اداریہ

اداریہ- بارڈر مینیجمنٹ

دنیا بھر کے ممالک اور اقوام بین الاقوامی قوانین کے تحت اپنی اپنی جغرافیائی حدود اور سرحدوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لئے ایک میکنزم کے تحت اصول و ضوابط وضع کرتی ہیں۔ یوں سرحدوں پر مناسب سکیورٹی چیک پوسٹوں اور گیٹس کے ذریعے آمدورفت کو کنٹرول کیا جاتا ہے۔ وطنِ عزیز پاکستان ،جو گزشتہ 14برس سے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے اور ہزاروں کی تعداد میں اپنے شہریوں کی جانوں کی قربانیاں دے چکا ہے، نے اس جنگ سے بہت سیکھا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف ضربِ عضب سے جاری مؤثر اور بھرپور آپریشن کو بھی گزشتہ ماہ جون میں پورے دو برس ہو چکے ہیں۔ الحمدﷲ اس آپریشن کی بدولت پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف قابلِ فخر کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں اور اب یہ آپریشن اپنی تکمیل کے آخری مراحل میں ہیں۔ ماضی میں سوات میں آپریشن’ راہ نجات‘ شروع ہوا تو وہاں سے متعدد دہشت گردوں نے پڑوسی ملک کے علاقوں، کنٹر اور نورستان، میں پناہ لے لی، جن کے خلاف پڑوسی ملک کی جانب سے مؤثر کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔ اس کے برعکس کچھ عرصے قبل تک پڑوسی ملک کی سرحد کی جانب سے پاکستانی پوسٹوں پر حملے ایک معمول بن چکے تھے جن کے پاکستانی سکیورٹی فورسز کی جانب سے مؤثر جواب دیئے جاتے رہے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل پاکستانی علاقے میں بھارت کا ایک حاضرسروس جاسوس گرفتار کیا گیا جو پاکستان کے اندر دہشت گردی کروانے کے لئے نیٹ ورک چلا رہا تھا۔ اسی طرح چارسدہ یونیورسٹی اور اس سے قبل اے پی ایس پشاور سمیت دیگر سفاکانہ کارروائیوں کے ملوث ملزمان بھی پڑوسی ملک سے براستہ طورخم گیٹ ہی آئے تھے۔ لہٰذا ان تمام واقعات اور دیگر دستاویزی ثبوتوں کی روشنی میں حکومتِ پاکستان نے یہ ضروری خیال کیا کہ مشرقی سرحدوں کی طرح مغربی سرحدوں کی جانب بھی بارڈر مینجمنٹ کا باقاعدہ ایک میکنزم متعارف کرواتے ہوئے دونوں اطراف سے بغیر پاسپورٹ اور ویزوں کے آنے والے ہزاروں شہریوں کی آمدورفت کو ریگولرائیز کیا جائے کیونکہ ویزوں اور پاسپورٹوں کی پابندی نہ ہونے کی بناء پر شرپسند عناصر جب چاہیں اور جس مقام سے چاہیں پاکستان میں داخل ہو کر یہاں نقص امن کا باعث بنتے ہیں نیز اس طرح سے ممنوعہ اشیاء کی اسمگلنگ بھی بآسانی ہو سکتی تھی۔ اب، حال ہی میں طورخم گیٹ کی تعمیر کے موقع پر پڑوسی ملک کی جانب سے جو بلااشتعال فائرنگ کی گئی جس میں پاک فوج کے ایک آفیسر‘ میجر جواد چنگیزی‘ شہید اور انیس دیگر اہلکار زخمی ہوئے‘ سے اندازہ لگانا ناممکن نہیں کہ بعض عناصر کیونکر بارڈر مینجمنٹ کو مؤثر ہوتا نہیں دیکھ سکتے۔


دنیا بھر کے ممالک اور اس کے شہری بین الاقوامی اصولوں کو مدِنظر رکھتے ہوئے ایک ملک سے دوسرے ملک کا سفر مکمل دستاویزات کے ساتھ کرتے ہیں اور یہ ممالک خود کو درپیش خطرات اور چیلنجز سے نمٹنے کے لئے بارڈرمینجمنٹ کے حوالے سے مؤثر اقدامات بھی اُٹھاتے رہتے ہیں۔ نائن الیون کے واقعے اور جنوبی ایشیا میں دہشت گردی کے خلاف جنگ بپا ہونے سے قبل پاکستان کی مغربی سرحد بھی شائد اس طرح کے چیلنجز اور خطرات سے بھری ہوئی نہیں تھی لیکن اب اتنے نقصانات کا سامنا کرنے کے بعد پاکستان کے لئے مغربی سرحدوں کو کھلا چھوڑ دینا ممکن نہیں رہا۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان نے طورخم سمیت کم و بیش آٹھ مقامات پر مناسب سکیورٹی چیک پوسٹوں اور گیٹس کی تعمیر کا آغاز کیا ہے تاکہ دونوں ممالک کی جانب سے سفر کرنے والے پاسپورٹ اور ویزے کی شرائط پر عمل کریں تاکہ آمدورفت کرنے والے شہریوں کی شناخت کو یقینی بنایا جا سکے کہ پاسپورٹ اور ویزے کی پابندی نہ ہونے کی وجہ سے اس امر کا قوی امکان ہے کہ پاکستان کے دشمن ممالک کے شہری بھی افغانی شہریوں کے بھیس میں پاکستان میں داخل ہو کر تخریب کاری اور دہشت گردی میں ملوث ہوتے ہیں۔


پاکستان، بارڈر مینجمنٹ کو مؤثر بنا کر، خطے کو خطرات سے نجات دلانے کا خواہاں ہے اِسی لئے ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ نے طورخم واقعے کے بعد ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ پاکستان بارڈرمینجمنٹ یقینی بنائے گا اور طور خم جیسے مزید گیٹ بھی تعمیرہوں گے تاکہ دونوں ممالک سے آنے جانے والے شہریوں کی دستاویزات کی مؤثر چیکنگ عمل میں لا کر خطے کو محفوظ بنایا جا سکے۔

یہ تحریر 72مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP