قومی و بین الاقوامی ایشوز

آزادی ایک قیمتی متاع

عید کی خوشیوں اور آزادی کی مسرتوں میں زیادہ فاصلہ نہیں تھا۔ تین ہفتوں سے ایک دو روز زیادہ۔ اب کے روزے بھی بہت صبر طلب اور ہمت آزما تھے۔ خون بہتا رہا۔ شہادتوں کی خوشبوئیں پھیلتی رہیں۔ کراچی میں تو رمضان کا پہلا ہفتہ ایک قیامت کا سماں رہا۔ ایک ہی شہر میں 1300سے زیادہ انسان دیکھتے دیکھتے زندگی سے موت کا سفر کرنے پر مجبور ہوگئے۔ ان کے گھر انہیں اماں نہ دے سکے۔ کیو نکہ وہاں ہوا کا گزر نہیں تھا۔ وہ قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے تعمیر کیے گئے۔ حفظان صحت کا کوئی خیال نہیں رکھا گیا تھا۔ آبادیوں میں سرکاری اسپتال نزدیک ترین نہیں ہیں۔ بڑے اسپتال نام کے بڑے ہیں۔ وہاں سہولتیں نہیں ہیں۔ دوائیں دستیاب نہیں ہیں‘ بجلی 24 میں سے اٹھارہ گھنٹے بند رہتی ہے۔ اسپتالوں میں بھی یہی حال ہے۔

آزادی بہت قیمتی متاع ہے۔ یہ طاقت بھی ہے‘ لیکن نازک بھی ہے۔ اس کے لئے ہمارے لاکھوں بزرگوں نے بانیانِ پاکستان نے ہجرت کے دوران قربانیاں دیں۔ پھر یہ قوم اپنی آزادی برقرار رکھنے کے لیے 68 سال سے مسلسل قربانیاں دے رہی ہے۔

اس غم و اندوہ‘ مایوسی اور کرب میں ایک پہلو اُمید کا بھی تھا۔ بہت ہی حوصلہ افزا۔ شہر کے نوجوان لڑکے لڑکیاں‘ امیر گھرانوں سے تعلق رکھنے والے۔ متوسط طبقے سے پیدا ہونے والے سرگرم ہوگئے‘ اسپتالوں میں پہنچ گئے‘ کوئی جنریٹر کا انتظام کررہا تھا‘ کوئی پنکھے صاف کررہا تھا‘ کوئی ٹھنڈے پانی کی بوتلیں لارہا تھا‘ ٹیکنالوجی بھی معاونت کررہی تھی‘ سوشل میڈیا سے پیغامات چل رہے تھے‘ ضرورت کے پیسے جمع ہورہے تھے۔ اس سارے حزن و یاس کے عالم میں کراچی کے ان بیٹوں بیٹیوں کے تمتماتے چہرے اُمید کی مشعلیں بن کر بے بسی کے اندھیرے دور کررہے تھے۔ یہ کہانی ہمتیں بڑھاتی ہیں۔ اس کی تفصیلات جاننا چاہئیں۔ یہ ایک سماجی انقلاب آرہا ہے اپنے طور پر ۔ اس کا کوئی لیڈر نہیں ہے۔ کسی سیاسی جماعت نے یہ زحمت نہیں کی۔ جہاں ہم ایک طرف کرپشن اور لوٹ مار کی خبروں سے خوف زدہ بھی رہتے ہیں اور حد درجہ نا اُمید بھی۔ وہاں ان نوجوانوں کے یہ رویے ہمیں احساس دلاتے ہیں کہ کل آنے والا پاکستان اب گزرنے والے پاکستان سے کہیں بہتر ہوگا۔

جہاں ہم ایک طرف کرپشن اور لوٹ مار کی خبروں سے خوف زدہ بھی رہتے ہیں اور حد درجہ نا اُمید بھی۔ وہاں ان نوجوانوں کے یہ رویے ہمیں احساس دلاتے ہیں کہ کل آنے والا پاکستان اب گزرنے والے پاکستان سے کہیں بہتر ہوگا۔

جناح اسپتال‘ سول اسپتال‘ عباسی اسپتال اور دوسرے کلینکوں‘ اسپتالوں میں یہ تیز تیز چلتے‘ بھاگتے‘دوڑتے نوجوان بچے بچیاں‘ میرا اور آپ کا مستقبل ہیں۔ یہ ہماری طرح ہاتھ پر ہاتھ دھرے گِلے شکوے میں مصروف نہیں رہتے کہ حکومت کچھ نہیں کررہی‘ سب کچھ تباہ ہوگیا‘ یہ پاکستانی پر عزم‘ با حوصلہ‘ خود نکل آتے ہیں۔ پیسہ بھی اپنا لگاتے ہیں۔ خود جمع کرتے ہیں‘ حکومت کی گرانٹ کا انتظار کرتے ہیں‘ نہ کسی غیر ملکی امداد کا۔

راہبر وہ ہی رہیں۔ راہ دکھائیں ہم لوگ

وہ تو معذور ہیں یہ فرض نبھائیں ہم لوگ

جو اُدھورا ہے اسے ہم ہی مکمل کرلیں

بیٹھے بیٹھے یونہی باتیں نہ بنائیں ہم لوگ میں نے بہت پہلے یہ غزل کہی تھی‘ اب خوشی ہوتی ہے کہ اسے حقیقت میں ڈھالنے والی نسل وجود میں آگئی ہے‘ ادھورے کو پورا کررہی ہے۔ ملک جن نازک حالات سے گزر رہا ہے۔ میں یہ جملہ لکھ تو گیا ہوں‘ مگر پھر سوچنے لگ گیا ہوں کہ گزشتہ 50 سال میں کون سے برس میں نے یہ الفاظ نہیں دہرائے‘ اب تو 68 سال ہورہے ہیں ہم 69 واں یوم آزادی منانے جارہے ہیں۔ مجھے معلوم نہیں یہ کیوں لگ رہا ہے کہ یہ یوم آزادی 14 اگست 2015ء پاکستان کی تاریخ کے ایک فیصلہ کُن موڑ پر آرہا ہے۔

صبح آزادئ کا مل طلوع ہونے والی ہے

داغ داغ اُجالا۔ صاف شفاف ہونے والا ہے

عشق اپنی مراد پانے والا ہے

دعائیں قبول ہونے کی گھڑی آرہی ہے

دہشت گردوں کے دن لد گئے ہیں‘ ان کی بساط لپٹنے والی ہے۔

فیصلے کی گھڑی کیوں آرہی ہے۔

فوج نے فیصلہ کرلیاہے کہ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک ضرب عضب جاری رہے گی۔ دہشت گردی صرف وہ نہیں جو مذہبی انتہا پسندی سے جنم لیتی ہے‘ جو اپنے مسلک کو دوسروں پر مسلط کرنے کے لئے اختیار کی جاتی ہے۔ ایک فرقہ دوسرے پر کفر کا فتویٰ صادر کرکے اسے تہ تیغ کرتا ہے۔ یہ کہا گیا ہے کہ ہر قسم کی دہشت گردی کو ختم کیا جائے گا۔ چاہے وہ لسانی مافیا کی طرف سے ہو‘ نسلی مافیا کی جانب سے‘ زمینوں پر قبضے کرنے والے ایسا کررہے ہوں‘ کسی کو معاف نہیں کیا جائے گا‘ اسی طرح ملکی خزانہ لوٹنے والوں کے خلاف بھی پوری شدت اور تندہی سے کارروائیاں جاری کردی گئی ہیں‘ یہ ایک حقیقت ہے‘ اگرچہ بہت تلخ‘ کہ پاکستان میں وہ آزادی جوبیس لاکھ سے زیادہ بزرگوں‘ بچوں‘ نوجوانوں ماؤں‘ بہنوں کے خون سے حاصل کی گئی تھی۔ اسے پہلے کرپشن نے داغ داغ کیا۔ پھر انتہا پسندی نے اور دہشت گردی نے تو اس آزادی کو لہو میں نہلادیا ہے۔

آج پھر جب بھارت میں ایک سخت انتہا پسند ہندو وزارتِ عظمیٰ کی مسند پر بیٹھا ہے تو اس علاقے میں سُپر طاقت بننے کے لئے پھر کوششیں شروع کردی گئی ہیں۔ بھارت کا رویّہ جارحانہ ہوتا جارہا ہے۔ عالمی فورموں پر بھی پاکستان دشمن سفارت کاری ہورہی ہے۔ ہماری سرحدوں پر بھی بلا اشتعال فائرنگ کے واقعات بڑھ گئے ہیں۔

میں تو کرپشن کو دہشت گردی سے بھی زیادہ خطرناک سمجھتا ہوں۔ پاکستانی معاشرے کی تاریخ کا ایک ادنیٰ طالب علم ہونے کی حیثیت سے گزشتہ چھ عشروں سے جو کچھ دیکھتا آرہا ہوں‘ میری تحقیق یہی ہے کہ ہم نے ناجائز دولت کی لالچ میں سب حدیں پار کی ہیں۔ پیسے کے سامنے مملکت کی کوئی وقعت رہی نہ مذہب کی۔ ہمارا مقصد‘ ہماری منزل‘ دولت بن کر رہ گئی‘ اس میں مملکت کی ساری حدود بھی نظر انداز کردی گئیں اور مذہبی شعائر بھی اس کی نذر کردیئے گئے۔ اس لامتناہی ہوس زر نے فریب‘ منافقت اور ہر قسم کی انتہا پسندی کو جنم دیا۔ ایک طرف بہت زیادہ بہرہ ور طبقہ ہے‘ جسے زندگی کی ہر سہولت دستیاب ہے اور دوسری طرف بہت زیادہ بے بہرہ‘ جو زندگی کی بنیادی ضرورتوں کے لیے بھی ترستا ہے۔ اس بے بہرہ طبقے کے نوجوان مایوس‘ بے بسی اور بے کسی کے عالم میں انتہا پسندوں کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں۔ یہ انتہا پسند تنظیمیں‘ مذہبی شدت پسندوں کی بھی ہیں علیحدگی پسندوں کی بھی‘ فرقہ پرستوں کی بھی‘ لسانی اور نسلی گروہوں کی بھی۔ کرپشن کو جڑوں سے اُکھاڑا جائے گا تو دہشت گردوں اور انتہا پسندوں کی مالی سرپرستی بھی ختم ہوتی جائے گی۔ ان کی رسد کا راستہ مسدود ہوگا تو یہ محدود ہوتے چلے جائیں گے اور ہم مکمل آزادی اور خود مختاری کے راستے پر گامزن ہوں گے۔ پہلے ہم نے انگریزوں سے آزادی حاصل کرنے کے لئے قائد اعظم محمّد علی جناح کی قیادت میں جدو جہد کی۔ اس کے ساتھ ساتھ جب قائد نے یہ خطرہ محسوس کیا کہ انگریز کی غلامی سے نکل کر برّ صغیر کا مسلمان ہندو کی غلامی میں یہ نہ چلا جائے تو انہوں نے مسلمانوں کے لیے ایک الگ وطن کے حصول کو اپنا نصب العین بنایا۔ یہ بات ہندو سیاسی جماعتوں کو بہت خطرناک محسوس ہوئی۔ وہ مسلمانوں کو الگ وطن حاصل کرنے کی کوششوں کو تو ناکام نہ بناسکے لیکن انہوں نے یہ تہیہ کرلیا تھا کہ اس خطّے میں اپنا غلبہ قائم کرنا ہے۔

کرپشن کو جڑوں سے اُکھاڑا جائے گا تو دہشت گردوں اور انتہا پسندوں کی مالی سرپرستی بھی ختم ہوتی جائے گی۔ ان کی رسد کا راستہ مسدود ہوگا تو یہ محدود ہوتے چلے جائیں گے اور ہم مکمل آزادی اور خود مختاری کے راستے پر گامزن ہوں گے۔

پاکستان کے 68 سال اس کشمکش میں گزرے ہیں۔ آج پھر جب بھارت میں ایک سخت انتہا پسند ہندو وزارتِ عظمیٰ کی مسند پر بیٹھا ہے تو اس علاقے میں سُپر طاقت بننے کے لئے پھر کوششیں شروع کردی گئی ہیں۔ بھارت کا رویّہ جارحانہ ہوتا جارہا ہے۔ عالمی فورموں پر بھی پاکستان دشمن سفارت کاری ہورہی ہے۔ ہماری سرحدوں پر بھی بلا اشتعال فائرنگ کے واقعات بڑھ گئے ہیں۔ بھارت کی خفیہ ایجنسی ’را‘ نے بھی پاکستان میں تخریبی سرگرمیوں میں اضافہ کردیا ہے۔ فارمیشن کمانڈرز کی میٹنگوں میں بھی اس پر تشویش ظاہر کی گئی ہے۔ حکومت کے اہم اداروں اور شخصیات نے بھی اس پر آواز بلند کی ہے۔ ممکن ہے کہ پاکستان یہ مسئلہ اقوام متحدہ میں بھی لے جائے۔ اگر چہ وزیر اعظم پاکستان اور وزیر اعظم بھارت کی روس کے شہر اوفا میں ملاقات بھی اس کا حوالہ زیر غور نہیں آیا۔ اس پر پاکستان کے عوام اب تک حیرت زدہ ہیں۔

بھارت کے اس غلبے کے جنون نے بھی ہماری آزادی کو چیلنج کر رکھا ہے۔ دہشت گردی کی طرف نوجوان کیوں راغب ہوتے ہیں۔ جب ان کے خواب پورے نہیں ہوتے‘ ان کے عزائم تکمیل نہیں پاتے‘ ان کی آزادی پر پابندیاں مسلط کی جاتی ہیں ۔مشرق وسطیٰ میں دہشت گردی نے اس وقت جنم لیا جب فلسطین پر اسرائیلی مظالم بڑھتے چلے گئے‘ ان سے آزادی چھین لی گئی اور جنوبی ایشیا میں یہ انتہا پسندی اور دہشت گردی کشمیریوں سے حق رائے دہی غصب کرنے کے باعث شروع ہوئی۔ دُنیا میں جہاں جہاں ظلم ہورہا ہے وہاں نوجوان ہتھیار اُٹھانے پر مجبور ہوتے چلے گئے ہیں۔ سوویت یونین کے انہدام نے دُنیا پر یک طاقتی نظام مسلط کردیا ہے۔امریکہ نے اپنی طاقت اور دولت کے گھمنڈ میں چھوٹے ملکوں کی آزادی اور خود مختاری کو غصب کرنا شروع کردیا۔ پاکستان میں اس وقت جن دہشت گردوں کے خلاف ضرب عضب جاری ہے۔ یہ وہ عناصر ہیں جنہوں نے تلوار تو امریکہ کے خلاف اُٹھائی‘ مگر اپنے ہی ملک کے شہریوں‘ فوجیوں‘ اہم فوجی تنصیبات اور حساس اداروں پر حملے شروع کردیئے۔ یہ کس راستے پر چل رہے ہیں‘ کیا اس سے یہ وہ مقاصد حل کرسکتے ہیں‘ جن کا یہ پرچار کرتے ہیں یہ انہیں بھی معلوم نہیں ہے۔ اب جنگ یہ ہے کہ یہ چند لوگ جس مسلک کو درست سمجھتے ہیں‘ ان کے نزدیک جو رسوم و رواج۔ اسلام کے شعائر ہیں۔ یہ پورے ملک پر مسلط کرنا چاہتے ہیں حالانکہ ملک میں جمہوری آزادیاں ہیں۔ یہ اگر واقعی اپنے نظریات کو بر حق خیال کرتے ہیں تو میدان میں آئیں‘عوام کو قائل کریں‘ انتخابات میں حصّہ لیں‘ پھر اپنے پروگرام پر عملدرآمد کریں۔ لیکن انہیں یقین ہے کہ پاکستان کے مسلمانوں کی اکثریت ان کی ہٹ دھرمی کو نہیں مانے گی۔ علماء کی اکثریت ان کی ہم خیال نہیں ہے۔ اس لئے جب پاک فوج کی طرف سے ضرب عضب شروع کی گئی تو خیبر سے گوادر تک پورے ملک کے عوام نے اس کا خیر مقدم کیا‘ ان حلقوں نے بھی جو پہلے طالبان اور ایسی دوسری تنظیموں سے مذاکرات کے حق میں تھے۔ وقت نے ثابت کیا کہ پاک فوج کا یہ فیصلہ بالکل صحیح تھا۔ اس کے نتائج ملک کے حق میں ہورہے ہیں۔ پاکستان کے مختلف حصّوں میں جو بم دھماکے ہورہے تھے‘ دہشت گردی کی وارداتیں ہورہی تھیں۔ ان میں بڑی حد تک کمی آئی۔

اب جنگ یہ ہے کہ یہ چند لوگ جس مسلک کو درست سمجھتے ہیں‘ ان کے نزدیک جو رسوم و رواج۔ اسلام کے شعائر ہیں۔ یہ پورے ملک پر مسلط کرنا چاہتے ہیں حالانکہ ملک میں جمہوری آزادیاں ہیں۔ یہ اگر واقعی اپنے نظریات کو بر حق خیال کرتے ہیں تو میدان میں آئیں‘عوام کو قائل کریں‘ انتخابات میں حصّہ لیں‘ پھر اپنے پروگرام پر عملدرآمد کریں۔

انتہا پسندوں کے خلاف یہ عسکری اور انتظامی کارروائی تو اپنی جگہ مسلّمہ اور نتیجہ خیز ہے لیکن اَ ن خطر انگیز رُجحانات کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے ناگزیر امر یہ ہے کہ جہاں خود کش بمباروں اور دہشت گردوں کی فصلیں کاشت کی جارہی ہیں اس زمین کو دوبارہ قابلِ کاشت کیا جائے۔ جنت میں جانے کے حقیقی راستے بتائے جائیں‘ اس کے لئے علمائے حق کو آگے آنا ہوگا کیونکہ یہ مذہب کا معاملہ ہے‘ دین کا حوالہ ہے۔ اس لئے اس میں یہ نوجوان حکمرانوں اور جنرلوں کی نہیں‘ علماء کرام کی بات کو وزن دیں گے۔ علماء جب بار بار یہ کہتے ہیں کہ انتہا پسندی اسلام نہیں ہے‘ دہشت گردی اسلام نہیں سکھاتا تو انہیں کھل کر میدان میں آنا چاہئے‘ ان نوجوانوں کو بھٹکنے والوں کے راستوں پر نہیں جانے دینا چاہئے۔ میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ فوج نے ڈی ریڈی کلائیزیشن کا جو پروگرام شروع کر رکھا ہے‘ اسے حکومت بھی اپنائے‘ اس کا دائرہ وسیع کیا جائے‘ اس کے ابلاغ کو زیادہ دور رس بنایا جائے۔ یہ مذہب کا معاملہ ہے جو بہت حساس بھی ہوتا ہے اور نازک بھی۔ ان رُجحانات کے باعث پاکستان کی آزادی خطرے میں ہے۔ مملکت کا وجود لرز رہا ہے۔ کیونکہ مذہب کی شدت پسندی ہر حد کو عبور کررہی ہے۔ ان ذہنی لہروں اور شدید رویوں کی وجہ سے ہماری تنصیبات‘ حساس اثاثوں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس لئے خطّے کے دوسرے ممالک‘ عالمی طاقتیں پاکستان کو خطرناک ملکوں میں شُمار کرتی ہیں۔

اب عالمگیریت کا دور ہے۔ اس میں وہی قومیں آگے بڑھ سکیں گی جو علم کے حصول میں پیش پیش‘ ذہنی استعداد میں آگے ہوں گی۔ دنیا بھر میں اب تو بین الاقوامی نصاب تعلیم بھی اس لئے رائج ہورہا ہے کہ اب کسی بھی ملک کے بچے کو کہیں بھی دُنیا میں جانا پڑ سکتا ہے۔ اس کی ذہنی سطح بین الاقوا می معیار کی ہونی چاہئے‘ اسے عالمی اصطلاحات سے با خبر ہونا چاہئے۔ ضرورت یہ ہے کہ پاکستان کے شہری عالمی شہریوں کے مقابلے کے لئے اپنے آپ کو تیار رکھیں۔ اسی سطح کی تعلیم بھی حاصل کریں۔ رفتارِ عالم سے با خبر بھی رہیں۔ آزادی بہت قیمتی متاع ہے۔ یہ طاقت بھی ہے‘ لیکن نازک بھی ہے۔ اس کے لئے ہمارے لاکھوں بزرگوں نے بانیانِ پاکستان نے ہجرت کے دوران قربانیاں دیں۔ پھر یہ قوم اپنی آزادی برقرار رکھنے کے لئے 68 سال سے مسلسل قربانیاں دے رہی ہے۔ مختلف جمہوری تحریکوں میں جان و مال کی قربانیاں۔ قید و بند کی صعوبتیں بھی اس مملکت کے استحکام کے لئے دی گئیں۔اب دہشت گردی کی وارداتوں میں سیکڑوں بچے‘ بزرگ خواتین شہید ہوئے ہیں۔ دہشت گردوں کے خاتمے کے لئے ہماری مسلح افواج کے سینئر افسر۔ سپاہی بھی اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کررہے ہیں۔ ضرب عضب بھی اپنی آزادی کے تحفظ اور استحکام کے حصول کا ذریعہ ہے۔ مملکت کے خلاف مملکت کے اندر کسی کو بھی ہتھیار اُٹھانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ اسلحے کا استعمال صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری ہے۔ اپنی آزادی کے تحفظ کے لئے اس وقت پاکستان کی مسلح افواج ایک بڑی مشکل جنگ لڑ رہی ہیں‘ پاکستان کی ماؤں بہنوں بیٹیوں بزرگوں کی دعاؤں سے انہیں کامیابی بھی نصیب ہورہی ہے۔ میں ان علماء سے ان نوجوانوں سے گزارش کرنا چاہوں گا‘ جنہوں نے جنّت میں جانے کے لئے اس انتہائی خطرناک راستے کا انتخاب کیا ہے۔ہم جانتے ہیں کہ ان کے ذہنوں کو مسموم کیا گیا ہے۔ ان کے معصوم دماغوں میں یہ بات بٹھائی گئی ہے کہ یہ لوگ مرتد ہوگئے ہیں۔ یہ کافروں کا ساتھ دے رہے ہیں۔ انہیں مار کر راستے سے ہٹاکر سیدھے جنّت جاؤگے۔

پاکستان کی آزادئ کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیئے بغیر پوری نہیں ہوسکتی۔ مسئلہ کشمیر جنوبی ایشیا کی آزادی کا نا مکمل ایجنڈا ہے اس کی تکمیل اسی وقت ہوگی جب کشمیری عوام کو اپنی مرضی سے اپنا مستقبل طے کرنے کا موقع ملے گا۔

آج کتنے برس سے یہ خوفناک وارداتیں ہورہی ہیں۔ خود کش جو خود بھی مارے گئے اور اپنے ساتھ کتنے بے گناہوں کو بھی لے اُڑے‘ اس سے کیا حاصل ہوا۔ اسلام کی بدنامی ہوئی۔ ہمارے آباؤ اجداد تو ہمیشہ یہ قائل کرتے رہے کہ اسلام بزور شمشیر نہیں پھیلا۔ ہم اپنے رویّوں سے‘ وارداتوں سے کافروں‘ غیرمسلموں اور اسلام دشمنوں کے اس الزام کی تصدیق کررہے ہیں۔ عملاً یہ ثابت کر رہے ہیں کہ اسلام قبول کروانے ہی نہیں بلکہ اپنے مسلک سے اختلاف رکھنے والے مسلمانوں کو بھی ہم زندہ رہنے کا حق نہیں دیتے۔ اس شدت پسندی اور مارا ماری سے پوری دُنیا میں اسلام کا حسین اور مہربان تصوّر مسخ ہورہا ہے۔ اسلام سلامتی کا مذہب ہے۔ حقوق انسانی کا محافظ ہے۔ قوموں کی سربلندی چاہتا ہے۔ مملکتوں کی آزادی اور خود مختاری کی ضمانت دیتا ہے۔ دہشت گردی‘ انتہا پسندی انسانوں کے حقوق کی پامالی‘ انسانوں کی مرضی کے بغیر ان پر تسلّط جمائے رکھنا‘ یہ سب آزادی کی مخالف قوتیں ہیں۔ دُنیا بھر میں آزادئ کامل کا تصوّر فلسطین کو ایک مکمل آزاد خود مختار ریاست بنائے بغیر حقیقت میں نہیں ڈھل سکتا۔ اسی طرح برصغیر میں آزادی کا تصوّر اور پاکستان کی آزادئ کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیئے بغیر پوری نہیں ہوسکتی۔ مسئلہ کشمیر جنوبی ایشیا کی آزادی کا نا مکمل ایجنڈا ہے اس کی تکمیل اسی وقت ہوگی جب کشمیری عوام کو اپنی مرضی سے اپنا مستقبل طے کرنے کا موقع ملے گا۔

مضمون نگار نامورصحافی‘ تجزیہ نگار‘ شاعر‘ ادیب اور متعدد کتب کے مصنف ہیں۔ 

[email protected]

یہ تحریر 93مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP