متفرقات

آہ! صاحبزادہ یعقوب علی خاں

ٹیلی ویژن پر صاحبزادہ یعقوب علی خاں کے انتقال کی خبر سے دل ودماغ دھند لکوں کی آغوش میں چلا گیا۔ایک سکتہ سا طاری ہو گیا۔ اہلیہ نے گھبرا کر پوچھا کہ کیا ہوا۔ جواب دیا کہ قوم ایک عظیم رہنما سے محروم ہو گئی اور میں نے اپنے ایک محسن اور مشفق و مہربان کو کھودیا ۔ وہ شخص کہ جس نے پچانوے میں سے پچھتر سال دفاع اور میدانِ سفارت کا ری میں صرف کر دیئے، ایسی شخصیت کہ جس کی مثال کم ہی ملتی ہے ۔ ذرا سنبھلا تو میں نے اپنے آپ کو ماضی کے تہہ در تہہ مناظر کے حوالے کر دیا۔ گزرے ہوئے لمحات اور بیتے ہوئے واقعات ایک فلم کی طرح سامنے آنے لگے۔ اپنے وطن سے ہزاروں میل اور اکتالیس برس کی مسافت کو یکلخت میں نے طے کر لیا۔ امریکی شہر شکاگو کی 5600نارتھ شیریڈون سٹریٹ کی اٹھارہویں منزل کے اپارٹمنٹ نمبر14میں صبح کے دس بجے اپنے بستر پر کمبل اوڑھے بیٹھا تھا کہ فون کی گھنٹی بجی۔ میں نے فون کا چونگا اُٹھا کر کانوں کو لگایا تو ادھر سے آواز آئی۔ ۔۔۔واشنگٹن سے پاکستانی ایمبیسیڈر صاحبزادہ یعقوب علی خاں لائن پر ہیں۔۔۔۔ آپ ہی ریاض احمد پرواز ہیں؟ میں نے ہاں کہا تو۔۔۔۔ ادھر سے دوسری آواز آئی۔۔۔۔’’السلام علیکم۔۔۔۔میں یعقوب علی خاں بول رہا ہوں۔ کیا حال ہیں آپ کے ؟مجھے آپ کا خط مل گیا ہے، اسی میں آپ کا فون نمبر درج تھا آپ کے خط کے لئے شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں ۔میں نے آپ کے خط کے جواب میں خط بھجوا دیا ہے ۔ آج یا کل آپ کو مل جائے گا۔ اس کے علاوہ میں نے آپ کے خط کے مندرجات وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے گوش گزار کرنے کے لئے وزارتِ خارجہ کو بھجوا دئیے ہیں ۔‘‘پاکستانی سفیر نے ایک ہی سانس میں اتنی ساری باتیں کر دیں۔۔۔۔۔میں ہمہ تن گوش ہو کر سنتا رہا۔۔۔۔۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر کوئی اہم یا ضروری بات ہو تو مجھے فون پر بھی بتا دیا کریں۔میں نے ایمبیسی کے سٹاف کو بھی کہہ دیا ہے کہ شکاگو سے آپ کی کال آئے تو چاہے میں واک کے لئے بھی نکلا ہوا ہوں ۔ مجھے فوری طور پر اطلاع کریں۔ شکاگو آنا ہواتو آپ اور دوسرے پاکستانی بھائیو ں سے مل کر مجھے خوشی ہو گی۔۔۔۔ایک بار پھر میں آپ کے اہم خط کے لئے آپ کا شکر گزار ہوں۔ میرے لائق کوئی خدمت ہو تو بلاتکلف بتائیے گا۔۔۔۔۔ٹیلی فون کال بند ہوئی تومیں سوچنے لگاکہ پاکستانی سفیر اتنے متحرک اور فعال ہیں کہ ہفتے کے روز میرے ان کے نام لکھے ہوئے خط کے جواب میں انہوں نے مجھے خط بھی لکھ دیا اور فون کال بھی آگئی۔

 

جنوری 1975ء میں صاحبزادہ یعقوب علی خاں شکاگو آئے۔ لیک شور ڈرائیو سڑک پر مشی گن جھیل کے کنارے واقع ہالی ڈے ان ہوٹل میں ایک دن کے لئے ان کا قیام رہا۔ جس کی اطلاع مجھے واشنگٹن میں پاکستانی سفارت خانے کے سٹاف کی طرف سے کر دی گئی تھی۔چنانچہ میری صاحبزادہ یعقوب علی کے ساتھ اپنے تین دیگر دوستوں کے ہمراہ کوئی آدھ گھنٹے کی ملاقات رہی۔ میں نے ان جیسا مدبر سفارت کار اور جرنیل کم ہی دیکھا ہے، بلکہ سچ تو یہ ہے کہ وہ ایک منفرد ،بے مثال شخصیت کے مالک تھے جن سے ملاقات کے نقوش آج تک میرے ذہن پر نقش ہیں۔میں نے اپنے دیگر دوستوں کے ساتھ مل کر شکاگو سے پاکستانی کمیونٹی کے لئے پندرہ روزہ اخبار شائع کرنے کا پروگرام بنایا جس کی پیشانی لکھنے کے لئے میں نے چھ سات کتابت کے نمونے اپنے وقت کے استاد خوش نویس لائل پور کے چوہدری صدیق سے لکھواکے منگوائے جن میں اردو نیوز کے نام کی پیشانی تمام دوستوں کو پسند آئی۔ پندرہ روزہ اردو نیوز کے پہلے شمارے کے لئے پاکستانی سفیر صاحبزادہ یعقوب علی کی رنگین تصویر منگوائی گئی۔ کمال شفقت اور خوش دلی کے ساتھ انہوں نے اپنی تصویر کے ساتھ سفارت خانے کے لیٹر پیڈ پر اردو میں اپنے ہاتھ کا لکھا ہوا پاکستانی کمیونٹی کے نام پیغام بھی بھجوایا جس میں نیک تمناؤں اور مبارکباد کے ساتھ پاکستانی سفارت خانہ کی طرف سے بھرپور تعاون کا یقین دلایا۔ خط کے آخر میں انہوں نے خواہش ظاہر کی کہ اُردو نیوز کی بجائے اگر اُردو خبر نامہ‘ نام رکھا جاتا تو زیادہ بہتر تھا، اردو زبان کے فروغ کے لئے رسالے کا نام بھی اردو میں ہونا چاہئے۔

 

صاحبزادہ یعقوب علی خاں اردو اور انگریزی کے علاوہ چھ سات یورپی زبانوں ،اٹالین،جرمن،سپینش،فرانسیسی،ڈچ اور پرتگیزی میں بھی مہارت رکھتے تھے۔ان زبانوں میں تحریر و تقریر پر ان کو ملکہ حاصل تھا۔ سچ ہے کہ صاحبزادہ یعقوب علی عجوبہ اور نادر شخصیت کے حامل انسان تھے۔شکاگو میں ان دنوں میرے کراچی کے رہنے والے دوست جاوید موٹا ہوا کرتے تھے۔ وہ شکاگو میں میرے روم میٹ بھی رہ چکے تھے۔ جاوید موٹا شکاگو کی ایک لیموزین کمپنی(چھ دروازوں کی والی لمبی گاڑی)میں شوفر یعنی ڈرائیور کے طورپر کام کرتے تھے۔ مختلف ملکوں سے تعلق رکھنے والی شخصیتیں جب شکاگو کے دورے پر آتیں تو شکاگو یا اس کے گردو نواح میں سفر کرنے کے لئے لیموزین گاڑی بھجوانے کا آرڈر کیا کرتیں۔جاوید موٹا نے مجھے صاحبزادہ یعقوب علی خاں کا واقعہ خودسنایا۔کہنے لگے۔ لیموزین سروس کے دوران کمپنی کو کال آئی کہ اوہیٹر ایئر پورٹ شکاگو پر فلاں دِن فلاں ٹائم پر گاڑی بھجوائی جائے۔ چنانچہ کمپنی کی طر ف سے میری ڈیوٹی لگی کہ میں ایئر پورٹ سے مہمانوں کو لے کر کے جہاں جہاں ان کو جانا ہو، لے جاؤں میں وقت سے بھی آدھا گھنٹہ قبل ایئر پورٹ پر پہنچ گیا اور مہمانوں کو اپنی گاڑی میں سوار کر لیا۔یہ دو مہمان پاکستانی سفیر اور ان کے دوسرے ساتھی تھے۔ امریکہ میں انگریزی تو ہر شخص بول لیتا ہے۔ جاوید موٹا نے بتایا کہ مہمانوں نے چہرے مہرے اور قد کاٹھ سے مجھے سپینش زبان بولنے والا میکسیکن سمجھا اور دونوں مہمانوں نے آپس میں اردو میں بات چیت شروع کر دی۔جاوید موٹا نے بتایا کہ اردو میں بات چیت میں سن رہا تھا۔ میں نے بڑے فخر سے اپنے مہمانوں کو بتایا کہ میں بھی پاکستانی ہوں۔ اس کے بعد دونوں مہمانوں نے آپس میں سپینش زبان میں بات چیت شروع کر دی۔ جاوید تھوڑی بہت سپینش زبان جانتا تھا، اس نے اپنی زبان دانی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک دو جملے سپینش زبان میں بولے۔پاکستانی سفیر اس پر پریشان ہو گئے کہ یہ لڑکا ہماری باتیں سمجھ رہا ہے۔ اس کے بعد دونوں مہمانوں نے فرانسیسی زبان میں گفتگو شروع کر دی۔ جاوید موٹانے بتایا کہ چونکہ فرانسیسی زبان میرے پلے نہیں پڑ رہی تھی اس لئے میرے مہمانوں نے اطمینان کے ساتھ اپنی بات چیت مکمل کی۔


جیسا کہ شروع میں میں نے بتایا کہ ٹیلی ویژن پر سابق وریرِ خارجہ صاحبزادہ یعقوب علی خاں کی وفات کی خبر آئی تو میرے دل و دماغ میں بھونچال سا آگیا۔اس خبر کے ساتھ وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف ،صدرِ مملکت ممنون حسین کے علاوہ دوسری اہم شخصیات کی طر ف سے صاحبزادہ یعقوب علی خاں کی وفات پر تعزیتی پیغامات آنے شروع ہو گئے جن میں ان کی وفات پر گہرے صدمے کے اظہار کے ساتھ ساتھ ان کی خدماتِ جلیلہ کا اعتراف بھی کیا جارہا تھا اور ان کے لئے دعائے مغفرت اور لواحقین کے لئے صبرِ جمیل کی دعا بھی کی جارہی تھی۔


صاحبزادہ یعقوب علی خاں نے برطانوی حکمرانی کے دور میں بھارتی ریاست اتر پردیش کے شہر رامپور کے نواب خاندان میں آنکھ کھولی۔وہ23دسمبر1920ء کو پیدا ہوئے اور 26جنوری2016ء کو اسلام آباد میں انتقال کر گئے اس طرح انہوں نے پچانوے سال ایک ماہ اور تین دن عمر پائی۔ انہوں نے بہترین صلاحیتیوں اور بے مثال کامیابیوں کے ساتھ بھرپور زندگی گزاری اور اعلیٰ سے اعلیٰ مدارج طے کرتے رہے۔انہوں نے راشٹریہ ملٹری کالج یو پی سے فوجی تربیت حاصل کی۔ 1940سے لے کر 1947تک وہ برٹش آرمی میں خدمات انجام دیتے رہے۔ پھر1947سے 1972تک پاکستان آرمی میں کام کیا۔


1973 میں سفارت کاری کے شعبہ سے وابستہ ہو گئے۔ وہ انتہائی ہائی پروفائل شخصیت تھے۔ انہوں نے انتہائی اہمیت کی حامل فوجی اور حکومتی ذمہ داریوں کو نبھایا۔ انہوں نے تین عشروں تک بیرونی دنیا میں سفارت کارکی حیثیت سے پاکستان کا سربلند کئے رکھا۔ انہوں نے امریکہ اور فرانس کے علاوہ سویت یونین میں پاکستانی سفیر کے طورپر کام کیا۔انہوں نے وزیر خارجہ کی حیثیت سے بھی گراں قدر خدمات انجام دیں۔ وہ 1982 سے 1991 تک وزیرخارجہ رہے۔ اس کے بعد وہ 1996 میں نگران حکومت کے ساتھ وزیرخارجہ رہے اور 1997تک اس عہدے پر رہے۔


اقوام متحدہ کے فوجی مشنوں میں بھی مختلف ممالک میں انہوں نے فوجی خدمات انجا م دیں۔ آغا خاں یونیورسٹی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چیئر مین کی حیثیت سے تعلیمی شعبے کے انتظامی امور کو بہ احسن و خوبی نبھایا۔ صاحبزادہ یعقوب علی خان ایران کی خلیلی فیملی میں طوبیٰ خلیلی کے ساتھ رشتہ ازدواج سے منسک ہوئے۔ ان کے دو بیٹوں کے نام صمد اور نجیب ہیں۔


مضمون نگار صحافتی پس منظر رکھتے ہیں۔ آپ ریڈیو پاکستان کے ساتھ بھی وابستہ رہے۔

[email protected]

یہ تحریر 83مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP