متفرقات

آزاد کشمیر میں سیاحت کا فروغ اور حکومتی کردار  

 موجودہ دور میں سیاحت کسی بھی ملک کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کا درجہ رکھتی ہے۔ بعض ممالک نے اس پر عملاً توجہ دیتے ہوئے اس کے فروغ کا تہیہ کیا اور آج وہ ممالک سیاحت کے بل بوتے پر ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل ہو چکے ہیں حالانکہ ان ممالک میں موجود علاقوں کو وہ قدرتی حسن و دلکشی حاصل نہیں جو خطہ کشمیر کو حاصل ہے۔ آزادکشمیر کے اکثر علاقوں کو قدرتی حسن و دلکشی کے باعث جنت نظیر کہا جاتا ہے۔ بلاشبہ اس کے بلند و بالا پہاڑ، سرسبز و شاداب چوٹیاں، ہرے بھر کھیت و کھلیان، بہتے دریا، ندی، نالے اور جھرنے سیاحوں کو دعوت نظارہ دیتے ہیں گرمی کا موسم ہو یا سردی اور برفباری، آزادکشمیر کے بعض علاقے قدرتی حسن و دلکشی میں اپنا ثانی نہیں رکھتے۔ راولاکوٹ کا ہر علاقہ اپنی مثال آپ ہے۔ چھوٹا گلہ و بنجوسہ جھیل ہو یا تولی پیر کے فلک بوس ہرے بھرے میدان، وادی پرل اور اس سے ملحقہ علاقے، ہر مقام حسن و دلکشی میںیکتا ہے، اسی طرح ضلع سدہنوتی میں دیوی گلی اور دیگر مقامات، ضلع باغ میں لسڈنہ اور سدھن گلی کی خوبصورتی آنے والوں کو اپنے سحر میں جکڑ لیتی ہے۔ مظفرآباد، نیلم ویلی اور ہٹیاں کے تمام علاقے اور دریا  اپنی مثال آپ ہیں اور یہ علاقے کسی بھی لحاظ سے سوئٹزر لینڈ سے کم نہیں۔



یہاں آنے والا قدرت کاملہ کے شاہکاروں کو دیکھ کر انگشت بدنداں رہ جاتا ہے اور یہ تمام علاقے سیاحوں کو اپنی حسین وادیوں کے سحر میں جکڑ لیتے ہیں جو بلا مبالغہ یہ کہتے ہیں کہ کشمیر واقعی جنت نظیر ہے۔ اس خوبصورت خطے میں سیاحت کو فروغ دے کر نہ صرف معاشی خود کفالت کا حصول ممکن ہے بلکہ بے روزگاری کا خاتمہ بھی کیا جا سکتا ہے، مگر تاوقت ان تمام سیاحتی مقامات پر وہ توجہ نہیں دی جا سکی جس کے یہ متقاضی ہیں۔ ماضی میں ہر آنے والی حکومت سیاحت کے فروغ کے دعوے تو کرتی رہی ہے مگر عملاً اقدامات نہیں اٹھائے گئے۔ محکمہ سیاحت آزادکشمیر کی کارکردگی بھی متاثر کن نہیں ہے مگر اب وزیر اعظم پاکستان ، پاک فوج اور وفاقی و آزادکشمیر کی حکومتیں سنجیدہ کوششوں میں مصروف ہیں اور ریسٹ ہائوسز تعمیر کرتے ہوئے سیاحت کو عملاً فروغ دیا جارہا ہے۔ خطہ جنت نظیر کے انتہائی خوبصورت اور قدرتی حسن و دلکشی سے بھرپور مقامات ضلع پونچھ، راولاکوٹ ،باغ اور مظفرآباد میں ہیںجنہیں راولپنڈی اسلام آباد سے ملانے والی شاہرات کا پنجاب کی حدود کا حصہ انتہائی خستہ حالی کا شکار ہے راولپنڈی ٹائیں ڈھلکوٹ شاہراہ کوٹلی ستیاں سے کلیاری تک کھنڈرات کا بد ترین نمونہ پیش کر رہی ہے جس کا گزشتہ عرصے میں نگران صوبائی وزیر زراعت وخوراک اور پی اینڈ ڈی سردار تنویر الیاس نے نوٹس لیا اور رقم مختص کروائی جس کے بعد امید کی جا رہی ہے کہ اس اہم شاہراہ کا یہ حصہ تعمیر ہونے سے سفری مشکلات کا ازالہ ہوگااور سیاحت کو فروغ حاصل ہو سکے گا۔ اسی طرح کہوٹہ آزاد پتن شاہراہ کا صوبہ پنجاب میں موجود حصہ صوبائی حکومت کی توجہ کا طالب ہے اور اس پر کام بھی جاری ہے مری کوہالہ شاہراہ کی تعمیر بھی جاری ہے کیونکہ وفاقی حکومت آزادکشمیر میں سیاحت کے فروغ میں خاصی دلچسپی لے رہی ہے ۔اگر یہ شاہرات بہتر طور پر تعمیر ہو جائیں تو آزادکشمیر کو سیاحت سے اس قدر آمدنی حاصل ہو سکتی ہے جس سے اس کی معیشت مستحکم ہو سکے۔ آزادکشمیر کو پاکستان سے ملانے والی اہم شاہرات بین الاقوامی معیار کے مطابق تعمیر کر لی گئی ہیں ۔ تاہم راولاکوٹ سے بنجوسہ شاہراہ پر بھی تعمیراتی عمل تکمیل کے آخری مراحل میں ہے اور یہ سفر بھی انتہائی سہل بن چکا ہے۔ تولی پیر شاہراہ حکومت آزادکشمیر کی فوری توجہ چاہتی ہے اس کے ساتھ ساتھ تولی پیر کے مقام پر سیاحوں کی سہولیات کو مدنظر رکھتے ہوئے معیاری طہارت خانے اور حکومتی نگرانی میں ریسٹ ہائوسز کی تعمیر بھی ناگزیر ہے ان علاقوں کا ہر مقام قدرتی حسن و دلکشی میں اپنا ثانی نہیں رکھتا اور سیاحوں کو دعوت نظارہ دیتا ہے تاہم مزیدسہولیات کی فراہمی ناگزیر ہے جنہیں فراہم کر کے ریاستی معیشت کو مضبوط اور ملکی و بین الاقوامی سیاحوں کو تفریح کے وسیع مواقع مہیا کئے جا سکتے ہیں کیونکہ حال ہی میں وفاقی حکومت نے غیر ملکی سیاحوں کو بغیر این او سی آزادکشمیر میں آنے کا اعلان کر دیا ہے جو انتہائی خوش آئند ہے جس سے نہ صرف سیاحت کو فروغ حاصل ہو گا بلکہ آزادکشمیر کو معاشی استحکام بھی ملے گا اور بے روز گاری کا خاتمہ ممکن ہو گا۔ وادی پرل راولاکوٹ کا ہر مقام اپنی مثال آپ ہے اور عالمی سیاحت کی توجہ کا مرکز ہے اس دھرتی کا شمار ریاست جموں و کشمیر کے ان علاقوں میں ہوتا ہے جو قدرتی حسن و معتدل آب و ہوا کی وجہ سے اپنی مثال آپ ہیں۔ سردی ہو یا گرمی یہاں سیاحوں کی آمدورفت جاری و ساری رہنا نیک شگون ہے۔اگر یہاں سیاحوں کو زیادہ سے زیادہ سہولتیں مہیا کی جائیں تو ملکی سیاحوں کو بیرون ملک جانے کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہو گی اور غیر ملکی سیاح بھی جوق در جوق اس خطہ جنت نظیر کا رخ کریں گے۔


 [email protected]
 

یہ تحریر 89مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP