متفرقات

آرمی میوزیم لاہور  

 میوزیم یا عجائب گھر کسی علاقے کی تاریخ ، تہذیب و ثقافت و تمدن کی ترجمانی کرتے ہیں ۔آج کی دنیا میں ہر ملک ،ہر علاقے میں وہاں کی زندگی ، تاریخ اور تہذیب و ثقافت کی نمائندگی کرتے عجائب گھر موجود ہیں ۔ عجائب گھراُس ملک اور خطے کی تاریخ و تمدن سے آنے والے سیاحوں کو معلومات فراہم کرتے ہیں۔ علاقائی عجائب گھر وں کی اہمیت اپنی جگہ ہے ۔اِن علاقائی عجائب گھر وں میں اُس علاقے کی تاریخ وثقافت کے رنگ نظر آتے ہیں۔ جہاں کسی ملک یا علاقے کی تاریخ اور زندگی کی بودوباش کے نمائندہ عجائب گھر ہیں وہاں مختلف ادارے اپنے ادارے کی تاریخ اور کارناموں کو لوگوں تک پہنچانے میں اپنی کوشش جاری رکھے ہوئے ہیں اور بہت حد تک اِس میں کامیاب بھی ہیں ۔اِس کی واضح مثال آرمی میوزیم لاہور ہے ۔یہ میوزیم تین ہزار مربع فٹ کے رقبے پر تجرباتی طور پر قائم کیا گیا۔ آرمی میوزیم لاہور کی تعمیر کا آغاز 2015 میں کیا گیا جو دو سال کی قلیل مدت میں 2017  میں مکمل ہو گیا۔اِس میوزیم کی خاصیت یہ ہے کہ یہاں عسکری تاریخ کا ایک بڑا ذخیرہ فوجی سامان کی صورت میں رکھا گیا ہے ۔ اِس خطے کی قدیم تہذیبوں سے لے کر آج کے جدید پاکستانی عسکری دستاویز تک اِس میوزیم میں رکھی گئیں ہیں ۔یہاں آنے والے سیاحوں اور خاص کر نوجوانوں اور بچوں کو تاریخ کے آئینے میں پاک فوج کے کردار اور کارناموں کی آگاہی ملتی ہے۔
آرمی میوزیم لاہورمیں داخل ہوتے ساتھ اِس کے احاطے کے پہلے حصے میں بھارت سے چھینے گئے تین سینچورین ٹینک آنے والے سیاحوں کا استقبال کرتے ہیں اِن ٹینکوں کو دیکھ کر ہر آنے والے سیاح پر ایک خوشگوار حیرت کا تاثر پڑتا ہے۔ اِس احاطے میں پاک فضائیہ کے نشانِ حیدر پانے والے ہوا باز راشد منہاس شہید کے جہاز کا ماڈل رکھا گیا ہے  اِس کے علاوہ پاک فوج کے زیر استعمال مختلف طرز کے ٹینک  اورہیلی کوپٹرز رکھے گئے ہیں۔
 شہداء گیلری
آرمی میوزیم کی عمارت میں داخل ہوتے ہی شہداء گیلری ہے جس میں 1947 سے لے کر اب تک کے پاک فوج کے شہداء کی قد آور فہرستیں ہیں جن میں تقریباً20 ہزار سے زائد شہداء کے نام ،رینک اور تاریخ ِ شہادت درج ہے ۔اِن فہرستوں میں پاک فوج کے اُن شہداء کے نام شامل ہیں جنہوں نے پاک بھارت جنگوں ، دہشتگردی کا نشانہ بننے اور دشمن کے ساتھ مختلف محاذوں کی معرکہ آرائی میں جامِ شہادت نوش کیا۔
چیف آف آرمی سٹاف گیلری
  شہداء گیلری کے بعدآرمی چیفس گیلری جس میں 1947ء کے پہلے انگریز آرمی چیف سر فرینک والٹر میسروی (Sir Frank Walter Messervy)  سے لے کر موجودہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ تک کے16 آرمی چیفس کے مجسمے فریم میں لگے ہیں ۔ اِسی گیلری کے ساتھ مین گیلری میں حیران کن دیو قامت سکندرِاعظم اور پورس کی لڑائی لڑنے کے لئے فوجیں تیار کھڑی ہیں۔ پورس کا ہاتھی اِس پورے منظر میں نمایاں ہے اور نیزے لئے سکندر کی فوج کے سپاہی بھی اُس پر حملہ کرنے کی پوزیشن سنبھالے کھڑے ہیں۔اِس منظر کے ساتھ ہی وسط ایشیاکے حملہ آور بھی اپنے تیر کمانوں سے لیس گھوڑوں پر اور پیاد  فوج کے ساتھ حملہ کرنے کے لئے آتے نظر آرہے ہیں۔
تاریخ ِ پاکستان گیلری
پاکستان گیلری کے عنوان سے اِس خطے کی تاریخی اہمیت کے بارے میں معلومات تحریری اور تصاویر کے ساتھ آویزاں کی گئی ہیں ۔ برصغیر کی قدیم تہذیبوں مثلاً سات ہزار سال قدیم مہر گڑھ کی تہذیب ہو یا وادی سندھ کی تہذیب،ان کے آثار آج بھی ہمیں بتاتے ہیں کہ یہ خطہ دنیا کی قدیم تہذبیوں کی آماجگاہ رہا ہے ۔ ترقی یافتہ تہذیب وتمدن ہو یا ٹیکسلا کے سٹوپاز میں بدھ مت کی تہذیب کے بارے میں معلومات، یہاں سب موجود ہیں۔ اِن کے علاوہ برصغیر پر حکومت کرنے والے  بادشاہوں کی تصاویر اور اُن کی تاریخ بھی موجود ہے۔ جہاںاِس گیلری میں ہزاروں سال قدیم تہذیبوں کا ذکر ہے تو وہاں دوصدیاں قبل ایسٹ انڈیا کمپنی کو ہندوستان پر قبضہ کرلینے کے بعد مقامی افراد کے ساتھ ظلم کی عکاسی کرتے مجسموں کے ذریعے حقیقت کے نزدیک ترین دکھایا گیا ہے جس میں انگریز سپاہی مقامی شخص کو زنجیروں میں جکڑے کھڑے ہیں ۔تحریک پاکستان کے  100  اہم مشاہیر کی تصاویر اور اُن کے تعارف بھی اِسی گیلری کا حصہ ہیں۔ جبکہ گیلری میں قائد اعظم محمد علی جناح  کی حلف برداری کے منظر کو شایان شان انداز میں دکھایا گیا ہے جس میں قائداعظم محمد علی جناح  حلف لے رہے ہیں جبکہ ایک طرف فاطمہ جناح اور لیڈی ماؤنٹ بیٹن بیٹھی ہیں۔



 ری برتھ آف نیشن گیلری 
ابھی پاکستان کی تاریخ ہی جاری تھی کہ تقسیم ہند اور ہجرت کے درد ناک منظر میں ریل گاڑی کا ڈبہ اورسٹیشن کا پلیٹ فارم سامنے آتا ہے ۔اِس منظر میں لٹے پٹے مہاجرین کی آمد کے درد ناک لمحات میں ریل کی چھت پر بیٹھے مہاجرین اور ڈبے میں جوان ،بوڑھے ، عورتیں اور بچے سامان کے ساتھ دکھائے گئے ہیں اور پاک فوج کے جوان مہاجرین کی امداد کرتے نظر آرہے ہیں۔ سٹیشن کے پلیٹ فارم پر پاک سر زمین پر پہنچنے والے لوگ زمین پرسجدہ ریز پڑے ہیں، عورتیں بیٹھی ہیں اورخون میں لت پت      پٹری  لاش  منظر کو اندوہناک بنا رہی ہے۔
1948 سے 1965 گیلری
 قیام پاکستان کے بعد 1948 سے لے کر 1965 تک کے دور کی داستان اِس گیلری میں بیان کی گئی ہے۔ قیام پاکستان کے بعد اِس نوزائیدہ مملکت کے لئے  بھارت نے کئی ایک مسائل کھڑے کئے وہاں جموں و کشمیر میں شورش برپا کرکے اِس علاقے میں اپنی فوج داخل کر کے ناجائز قبضہ کیا جو کہ آج بھی قائم ہے۔ 1965 تک بھارت کی جانب سے پاکستان کو کمزور کرنے کی سازشوں کے ذریعے کوئی نہ کوئی شرارت ہوتی ہی رہی اور وقتاً فوقتاً کہیں نہ کہیں محاذ کھول رکھے تھے جن کو تصاویر اور مجسموں سے دکھایا گیا ہے۔ اِس گیلری میں  پاک فوج اور پاکستان کے لئے جامِ شہادت پانے والے مرد و خواتین کے مجسمے بھی رکھے گئے ہیں۔
جنگ ِ1965 
 بھارت  قیام پاکستان سے لے کر اب تک پاکستان کے لئے مسائل اور رکاوٹیں ڈالنے میں کبھی پیچھے نہیں ہٹا تھا ۔پاک بھارت سرحد اورکشمیر کی کنٹرول لائن  کے ہر مقام کو اُس نے جنگ کا محاذ بنا رکھا تھا ۔ 6 ستمبر 1965 ء کونمازِ فجر سے پہلے رات کے اندھیرے میں بھارت نے تاریکی کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے لاہور پر حملہ کر دیا ۔کہا جاتا ہے کہ بھارتی فوج کی منصوبہ بندی تھی کہ لاہور کے جمخانہ کلب میں شام کی چائے پینی تھی۔مگر دشمن کی خام خیالی اور طاقت کے نشے کی مستی کمبختی میں تبدیل ہو گئی اور پاک فوج کے جوانوں نے سرحد سے چند کلو میٹر بھی بھارتی فوج کو آگے نہ آنے دیا بلکہ بی آر بی نہر بھی پار نہ کر نے دی ۔ جس کے جواب میں بھارت نے پاکستان کی سرحدوں کے باقی محاذ بھی کھول دیئے۔ جنگِ 65کا منظر گیلری کے درمیان میں دو پاکستانی فوجی ایک بھارتی جیپ جس پردوبھارتی فوجی سوار تھے، اُن کو نرغے میں لئے کھڑے ہیں ۔ لاہور کے واہگہ کے محاذ،کھیم کرن کے محاذ ،چونڈہ میں ٹینکوں کی لڑائی کے مناظر اور دوسرے محاذوں کی تفصیلات اور تصاویرلگائی گئی ہیں ۔ اِس کے علاوہ پاک فضائیہ کا کردار اورپاک بحریہ کی کارروائی کے بارے میں تحاریر پڑھنے کو ملتی ہیں ۔گیلری میں دورانِ جنگ استعمال ہونے والے اُس دور میں فوجی سامان اور جنگی مواصلات کے ذرائع(وائر لیس، ہاٹ لائن )وغیرہ کی نمائش بھی کی گئی ہے۔
جنگ ِ 1971 گیلری
اِس گیلری میں جنگ ِ71 کے مناظر سامنے آتے ہیں ۔گیلری میں میجر شبیر شریف شہید  بھارتی میجر نارائن سنگھ کو اپنی بندوق کی نوک پر لئے کھڑے ہیں تو دوسری جانب لانس نائیک محمد محفوظ شہید بھی زخمی حالت میں دشمن کے فوجی کو دبوچے ہوئے ہیں ۔اِس کے علاوہ مشرقی پاکستان کے محاذ پر پاک فوج کے جوانوں کی کارکردگی کی تصاویر لگائی گئی ہیں۔
سیاچن کا محاذ گیلری
سیاچن کا محاذ  17000 فٹ سے اونچا دنیا کا بلند اور سرد ترین محاذِ جنگ ہے  جہاں درجہ حرارت عموماً منفی 40 سے 60 سینٹی گریڈ تک ہوتا ہے ۔اِس گیلری کو وہاں کے سرد ماحول  کے احساسات کے ساتھ ڈایزئن کیا گیا ہے اور پاک فوج کے جوانوں کوسیاچن کے سرد موسم کے خاص یونیفارم میں ملبوس قراقرم کے پہاڑوں سے بلند حوصلوں میں دکھایا گیاہے ۔یہاں صرف دیکھنے والوں کو وہاں کے مناظر ہی نہیں وہاں کی ہوا ؤں کی تیز آوازیں بھی کانوں سے ٹکراتی محسوس ہوتی ہیں۔اِسی گیلری میں کارگل کے محاذ کی عکس بندی خوبصورت انداز میں کی گئی ہے ۔اِسی محاذ پر کیپٹن کرنل شیر خان اور حوالدار لالک جان نے دشمن سے بہادری سے لڑتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا اور اُن کی بہادری پر اُنھیں نشانِ حیدر دیا گیا۔ 
دہشت گردی کے خلاف آپریشن گیلری
پاکستان کو صرف دشمن کی جانب سے سرحدوں پر ہی مسائل کا سامنا نہیں رہا  بلکہ دشمن اِس پاک سر زمین کے اندر تک گھس آئے تھے۔ افغانستان کی غیر یقینی حالات سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے دشمن نے پاکستان کی مغربی سرحد کو بھی غیر محفوظ کر دیا جس کی وجہ سے پاکستان میں دہشت گردی کو آسان راستہ مل گیا اور بم دھماکے ، دہشتگردوں کے حملے اور ہر طرف خوف وہراس نے پاک سر زمین پر خون کے دھبے چار سو بکھیر دیئے ۔ مسجدوں ، مزاروں، امام بارگاہوں ، تفریح مقامات اور افواج پر حملوں میں ہزاروں پاکستانیوں کی شہادت ہوئی اور کئی لاکھ پاکستانی زخمی ہو کر زندگی بھر کے لئے معذور ہو گئے ۔ آخر پاک فوج نے اِن دہشت گردوں کی طاقت کو کچلنے کے لئے آپریشنز کرنے کا فیصلہ کیا ۔آپریشن راہِ نجات، آپریشن ضرب عضب ،آپریشن شیر دل، آپریشنرد الفساد جیسے آپریشنز کے ذریعے دہشت گردوں کو کچلا گیا۔ اِس گیلری میں داخل ہوتے ہی دہشت گردی کا نشانہ بننے والے ہنستے مسکراتے پاکستانیوں کی تصاویر،سانحہ آرمی پبلک سکول پشاور کے 148 شہداء کی تصاویر جن میں معصوم بچوں کے مسکراتے چہرے اور اساتذہ کے چہرے دیکھنے والوں کواور غم زدہ کر دیتے ہیں اور ایک شہید بچے کا خون سے بھرا یونیفارم دیکھنے والوں کو دکھی کر دیتا ہے۔  دہشت گردوں کے زیر استعمال ٹھکانوں  اور وہاں اُن کے زیر استعمال بھاری اسلحے کے ذخائر، دہشت گردوں کے ساتھ پاک فوج کے جوانوں کے مقابلے کو حقیقت سے نزدیک ترین دکھایا گیا  ہے۔ دہشتگردی کی اِس جنگ میں بھی پاک فوج کے ہزاروں جوانوں نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کئے۔
آرمی میوزیم لاہور کی عمارت کے مین ہال میں ایک طرف سکندرِاعظم اور راجہ پورس کی افواج ایک دوسرے سے نبزدآزما ہیں تو اُسی ہال میں پاک فوج میں خواتین کی کارکردگی کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لئے اُن خواتین کی تصاویر لگائی گئی ہیں جنہوں نے دورانِ ملازمت اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔اِس حصے کو'' وومن ان ِخاکی '' کا عنوان دیا گیا ہے۔ اِس کے علاوہ جانوں کے نذرانے پیش کرنے والے غیر مسلم فوجی، پولیس ، سول اداروں کے شہداء کی تصاویر کے ساتھ اُن کی کارکردگی کو خراج ِ عقیدت پیش کیا گیا ہے۔ اِس ہال کے دوسرے کونے میں  زمانہ قدیم کے ہتھیاروں کے ماڈل تیر، کمان ، تلوار ، نیزے،  توڑے دار بندوقوں کے ماڈل ،بموں کے خول خوبصورتی سے سجائے گئے ہیں۔
 نشانِ حیدر گیلری:
پاکستان کا سب سے بڑا فوجی اعزاز نشانِ حیدر پاک فوج کے اُن فوجیوں کو دیا جاتا ہے جو جنگ یا جنگی حالات میں غیر معمولی کارکردگی دکھائیں ۔ اِس گیلری میں پاک فوج کے اُن گیارہ شہداء کے مجسمے رکھے گئے ہیں جنہیں نشانِ حیدر سے نوازا گیا اور ساتھ میں اُن کی سوانح حیات اور کارناموں کی تفصیلات رکھی گئی ہیں۔اِس گیلری کی شان بڑھانے کے لئے اِس کی چھت کو بھی نشانے حیدر کے ستاروں سے سجایا گیا ہے ۔  
 آرمی میوزیم لاہور میں اقوامِ متحدہ کی گیلری بھی بنائی گئی ہے ۔دوسرے لان میں ٹینک ،ٹرک ، اینٹی ائیر کرافٹ گن، فائر کنٹرول آلات،کاؤنٹر بیٹری ریڈارجیسے آلات نمائش کے لئے رکھے گئے ہیں۔ یہاں آنے والے سیاحوں کی تفریح  کے لئے ٹینکوں کے اندر جانے اور اوپر چڑھنے کیلئے سیڑھیاں رکھی گئی ہیں ۔اِن سب تفریحات کے علاوہ میوزیم میں لائبریری، کیفے ٹیریا،سوینیئرزشاپ اور ڈاکومینٹری آڈیٹوریم بھی بنائے گئے ہیں۔ ||


مضمون نگار فری لانس صحافی ہیں اور مختلف اخبارات  کے لئے لکھتی ہیں۔
[email protected]

یہ تحریر 51مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP