متفرقات

اجتہاد

سوسائٹیز رجسٹریشن ایکٹ 1860‘کورٹ فیس ایکٹ 1870‘دی کینال اینڈ ڈرینج ایکٹ 1873‘دی ٹرانسفر آف پراپرٹی ایکٹ 1882‘دی پاور آف اٹارنی ایکٹ 1882‘دی سٹامپ ایکٹ 1899‘دی پنجاب ملٹری ٹرانسپورٹ ایکٹ 1916‘دی ٹاؤن امپروومنٹ ایکٹ 1922اوردی کوآپریٹوز سوسائٹیز ایکٹ 1925۔۔۔یہ تمام قوانین انگریز دور میں بنائے گئے تھے ‘ان کی زبان انگریزی تھی اوران کے ڈرافٹسمین انگریز تھے ‘توکیا یہ سب قوانین غیر اسلامی ہیں‘کیا ان میں خلاف شرع باتیں درج ہیں اور کیا اسلام میں اس قسم کی قانون سازی کی کوئی گنجائش نہیں ؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کے جوابات باقی دنیا نے تو سیکڑوں برس قبل تلاش کرکے طے بھی کر لئے تھے ‘لیکن ہم چونکہ پرلے درجے کے سست واقع ہوئے ہیں‘ اس لئے تا حال ٹامک ٹوئیاں مار رہے ہیں کہ شائد کہیں سے کوئی سرا مل جائے ۔یہ سرا ڈھونڈنا اس لئے بھی ضروری ہے کیونکہ بعض حضرات کا یہ دعویٰ ہے کہ پاکستان میں غیر شرعی قوانین نافذ ہیں اور ان کے اس دعویٰ کی بنیاد یہی قوانین ہیں جو انگریز نے بنائے تھے ‘’’مور اوور‘‘ کے طور پر ان کا یہ بھی فرمانا ہے کہ انسانوں (پارلیمنٹ ) کو ان قوانین میں رد و بدل کا کوئی اختیار نہیں جن کی بابت دین میں دو ٹوک احکامات موجودہیں ۔ان قابل احترام حضرات کے دعوؤں کو پرکھنے کے لئے ضروری ہے کہ ہم ایک نظر خلافت راشدہ کے اس سنہری دور پر ڈالیں جنہیں ہم سب عہد رسالت ﷺکے بعد آئیڈیل مانتے ہیں ‘اور دیکھیں کہ اس دور میں قوانین میں کہاں اور کیسے تبدیلیاں کی گئیں : 
’’حضرت ابو بکرؓ کے زمانے میں شرابی کی تعزیر چالیس درّے تھی ‘حضرت عمر نے اسے اسّی کر دیا اور حضرت عثمانؓ نے دونوں ہی پر مختلف اوقات میں عمل کیا۔حضرت صدیق اکبرؓ کے عہد تک امّ ولد(جس لونڈی کے بطن سے اولاد ہو جائے ) کی خرید و فروخت جائز تھی ‘حضرت عمرؓ نے اپنے دور میں اس خرید و فروخت کو روک دیا کیونکہ قوانین غلامی کا اصلی مقصد تدریجی طور پر غلامی رسم کو ختم کر دینا ہی تھا۔غزوہ تبوک میں حضور ﷺ نے ہر قیدی کا فدیہ ایک دینار مقرر فرمایا تھا لیکن حضرت عمرؓ نے مختلف ممالک میں مختلف شرحیں فرمائیں۔حضور ﷺ کے عہد میں بعض مفتوحہ زمینیں (مثلاً خیبر)مجاہدوں میں تقسیم کی گئیں لیکن حضرت عمرؓ نے اپنے عہد میں اسے ختم کر دیا(کتاب الخراج)۔حضور ﷺ کے عہد سے لے کر عہد صدیقی تک ’’طلقات ثلاث بیک مجلس‘‘ کو طلاق رجعی قرار دیا جاتا رہا لیکن حضرت عمرؓ نے اپنے دور میں اسے طلاق مغلظہ قرار دیا اور بعد میں اس فیصلے پر سخت ندامت کا اظہار بھی فرمایا۔حلالہ کرنے والے اور کرانے والے کو حضورﷺ نے ملعون قرار دیا تھا اس کے لئے نہ قرآن میں کوئی حد ہے نہ حدیث میں کوئی تعزیر لیکن حضرت عمرؓ نے اپنے دور میں اعلان فرما دیا کہ ’’حلالہ کرنے والے اور کرانے والے دونوں کو میں سنگسار کروں گا۔‘‘ حضور ﷺ نے کبھی پورے رمضان میں بیس رکعت اور وہ بھی با جماعت تراویح نہیں پڑھی ‘دور صدیقیؓ میں بھی اس کا ثبوت نہیں ملتا لیکن حضرت عمرؓ نے اپنے دور میں اس کا باقاعدہ اہتمام فرما دیا اور وہ اب تک رائج ہے ۔حضور ﷺ کے عہد میں قرآنی نص کے مطابق مولّفۃ القلوب کو صدقہ و زکوٰۃدی جاتی تھی لیکن حضرت عمرؓ نے اسے ختم کر دیا۔حضرت ابو بکرؓ کے عہد تک غیر شادی کی سزائے زنا سو کوڑے کے ساتھ ملک بدری بھی تھی لیکن حضرت عمرؓ نے اپنے دور میں ملک بدری کو روک دیا۔حضورﷺ سے لے کر حضرت عمرؓ کے عہد تک جمعے کی ایک ہی اذان (قبل از خطبہ) ہوا کرتی تھی لیکن حضرت عثمانؓ نے اپنے دور میں ایک اور اذان کا اضافہ فرمایا جو اب تک رائج ہے ۔حضرت ابوبکرؓ کے عہد تک زن کتابیہ سے نکاح کا رواج (اجازت قرآن کے مطابق) تھا لیکن حضرت عمرؓ نے اپنے عہد میں مسلمانوں کو بعض فتن کے اندیشے کی وجہ سے اس کو روک دیا۔‘‘
یہ تمام مثالیں اجتہاد کی ہیں جو عہد رسالت ﷺ کے ختم ہونے کے تیس برس کے اندر کیا گیا‘یعنی ایک ایسی مثالی مملکت جو تاریخ میں اس سے پہلے کبھی وجود میں آئی اور نہ آئندہ آئے گی ‘اس دور مملکت کے بعد فقط تیس برسوں میں خلفائے راشدینؓ نے درجنوں قوانین میں ترامیم کیں‘ تو ا ب چودہ سو سال گزرنے کے بعد کیا حالات اس قدر جامد ہیں کہ مزید کسی تبدیلی‘ کسی ترمیم کی کوئی گنجائش ہی نہیں؟ دراصل یہاں بعض علما نے تین مفروضے قائم کر رکھے ہیں جن کی بنیاد پر وہ یہ سمجھتے ہیں کہ جو نظام قرون اولی ٰ میں رائج تھا اس میں کسی قسم کے ردو بدل کا ہمیں اختیار نہیں ہے اور انہی مفروضوں کی بنا پر وہ یہ سمجھتے ہیں کہ انگریزی میں لکھے گئے قوانین غیر اسلامی ہیں۔
پہلا مفروضہ یہ ہے کہ انسانوں (پارلیمنٹ) کو قانون سازی کا کوئی حق نہیں‘ اس سے مراد یہ لی جاتی ہے کہ جو حدود و قیود اﷲ نے بیان فرما دی ہیں ان میں کوئی دنیاوی آئین ساز ادارہ کثرت رائے کی بنیاد پر ترمیم نہیں کر سکتا ۔یہ بات درست ہے بشرطیکہ قانون سازی سے مراد حدودِ الٰہیہ ہوں۔۔۔ لیکن اگر قانون سے مراد بائی لاز ہیں تو اس کا حق پارلیمنٹ کو حاصل ہے ‘ اس بات کو یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ دین سازی کا حق انسانوں کو حاصل نہیں مگر قانون سازی کا اختیار ہے اور اسی اختیار کے تحت خلفائے راشدینؓ نے عہد رسالت ﷺکے بہت سے قوانین میں ترمیم کی ۔دوسری دلیل اس ضمن میں یہ دی جاتی ہے کہ حضرت عمرؓ نے جو اصلاحات کیں وہ ان کا اختیار رکھتے تھے کیونکہ وہ رسول اللہ ﷺ کے قریب ترین ساتھیوں میں سے تھے اور ان سے بہتر دین اور فقہ کا علم بھلا کون رکھتا تھا ‘ اب حضرت عمرؓ جیسے لوگ کہاں جو اجتہاد کا حق ادا کریں !اگر اس دلیل کو درست مان لیا جائے تو کل کو یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ اس زمانے میں حضرت علیؓ جیسے مجاہد کہاں جو دشمن کے تھوکنے کے بعد اس کے سینے سے اتر آئیں لہٰذا اب قتال فی سبیل اللہ بھی نہیں ہو سکتا‘ اب فارو ق اعظمؓ جیسے صاحب عدل کہاں جو اپنے بیٹے کو درّے لگانے سے بھی گریز نہ کریں اس لئے اسلامی حکومت اور نظام عدالت قائم کرنے کا خیال ہی چھوڑ دینا چاہئے۔جب ہم اسلامی حکومت قائم کرنے کے لئے کوشاں ہیں تو پھر اجتہاد کا دروازہ کیوں کر بند کیا جا سکتا ہے !تیسرا مفروضہ ان حضرات کا یہ ہے کہ دین کے مسائل پر رائے دینے کا حق صرف کسی مدرسے سے فارغ التحصیل عالم کو ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ جس شعبے کا مسئلہ درپیش ہو اس کے ماہرین سے رائے لینی چاہئے ۔سنت نبوی ﷺ میں اس کی بہت سی مثالیں ملتی ہیں ‘غزوہ بدر کے موقع پر حضورﷺ نے حباب بن منذر کی رائے کے مطابق ہی فوجی کیمپ کی جگہ متعین فرمائی اور اپنی رائے بدل دی۔ظہار کے جھگڑے میں ایک عامی عورت کی بات کو قرآن نے ترجیح دی‘حضرت عمرؓ نے تعیین مہر کے معاملے میں ایک عامی عورت کے استدلال پر اپنی رائے واپس لے لی ۔یہ تمام رائے دینے والے حضرات کسی مدرسے کے فارغ التحصیل نہ تھے۔ لیکن ان کی بات معقول تھی اس لئے مان لی گئی ۔
مختصراً یہ کہ آج کل کے زمانے میں بھی یہی اصول لاگو ہوں گے ‘کسی ایک گروہ کی اجارہ داری کی اسلام میں پہلے گنجائش تھی نہ اب ہے ۔
نوٹ: اس کالم میں بیان کئے گئے اسلامی تاریخ کے واقعات ‘ حوالہ جات اور استدلال مولانہ شاہ محمد جعفر پھلواروی کی کتاب ’’اجتہادی مسائل ‘‘ سے اخذ کئے گئے ہیں ۔
[email protected]

یہ تحریر 79مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP