متفرقات

آج کوئی بلوچ ضلع بدر نہیں ہوتا

فرنٹیئرکور بلوچستان کو ہم بجا طور پر فخرِ بلوچستان کہہ سکتے ہیں کہ اس مایہ ناز ادارے نے ضلع ڈیرہ بگٹی اور کوہلو کے دوسرے محب وطن اداروں کے ساتھ مل کر داخلی خلفشار کوکافی حد تک کم کر کے نہ صرف یہاں امن قائم کیا ہے بلکہ ڈیرہ بگٹی اور کوہلو کے غریب اور سادہ لوح عوام کو اس طبقاتی چُنگل سے آزادی دلا دی ہے جو اکیسویں صدی میں بھی عوام کوغلام بنا کر رکھے ہوئے تھا۔ اس نظام میں اچھی زندگی‘ عیش و عشرت‘ معیاری تعلیم اور اچھی صحت کی سہولیات صرف اور صرف چند بڑے لوگوں اور اُن کے گماشتوں تک محدود تھیں اور یہ مراعات انہوں نے غریب بلوچ عوام کے نام پر لی گئی رقوم سے کوئٹہ‘ کراچی‘ اندرون سندھ اور اسلام آباد میں اپنے لئے میسر کی ہوئی تھیں۔ اربوں روپے رائلٹی کی مد میں لے کر انہوں نے اپنے اور اپنی اولاد کے خزانے تو بھر دیئے لیکن ڈیرہ بگٹی اور کوہلو کھنڈرات کا نقشہ پیش کرتے رہے۔ غریب بلوچ عوام کو حکم تھا کہ وہ سکول بھی نہیں جا سکتے تھے جبکہ اُن کی اپنی اولاد آکسفورڈ اور دوسرے غیرملکی اداروں میں تعلیم حاصل کرتی رہی۔ غریب بلوچ کو پکا گھر بنانے کی اجازت بھی نہ تھی۔ خود اپنے لئے بڑے شہروں میں محل بنائے ہوئے تھے۔ غریب بلوچ بھیڑ بکریاں پالنے اور گیس کمپنی کی معمولی نوکری پر بھی ان جاگیرداروں‘ سرداروں اور نوابوں کو خراج (پھوڑی) دیتا تھا۔ ان چند بڑے لوگوں نے اپنے لئے لینڈ کروزر اور دوسری قیمتی گاڑیوں کے قافلے بنائے ہوئے تھے۔ غرضیکہ وہ ڈیرہ بگٹی او رکوہلو کے غریب بلوچوں کے بنیادی انسانی حقوق پوری طرح سلب کئے ہوئے تھے۔یہ چند استحصالی کردار بلوچستان کے محب وطن سرداروں‘ نوابوں اور عوام کے لئے بھی ایک نامناسب شناخت تھے اور ہیں۔

خدا کے فضل و کرم سے پاک آرمی نے ڈیرہ بگٹی اور کوہلو کے عوام کو اس خون آشام اور ذلت بھری رات کے چنگل سے کافی حد تک چھٹکارا دلا کر ایک روشن صبح کا آغاز کیا جس میں عام بلوچ کو حقیقی معنوں میں آزادی کا احساس ہوا اور دونوں اضلاع میں موروثی سیاست کے بجائے انتخابی سیاست کا آغاز ہوا۔ آج خدا کے فضل سے بگٹی اور مری نوجوان آرمی آفیسرز اور انجینئر بن رہے ہیں۔ وہ اپنی مرضی سے اپنے حقوق کی بات کر سکتے ہیں۔ وہ اپنی سرزمین پر آزادی سے جی رہے ہیں۔ آج کوئی بگٹی یا مری ضلع بدر نہیں ہوتا لیکن استحصالی سوچ اور ذہن رکھنے والے خاندانوں کے کچھ افراد کو عوام کی خوشحالی کا یہ سفر ایک آنکھ نہیں بھاتا۔ اس لئے وہ دن رات اپنے دہشت گرد کارندوں کے ذریعے بلوچستان کے مختلف علاقوں کے امن کے درپے ہیں۔

پاک آرمی اور فرنٹیئر کور بلوچستان آج بھی اُن شرپسندوں سے نبرد آزما ہے جو پاکستان دشمن عناصر کے ایماء پر بگٹی و مری قوم کو دوبارہ اسی اندھیرے میں دھکیلنا چاہتے ہیں اورقومی اثاثے جو کہ بلوچوں کی خوشحال زندگی کے ضامن ہیں‘ اُن کو تباہ کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن انشاء اﷲ ان کے مذموم مقاصد کبھی پورے نہ ہوں گے۔

یہ تحریر 24مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP