قومی و بین الاقوامی ایشوز

اب اور نہیں ڈرنا

یہ کون ہے جن کی دنیا میں

دہشت کی حکومت چلتی ہے

اور جن کی قاتل آنکھوں میں

بغاوت کی وحشت ناچتی ہے

یہ کون ہے جن کا دین دھرم

اک جھوٹ پہ قائم جنت کی

دوزخ سے گواہی لینا ہے

سورج سے آنکھ چرانا ہے

راتوں سے سیاہی لینا ہے

وہ کون ہیں جو معصوموں کے

سینوں کو چھلنی کرتے ہیں

ہر آنکھ میں آنسو بھرتے ہیں

ہر منظر گھائل کرتے ہیں

جس خاک پہ ان کے قدم پڑیں

مقتل کی زمیں بن جاتی ہے

شعلوں میں جھلستی لاشوں کے

خوابوں کی امیں بن جاتی ہے

وہ جسم جو ریزہ ریزہ ہوئے

وہ نام جو بے پہچان ہوئے

سب پوچھتے ہیں کیوں ان کے گھر

نابود ہوئے ویران ہوئے!

تاریخ مگر یہ کہتی ہے

ہر اہل ستم کی قسمت میں تقدیر نے ذلت لکھی ہے

ہر ظلم فنا ہو جاتا ہے‘ ہر خوف ہوا ہو جاتا ہے

ہے شرط اگر تو اتنی ہے

جس بھیس میں ظالم آتے ہوں

مظلوم انہیں پہچان سکیں یہ جان سکیں

جو ڈرتے ہیں وہ مرتے ہیں

جب اہل وفا کا عزم و یقیں انکار کی لے میں ڈھل جائے

ہر چیز بدلتی جاتی ہے

ان اہل ستم کے رستوں میں

ایک ایک قدم پر جذبوں کی دیوار سی بنتی جاتی ہے

تقدیر سنورتی جاتی ہے

اے اہل نظر‘ اے اہل وفا

اک بات ہمیشہ یاد رہے

یہ جتنے شقی ہیں‘ قاتل ہیں

اندر سے سارے بزدل ہیں

اب ان سے اور نہیں ڈرنا

دہشت کی موت نہیں مرنا

اب ان سے اور نہیں ڈرنا

یہ تحریر 39مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP