قومی و بین الاقوامی ایشوز

آزادی ٹرین دو ہزار چودہ

یومِ آزادی کو شایانِ شان طریقے سے منانے کے لئے 68ویںیومِ آزادی پر حکومتِ پاکستان کی جانب سے پشاور سے کراچی تک خصوصی آزادی ٹرین چلائی گئی ہے۔ اس ٹرین کا بنیادی مقصد عوام الناس کے اندر آزادی کے حوالے سے شعور اور آگہی پیدا کرنا تھا۔ جس کے لئے چودہ بوگیوں اور فلوٹس پر مشتمل ٹرین کی تحریکِ پاکستان‘ جدوجہدِ پاکستان اوردفاعِ پاکستان کے پسِ منظر کو مدِ نظر رکھتے ہوئے اسلام آباد کیرج فیکٹری میں تزئین و آرائش کا مرحلہ وار کام کا آغاز کیا گیا۔ آزادی ٹرین کے سفر کا آغاز12اگست کو مارگلہ ریلوے سٹیشن اسلام آباد سے پشاور کے لئے ہوا جو چاروں صوبوں کے مختلف ریلوے سٹیشنوں پر ٹھہرتی ہوئی6ستمبر تک سفر جاری رکھتے ہوئے کراچی میں اپنے سفرکا اختتام کرے گی۔ افواجِ پاکستان کی نمائندگی کے لئے دو بوگیاں مختص کی گئی تھیں جن کی تزئین و آرائش کی ذمہ داری آئی ایس پی آر کو سونپی گئی۔ ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ نے آزادی ٹرین کی تیاری میں خصوصی دلچسپی لیتے ہوئے ہر مرحلے پر خصوصی رہنمائی اور نگرانی کی تاکہ تحریک پاکستان سے عصرِ حاضر تک کے تمام ادوار میں کہ افواجِ پاکستان کی جانب سے کی گئی مختلف کاوشوں کو مؤثر ترین انداز میں پیش کیا جاسکے۔ بوگی نمبر ون کی بیرونی دیواروں پر عساکرِ پاکستان کا خوبصورت پوسٹر اور تینوں افواج کی آپریشنل مصروفیات کو خوبصورت طریقے سے اجاگر کیا گیا۔ بوگی کی دونوں اندرونی دیواروں پر قائداعظم اور افواجِ پاکستان کے خوبصورت تعلق کو تصاویر کی مدد سے ظاہر کیا گیاجبکہ جنگِ آزادئ کشمیر اور افواجِ پاکستان کاکردار بھی تصویروں میں نظر آیا۔ اس کے ساتھ ساتھ مہاجرین کی آمد اور ان کی بحالی میں افواجِ پاکستان کی کارکردگی کو بھی موضوع بنایا گیا۔حُرّ مجاہدین کی تحریکِ آزادی میں شمولیت کو بھی تصویروں کی مدد سے عیاں کیا گیا ۔ 1965 اور1971 کی جنگوں کی بھی تصاویر کی مدد سے منظر کشی کی گئی۔ اقوامِ متحدہ کے پرچم تلے دنیا بھر میں پاک فوج کے امن مشن میں کارکردگی اور ستائش بھی دیکھنے والوں کے لئے ایک خصوصی دلچسپی کی حامل تھی۔ قدرتی آفات ایک حقیقت ہیں جن سے نپٹنے کے لئے افواجِ پاکستان نے ہر مرحلے میں اپنا کلیدی کردار اد کیا ہے۔ افواجِ پاکستان کے اس کردار کو بھی خوبصورت تصویروں کی مدد سے نمایاں کیا گیا ۔ اس کے ساتھ ساتھ قومی ترقی میں افواجِ پاکستان کے شانہ بشانہ سفر بھی دیکھنے والوں کے لئے خصوصی اہمیت کا حامل رہا۔سڑکوں ‘ پلوں‘ سکولوں اور کیڈٹ کالجز کی تعمیر کے علاوہ عوامی فلاحی و بہبود کے مختلف منصوبوں میں پاک فوج اپنا کردار نبھاتی ہوئی نظر آتی ہے۔ بوگی کے اندر قائداعظم محمدعلی جناح کا رکھا گیا مجسمہ بھی تحریکِ پاکستان اور آزادی کے تصور کو بیان کرنے میں ممد و معاون ثابت ہوگا۔ بوگی نمبر 2 ’’ شہید کی جو موت ہے وہ قوم کی حیات ہے‘‘ کے پسِ منظر میں تیار کی گئی۔ جس کی بیرونی دیوار پر افواجِ پاکستان کی مختلف آپریشن میں خصوصیات کی منظر کشی کی گئی جبکہ افواجِ پاکستان کی بہادری اور اعزازات کی تصاویربھی لگائی گئیں۔ بوگی کے اندر نشانِ حیدر کا اعزاز پانے والے شہداء کی تصاویر اور افواجِ پاکستان کی مختلف مصروفیات کے مناظر کی عکاسی کی گئی ہے۔ بوگیوں کے اندر تینوں افواج کے زیرِ استعمال ہتھیاروں کے ماڈلز بھی رکھے گئے ہیں۔ بوگی کے اندر اور باہر کی دیواروں پر ضربِ عضب میں پاک فوج کی مختلف پیشہ ورانہ مصروفیات اور شہداء کی تصاویر بھی لگائی گئی ہیں۔ گیاری کے شہداء کو بھی خصوصی اہمیت دی گئی جبکہ سیاچن اور وہاں تعینات بہادر سپاہ کی مصروفیات و مشکلات کو بھی خوبصورت انداز میں پیش کیا گیاہے۔ علاوہ ازیں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج کی مصروفیات اور شہداء کو شہدائے پاکستان کے نام سے منسوب کرکے گیلری کو مزین کیا گیا۔

یہ تحریر 17مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP