قومی و بین الاقوامی ایشوز

آئین پسندی کا کلچر

ریاست تاریخی اعتبارسے ایک جدید ادارہ ہے۔تاہم ایک نظمِ اجتماعی کی ضرورت سے انسان کسی دور میں بے نیاز نہیں رہا۔قبائلی معاشرت میں بھی اس کی کوئی نہ کوئی صورت مو جود رہی۔سماجی ارتقا کے ساتھ نظمِ اجتماعی کی ہیئت میں تبدیلی آئی اور اس کے ساتھ اس کی اخلاقیات بھی تبدیل ہوتی رہیں۔الہامی مذاہب نے اس کو اخلاقی اور ما بعد الطبیعیاتی بنیادیں فراہم کیں۔اس طرح یہ کہا جا سکتا ہے کہ جدید ریاست کے وجود میں انسان

کا فکری وسماجی ارتقا مجسم ہوگیا۔

جدیدریاست ،حقوق وفرائض کے اُس تصور کی عملی صورت گری ہے جوالہامی اور غیرالہامی روایات، دونوں میں مو جود رہا ہے۔اس سے ریاست و عوام اور اس کے ساتھ عوام کے مختلف طبقات کے مابین ذمہ داریوں اور حقوق کا تعین کیا جا تا ہے۔اس کو اب تحریری دستاویز کی صورت دے دی گئی ہے جسے آئین کہتے ہیں۔ انسان نے اس ریاست کی ضرورت دواسباب کے تحت محسوس کی۔ایک تو یہ کوئی دوسرے پر ظلم نہ کرے۔ کسی کے جان و مال اور عزت و ناموس کو دوسرے سے کوئی نقصان نہ پہنچے۔ دوسرا یہ کہ ذمہ داریوں کا تعین ہو جائے تاکہ امورِریاست و حکومت میں کوئی تضاد یا تصادم واقع نہ ہو۔ آئین اسی کو یقینی بنا تا ہے۔ آئین بظاہر انسان کے تہذیبی ارتقا کا ایک مظہر قرار دیا جا تا ہے مگرالہامی روایت میں بھی اس کو قبول کیا گیا ہے ۔ قرآن مجید میں لوگوں کو یہ ہدایت دی گئی ہے کہ جب وہ کوئی لین دین کا معاملہ کریں تو اسے لکھ لیں اور اس پر گواہ بھی بنا لیں۔رسالت مآب ﷺ جب مدینہ تشریف لائے تو آپ نے وہاں کی مقامی آبادی کے ساتھ ایک تحریری معاہدہ کیا۔اسے میثاقِ مدینہ کہتے ہیں۔ اس میں سب قبائل اور شہریوں کے حقوق و فرائض کا تعین کر دیا گیا۔اس دستاویز کو دنیا کا پہلا تحریری آئین کہا جا تا ہے۔یہ بات پیشِ نظر رہنی چا ہئے کہ یہ معاہدہ اس وقت ہوا جب نزولِ وحی کا عمل جا ری تھا۔الہامی روایت میں سماج اس ہدایت کا پابند ہو تا ہے جو آ سمان سے اترتی ہے۔باہمی امور کے معاملے میں اہلِ اسلام کو اس کا پابند کیا جا سکتا تھا جیسے بعض معاملات میں ہوا بھی لیکن ہمیں معلوم ہے کہ رسالت مآبﷺ نے وحی سے الگ سماج کو ایک عمرانی معاہدے سے روشناس کرایا۔گویا دوسرے الفاظ میں یہ تعلیم دی کہ انسانی سماج کو باہمی مشاورت سے ایک سماجی معاہدہ کرنا چاہئے اور پھر سب کو اس کا پابند رہنا چاہئے۔اسی کو جدید دور میں آئین کہا جا تا ہے جس کی خلاف ورزی کو جرم شمار کیا گیا ہے۔

 

پاکستان بھی ایک آئینی ریاست ہے۔ اس میں بھی ریاستی اداروں اور عوام کے حقوق و فرائض کا تعین کیا گیا ہے۔سماج کو کسی تصادم سے محفوظ رکھنے کے لئے لازم ہے کہ آئین کی پاس داری کی جائے۔سب لوگ وہ ذمہ داریاں ادا کریں جو آئین میں دی گئی ہیں اور خود کو ان حقوق کے مطالبے تک محدود رکھیں جن کی ضمانت آئین دیتا ہے۔ اس کے ساتھ جو بنیادی بات حکومت اور ریاست کو پیش نظررکھنی ہے، وہ یہ سوال ہے کہ ریاست کیوں وجود میں آتی ہے اور اس کی بقا کے لئے آئین کی ضرورت کیوں ہے؟اگر یہ سوال نظر انداز ہو جا ئے تو آئین محض ایک کتاب ہے اور ریاست بالا دست طبقے کے ہاتھ میں ایک ہتھیار ہے جسے وہ اپنے مفادات کے لئے استعمال کر تا ہے۔

 

ریاست کا بنیادی مقصد عوام کو ظلم سے محفوظ رکھنا ہے۔یہی مقصدآئین کا بھی ہے۔اِس ظلم کی کئی صورتیں ہیں۔ معاشی، سماجی،طبقاتی اور نفسیاتی۔پھر یہ کہ ظلم محض بالادست طبقات کے ہاتھوں ہی نہیں روا رکھا جا تا،کبھی کبھی حکومت و ریاست بھی اس کا ارتکاب کرتے ہیں۔جیسے عوام کی کمرپرٹیکسوں کا وہ بوجھ لاد دینا جس کو اٹھانے کی ان میں سکت نہیں یا انہیں وہ سہولتیں فراہم نہ کرنا جو ان کا آئینی حق ہے۔یہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایک طرف تو عوم کو طاقت ور طبقات کے ظلم سے محفوظ رکھے اور دوسری طرف وہ ایسی پالیسیاں اختیار کرے جو عوام کے مفاد میں ہوں۔اس کے ساتھ ساتھ وہ انہیں کسی ایسے فرمان کی بجاآوری پر مجبور نہ کرے،جس پر عمل کر نا ان کی دسترس سے باہر ہو۔خلیفہ راشد حضرت عمرؓ نے ایک بوڑھے یہودی کو دیکھا جو بھیک مانگ رہاہے۔آپ نے سبب پوچھا تو اس نے بتایا کہ اسے ریاست کا ٹیکس دینا ہے اور اپنی کفالت بھی کرنی ہے۔اس پر حضرت عمرؓ نے یہ فرمان جاری کیا کہ ریاست کے لئے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ لوگوں کی جوانی سے فائدہ اٹھائے اور انہیں بڑھا پے میں مجبور چھوڑ دے۔آپ نے اس کے بعد ایسے شہریوں کے لیے وظائف مقرر کر دئیے۔ پاکستان میں مذہب کی طرح آئین کے احترام کا ایک ادھورا تصورپایا جا تا ہے۔ لوگ اپنے حقوق کی بات کرتے ہیں لیکن اپنی ذمہ داریوں سے آنکھیں چراتے ہیں۔ہم مذہب کے صرف اس حصے پر عمل کرتے ہیں جس سے ہمارے مفادات کو زد نہیں پہنچتی۔ان احکام کو نظرا نداز کرتے ہیں جو ہمارے مفادات پر اثر ڈالتے ہیں۔ہم نماز میں کوتاہی نہیں کرتے مگر حرام و حلال کی تمیز سے بے نیاز ہو جاتے ہیں۔ آئین کی با ت کرتے وقت بھی ہم یہی رویہ اپنا تے ہیں۔اس کا ایک نتیجہ یہ ہے کہ مذہب کی طرح سماج میںآئین کا بھی ایک ادھورا فہم پروان چڑھتا ہے اوریوں ہم ایک آئین پسند سماج کی تشکیل میں پوری طرح کامیاب نہیں ہیں۔

 

اس کے لئے لازم ہے کہ پاکستان میں آئین پسندی کا کلچر عام ہو۔آئین کی اہمیت اور تفہیم تعلیمی نصاب کا حصہ ہو۔اسے عمومی اور دینی تعلیم کے اداروں میں پڑھا یا جائے۔اسی طرح سیاسی جماعتوں کو بھی اس کا اہتمام کر نا چاہئے کہ وہ اپنے کارکنوں کی سیاسی تربیت کریں اور انہیں سکھائیں کہ آئین پسندی سے کیا مراد ہے اور یہ حکومت و ریاست سے متعلق کس نو عیت کی حساسیت کا نام ہے۔اسی کے ساتھ ساتھ تمام ریاستی اداروں کے تربیتی کورسز میںآئین کی تعلیم بھی شامل ہو نی چاہئے۔آئین پسندی کاکلچر اسی وقت بن سکتا ہے جب تمام سماج اسے بطور قدر اپنا لے۔

 

قانون پسندی،آئین پسندی ہی کا حصہ ہے۔جب ایک عام شہری پولیس سے بے نیاز ٹریفک سگنل کی پابندی کرے گا‘ جب ریاست کے کسی ادارے کا اہل کار ایک اقدام کرتے وقت اپنے آئینی دائرہ کار کا لحاظ رکھے گا‘جب پارلیمان میں قانون سازی کے وقت صرف عام آ دمی کا مفاد پیشِ نظر ہو گا‘ جب تعلیمی اداروں میں آئین کا احترام شاملِ نصاب ہو گا‘ جب محراب ومنبر سے عام آد می کو قانون کی پابندی کا درس ملے گا ۔ اس کے بعد وہ سماج وجود میں آئے گا جو پر امن ہو گا، جس میں ایک طبقہ کسی دوسرے کے ظلم کا شکار نہیں ہو گا۔ ریاست خواص کی نہیں، عوام کی خادم ہو گی۔ سیاسی و سماجی استحکام آج پاکستان کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔معاشی استحکام کا تمام تر انحصار اسی پر ہے۔سیاسی وسماجی استحکام‘ آئین پسندی کا مرہونِ منت ہے۔جب آئین پسندی کاکلچر عام ہوگاتو پاکستان کو کسی ضربِ عضب کی ضرورت نہیں رہے گی۔یہ اقدام در اصل اسی وقت لازم ہوا جب کچھ گروہوں نے آئین شکنی کا راستہ اختیار کیا۔آئین پسندی کا کلچر عام ہو جائے تو پاکسان امن کا گہوارہ بن جائے۔

 

[email protected]

یہ تحریر 92مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP