قومی و بین الاقوامی ایشوز

اتحاد‘ایمان‘ تنظیم

کسی بھی ریاست کی نظریاتی بنیاد دراصل اس کی روح کی حیثیت رکھتی ہے‘ جس طرح انسانی وجود کے لئے نظریہ اہمیت رکھتا ہے ٹھیک اسی طرح ایک ریاست کے لئے اس کے نظری شعار موٹو ریاست کی روح کی مانند ہوتے ہیں۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ریاست کے نظریاتی شعائر دراصل اہلِ ریاست کی سوچ کے عکاس ہوتے ہیں لیکن بنیادی بات یہ ہے کہ کسی بھی ریاست کا تعلق براہ راست نظریات یا عقائد سے نہیں ہوتا بلکہ ریاست اس سارے معاملے سے یکسر منزہ ہوتی ہے کیونکہ ریاست معاشرے سے بنتی ہے اور معاشرے میں ہر قسم کے نظریات کے حامل افراد موجود ہوتے ہیں۔ چنانچہ ریاست ان تمام شہریوں کے حقوق کی یکساں پاسدار ہوتی ہے جو اس ریاست کے قانون کی اطاعت کا عہد کر چکے ہوتے ہیں۔ بحیثیت شہری ایک ریاست میں نظریات کے لحاظ سے کوئی خاص یا عام نہیں ہوتا بلکہ ریاست ہر شہری کے نظریات اور وجود کی یکساں محافظ ہوتی ہے اس لئے ریاست کے نظریاتی شعائر آفاقیت پر مبنی ہونے چاہئیں تاکہ دنیا کے کسی بھی کونے سے انسان اس ریاست میں آ کر خود کو ہر لحاظ سے محفوظ تصور کرے۔ مملکت پاکستان کے بانی قائداعظم محمد علی جناح کا بھی پاکستان کو معرض وجود میں لانے کا اصلی مقصد بھی یہی تھا۔ چنانچہ قیامِ پاکستان سے صرف 3 دن قبل 11 اگست 1947کو انہوں نے قانون ساز اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا ’’آپ آزاد ہیں، آپ کو اپنے مندروں میں جانے کی آزادی ہے، پاکستان کی ریاست میں آپ کو اپنی مسجدوں یا عبادت کی کسی بھی جگہ جانے کی آزادی ہے، آپ کا تعلق چاہے کسی بھی مذہب، ذات یا نسل سے ہو، اس کا ریاست کے امور سے کوئی لینا دینا نہیں‘‘ ریاست اپنے ہر شہری کے بلا امتیاز نظریات، جان، مال اور عزت کی حفاظت کی ذمہ دار ہوتی ہے۔ اس ذمہ داری کا براہ راست تعلق قوانین پر منحصر ہے اور قوانین اہلِ امر کے رہن ہوتے ہیں۔ چنانچہ بالکلیہ اہلِ امر ہی اپنی ریاست کے ہر شہری کے نظریات جان، مال اور عزت کے محافظ ہوتے ہیں۔ نظریات کی حفاظت اس لئے ضروری ہے کہ انسانی وجود کو نظریہ ہی ڈرائیو کرتا ہے۔ اگر نظریات پر قدغن لگا دیا جائے تو وجود بے معنی ہو کر رہ جاتا ہے۔ ریاست کے نظریاتی شعائر آفاقی اصولوں پر مبنی ہونے چاہئیں تاکہ دنیا کے کسی بھی انسان کے لئے وہ ریاست اپنی جائے پیدائش کی مانند محفوظ اور مانوس رہے۔ مملکتِ عظمیٰ کے نظریاتی شعائر پر ہم یکے بعد دیگرے روشنی ڈالتے ہیں تاکہ ہر معزز شہری کے لئے ملی بصیرت اوراصلاحِ سلوک کا باعث بن سکیں۔

 

اتحاد


روح کا تعلق نظریہ سے اور وجود کا مٹی(وطن)سے ہوتا ہے۔ انسان جتنی روحانی و مادی ترقی کر لے‘ اپنی جائے پیدائش اسے اپنی ماں کی طرح عزیز ہوتی ہے۔ قدیم پشتو زبان کی معروف مثل ہے کہ ’’خپل وطن کشمیر دئی‘‘ (اپنا ملک ہمیشہ کشمیر ہی ہوتا ہے) اتحاد دو طرح کا ہوتا ہے ایک نظریاتی اور دوسرا وطنی‘نظریاتی اتحاد دراصل انسان کی خالص انفرادی روحانی مشق کا نام ہے‘ جب چند‘ بیسیوں، سینکڑوں یا ہزاروں لوگ ایک ہی روحانی مشقات کے حامل آپس میں ملتے ہیں تو یہ نظریاتی اتحاد کہلاتا ہے مگر واضح رہے کہ یہ قومیت کی مبادیات میں سے نہیں۔ قومیں دھرتی سے بنتی ہیں‘ نظریہ سے نہیں۔ اسی اہم بنیادی نکتہ پر قیامِ پاکستان سے قبل مولانا حسین احمد مدنی اور ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کے درمیان کافی پرمغز بحث جاری رہی کہ قوم نظریات سے بنتی ہے یا دھرتی سے۔مولانا کا دعویٰ تھا کہ قوموں کا خمیر مٹی سے رونما ہوتا ہے جبکہ ڈاکٹر محمد اقبال کا فلسفہ یہ تھا کہ قومیں عقائد یا نظریات سے بنتی ہیں۔ نظریات ایک طرح کا جذباتی مجمع ضرور وقوع پذیر کر دیتے ہیں‘ لیکن اتحاد الاصلی مٹی ہی سے نمو ہوتا ہے کہ یہی انسانی فطرت کا مظہر ہے۔ قیامِ پاکستان کا مقصد کسی نئی قوم کی داغ بیل ڈالنا نہیں تھی بلکہ قرآنی اصولوں پر مبنی ایک ایسی خالص روحانی تہذیب واقع کرنی تھی جو ریاستِ محمدیہﷺ کا کماحقہ عکس لئے ہوئے ہو۔ پیغمبراسلامﷺ کو آخری دم تک اپنی قوم کے افراد سے دلی محبت رہی پس اگر اہلِ مکہ آپﷺ کو مجبور نہ کرتے تو آپﷺ کبھی بھی ان سے برسرِ پیکار نہ ہوتے۔ قیامِ پاکستان کا مقصدِ اصلی بھی یہی تھا کہ ایک ایسی ریاست قائم کی جائے جو ہر لحاظ سے مدینہ النبی کا عکس لئے ہوئے ہو اور اس کے شہری ایسے زبردست اتحاد کا مظاہرہ کریں کہ پوری دنیا کے ہم عقیدہ و مختلف عقیدہ لوگ خواہش کریں کہ ہم مدینہ النبی ثانی میں قیام کرنے کی تمنا رکھتے ہیں۔

 

ایمان


ایمان کے لغوی معنی ’’امن‘‘ کے ہیں جبکہ مذہبی اصطلاح میں پیغمبرِ اسلام حضرت محمدمصطفی ﷺ کی وساطت سے ذاتِ خداوندی پر یقین لا کر ان کے احکامات کی غیرمشروط

اطاعت کرنا ہے،اگر قرآن کی بات کریں تو قرآن محتاط بصیرت اور زبردست غور و فکر کی دعوت دیتا ہے۔ چنانچہ ارشاد ہے ’’بھلا یہ لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے یا اُن کے دلوں پر قفل پڑے ہیں؟‘‘ (سورۃ محمد۔ آیت24:) قرآن کے اس اعلان سے ثابت ہوتا ہے کہ قرآن اپنے مخاطب کو کہر ذہنی کی طرف راغب نہیں کرتا بلکہ شاندار بصیرت اور زبردست غور و فکر کی دعوت دیتا ہے۔ چنانچہ قرآن پر براہ راست غور کرکے قرآنی اصولوں پر عمل کرنا ہی اصل ایمان ہے۔ قرآن صرف کسی جذبے یا عقیدے کو ایمان کی بنیاد نہیں قرار دیتا بلکہ خالص عقل و بصیرت کی دعوت دیتا ہے۔ جذبات بصیرت سے منزہ ہوتے ہیں۔ کیونکہ عقائد اور جذبات انسان کے اندر عصبیت اور ناروا جانبداری پیدا کردیتے ہیں یعنی حاملِ عقیدہ ہر صورت اور ہر حالت میں اپنی ہی بات کو حق ثابت کرنے کے لئے ڈٹ جاتا ہے‘ اگر کوئی اسے دلیل سے قائل کرنے کی کوشش کرے تو اس کے لئے مسائل پیدا کر دیتا ہے۔ حتیٰ کہ اس کی جان لینا بھی بزعم خود اپنا فریضہ سمجھتا ہے۔ جب انسان ایک چھوٹے سے نکتے کو غلط زاویہ دے بیٹھتے ہیں تو پھر وہی چھوٹا سا نکتہ معاشرے کو فکری و اخلاقی لحاظ سے تہس نہس کر دیتا ہے۔ ایمان ایک انتہائی خوبصورت اور راحت بخش احساس کا نام ہے۔ یہ کبھی ایک انسان کو اس بات پر آمادہ نہیں کر سکتا کہ وہ اپنے ہی جیسے کسی دوسرے انسان کو اذیت میں مبتلا کردے۔ ایمان بلا بصیرت انسان کو جانور سے بدتر بنا دیتا ہے‘ جیسا کہ ارشاد ہے۔یعنی ’’یہ لوگ بالکل چوپایوں کی طرح ہیں بلکہ اُن سے بھی بھٹکے ہوئے ہیں ‘‘(سورۃ الاعراف‘ آیت179:) ایمان بصیرتِ عظمیٰ ہے نہ کہ جہلِ مطلق، ایمان اندھی تقلید کا نام نہیں بلکہ شعور کی چمکدار روشنی ہے۔اگر عقیدہ یا جذبہ کی بات ہوتی تو یہاں تاکید کی کوئی ضرورت نہیں رہتی چنانچہ مملکت عظمیٰ کے حصول کا اصلی مقصد بھی یہی تھا کہ اس خطے میں خالص قرآنی اصولوں کے مطابق ایک بالکل جدید تہذیب کی بنیاد رکھنی تھی۔ اسی بنیادی اصول کو واضح کرتے ہوئے 13 اپریل 1948 اسلامیہ کالج پشاور میں تقریر کرتے ہوئے بانی پاکستان نے فرمایا ’’ہم نے پاکستان کا مطالبہ زمین کا ایک ٹکڑا حاصل کرنے کے لئے نہیں کیا بلکہ ہم ایسی تجربہ گاہ چاہتے تھے جہاں ہم قرآنی اصولوں کے مطابق زندگی بسر کر سکیں‘‘ چنانچہ بانئ پاکستان نے قرآنی اصولوں کو ان کے سیاق و سباق کی بنیاد پر نئے سرے سے تعمیر کرنے کی ذمہ داری اپنے رفیقِ خاص علامہ غلام احمد پرویز کے سپرد کر دی تھی۔ انہوں نے شبانہ روز محنت کرکے قرآن کی وہ جامع اور مبنی بر بصیرت اصولی تعبیر پیش کی جو آج بھی اہلِ بصیرت کے لئے مشعلِ راہ ہے۔ اس سے قبل ڈاکٹر علامہ محمد اقبال بھی دی ری کنسٹریکشن آف ریلجیس تھاٹ ان اسلام میں اپنا جدید منطقی اجتہاد پیش کر چکے ہیں۔ ان کے نزدیک بھی ایمان کی بنیاد بصیرت ہے تبھی آپ نے اس موضوع پر شاندار اجتہادات رقم کیے مگر شومئی قسمت کہ آج تک اہلِ دانش و اہلِ امر کی توجہ کا مرکز نہ بن سکے یہی وجہ ہے کہ مصورِ پاکستان ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کا تصورِ اجتہاد آج تک آئین کا حصہ بن سکا نہ ہی اہلِ ریاست کے عمل کا‘ جس کی بنیادی وجہ فکری جمود کے سوا کچھ نہیں۔

 

تنظیم


تنظیم سے مراد قانون کی اطاعت ہے اور قانون دراصل انسانی جذبات کی صحت مند نگہداشت کو کہتے ہیں۔ اکیلے انسان پر کبھی کوئی قانون نافذ نہیں کیا جا سکتا کیونکہ قانونتقاضا کرتا ہے تکثیرِ افراد کا۔ یعنی لوگوں کی اکثریت کا، خاندان سے معاشرہ بنتا ہے اور پھر معاشروں سے ریاست وقوع پذیر ہوتی ہے۔ چنانچہ ریاست کو چلانے کے لئے نظمِ اجتماعی کی ضرورت پڑتی ہے۔ پس یہی نظمِ اجتماعی تنظیم کہلاتی ہے۔ چنانچہ سیاست تنظیم کی مبادیات میں سے ہے۔ تنظیم کا دائرہ کار وسیع تر ہے۔ یہ ایک چھوٹے سے خاندان کے ضوابط کی اطاعت سے لے کر ریاست کے قوانین تک پھیلتی چلی جاتی ہے کیونکہ کوئی بھی کام چاہے دنیا کے کسی بھی شعبہ سے متعلق کیوں نہ ہو۔ اس میں تنظیم کو بنیادی حیثیت حاصل ہوتی ہے۔ بدنظمی معاشرے میں بغاوت و طوائف الملوکی پیدا کر دیتی ہے۔ افراد کی کثرت کو تنظیم کی ہی بنیاد پر متوازن رکھا جا سکتا ہے۔ بدنظمی ہر معاملے میں تباہ کن ثابت ہوتی ہے۔ تنظیم کی عمارت قانون پر قائم ہوتی ہے۔ کسی بھی شعبہ میں نظم پیدا کرنے کے لئے چند ایک شرائط و ضوابط قائم کئے جاتے ہیں تاکہ شعبہ یا ادارہ کے اندر ایک مضبوط نظم قائم رہے۔ پس ان ضوابط کی اطاعت کو ہی تنظیم کہا جاتا ہے۔ آئینِ مملکت ہی دراصل ریاست کی تنظیم کا ضامن ہوتا ہے۔ جب تک ایک شہری آئین کی اطاعت کرتا ہے ‘وہ تنظیم میں رہتا ہے۔ جیسے ہی وہ قوانین کی خلاف ورزی کرتا ہے‘ وہ ریاستی تنظیم سے نکل جاتا ہے۔ پس ایسے شہری کے لئے تعزیر کی صورت میں سزا تجویز کی جاتی ہے تاکہ کوئی دوسرا شہری ریاست کے نظم کو پائمال کرنے کی کوشش نہ کرسکے۔ اس لحاظ سے تنظیم دراصل ایک ریاست کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے اور اگر غور کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ ایمان اور اتحاد بھی درحقیقت اسی نظم کی بنیاد پر قائم ہیں۔ کسی نظریہ پر اس وقت تک افراد کی کثرت جمع نہیں ہو سکتی جب تک کہ وہ ایک نظم پر قائم نہ ہو جائے۔ اسی طرح تنظیم کے بغیر اتحاد بھی ممکن نہیں۔ افراد کی کثرت کو دراصل نظم ہی مجتمع اور متحد کرتا ہے۔ یہ تنظیم ہی ہے جو فرد کو خاندان‘ خاندان کو معاشرہ اور معاشرے کو ریاست سے مربوط کئے ہوئے ہے۔ اس میں ایک عنصر بھی غیر منظم ہو جائے تو پورا دھارا ٹوٹ جاتا ہے۔ یہی تنظیم دراصل ایک فرد کو ملت سے پیوست کر دیتی ہے۔ تنظیم قائم نہ ہو تو فرد اور ملت کا باہمی تعلق ہی ناپید ہو جائے۔ 

فرد قائم ربط ملت سے ہے تنہا کچھ نہیں
موج ہے دریا میں اور بیرون دریا کچھ نہیں
عدم تنظیم کے سبب ریاست زبردست انارکی اور بدنظمی کا شکار ہو جاتی ہے جس کا نتیجہ پھر لاقانونیت اور سماجی انتشار کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ ایسی انتہائی صورتحال میں پھر تعزیرات بھی بیکار ثابت ہو جاتی ہیں۔ چنانچہ جب تک آئین کی پاسداری نہیں کی جائے گی‘ نظم ممکن نہیں اور آئین کی پاسداری ہر اس شہری کا بنیادی فرض ہے جو ریاست میں رہ کر آئین کی اطاعت کا عہد لے چکا ہے۔
مضمون نگار انٹرنیشنل اسلامی یونیورسٹی ملائشیا سے اسلامی فلسفے (علم الکلام) میں پی ایچ ڈی ہیں۔
[email protected]

 

یہ تحریر 19مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP