قومی و بین الاقوامی ایشوز

آج میری بات سنو

میں پاکستان ہوں۔۔۔۔۔۔ آج میں اپنے اندر بسنے والی قوم سے خود مخاطب ہوں۔ میں 67سال سے سن رہا ہوں کہ پاکستانی ایک قوم نہیں بن سکے۔۔۔ ہجوم کے عالم میں ہیں۔ آؤ میں تمہیں بتاؤں سارے پاکستانی اسی دن ایک قوم بن گئے تھے جب اپنے ہنستے بستے گھربار‘ باغ و بہار سب چھوڑ کر محمد علی جناحؒ کے جھنڈے تلے جمع ہو گئے تھے۔ جب بھارت سے مسلمانوں کی بھری ہوئی ٹرینیں چلی تھیں اور پاکستان کی زمین پر پہنچتے پہنچتے وہ سردھڑ سے عاری ہو کر لہو میں نہا گئی تھیں۔ ان بے جان کھلی آنکھوں اور لہو لہان لاشوں کے نیچے سے زندہ لوگوں نے نکل کر اپنی پاک سرزمین پر پہلا سجدہ شکر ادا کیا تھا۔ لہو سے بھرے ہوئے ان سجدوں کے نشان ابھی تک میرے جگر پر ہیں۔ وہ ایک قوم کے سجدے تھے۔ جب 1965میں بھارت نے رات کی تاریکی میں بزدلوں کی طرح لاہور پر حملہ کیا تھا تو ساری خلقت کا رخ واہگہ بارڈر کی طرف ہو گیا تھا۔ عوتوں نے اپنے سہاگ کی چوڑیاں اتار کر فوجیوں کے قدموں میں رکھ دی تھیں۔ بزرگ اپنا سارا مال و متاع ٹرکوں پر رکھ کر لے آئے تھے۔ نوجوانوں نے شہروں کے اندر رضاکارانہ طور پر ڈیوٹیاں سنبھال لی تھیں۔ گھر والیاں دیگیں پکا کر سرحدوں پر لڑتے جوانوں میں تقسیم کر رہی تھیں۔ شاعروں نے اپنی محبت بے مثال نغموں میں بھر دی تھی۔مفتیوں نے اپنی مدبھری آوز کا جادو فضاؤں میں بکھیر دیا تھا۔ سترہ روزہ جنگ نے دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا تھا۔ اس وقت ساری خلقت نے ایک قوم بن کر یہ جنگ جیت لی تھی۔ تم نے اس قوم کو 2005کے روح فرسا زلزلے کے دنوں میں دیکھا تھا ناں۔۔۔؟ ہر صوبے اور ہر شہر سے بے قرار ہو کر‘ مضطرب ہو کر ساز وسامان کے ساتھ لوگ‘ ٹوٹتی چٹختی وادیوں اور پہاڑوں کی طرف دوڑ پڑے تھے اور کس طرح بربادیوں کو آبادیوں میں بدل کر رکھ دیا تھا۔ وہ ایک ہی قوم تھی۔ پاکستانی قوم تھی! کراچی سے لے کر خیبر تک۔۔۔ سارے پاکستانی بلا امتیاز مذہب‘ مسلک‘ پارٹی و پالیٹکس۔۔۔ بلاامتیاز امارت و غربت ۔۔۔ مددگار بن کر‘ مسیحا بن کر‘ غم گسار بن کر ڈٹ گئے تھے۔ اگر یہ خلقت ایک قوم نہ ہوتی تو ایک قو م بن کر اپنی قوم کی چارہ گری کو آگے نہ آتی۔ میں دیکھتا رہتا ہوں‘ سیلاب آتے ہیں‘ آسمانی عذاب نازل ہوتے ہیں‘ آفات سر اٹھاتی ہیں‘ آزمائش کے ہر موسم میں یہ قوم اپنا فرض ادا کرنے باہر نکلتی ہے۔ جب بھی میں نے کڑے وقت میں بلبلا کر پکارا۔۔۔ تڑپ کر یہ قوم ایک آواز بن گئی۔ ابھی ابھی تم نے دیکھا۔ ضرب عضب کے فیصلے پر ایک بار پھر یہ قوم یک جان اور یک زبان ہو گئی۔ آج پوری قوم عسکری قوتوں کے شانہ بشانہ کھڑی ہو گئی ہے۔ اور جب تک ہماری فقید المثال فوج میرے وجود کو ان بدطینت ستم گروں سے پاک نہیں کر لے گی‘ پوری قوم قدم ملا کر ان کے ساتھ کھڑی رہے گی اور جب تک یہ سب باہم مل کر آئی ڈی پیز کو اپنے آسودہ گھروں میں بسا نہیں دیں گے‘ یونہی ہمدم و ہمساز رہیں گے۔ میں سنتا رہتا ہوں۔ تم کیا ہر وقت چن چن کے اس قوم سے کیڑے نکالتے رہتے ہو؟ اور بار بار کہتے ہو یہ ہجوم ہے قوم نہیں ہے۔ تم نے دیکھا جب قومی ترانہ بجتا ہے۔ اس کے احترام میں سب کھڑے ہو جاتے ہیں۔ کوئی تقریب ہو‘ کوئی ساعت ہو‘ کوئی ماحول ہو‘ ملک کے اندر ہوں یا باہر۔ ترانے کے ساتھ ان کے دل دھڑکتے ہیں۔ ان کے جذبے زندہ رہتے ہیں۔ جب کسی محفل میں کوئی قائداعظم کا نعرہ لگاتا ہے‘ تو ہزاروں آوازیں زندہ باد کا غلغلہ مچا دیتی ہیں یہ ایک قوم کا وتیرہ ہے۔ تلاوت کلام پاک ہو تو ادب سے سنتے ہیں۔ یہ ایک قوم کا رویہ ہے۔ عیدگاہ میں نماز اکٹھے پڑھتے ہیں۔ محرم الحرام کے دس دنوں کو حرمت والے دنوں کی طرح مناتے ہیں۔ حج کے دنوں میں قافلہ بن کر جاتے ہیں۔ یہ ایک قوم ہونے کی نشانی ہے۔ اور تم دیکھتے ہو کہ یہاں الگ الگ صوبوں کی علیحدہ علیحدہ زبانیں ہیں۔ مگر جب یہ آپس میں ملتے ہیں تو ہمیشہ اردو میں بات کرتے ہیں۔ کیونکر اردو زبان ہی میری پہچان ہے اور اردو نے ہی جدا جدا زبانیں بولنے والوں کو باہم ملا کر رکھا ہے۔ اور آج 14اگست ہے۔ جاؤ جا کر دیکھ لو۔۔۔ ہر منڈیر پر سبز جھنڈا لہرا رہا ہے۔ ہر دیوار پر آزادی کا دیا جل رہا ہے۔ ہر سائیکل‘موٹرسائیکل‘ ہر ٹرک اور ہر کندھے پرمیں نظر آ رہا ہوں۔ قائداعظم او ر اکابرین کی تصویروں کے اندر سجا سجایا میں ہوں۔ قوم کے کاندھوں پر چمکتا ہوا میں ہوں۔ تمارے پاسپورٹ کے اندر میں ہوں۔ تمہاری کرنسی کے اندر میں ہوں۔ الغرض تمہاری شناخت بھی میں ہوں۔ کیونکہ میں تمہارا پاکستان ہوں۔ اے قابل فخر قوم۔۔۔ تم بھی میری شناخت بن جاؤ۔۔۔ تم مجھ پر ناز کرو۔۔۔ میں تم پر اترایا کروں۔ میں تمہارا نام ادب سے لوں۔۔۔ تم میرے ہو کر جینا سیکھو۔ ارے پگلو! تم ہی تو میری قوم ہو‘ تم ہی تو میرا ورثہ ہو‘ اے میری قوم کے پیارے لوگو! آج تم میرا سلام لو۔۔۔ میرا پیام لو۔۔۔ بس ایک شکر کرنے کی عادت ڈال لو۔۔۔ شکر قوموں کو برکتیں اور محبتیں عطا کرتا ہے۔۔۔ بس برداشت کی عادت قوموں کو عروج پر لے جاتی ہے۔۔۔ ایثار کا رویہ اپناؤ۔۔۔ ایثار قوموں کو انسانیت کی معراج پر پہنچا دیتا۔۔۔ اﷲ تمہارا حامی و ناصر ہو۔۔۔ آمین ثم آمین

یہ تحریر 16مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP