قومی و بین الاقوامی ایشوز

آئین اور فرد

انسان نے اپنے تجربے سے یہ سیکھا ہے کہ اختیارات کا ارتکاز ہی دراصل فساد کا باعث ہے۔ اس سے ظلم جنم لیتا ہے اور نا انصافی وجود میں آتی ہے۔سماج اور ریاست چونکہ انسان کی اجتماعی کوشش اور جد وجہد سے آگے بڑھتے ہیں، اس لئے ضروری ہے کہ اجتماعی امور کو مختلف شعبوں میں بانٹ دیا جائے۔ تقسیم کار کے اصول اپناتے ہوئے مختلف طبقات کے ذمے مختلف کام لگا دئیے جائیں۔ اس میں یہ لحاظ رکھا جائے کہ ایک شعبہ دوسرے کے کام میں مخل نہ ہو۔

ایک پُرامن ریاست کی بنیادی ضرورت ہے کہ ریاست اور عوام کے مابین کوئی عمرانی معاہدہ مو جود ہو۔سماج کے مختلف شعبے اپنے اپنے کام سے آگاہ ہوں اور تقسیم کار کے اصول کے تحت، ان کے حقوق و فرائض متعین ہوں۔ اگر ایسا نہ ہو تو تصادم کا امکان ہر وقت موجود رہتا ہے جس سے سماجی امن تہہ و بالا ہو سکتا ہے۔

بادشاہت اور قبائلی معاشرت میں بالعموم طاقت کا محور و مرکز ایک فرد ہوتا ہے۔ وہی دوسروں کے حقوق و فرائض طے کرتا ہے اور اس باب میں اس پر کوئی قدغن نہیں ہوتی۔ چونکہ اس کی طاقت کو کوئی چیلنج نہیں کرتا، اس لئے دوسروں کے حقوق پامال ہونے کا امکان بڑھ جا تاہے۔ اگر کوئی فرد یا گروہ حقوق کی آواز بلندکرے تو بادشاہ اپنی طاقت سے مخالفانہ آواز کو دبا سکتا ہے۔

انسان نے اپنے تجربے سے یہ سیکھا ہے کہ اختیارات کا ارتکاز ہی دراصل فساد کا باعث ہے۔ اس سے ظلم جنم لیتا ہے اور نا انصافی وجود میں آتی ہے۔سماج اور ریاست چونکہ انسان کی اجتماعی کوشش اور جد وجہد سے آگے بڑھتے ہیں، اس لئے ضروری ہے کہ اجتماعی امور کو مختلف شعبوں میں بانٹ دیا جائے۔ تقسیم کار کے اصول اپناتے ہوئے مختلف طبقات کے ذمے مختلف کام لگا دیے جائیں۔ اس میں یہ لحاظ رکھا جائے کہ ایک شعبہ دوسرے کے کام میں مخل نہ ہو۔ یوں اختیار کے معاملے میں وہ تضاد وجود میں نہ آئے جو قدیم دور میں تصادم کا باعث بنتا رہاہے۔ اس سوچ نے انسان کو آئین سازی پر آمادہ کیا۔

حدسے تجاوز حکومت یا ریاست ہی نہیں، عام افراد بھی کرتے ہیں۔ سماج میں اگر کوئی فرد طاقت ور ہو تو وہ کمزور کے حقوق کو پامال کرتا ہے۔ آئین اس کا راستہ بھی بند کرتا ہے۔ اس لئے ایک آئین ریاست کے معاملات کو متوازن اور انصاف کے مطابق چلانے کے لئے ناگزیر ہے۔

تاریخ کا سبق یہ ہے کہ ایک انسان اُس قانون پر زیادہ رضامندی کے ساتھ عمل کرتا ہے جسے وہ دل کے ساتھ قبول کرتا ہو نہ کہ جبر سے۔ یہ ممکن ہے کہ وہ ریاست کے خوف سے قانون پر عمل کر رہا ہو اور دل سے اسے نہ مانتا ہو۔ اس صورت میں یہ امکان بڑھ جاتا ہے کہ کبھی ریاست کمزور ہو تو فرد خود کو آئین سے آزاد کر لے۔ اس کے بر خلاف اگر آئین اور قانون میں اس کی مرضی شامل ہے تو یہ امکان بڑھ جاتا ہے کہ وہ زیادہ آمادگی کے ساتھ اس پر عمل پیرا ہو۔

جب کوئی فرد کسی ریاست کا شہری بنتا ہے یا کسی منصب پر فائز ہوتا ہے تو دراصل وہ اس بات کا حلف اٹھاتا ہے کہ ایک شہری کی حیثیت سے، یا متعلقہ ذمہ داری اور منصب کے حوالے سے ،آئین اس کے لئے جن فرائض کا تعین کرتا ہے، وہ ان کو ادا کرے گا۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتا تو دراصل وہ معاہدے یا وعدے کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ وعدے کی خلاف ورزی دنیا کے ہر مذہب میں گناہ ہے۔

آئین بھی اسی طرح سے حکومت کے یہ فرائض بیان کرتا ہے کہ وہ میرٹ اور اہلیت کی بنیاد پر فیصلہ کرے۔ عدالتوں سے عدل کا مطالبہ کرتا ہے اور عوام سے یہ تقاضا کرتا ہے کہ وہ حکومت کے احکام کو تسلیم کریں۔ قرآن مجید بھی یہی بات کہہ رہا ہے۔ گویا مذہب بھی ہمیں ایک ایسی زندگی گزارنے کی تلقین کر رہا ہے جس میں حقوق و فرائض کا تعین ہو اور لوگ اس کے مطابق کام کریں۔

آئین کیا ہے؟

ریاست اور عوام کے مابین طے پانے والے معاہدے کوآئین کہتے ہیں۔ یہی وہ بنیادی دستاویزہے جو ایک ریاست کے مختلف شعبوں کے لئے حقوق و فرائض کا تعین کرتی ہے اور جس کے لئے دور جدید میں ضروری ہے کہ وہ عوام کی رائے سے ترتیب دیاجائے۔ انسان نے تجربے سے یہ سیکھا ہے کہ ریاست تین بڑے دائروں میں کام کرتی ہے، مقننہ، عدلیہ اور انتظامیہ۔ ریاست میں کچھ لوگ ایسے ہونے چاہئیں جن کی یہ ذمہ داری ہو کہ وہ ریاست کے مختلف شعبوں میں تصادم سے بچنے اور ان کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لئے قانون بنائیں۔ اگر تجربے سے یہ معلوم ہو کہ کوئی قانون عوامی فلاح و بہبود کے لئے مضر ثابت ہوا ہے یا عوام اس سے مطمئن نہیں ہیں تو اسے تبدیل کر دیں۔ یہ کام مقننہ کا ہے۔ انتظامیہ کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ قانون کے مطابق مختلف شعبوں کی کارکردگی پر نظر رکھے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ وہ قانون کی پابندی کرتے ہوئے اپنے فرائض سرانجام دیں۔ اگر کہیں دو مختلف شعبوں میں کوئی اختلاف واقع ہو یا حقوق و فرائض کے معاملے میں قانون کی خلاف ورزی ہو تو یہ عدلیہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس اختلاف کو رفع کرے اور اگر کہیں ذمہ داریوں سے غفلت برتی گئی ہے یا قانون شکنی ہو ئی ہے تو مجرم کو سزا دے۔

آئین ریاست کے ان تینوں شعبوں کے بارے میں بنیادی امور طے کرتا ہے۔ ایک جمہوری ریاست میں قانون سازی عوام کا حق ہے جسے وہ اپنے منتخب نمائندوں کے ذریعے ادا کرتے ہیں۔ پاکستان میں چونکہ پارلیمانی نظام ہے، اس لئے قانون سازی کا حق پارلیمان کے پاس ہے۔ ہماری پارلیمان دو ایوانوں پر مشتمل ہے۔ ایوان بالا یعنی سینیٹ اور ایوان زیریں یعنی قومی اسمبلی۔ قومی اسمبلی 342ممبران پر مشتمل ہے۔ ان میں سے272عوام کے ووٹ سے براہ راست منتخب ہوتے ہیں۔10 نشستیں اقلیتوں اور 60خواتین کے لئے مختص ہیں۔ اِن مخصوص نشستوں کے لئے ارکان اسمبلی ووٹ دینے کے مجاز ہیں۔ سینیٹ کی104نشستیں ہیں۔ یہ نشستیں تمام صوبوں میں برابری کی بنیاد پر منقسم ہیں۔ہر صوبے کے لئے 23,23 مختص ہیں۔چار وفاقی علاقے اور آٹھ فاٹا کے لئے خاص ہیں۔اسلام آباد اور فاٹا کے لئے مخصوص نشستوں کا انتخاب قومی اسمبلی اور صوبوں کے لئے متعلقہ صوبوں کے اراکین صوبائی اسمبلی کے ووٹوں سے ہوتا ہے۔ یہ صوبائی اسمبلیاں صوبوں کے امور چلانے کی پابند ہوتی ہیں اور ان اراکین کا انتخاب بھی قومی اسمبلی کی طرح عوام اپنے ووٹوں سے کرتے ہیں۔ یوں آئینی اعتبار سے پاکستان ایک وفاق کہلاتا ہے جو پانچ صوبوں پر مشتمل ہے۔

پاکستان کے آئین میں اسلام کو ریاستی مذہب قرار دیا گیا ہے۔ اس کی ایک اطلاقی صورت خود آئین میں یہ بیان کی گئی ہے کہ ملک میں کوئی ایسا قانون نہیں بن سکتا جو قرآن و سنت کی تعلیمات کے منافی ہو۔ اور یہ بھی آئین میں شامل قراردادِ مقاصد میں لکھا ہے کہ حکومت اصلاً اﷲ تعالیٰ کا حق ہے جسے عوام کے منتخب نمائندوں کے ذریعے استعمال کیا جائے گا۔اس کا مفہوم یہ ہے کہ صرف وہی حکومت آئینی تصور ہو گی جو عوام کے منتخب نمائندوں پر مشتمل ہو گی۔ تاہم یہ نمائندے اس کے پابند ہوں گے کہ وہ کوئی ایسا قانون نہیں بنائیں گے جو قرآن و سنت میں دی گئی کسی ہدایت یا حکم کے خلاف ہو۔ تاہم اس آئین میںیہ واضح کیا گیا ہے کہ دیگر مذاہب کے ماننے والے یہ حق رکھتے ہیں کہ وہ اپنے اپنے مذہب کے مطابق زندگی گزاریں اور انہیں اکثریتی مذہب کا پابند نہیں کیا جائے گا۔

آئین اور فرد

روایتی طور پر آئین کی ضرورت دراصل حکومتی اختیارات کو محدود کرنے کے لئے پیش آئی۔ حکومت فرد کی ہو یا کسی گروہ کی، عام طور پر مطلق ہوتی تھی‘ اُس پہ کوئی قدغن نہیں ہوتی تھی۔ اس بنا پر یہ امکان ہمیشہ موجود رہتا تھا کہ رعایا یا عام آدمی حکومتی جبر کا شکار ہو۔ بادشاہوں نے رعایا پر جو مظالم توڑے ،وہ انسانی تاریخ کا ایک الم ناک باب ہے۔چند سو سال پہلے، اہل مغرب کو جب اس کا تجربہ ہوا تو وہاں انسانی حقوق اور آزادی کی آواز اٹھی اور اس بات کو نمایاں کیا گیا کہ حکومتی اختیارات کی حدود متعین ہونی چاہئیں اور بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ ہونا چاہئے۔ اسی کے تحت جان لاک اور دوسرے مفکرین نے آئین کا تصور پیش کیا اور اس بات کو نمایاں کیا گیا کہ حقوق و فرائض کے حوالے سے حکومت اور عوام کے مابین کوئی معاہدہ ہونا چاہیے۔اس سماجی یا عمرانی معاہدے کو ہم علم سیاسیات کی زبان میں آئین کہتے ہیں۔ آئین روایت اور تجربے پر مشتمل ہو سکتا ہے اور تحریری بھی ہو سکتا ہے۔ موجودہ دور میں تحریری آئین کو ترجیح دی جاتی ہے اور اکثر ممالک کا نظام ایک تحریری آئین کے تحت چل رہا ہے۔ تاہم برطانیہ جیسے بعض جمہوری ممالک ایسے بھی ہیں جہاں کوئی تحریری آئین موجود نہیں۔

پاکستان کا آئین اسلام کو ریاست کا مذہب قرار دیتا ہے۔ موجودہ آئین کی تشکیل میں اہل سیاست کے ساتھ اہل مذہب بھی شریک رہے۔ مذہبی جماعتیں اور علما جو پارلیمان کا حصہ تھے، انہوں نے اسے قبول کیا۔ اس لئے آج ہم کہہ سکتے ہیں کہ اس آئین پر پوری قوم کا اجماع ہے۔ ہمارے مذہبی رہنما بھی اس کی پاس داری اور اس پر عمل درآمد کو ضروری قرار دیتے ہیں۔ مذہبی اقلیتیں بھی اسی آئین کے تحت حقوق کا مطالبہ کرتی ہیں۔ آئین کی پابندی سب کے نزدیک ایک قومی فریضہ ہے۔ ہمارے مذہبی تصورات اس کی پوری طرح تائید کرتے ہیں۔ آئین اور مذہب کی تعلیم میں کوئی تضاد نہیں۔

ہمارے پاس آئین ہی ایسا عمرانی معاہدہ ہے جو سب اکائیوں کو مل جل کر رہنے کے لئے ایک ضابطۂ اخلاق فراہم کرتا ہے۔

پاکستان کے آئین پر تمام اکائیوں کی نمائندہ شخصیات اور جماعتوں نے اپنے اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ سب نے اس سے اتفاق کیا ہے کہ اگر اس آئین کے مطابق عوام اور اکائیوں کے مسائل کو حل کیا جائے تو وہ اسے قبول کریں گے۔ اس لئے آج آئین ہی وحدتِ قوم کی ضمانت فراہم کرتا ہے۔

آمریت کا راستہ روکنے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ آئین کی پاس داری کی جائے۔ ریاست کے سب شعبے اور ادارے آئین میں متعین کی گئی حدود کا خیال رکھیں اور کوئی اپنی حد سے تجاوز نہ کرے۔

پیغمبرِ اسلام حضرت محمد ﷺ جب ہجرت کر کے مدینہ تشریف لائے توانہوں نے پہلے سے موجود قبائل کے ساتھ تحریری معاہدے کئے، جن میں سب کے حقوق وفرائض کا تعین کیا گیا۔انہیں بحیثیتِ مجموعی ’میثاقِ مدینہ‘ کہا جا تا ہے۔

آئین نے سماج کی دو بنیادی ضروریات کو پورا کیا ہے۔ ایک تو اس نے فرد کے بنیادی حقوق کو محفوظ بنایا ہے۔ اب حکومت یا کسی طاقتور گروہ کو یہ حق حاصل نہیں رہا کہ وہ ایک فرد یا شہری کے بنیادی حقوق پامال کرے۔ اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو آئین اس کا دفاع کرتا ہے۔ آئین کے تحت عدلیہ کا شعبہ موجود ہے جو اختیارات کے تجاوز کو روکتا اور ایک شہری کے حقوق کو محفوظ بناتا ہے۔دوسراوہ افراد اور گروہوں کے مابین تنازعات کو بھی حل کرتا ہے۔ حدسے تجاوز حکومت یا ریاست ہی نہیں، عام افراد بھی کرتے ہیں۔ سماج میں اگر کوئی فرد طاقت ور ہو تو وہ کمزور کے حقوق کو پامال کرتا ہے۔ آئین اس کا راستہ بھی بند کرتا ہے۔ اس لئے ایک آئین ریاست کے معاملات کو متوازن اور انصاف کے مطابق چلانے کے لئے ناگزیر ہے۔

ایک آئینی ریاست میں اصل حاکمیت آئین یا قانون کی ہوتی ہے۔ حکومت ہو یا عوام، دراصل اُن فرائض کی ادائیگی کے پابند ہیں جو آئین نے ان کے لئے طے کر دیئے ہیں۔ اس طرح وہ اُن حقوق کے بھی مستحق ہیں‘ آئین جن کی ضمانت دیتا ہے۔ اسے رول آف لاء (قانون کی حکمرانی ) کہتے ہیں۔ سماجی ارتقا کے باب میں یہ ایک غیر معمولی پیش رفت ہے جس نے انسان کو انسانوں کے ظلم سے نجات دلانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

آئین چونکہ اجتماعی شعور کی علامت ہے ، اس لئے ایک فرد فطری طور پر یہ احساس رکھتا ہے کہ وہ آئین سازی کے عمل کا حصہ ہے۔اس کا سبب یہ ہے کہ آئین وہ لوگ بناتے ہیں جنہیں عوام کا اعتماد حاصل ہوتا ہے ۔ اس سے عام شہری کویہ اطمینان ہوتا ہے کہ آئین اس کے حقوق کا ضامن بنے گا۔

تاریخ کا سبق یہ ہے کہ ایک انسان اُس قانون پر زیادہ رضامندی کے ساتھ عمل کرتا ہے جسے وہ دل کے ساتھ قبول کرتا ہو نہ کہ جبر سے۔ یہ ممکن ہے کہ وہ ریاست کے خوف سے قانون پر عمل کر رہا ہو اور دل سے اسے نہ مانتا ہو۔ اس صورت میں یہ امکان بڑھ جاتا ہے کہ کبھی ریاست کمزور ہو تو فرد خود کو آئین سے آزاد کر لے۔ اس کے بر خلاف اگر آئین اور قانون میں اس کی مرضی شامل ہے تو یہ امکان بڑھ جاتا ہے کہ وہ زیادہ آمادگی کے ساتھ اس پر عمل پیرا ہو۔ یہ بات طے ہے کہ فرد کے حقوق کا ضامن ایک آئین ہی ہو سکتا ہے۔ جس سماج میں رول آف لاء مستحکم ہوتا ہے وہاں ایک شہری زیادہ پُر سکون اور مطمئن زندگی گزارتا ہے۔ اسے اس بات کا خوف نہیں ہوتا کہ کوئی طاقت کے زور پر اس کے حقوق پامال کر سکتا ہے اور اس کے جان و مال یا عزت و آبرو کے لئے خطرہ بن سکتا ہے۔ اس لئے ایک مہذب معاشرے کی پہچان ہی یہی ہے کہ وہ بے آئین نہیں ہوتا۔

آئین اور مذہب

آئین اور مذہب کے باہمی تعلق کو ہم کئی زاویوں سے بیان کر سکتے ہیں۔

معاہدے کی پاس داری

آئین کی نوعیت ایک عمرانی معاہدے کی ہے جو ایک سماج کے مختلف طبقات کے درمیان طے پاتا ہے۔ معاہدے کی پاس داری مذہب کی بنیادی تعلیم کا حصہ ہے۔ جب کوئی فرد کسی ریاست کا شہری بنتا ہے یا کسی منصب پر فائز ہوتا ہے تو دراصل وہ اس بات کا حلف اٹھاتا ہے کہ ایک شہری کی حیثیت سے، یا متعلقہ ذمہ داری اور منصب کے حوالے سے، آئین اس کے لئے جن فرائض کا تعین کرتا ہے، وہ ان کو ادا کرے گا۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتا تو دراصل وہ معاہدے یا وعدے کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ وعدے کی خلاف ورزی دنیا کے ہر مذہب میں گناہ ہے۔ اگر ہم اسلام کی تعلیمات پر غور کریں تو وہ اس معاملے میں بالکل واضح اور دو ٹوک ہیں۔ قرآن مجید میں مسلمانوں کو حکم دیا گیا ’’ عہد کی پابندی کرو۔ بے شک عہد کے بارے میں تم کو جواب دہی کرنا ہو گی۔ ‘‘

(بنی اسرائیل۔ آیت:34 ) نبیﷺ نے ارشاد فرمایا

’’جس کا عہد نہیں، اس کا کوئی ایمان نہیں‘‘

اسی طرح تورات میں ہے

’’جب کوئی فرد خداوند کی منت مانے یا قسم کھا کر اپنے اوپر کوئی خاص فرض ٹھہرائے تو وہ اپنے عہد کو نہ توڑے بلکہ جو کچھ اس کے منہ سے نکلا ہے، اسے پورا کرے‘‘

(گنتی۔2:3)

فرائض کی ادائیگی

آئین ریاست سے یہ تقاضا کرتا ہے کہ وہ عوام کے ساتھ انصاف کرے اور عوام سے یہ مطالبہ کرتا ہے کہ وہ ریاست کے قوانین اور حکومت کی بات مانیں اور احکام کی اطاعت کریں۔ اسلام بھی ریاست اور عوام سے یہی کہتا ہے۔ مثال کے طور پر ریاست کی ذمہ داری کے بارے میں کہا گیا : ’’ اﷲ تعالیٰ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے حق داروں کو ادا کرو اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل کے ساتھ کرو۔ نہایت عمدہ بات ہے یہ، اﷲ تعالیٰ تمہیں جس کی نصیحت کرتا ہے۔ بے شک اﷲ سننے والا اور دیکھنے والا ہے۔‘‘

(النساء۔ آیت: 58 )

اسی سورۃ کی اگلی آیت میں عوام کو یہ کہا جا رہا ہے کہ وہ اﷲ اور رسول کے ساتھ ان لوگوں کی بھی اطاعت کریں ، جن کے ہاتھ میں اقتدار ہے۔ آئین بھی اسی طرح سے حکومت کے یہ فرائض بیان کرتا ہے کہ وہ میرٹ اور اہلیت کی بنیاد پر فیصلہ کرے۔ عدالتوں سے عدل کا مطالبہ کرتا ہے اور عوام سے یہ تقاضا کرتا ہے کہ وہ حکومت کے احکام کو تسلیم کریں۔ قرآن مجید بھی یہی بات کہہ رہا ہے۔ گویا مذہب بھی ہمیں ایک ایسی زندگی گزارنے کی تلقین کر رہا ہے جس میں حقوق و فرائض کا تعین ہو اور لوگ اس کے مطابق کام کریں۔ دیگر مذاہب بھی اپنے ماننے والوں کو یہی نصیحت کرتے ہیں۔ وہ اس تصور حیات کے قائل نہیں ہیں جس میں لاقانونیت ہو یا لوگوں کے مابین حقوق و فرائض کا تعین نہ ہو۔

اصول مشاورت

ہمارا آئین اقتدار کو ان لوگوں کا حق قرار دیتا ہے جنہیں عوام کا اعتماد حاصل ہو۔ اسے جمہوریت بھی کہتے ہیں۔ یعنی یہ حق عوام کا ہے کہ وہ جس فرد یا جماعت کو چاہیں اقتدار سونپ دیں۔ ہمارے آئین کی رو سے ملک میں آمریت کے لئے کوئی جگہ نہیں۔ اسلام بھی اسی حقیقت کو تسلیم کرتا ہے۔چنانچہ قرآن مجید میں کہا گیا :

’’ اور ان کا نظام باہمی مشورے پر مبنی ہے ‘‘

( الشوریٰ آیت:38 )

مشاورت کی صورتیں تمدنی ارتقا کے ساتھ تبدیل ہوتی رہتی ہیں۔ اس عہد میں انتخابات کو مشاورت کی ایک صورت کے طور پر تسلیم کر لیا گیا ہے۔ چنانچہ ہمارے علما اسے اسلامی مانتے ہوئے ،ہر شہری کی دینی ذمہ داری قرار دیتے ہیں کہ وہ انتخابات میں اپنا حق رائے دہی استعمال کرے اور دیانت داری کے ساتھ اس کے حق میں استعمال کرے جو صلاحیت اوراخلاق کے معاملے میں دوسروں سے بہتر ہو۔

مسیحیت، بدھ مت، ہندو مت یا دیگر ادیان اگرچہ سیاسی امور کو مذہبی تعلیمات میں شامل نہیں کرتے، تاہم وہ قانون کی حکمرانی، عدل اور ایک منظم زندگی کا درس ضرور دیتے ہیں۔ چنانچہ پوپ جان دوم نے واضح کیا کہ کلیسا جمہوریت کو اہمیت دیتا ہے کیونکہ یہ شہریوں کو یہ حق دیتی ہے کہ وہ اپنی مرضی سے درست قیادت کا انتخاب کریں۔ چرچ کسی ایک گروہ کے حق اقتدار کی تائید نہیں کر سکتا جو ریاست کی طاقت کسی خاص گروہ کے مفادات یا کسی خاص نظریے کی ترویج کے لئے استعمال کرے۔

پاکستان کا آئین اسلام کو ریاست کا مذہب قرار دیتا ہے۔ موجودہ آئین کی تشکیل میں اہل سیاست کے ساتھ اہل مذہب بھی شریک رہے۔ مذہبی جماعتیں اور علما جو پارلیمان کا حصہ تھے، انہوں نے اسے قبول کیا۔ اس لئے آج ہم کہہ سکتے ہیں کہ اس آئین پر پوری قوم کا اجماع ہے۔ ہمارے مذہبی رہنما بھی اس کی پاس داری اور اس پر عمل درآمد کو ضروری قرار دیتے ہیں۔ مذہبی اقلیتیں بھی اسی آئین کے تحت حقوق کا مطالبہ کرتی ہیں۔ آئین کی پابندی سب کے نزدیک ایک قومی فریضہ ہے۔ ہمارے مذہبی تصورات اس کی پوری طرح تائید کرتے ہیں۔ آئین اور مذہب کی تعلیم میں کوئی تضاد نہیں۔

آئین اور وحدت قوم

پاکستان مختلف اکائیوں کا وفاق ہے۔ اسی طرح یہاں ثقافتی تنوع بھی ہے۔ خیبر پختون خوا، گلگت بلتستان، بلوچستان ، سندھ، پنجاب، سب علاقے اپنی اپنی ثقافتی شناخت رکھتے ہیں۔ مثال کے طور پر پنجاب کا زیادہ علاقہ میدانی ہے۔ یہاں گندم سمیت بہت سی فصلیں وافر ہوتی ہیں۔ بلوچستان میں تیل اور گیس کے ذخائر ہیں۔ سندھ میں کوئلہ ہے۔ خیبر پختون خوا میں معدنیات ہیں۔ یہ ثقافتی اوروسائل کا تنوع، اس بات کا متقاضی ہے کہ پاکستان میں لوگ تمام وسائل سے مشترکہ طورپرفائدہ اٹھائیں اور ایسی حکمت عملی تشکیل پائے جس میں کسی کو کسی کمی یا امتیاز کا احساس نہ ہو۔

اسی طرح اس بات کی بھی ضرورت ہے کہ کوئی ایسا ضابطۂ اخلاق موجود ہو جس پر سب متفق ہوں اور جو سب کے حقوق و فرائض کا تعین کرتا ہو۔ اس بات کی بھی ضرورت ہے کہ کوئی ایسا فورم موجود ہو جہاں سب علاقوں اور شناختوں کے حامل مل بیٹھیں اور اپنے مسائل کو زیر بحث لائیں۔ ہمارے پاس آئین ہی ایسا عمرانی معاہدہ ہے جو سب اکائیوں کو مل جل کر رہنے کے لئے ایک ضابطۂ اخلاق فراہم کرتا ہے۔ اسی طرح پارلیمینٹ ایک ایسا ادارہ ہے جس میں سب علاقوں کے لوگ مل بیٹھتے اور اپنے مسائل پر گفتگو کرتے اور مشاورت سے ان کا حل تلاش کرتے ہیں۔ اس طرح آئین اس بات کا راستہ روک دیتا ہے کہ ایک یونٹ کے لوگ دوسرے کے حقوق پامال کریں یا کوئی اپنی اکثریت یا حیثیت کا ناجائز فائدہ اٹھائے۔ آئین مرکز، صوبوں اور دیگر ریاستی اداروں کے حقوق و فرائض کو پوری طرح واضح کر دیتا ہے۔ اگر یہ آئین ایوان زیریں میں آبادی کے اصول کا اطلاق کرتا ہے تو ایوان بالا میں سب اکائیوں کو مساوی حیثیت دی جاتی ہے۔ اس طرح کسی شکایت کا امکان اصولی طور پر ختم ہو جاتا ہے۔ تاہم چونکہ آئین ایک انسانی کاوش ہے جسے حتمی نہیں کہا جا سکتا، اس لئے، اس میں تبدیلی اور ترمیم کا راستہ کھلا چھوڑا گیا ہے اور یہ حق پارلیمان کو دیاگیا ہے کہ وہ اس میں مشورے کے ساتھ تبدیلی لا سکتا ہے۔ یوں شکایات کے ازالے کے امکانات کو بھی آئین میں شامل کر دیا گیا ہے۔

پاکستان کے آئین پر تمام اکائیوں کی نمائندہ شخصیات اور جماعتوں نے اپنے اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ سب نے اس سے اتفاق کیا ہے کہ اگر اس آئین کے مطابق عوام اور اکائیوں کے مسائل کو حل کیا جائے تو وہ اسے قبول کریں گے۔ اس لئے آج آئین ہی وحدتِ قوم کی ضمانت فراہم کرتا ہے۔ آئین کی پاس داری اور مضبوطی دراصل ریاست کی مضبوطی اور استحکام کا اظہار ہے۔

بدقسمتی سے پاکستان میں مختلف اوقات میں کئی طرح کی آمریتیں مسلط رہی ہیں جس سے وحدت قوم کو شدید نقصان پہنچا۔ قومی جماعتیں کمزور ہوئیں اور اس کے نتیجے میں علاقائی اور مسلکی جماعتوں اور گروہوں کو پنپنے کا موقع ملا۔ چھوٹے صوبوں کو شکایات پیدا ہوئیں اور وفاق کو نقصان پہنچا۔ آمریت کے دوران میں علیحدگی کے رجحانات کو تقویت ملی جو قومی وحدت کے لئے کسی طرح نیک شگون نہیں ہے۔

آمریت کا راستہ روکنے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ آئین کی پاس داری کی جائے۔ ریاست کے سب شعبے اور ادارے آئین میں متعین کی گئی حدود کا خیال رکھیں اور کوئی اپنی حد سے تجاوز نہ کرے۔ اختلاف کی صورت میں عدالت سے رجوع کیا جائے جس کا حق آئین سب کو دیتا ہے۔ آئین اور جمہوریت لازم و ملزوم ہیں۔ جمہوریت کے بغیر آئین کی پاسداری ممکن نہیں۔ پارلیمان کا وجود ہی آئین کی موجودگی کا اظہار ہے۔ آئین کی حکمرانی کے لئے ضروری ہے کہ جمہوریت کو مضبوط کیا جائے۔ اقتدار عوام کے منتخب نمائندوں کو سونپا جائے اور یہ حق عوام ہی کو دیا جائے کہ وہ کسی حکومت سے ناخوش ہیں تو اپنے ووٹ کی قوت سے اس کو تبدیل کر دیں۔ موجودہ دور میں عالمی سطح پر بھی جمہوریت ہی کا چلن ہے۔ اس لئے غیر جمہوری حکومتوں کے ساتھ دنیا معاملات کرتے ہوئے ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کرتی ہے۔ بطور ریاست اور بطور قوم ہمارے مفاد اور وحدت کا تقاضا ہے کہ پاکستان میں جمہوریت ہو۔ اس کے لئے جمہوری اداروں کا وجود ناگزیر ہے۔ آئین کی حکمرانی کا واحد راستہ یہی ہے۔

مضمون نگار معروف سکالر اور محقق ہیں اور ایک قومی اخبار میں کالم لکھتے ہیں۔

[email protected]

یہ تحریر 69مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP