قومی و بین الاقوامی ایشوز

آزادی۔ ایک مسلسل سفر

چودہ اگست جب قریب آرہی ہوتی ہے تو ذہن کے پردے پر جانے کیا کیا مناظر ابھرنے لگتے ہیں ۔مال گاڑی کا وہ کھلاڈبہ تو مجھے بھولتا ہی نہیں حالانکہ پورے 67سال گزر چکے ہیں ۔نہ جانے کیسی کیسی قیامتیں برپا ہو چکیں۔کتنے سانحے رونما ہوچکے۔مہینہ اگست ہی کا تھا ۔ہم انبالہ سے لاہور کے لئے روانہ ہوئے تھے۔انبالہ چھاؤنی میں تھے اس لئے سلامت بھی تھے۔ہمارے تایا کا پورا خاندان راجپورے میں تھا۔ ان کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں تھی۔ آج تک کوئی علم نہ ہوسکا۔اس ڈبے کی چھت نہیں تھی لیکن اس وقت ہمارے لئے یہ جنت سے کم نہیں تھا کیونکہ یہ ہمیں غلامی سے آزادی کی طرف لا رہا تھا۔یہ ہمیں اندھیروں سے اجالوں میں لارہا تھا۔دھوپ بڑی کڑی تھی مگر مجھے اپنی ماں کی آغوش میسر تھی‘ اس کے آنچل نے سورج کی تپش روک رکھی تھی۔ میرے عظیم والد حکیم صوفی شیر محمد ہمارا حوصلہ بڑھا رہے تھے۔میری عمر پانچ سال تھی۔میرے بڑے بھا ئی ڈاکٹر خالد مسعود مجھ سے دو سال بڑے۔یہ تھا کل کنبہ اس وقت۔ باہر سے نعروں کی خوفناک آوازیں سنائی دیتیں تو ہماری ماں دونوں بھائیوں کو آغوش میں سمیٹ لیتی،ابا جی اور دوسرے مرد چوکنے ہو کر نگاہیں باہر جما لیتے۔

آج جب میڈیا پر سیاسی حلقوں میں بحثیں چھڑتی ہیں پاکستان کیوں بنا تھا۔ نظریہ پاکستان کیا تھا۔پاکستان ناکام ریاست ہے یا ناکام ہوتی ہوئی۔کچھ لوگوں کو مولانا ابوالکلام آزاد کی تقریر یاد آتی ہے۔ایسے میں میرے سامنے تو مال گاڑی کا کھلا ڈبہ اور اگست کی چلچلاتی دھوپ آجاتی ہے۔ میرے لئے تو پاکستان کا نظریہ یہی جذبہ ہے جو ہمیں اس نئے ملک کی طرف لا رہا تھا۔ہر چند ٹرانسپورٹ دستیاب نہیں تھی۔حالات انتہائی مخدوش تھے۔جو راہ ادھر کو جاتی تھی مقتل سے گزر کر جاتی تھی۔ آگ اور خون کے دریاؤں میں اتر کر جانا تھالیکن منزل متعین تھی اور یہی منزل اس وقت واحد مقصود تھا‘قیادت پر کامل یقین تھا‘اعتماد پختہ تھا کہ یہ قائد ہی ہمیں آگے لے کر جاسکتا ہے۔یہی صراط مستقیم ہے ۔یہ لیڈر شپ ہی وقت کے تمام نشیب و فراز سمجھتی ہے ۔خطے کے رموز جانتی ہے ۔عالمی سیاست کی پیچیدگیوں پر نظر رکھتی ہے‘ اس لئے ہم اورہمارا مستقبل اس کے ہاتھوں میں محفوظ ہے۔یہ تھا میرا اور مجھ جیسے کروڑوں کا نظریہ پاکستان۔کسی کو کوئی اختلاف نہیں ہو سکتا کہ پاکستان کی اساس اسلام ہے۔ اسلام تو پوری دنیا کی تخلیق کی اساس ہے۔ پاکستان دنیا کے ایک مخصوص علاقے میں وجود پا رہا تھا۔پہلے سے کئی اسلامی ملک کائنات میں قائم تھے اور صدیوں سے تھے۔ان میں وہ ممالک بھی تھے جن کے ذریعے ہم تک اسلام کی عظیم تعلیمات کی روشنی پہنچی۔جنہوں نے با قاعدہ جدو جہد کی‘ اسلام کے لئے قربانیاں دیں ۔ وہ پہلے سے اسلام کے قلعے تھے۔
میں صرف پانچ سال کا بچہ تھا لیکن اس نئی اور اجنبی سر زمین پر آکر مکمل اپنائیت محسوس کر رہا تھا۔ گلیاں مختلف تھیں‘ سڑکیں اجنبی لیکن دل کہہ رہا تھا یہی تو میرے خوابوں کی تعبیر ہے۔ چہرے نئے تھے لیکن آنکھوں میں چمک اپنوں جیسی تھی۔ بانہیں کھلی تھیں۔ ہر طرف پیار ہی پیار تھا۔ گھروں کے دروزے وا تھے۔ دستک کی ضرورت نہیں تھی۔ ہم بے گھر تھے‘ بے نام تھے‘ لیکن مقامی لوگ ہمیں یہ احساس نہیں ہونے د ے رہے تھے۔ ہم بے زر تھے لیکن ہمیں کچھ خریدنے کی مجبوری نہیں تھی۔ ہر چیز ہمارے میزبان ہمیں لا کر دے رہے تھے۔ یہ تھا نظریہ پاکستان۔
ہمارے بزرگ اس یقین سے سرشار تھے کہ ہمیں اس نئے وطن میں اپنا رزق اطمینان سے اپنے زور بازو سے حاصل کرنے کا موقع ملے گا۔ ہمیں اپنی عبادتیں سکون سے کرنے کی آزادی ہوگی۔ مجھے یاد ہے کہ ہمارے ہی مسلمان بھائی‘ بعض جید علماء‘ قیام پاکستان کے مخالف تھے۔ ان کا اپنا استدلال تھا۔ ان میں سے بعض نے تو باقاعدہ تحریکِ پاکستان کے خلاف شدو مد سے کام بھی کیا۔ مسلم لیگ کی قیادت پرالزامات بھی عائد کئے۔ لیکن جب قائد اعظم کی حقیقت پسندانہ قیادت میں اور بر صغیر کے مسلمانوں کی دلیرانہ جدوجہد کے نتیجے میں پاکستان کی جنت حاصل ہو گئی تو قیامِ پاکستان کے مخالفین میں سے ایک بڑی تعداد نے تو اسے ایک حقیقت مانتے ہوئے اس کی ترقی اور استحکام کی کوششوں میں اپنا کردار ادا کرنا شروع کردیا مگر ایک حلقہ ایسا تھا جس نے اس تاریخی کامیابی کو اپنی شکست سمجھا اور وہ پاکستان کے خلاف سازشوں میں مصروف ہو گئے۔ انہوں نے مختلف قسم کی غلط فہمیاں پھیلانا اپنا شعار بنالیا۔ فریب‘ دھوکے سے لوگوں کو گمراہ کیا۔ حد تو یہ کہ اس بدنیتی میں مذہب کے مقدس نام کا بے دریغ استعمال کیا۔ پہلے پاکستان کے خلاف ان کی دلیل تھی کہ مذہب کی بنیاد پر ملک قائم نہیں ہوسکتے۔ اب پاکستان بننے کے بعد ا ن کا استدلال اس کے قطعی بر عکس تھا کہ پاکستان کو مذہبی ریاست بنایا جائے۔ کبھی کہا گیا کہ شریعت اساسی قانون ہونا چاہئے۔ کبھی کہا گیا کہ یہاں خلافت قائم کی جائے۔ پھر فرقہ واریت کو ہوا دی گئی۔ پاکستان جب وجود میں آیا۔ اس وقت غور سے مطالعہ کریں تو فرقوں کے حوالے سے اتنی شدت دکھائی نہیں دیتی۔ سب آپس میں شیر و شکر نظر آتے ہیں۔ سنجیدگی سے تحقیق کی جائے تو کھل کر یہ حقیقت سامنے آئے گی کہ فرقہ پرستی کو انتہائی منظم انداز میں آگے بڑھایا گیا اور اسے زندگی موت کا مسئلہ بنادیا گیا۔ مسلمانوں کے اتحاد کو بتدریج پارہ پارہ کیا گیا۔ تمام مسلم ممالک پر نظر ڈالیں‘ ان کی تاریخ پڑھیں‘ کہیں بھی اس شدت کی فرقہ پرستی نہیں ملتی ہے۔ اسی فرقہ وارانہ تقسیم نے ملک میں انتہا پسندی کی بنیاد ڈالی۔
میری نسل نے یہ سب کچھ خوفناک شکل میں پھلتے پھولتے دیکھا ہے اور بہت دکھ اور کرب محسوس کیا ہے۔ پیار اور سلامتی کے مذہب کو تصادم اور نفرت کی علامت بنا دیا گیا۔ کوئی بھی درد مند اگر پاکستان کے حالات کا سنجیدگی اور غیرجذباتی رویّے سے مشاہدہ اور تجزیہ کرے گا تو اس پر یہ حقیقت منکشف ہو سکتی ہے کہ پاکستان کو ترقی کے راستے پر آگے بڑھنے سے روکنے میں،مسلسل سیاسی بحران پیدا کرنے میں، کبھی اقتصادی پیشرفت جاری نہ رہنے دینے میں اور تواتر سے مذہب کے حوالے سے‘ یا‘ دین کی بنیاد پر تنازعات کھڑے کرنے کے پس منظر میں‘ یہی قیام پاکستان کی مخالف قوتیں دریافت ہوں گی۔ تاریخِ اسلام میں بھی اسلامی حکومتوں اور اسلامی لشکروں کو انہی قوتوں نے زیادہ نقصان پہنچایا جنہوں نے بظاہر زاہدوں، صالحین اور مفتیوں کا لبادہ اوڑھ رکھا تھا۔ میری گزارش یہی ہے کہ جس طرح قیام پاکستان کے ان اندرونی اور بیرونی مخالفین نے اپنے بنیادی کردار اور مؤقف کو نہیں بدلا ہے بلکہ ان کے اپنے بقول وہ اپنے اکابرین کے مسلک اور رائے کو صائب کرنے کے لئے پاکستان کو کمزور کرنے میں مصروف رہتے ہیں اور اس کے لئے وہ ہمیشہ مذہب کو استعمال کرتے ہیں‘ اور اپنی ان کوششوں کو ایک تحریک کے طور پر جاری رکھتے ہیں۔ ہم‘ جن کے بزرگوں نے پاکستان کی تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا‘جانوں کی قربانیاں دیں‘ جو قیام پاکستان کو اس وقت بھی ناگزیر سمجھتے تھے اور ہندوستان میں مسلمانوں کو درپیش مسائل کا حل ایک علیحدہ ملک کی صورت میں ہی خیال کرتے تھے۔ آج بھی جو پاکستان کی کامیابی اس کے سیا سی‘ اقتصادی اور سماجی استحکام میں سمجھتے ہیں ان کو بھی اسی شدت سے قیام پاکستان کے مخالفین کا مقابلہ کرنا ہوگا‘ جس طرح قائد اعظم کی قیادت میں ہمارے بزرگوں نے ان کے بزرگوں کا کیا تھا اور ان کو آخر کار شکست دینے میں کامیابی حاصل کی تھی۔ جس طرح اس وقت ہمارے سامنے ایک واضح منزل‘ ایک الگ ملک کا حصول تھا‘ ایک روڈ میپ موجود تھا۔ اسی طرح اب بھی ہمیں ایک واضح منزل کا تعین کرنا ہے‘ پھر اس کے حصول کے لئے ایک روڈمیپ تیار کرنا ہے۔ اس روڈ میپ پر مرحلہ وار عمل کرنے کے لئے پھر ایک تحریک چلانا ہوگی پھر 23 مارچ اور14اگست کا جذبہ اور ولولہ درکار ہوگا۔


پاکستان نے ان 67برسوں میں بہت سے سنگ میل عبور کرلئے ہیں۔ آج ہم ایک ایٹمی ملک بن چکے ہیں۔ کوئی اور اسلامی ملک یہ صلاحیت حاصل نہیں کر سکا۔ عسکری اعتبار سے ہم ایک طاقت ہیں۔ جائزہ لیں تو ہمارے حق میں زیادہ نکات ملیں گے۔ یہ درست ہے کہ اپنی ملی کوتاہیوں کے سبب ہم زوال کا شکار بھی رہے ہیں‘ ہمارے حکمرانوں نے صحیح وقت پر صحیح فیصلے نہیں کئے‘ بہت سے حاکموں نے ملک کوبے دریغ لوٹا ہے‘ ایک قوم کی حیثیت سے ہم آگے نہیں بڑھ سکے‘ ہم پنجابی ہیں‘ سندھی ہیں‘ پشتون ہیں‘ بلوچ ہیں‘ مہاجر ہیں‘ کشمیری ہیں‘ ہم سنی ہیں‘ شیعہ ہیں‘ وہابی ہیں‘ بریلوی ہیں‘ حنفی ہیں‘ نہیں ہیں تو پاکستانی نہیں ہیں۔ اس کی بھی ٹھوس وجوہ ہیں۔ جب میرٹ پر آگے بڑھنے کا رجحان ختم کر دیا گیا اور اپنے مسائل کے حل اورروزگار کے حصول کے لئے مخصوص علاقوں سے یا فرقوں سے منسوب ہونے سے ہی آسانی ہونی تھی تو مسلمان ا ور پاکستانی ہونے کا اعلان بے مقصد تھا۔ یہ انتہائی المناک اور تلخ حقیقت ہے۔ 
اس مملکت کی حدود میں رہنے والے ہر فرد کو یہ فخر ہونا چاہئے کہ ہم اس عظیم ملک پاکستان کے شہری ہیں‘ جہاں اکثریت مسلمانوں کی ہے لیکن جہاں دوسرے مذاہب کے ماننے والے بھی رہتے ہیں جن میں ہندو‘ سکھ‘ عیسائی‘ پارسی سب ہی شامل ہیں۔ انسانی اور معاشی حقوق کے حوالے سے یہ بھی برابرکے شہری ہیں۔ ہمیں بجا طور پر یہ اعتماد بھی ہونا چاہئے کہ پاکستان کو قدرت نے بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے۔ یہاں سونا بھی ہے‘ تانبا بھی‘ گیس بھی اور تیل بھی۔ ہمارے پاس کئی میل طویل قدرتی ساحل بھی ہے۔ جفاکش‘ با ہمت‘ محنت‘ مشقت سے کبھی نہ گھبرانے والے کروڑوں پاکستانی بھی۔ جن کی صلاحیتوں‘ توانائیوں کا اعتراف غیر ممالک بھی کرتے ہیں۔ دو بے مثال طاقتیں اور ہیں جو دنیا میں بہت کم ملکوں کو نصیب ہوتی ہیں‘ وہ ہے ہمارا انتہائی اہم محل وقوع‘ یعنی جغرافیائی حیثیت۔ ہماری یہ حسین مملکت ایک ایسے ناکے پر موجود ہے کہ ادھر جنوبی ایشیا والوں کو اگر مشرق وسطیٰ میں جانا ہو یا مڈل ایسٹ والوں کو جنوبی ایشیا سے معاملہ کرنا ہو‘ چین کو وسطی ایشیائی ملکوں سے تجارت کرنا ہو‘ یورپ والوں کو مشرقِ بعید سے رشتے استوار کرنا ہوں‘ تو ایک ہی راستہ ہے اور وہ ہے پاکستان۔ بد قسمتی سے اس اہم محل وقوع کو اپنے سیاسی اور اقتصادی مفاد میں استعمال کرنے کی بجائے ہم شدت پسندی اور دہشت گردی میں الجھ کر اس جغرافیائی پوزیشن کو اپنے لئے ایک مصیبت بنا بیٹھے ہیں۔ 
اسی طرح اپنی ایک اور خدا داد طاقت کو بھی اپنی کوتا ہیوں اوربے عملیوں سے اپنے لئے منفی بنا بیٹھے ہیں۔۔۔۔۔ اور وہ ہے ہماری نوجوان نسل۔ ہمیں قدرت نے 62فی صد آبادی پندرہ سے پینتیس سال کے درمیان دی ہے۔ اس وقت ترقی یافتہ قومیں بڑھتی ہوئی عمر کے مسئلے سے دوچار ہیں۔ بچے پیدا کرنے پر پابندیاں ہیں یا ان معاشروں میں شادیاں کرنے کا رواج ختم ہو رہا ہے۔ دوسری طرف علاج معالجے کی سہولتوں‘ اچھی خالص خوراک ملنے اور زندگی کی دوسری آسانیاں فراہم ہونے سے انسان زیادہ برس زندہ رہنے لگے ہیں مگر عمر رسیدہ ہونے سے ان کے جسم کام کرنے کے لائق نہیں رہتے‘ انہیں جواں سال افرادی قوت کی ضرورت رہتی ہے۔ پاکستان میں آبادی کا زیادہ حصہ نوجوان ہے۔ توانائیوں سے بھرپور‘ پر عزم‘ باہمت‘ یہ بہت ہی مثبت پہلو ہے۔ ہمارے پاس معدنی قوت بھی ہے جس میں سب سے نمایاں ریکو ڈک ہے۔ سونے کا کئی سال تک ختم نہ ہونے والا خزانہ۔ جس کی مالیت اربوں ڈالر بتائی جارہی ہے۔ ہماری زمینیں جو دنیا بھر کے لئے ضرورت کی ہر جنس پیدا کر سکتی ہیں۔ ہمارے ساحل جہاں بہت گہری سمندری بندرگاہیں بن سکتی ہیں ،گوادر ایسی ہی ایک اہم بندرگاہ ہے‘ ہمارے پاس افرادی قوت ہے‘ ہمارے پاس جغرافیائی قوت ہے‘ ہم ایٹمی طاقت ہیں‘ ہم اپنی تمام حماقتوں،کوتاہیوں‘ سانحوں، غلطیوں اور ناکامیوں کے باوجود 1947 کی نسبت کہیں بہترپوزیشن میں ہیں۔ ہمارے وسائل پہلے سے زیادہ ہیں۔ ہم اس وقت کی طرح دور دور بکھرے ہوئے نہیں ہیں۔ ہماری مسلح افواج اس وقت کی نسبت کہیں زیادہ منظم،کہیں زیادہ تربیت یافتہ‘ ہمارے شہری پہلے سے زیادہ تعلیم حاصل کئے ہوئے۔ ہمارے ہاں پہلے سے کہیں زیادہ یونیورسٹیاں‘ تربیتی ادارے‘ بنک‘ مالیاتی ادارے بھی کہیں زیادہ۔ اب اگر ہم کوئی تحریک چلائیں گے تو اسے 1947 کے مقابلے میں بہت سی اضافی قوتیں میسر آئیں گی جن میں ٹیکنالوجی سر فہرست ہے۔ تحریک پاکستان کے اکابرین سے دریافت کیجئے انہیں اپنے پیغامات پہنچانے میں کتنی دشواریاں ہوتی تھیں۔ انٹرنیٹ تھا نہ موبائل فون‘ ای میل‘ نہ فیکس۔ چند اخبار تھے۔ چینلوں کا کوئی تصور بھی نہ تھا۔ اب غور کریں اپنا پیغام آپ پلک جھپکنے میں ملک ہی نہیں دنیا بھر میں پہنچا سکتے ہیں۔ مگر یہ تیز رفتار ترسیلی نظام‘ یہ سرعت پذیر ٹیکنالوجی‘ وہ جذبہ نہیں دے سکتی جو 1940کے عشرے میں تھا۔ یہ ہمیں اپنی پرانی نسلوں سے ہی حاصل کرنا ہوگا۔ سوچئے اگر وہ جذبہ اور آج کی ٹیکنالوجی یکجا ہو جائیں۔ آپ کے دل اور ذہن تحریک پاکستان کے سچے جذبے سے سرشار ہوں انگلیاں کمپیوٹرپر‘ موبائل ہاتھ میں‘ چینلوں سے پیغام ہر پل کروڑوں دلوں میں اتر رہا ہو‘ وہ اس پر عمل بھی کر رہے ہوں تو پاکستان کتنی جلدی بدل سکتا ہے۔ پستیوں کی طرف سفر کتنی تیزی سے رک سکتا ہے۔ 
مگر سوال یہ ہے کہ اب پیغام کیا ہوسکتا ہے؟
اب تحریک کا مقصد کیا ہوسکتا ہے؟
اب ہماری منزل کیا ہونی چاہئے؟
اب لوگ باہر کیوں آئیں؟ 
اس وقت قیام پاکستان ایک عظیم مقصد تھا‘ اب کیا ہے؟ 
یہ سب سوالات انتہائی بجا اور بر وقت ہیں ۔
1947 میں قیام پاکستان مقصد تھا‘ منزل تھی‘ اب استحکام پاکستان منزل ہونی چاہئے‘ ہر شعبے کے ماہرین کو یہ حساب لگانا ہوگا کہ 67سال بعد کیا پاکستان ان کے شعبے میں وہاں ہے‘ جہاں اسے اتنے برس بعد ہونا چاہئے تھا۔ ہمارے آس پاس کے ملک کہاں پہنچے ہیں۔ ہمارے ساتھ آزاد ہونے والے ممالک میں شہریوں کو کیا کیا سہولتیں میسر ہیں۔ آج کی ترقی اور استحکام کا اندازہ انسانوں کو روزمرہ کی زندگی میں ملنے والی آسانیوں سے کیا جاتا ہے۔ روزگار کے مواقع سے کسی ملک کی خوشحالی واضح ہوتی ہے۔ ملک میں لوگوں کی جان اور مال کے تحفظ سے پتہ چلتا ہے کہ ملک کتنا آگے بڑھا ہے۔ 
اب جو تحریک چلنی چاہئے اس کا مقصد ایک محفوظ، خوشحال، خود کفیل پاکستان کا حصول ہو سکتا ہے جو علامہ اقبالؒ کا خواب بھی تھا اور قائد اعظمؒ کا تصور بھی۔ 
پاکستان واحد اسلامی ملک تو نہیں ہے لیکن واحد ایٹمی مسلم ملک تو ہے‘ اس طرح عسکری معنوں میں یہ اسلام کا قلعہ ہے۔ فوجی طاقت کے ساتھ ساتھ آج کل کی دنیا میں ایک ملک کو معاشی طاقت بھی ہونا چاہئے۔ اسے تعلیم‘ تہذیب‘ ثقافت سے مالامال بھی ہونا چاہئے۔ اسے اپنے معدنی قدرتی وسائل کو بھرپور انداز میں استعمال کرکے معاشی آزادی بھی حاصل کرنی چاہئے۔یہ ہماری منزل ہو سکتی ہے۔ 
اس تک پہنچنے کے لئے ہمیں ایک روڈمیپ تیار کرنا ہے۔ یہ ہماری اپنی ذمہ داری ہے۔ ہمیں خبردار رہنا ہوگا کہ اگر آگے بڑھنے کے لئے اپنا لائحہ عمل ہم خود طے نہیں کریں گے تو یہ کام کوئی اور کرے گا اور وہ اپنے مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے کرے گا۔ دنیا آگے جارہی ہے۔ آج کی دنیا میں کوئی ملک الگ تھلگ یا کٹ کر نہیں رہ سکتا۔ ہم ایک تیزی سے بھاگتی دوڑتی کائنات کا حصہ ہیں۔ ہمارے بے عمل رہنے سے یا سست رفتاری سے دنیا کا سفر رکے گا نہیں۔ ہم پر کھوئے گئے لمحوں کا بوجھ زیادہ ہوتا جائے گا۔ ہمیں خود یہ طے کرنا ہے کہ ہم پاکستان کو کیا سمت دینا چاہتے ہیں‘ کیسا معاشرہ بنانا چاہتے ہیں۔ 
پاکستان کی مسلح افواج نے ضرب عضب کے ذریعے قوم کو ایک واضح سمت دے دی ہے کہ اس ملک میں انتہا پسندی اور اپنی مرضی کی شریعت مسلط کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ وہ اپنی جانوں کی قربانیاں دے کر ایک کھلا پیغام دے رہے ہیں کہ اس ملک کو آگے بڑھنا ہے ماضی کے اندھیروں میں گم نہیں ہونا ہے۔ ہم سب کو 14اگست کی صبح یہ سوچنا ہوگا‘ اپنے بچوں اور بزرگوں کو پاس بٹھا کر یہ تبادلہ خیال کرنا ہوگا کہ اس وقت پاکستان کا روڈ میپ کیا ہونا چاہئے۔ آج سے لے کر آئندہ 10سے15برس میں دنیا کیا کیا منزلیں حاصل کرلے گی۔ دوسری قومیں کون کون سے آفاق تسخیر کر لیں گی‘ اپنے شہریوں کی سہولتوں میں مزید کیا کیا اضافے کر چکی ہوں گی ہم اگر ان کے برابر نہیں رہ سکتے تو فاصلے کچھ کم تو کر سکتے ہیں۔ ہماری نظر مستقبل پر ہونی چاہئے۔ اپنے وسائل پر اعتماد‘ اپنی ذات پر بھروسہ اور اپنے پروردگار پر یقین ہونا چاہئے۔ 
کسی شک یا گمان کی کوئی گنجائش ہی نہیں ہے پاکستان ناگزیر تھا۔ تاریخ کا تقاضا تھا۔ ۔ ۔ جغرافیے کی مجبوری تھی اور عوام کا فیصلہ تھا۔ اب پاکستان کا استحکام ناگزیر ہے‘ اور اس کے لئے ہمیں سب کی رائے سے روڈمیپ بنانا ہے۔ 
اس روڈمیپ کو صرف سیاست دانوں پر نہیں چھوڑناہے۔ ماہرین تعلیم، دانشور، علماء‘ ٹیکنوکریٹ‘ مصور‘ مصنف‘ مسلح افواج سب منتخب ارکان کا ساتھ دیں۔ 
ایک بار پھر تحریک پاکستان چلے 
ایک بار پھر جدوجہد کی مشعل جلے 
جذباتیت نہیں حقائق کا سہارا اور صرف اپنے وسائل پر انحصار۔ 
ایک صبحِ حسیں ہماری منتظر ہے۔ جو دوسری قومیں کر سکتی ہیں ہم پاکستانی بھی کرسکتے ہیں ۔

یہ تحریر 85مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP