اداریہ

اداریہ- دہشت گردی کا خاتمہ ایک قومی ذمہ داری

نائن الیون کے بعد سے وطنِ عزیز پاکستان کو دہشت گردی کے جس عفریت کا سامنا ہے پاکستانی عوام اور افواجِ پاکستان اُس سے بدرجہء اتم نمٹ رہی ہیں۔ بلند ہمتی اور مضبوط عزم کی بدولت افواجِ پاکستان کے دہشت گردی اور شدت پسندی کے خاتمے میں کردار کو دنیا بھر میں سراہا گیا ہے۔ افواجِ پاکستان اور پاکستانی شہریوں نے دہشت گردی کے چیلنج سے نبردآزما ہوتے ہوئے جس انداز سے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کئے ہیں‘ وہ قابل مثال ہیں۔ دہشت گردوں نے جس طرح سے پاکستانی شہریوں‘ افواجِ پاکستان حتیٰ کہ سکول کے معصوم بچوں کو نشانہ بنایا ہے‘ اس سے ایک امر واضح ہو گیا ہے کہ پاکستانی قوم اور اس کی افواج کے پاس نہ صرف یہ کہ اس جنگ کو لڑنے کے سوا کوئی آپشن نہیں ہے بلکہ جنگ کو جیتنے کے علاوہ بھی کوئی دوسرا آپشن نہیں ہے؟ یقیناًاس جنگ میں حتمی فتح پاکستانی قوم ہی کی ہونی ہے۔ جون 2014 سے آپریشن ضربِ عضب کامیابی سے جاری ہے۔ پاک افواج قربانی کی انمٹ داستانیں رقم کر رہی ہیں۔ دہشت گردوں کی بیشتر پناہ گاہیں چھین لی گئی ہیں۔ آپریشن ضرب عضب کا ایک اہم مرحلہ

TDPs

کی واپسی اور مکمل بحالی ہو گا۔ پاک فوج اس مرحلے کے لئے تمام پلاننگ اور انتظامات میں مصروف ہے اور جلد ہی ہمارے قبائلی بھائی اپنے اپنے علاقوں میں پرامن اور باسہولت طریقے سے واپس چلے جائیں گے تاہم اس مرحلے کی کامیابی کے لئے یہ ضروری ہے کہ مملکت کے دوسرے ادارے بھی آگے بڑھیں اور اپنے قبائلی بھائیوں کی از سرنو بحالی میں بھرپور کردار ادا کریں۔ پاک فوج اپنے محاذ پر لڑنے کے علاوہ قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کی استعداد بڑھانے اور عملی تربیت کے لئے بھی ہر طرح کی کاوشوں میں مصروف ہے۔ امید واثق ہے کہ آنے والے دنوں میں یہ تیاری اور استعداد دہشت گردی کو شکست دینے میں اہم کردار ادا کرے گی۔ اگر ہم قومی منظر نامے پر نظر دوڑائیں تو یہ بات باعث اطمینان ہے کہ ہمیں اپنی صفوں میں یکجہتی اور اتفاق نظر آتا ہے بالخصوص پشاور سانحے کے بعد پوری قوم بشمول قومی قیادت اور اہم قومی ادارے وطنِ عزیز سے ہر طرح کی شورش‘ فساد اور تشدد کے خاتمے کے لئے ایک بھرپور اور لمبی جدوجہد کے لئے تیار نظر آتے ہیں۔ دہشت گردی کا مسئلہ اور اس کا دیرپا حل بھی ہشت پہلو ہے۔ اس کی کئی جہتیں ہیں اور ہم سب کو اپنے اپنے محاذ پر کامیابی سے لڑنا اور آگے بڑھنا ہو گا۔ ہمیں دہشت گردی کو نہ صرف جنگی محاذ پر شکست دینا ہو گی بلکہ بحیثیت ریاست اور سوسائٹی تعلیم‘ صحت‘ امن عامہ اور معاشی خوشحالی کے وہ معیار حاصل کرنے ہوں گے کہ بہتر زندگی کا حصول ناممکنات میں سے نہیں بلکہ لبِ بام و در نظر آئے۔ ہم نے فرد‘ معاشرے اور زندگی کے نئے ربط کو وجود میں لانا ہو گا۔ نئے خواب دیکھنے ہوں گے اور نئی دنیا تراشنا ہو گی۔ پاکستان ہم سب کے بہتر تخیل اور جہد مسلسل کا منتظر ہے۔

یہ تحریر 171مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP