شعر و ادب

آزاد وطن یہ پاک وطن

زندہ ہے ‘ زندہ رہے گا

 

یہ راحتِ جاں‘ یہ رشکِ چمن

 

زندہ ہے‘ زندہ رہے گا

 

بچھا ہوا ہے سونا ہر سُو کھیتوں اور کھلیانوں میں

 

خوابوں جیسے باب کھُلے ہیں آنکھوں اور مکانوں میں

 

قریہ قریہ جیسے کوئی بول رہا ہے کانوں میں

 

گہوارۂ امن و علم و فن

 

زندہ ہے زندہ رہے گا

 

نکل پڑے ہیں دہقان زادے‘ نکھرے ہیں محنت کے جادے

 

وقت بھی رستہ دے دیتا ہے‘ زندہ ہوں جب دل میں ارادے

 

یہ پھول دلوں کا چاند سخن

 

زندہ ہے‘ زندہ رہے گا

 

ساتوں رنگ زمیں کے چمکے محنت کش کے ہاتھوں سے

 

ہلکی ہے تخلیق کی خوشبو گرم مہکتی سانسوں سے

 

سارے منظر دمک اُٹھے ہیں روشن روشن آنکھوں سے

 

یہ رنگِ طلوعِ صبح چمن

 

زندہ ہے‘ زندہ رہے گا

 

آزاد وطن یہ پاک وطن

 

زندہ ہے‘ زندہ رہے گا

 

امجد اسلام امجد

یہ تحریر 87مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP