اداریہ

اداریہ- ہردم تیار

قومیں اپنی سرحدوں کی حفاظت کے لئے کسی بڑی سے بڑی قربانی سے بھی دریغ نہیں کرتیں اور وطن کے دفاع کے لئے کبھی بھی گریز پا نہیں ہوتیں۔ دفاعِ وطن کو یقینی بنانے کے لئے افواجِ پاکستان ہر دم تیاری میں مصروف رہتی ہیں اور جنگی تیاری سپاہ کے روز مرہ معمول کا حصہ ہوا کرتی ہیں۔ افواج زمانۂ جنگ میں کس قدر کامیاب ہوتی ہیں‘ اس کا انحصار زمانۂ امن میں کی گئی پیشہ ورانہ تربیت اور تیاری کے ساتھ مشروط ہوتا ہے۔ الحمدﷲ ! افواجِ پاکستان نے قیامِ پاکستان کے فوری بعد سے ہی پیشہ ورانہ مہارت کے حصول اور میدانِ جنگ میں درپیش مشکلات سے نبرد آزما ہونے کے لئے خود کو تیار کرنا شروع کردیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ قیامِ پاکستان کے ایک برس بعد ہی محاذِ کشمیر اور پھر صرف اٹھارہ برس بعد 1965میں دشمن کی جارحیت کا جس اندازمیں جواب دیا گیا اُس سے دشمن کو اندازہ ہوگیا کہ پاکستان کو فوجی طاقت کے زور پر زیر نہیں کیا جاسکتا۔ پھر اُس کے بعد اکہتر اور معرکہ کارگل میں بھی جس بہادری سے ہماری افواج لڑیں‘ اس کا اقرار دشمن نے بھی کیا ہے۔ نائن الیون کے بعد سے جس طرح افواجِ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہی ہیں وہ اس امر کی عکاس ہیں کہ زمانۂ امن میں افواجِ پاکستان نے کس طرح خود کو تیار رکھا۔ افواجِ پاکستان جدید اسلحہ سے لیس ایسی افواج ہیں جو کٹھن وقت میں کسی بھی چیلنج سے نبرد آزما ہونے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ شومئ قسمت کہ پاکستان کے پڑوس میں ایک ایسا کم ظرف دشمن ملک بھی ہے جو ہمیشہ سے سازشوں اور جارحیت کی زبان بولتا چلا آیا ہے۔ وہ پاکستان کو بدنام کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا۔ اس کے باوجود پاکستان نے ہمیشہ ایک ذمہ دار اور مہذّب ریاست ہونے کا ثبوت دیا ہے اور بین الاقوامی اصول و قوانین کی پاسداری کی ہے‘ لیکن نہ تو کبھی اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹا ہے اور نہ ہی کسی دشمن سے خوف زدہ ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف نے اپنی ایک تقریر میں برملا کہا تھا ’’افواجِ پاکستان تمام اندرونی اور بیرونی چیلنجز اور خطرات سے نمٹنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں۔ چاہے وہ روایتی جنگ ہو یا غیر روایتی‘ کولڈ سٹارٹ یا ہاٹ سٹارٹ‘ ہم تیار ہیں۔‘‘


حال ہی میں دشمن نے اپنے ایک فوجی بیس کیمپ پر حملے کو بنیاد بنا کر دھمکیوں اور جارحیت کی زبان بولنا شروع کی ہے تو اُسے معلوم ہونا چاہئے کہ پا کستان بہترین ایٹمی طاقت اور میزائل سسٹم سے لیس ایک مضبوط ملک ہے جس کی افواج کا شمار دنیا کی بہترین افواج میں ہوتا ہے۔ سب سے بڑھ کر پاکستان کے اٹھارہ کروڑ عوام اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ یوں دشمن کو یہ یقین ہونا چاہئے کہ اس کی شاطرانہ چالیں اُسی پرلوٹا دی جائیں گی۔ ہم دشمن کو حملے میں پہل کی حماقت سے تو نہیں روک سکتے مگر ایک بھیانک شکست ضرور اس کا مقدر بنا دیں گے ۔ انشاء اﷲ !


زمانۂ جنگ ہو یا زمانۂ امن افواج پاکستان نے اپنی پیشہ ورانہ اور تربیتی ضرورتوں سے کبھی چشم پوشی نہیں برتی۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ماضی میں جہاں چینی‘ امریکی‘ ترک اور دیگر ممالک کی افواج کے ساتھ مل کر مشترکہ مشقیں کرچکی ہیں تو حال ہی میں اُس نے روسی افواج کے ساتھ مشترکہ مشقیں کی ہیں جن کا مقصد افواج پاکستان کو دنیا کی دیگر بہترین افواج کے جنگی اور تربیتی علوم سے آگاہ رکھنا ہے۔ پیشہ ورانہ مہارت اور اعلیٰ عسکری تربیت ہی کا نتیجہ ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں افواجِ پاکستان کی کامیابیاں دیگر ممالک کی افواج سے کہیں زیادہ ہیں۔ افواجِ پاکستان ایک طرف مغربی سرحدوں کی جانب بارڈر مینجمنٹ کو یقینی بنائے ہوئے ہیں تو دوسری جانب مشرقی سرحدوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ سمندری اور فضائی اعتبار سے بھی ہماری افواج کسی دوسرے ملک سے ہر گز کم نہیں اور ان کے ہوتے ہوئے دشمن کسی سازش یا ایڈونچر کی جرأت نہیں کرسکتا۔ الحمدﷲ! افواج اور قوم اپنی ذمہ داریوں سے کماحقہ‘ آگاہ اور تیار ہیں۔


افواجِ پاکستان زندہ باد
پاکستان پائندہ باد

یہ تحریر 73مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP