کے ہوتے ہوئے اب دشمن کی کوئی چال اور سازش کارگر ثابت نہیں ہو سکتی۔

یہ تحریر 87مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP