ہمارے غازی وشہداء

  ٹولہ منگلی۔ بہادروں'غازیوں اورشہیدوں کی سرزمین 

ایسا محب وطن گائوں جس کے ساٹھ سے زائد فوجی جوان سبز ہلالی پرچم پر جان نچھاور کر چکے ہیں

 آج ہم ایک ایسے گائوں کا تذکرہ کرنے جا رہے ہیں جہاں افواج پاکستان کے ساٹھ سے زائدشہیدوں کی قبریں موجود ہیں۔ شہداء کی قبروں پر لگے کتبے اوران پر لہراتے سبز ہلالی پرچموں کو دیکھ کر شہداء کے ساتھ ساتھ ان کے ورثاء اوراہل علاقہ کے جذبہ حب الوطنی کو بھی سلیوٹ کرنے کوجی چاہتا ہے ۔ گائوں کے مکینوں نے قبرستان کا ایک حصہ شہدائے افواج پاکستان کے لئے مخصوص کر رکھا ہے ۔یہاں بعض گھروںکے دو دو اورتین تین جوان بھی شہید ہو چکے ہیں۔ صوبیدار(ریٹائرڈ) نور افضل کا شمار بھی ایسے ہی لوگوں میں ہوتا ہے ۔ نور افضل کے دو بیٹے لانس نائیک ظفر اقبال اورسپاہی محمد واجد وطن پر جان نچھاور کر چکے ہیں اور باقی تین بیٹے اب بھی فوج میں ملازمت کرتے ہیں۔صوبیدار صاحب کے دو بھانجے بھی شہید ہو چکے ہیں۔ بلاشبہ وطن عزیز  کے ان سپوتوں نے وفاداری ، وفاشعاری، فرض شناسی اور حب الوطنی کی وہ عمدہ مثال پیش کی ہے کہ انہیں محض چند الفاظ میں خراج تحسین پیش کرنا ناممکن ہے۔



قارئین! ٹولہ منگلی نام کا یہ گمنام خطہ میانوالی میں واقع ہے جسے ضلع بھرکی عوامی زبان میںشہیدوں یا فوجیوں کا گائوں کہا جاتا ہے اور یہ ایک ایسا اعزاز ہے جو شاید پاکستان کے کسی بھی شہر یا گائوں کے حصے میں نہیں آیا۔یہ گائوں میانوالی شہر سے شمال کی جانب تقریبا ً ساٹھ کلومیٹرکی مسافت پر ہے ۔دریائے سندھ پرقائم جناح بیراج کو کراس کرکے کوٹ چاندنہ کی طرف جائیں تو تقریبا ً نو کلومیٹر کی دوری پر یہ خوبصورت نگری واقع ہے جس کے ذرّے ذرّے سے وطن کی محبت کے نغمے پھوٹتے ہیں۔
ٹولہ منگلی کی کل آبادی تقریباً 25ہزار نفوس پر مشتمل ہے۔ گائوں کے 90فیصد مردمسلح افواج کے مختلف گروپوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ عام طور پر یہ لوگ انفنٹری، آرمرڈکور ،آرٹلری اور ایس ایس جی (کمانڈوز) کے شعبوں سے وابستہ ہیں۔یہاں کے لوگ خٹک قبائل ہیں اور پشتو بولتے ہیں۔ٹولہ منگلی کے ان باسیوں کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ بڑے صلح جو، امن پسند اور محب وطن ہیں۔ پولیس ریکارڈ کے مطابق یہاں کرائم کی شرح بہت کم ہے ۔ٹولہ منگلی کی زمین نہایت زرخیز ہے ۔ ٹیوب ویل لگے ہیں اورگندم ، مونگی اور باجرہ یہاں کی عام فصلیں ہیں،  تاہم پینے کے پانی اور صحت و تعلیم کے گھمبیر مسائل نے اس خطے کو بری طرح سے جکڑ رکھا ہے ۔ گائوں میں ایک سرکاری ہائی سکول بھی ہے جس کانام سانحہ آرمی پبلک سکول پشاور میں شہید ہونے والے ٹولہ منگلی کے رہائشی فوجی اہلکارسیف اللہ کے بیٹے حامدسیف شہید کے نام پر''گورنمنٹ حامد سیف شہید ہائی سکول''رکھا گیاہے ۔ ننھے طالب علم حامد سیف شہید کو حکومت پاکستان کی طرف سے تمغہ شجاعت سے بھی نوازاگیا ہے۔
 راقم نے جب اس مضمون پر کام کرناشروع کیا تو میانوالی کے صحافی اور کئی کتابوں کے مصنف سید صادق حسین شاہ ،گورنمنٹ حامد سیف شہید ہائی سکول کے ہیڈ ماسٹر ساجد الرحمن، میانوالی کے نہایت متحرک ٹی وی ر پورٹر زاختر مجاز اور زاہد عباس نے کافی معلومات فراہم کیںلیکن اس وقت ہماری حیرت کی انتہانہ رہی جب ہمارا رابطہ ٹولہ منگلی کے رہائشی لانس نائیک(ریٹائرڈ) سیف زلی سے ہوا۔ لیکن ان سے جب بات چیت ہوئی تو ہم پر منکشف ہوا کہ پورے گائوں کی معلومات انہیں ازبر ہیں ۔ سیف زلی علاقہ بھر میں ایک سماجی ورکر کے طور پرمنفرد شناخت رکھتے ہیں۔ انہیں یہ بھی معلوم ہے کہ اس وقت ایس ایس جی میں ٹولہ منگلی کے کتنے جوان ہیں اور کون کس یونٹ سے تعلق رکھتا ہے ۔ وہ شہدا ء ، ان کے ورثاء ، حاضر اور ریٹائرڈ فوجیوں کے متعلق توسیر حاصل معلومات رکھتے ہی ہیں تاہم دلچسپ امر یہ ہے کہ انہیںیہ بھی علم ہے کہ گائوں میں پانی کا لیول کیا ہے یاکتنے ٹیوب ویل نصب ہیں، ووٹرز کا عام طور پر رجحان کس طرف ہے ، کیڈٹ کالج میں بجلی کے کتنے ٹرانسفارمرز لگے ہیں ، وہاں پر کتنے سٹوڈنٹس زیر تعلیم ہیںاورٹولہ منگلی میں خٹک قبائل کی کتنی گوتیں اور شاخیں آباد ہیں۔
سیف زلی آرمی سپلائی کور میں 18سال تک خدمات انجام دیتے ر ہے اور 2004ء میں ملازمت سے سبکدوش ہونے کے بعد خود کو سماجی کاموں میںوقف کر رکھا ہے ۔ سیف زلی کے اپنے خاندان میں بھی ہر گھر میں سپاہی، لانس نائیک، حوالدار اور صوبیدار موجود ہیں۔ سیف زلی کا سب سے بڑا اعزاز یہ ہے کہ ان کے والد گرامی نائیک عزت خان شہید ٹولہ منگلی کے سب سے پہلے شہید ہیں۔  سیف زلی کے ایک بھائی سپاہی سردار خان بھی شہید ہوچکے ہیں ۔ سردار خان 35پنجاب رجمنٹ سے وابستہ تھے اور انہوں نے سیاچن میں جام شہادت نوش کیاتھا۔
   سیف زلی کے والد گرامی نائیک عزت خان شہیدکاتعلق فرنٹیر فورس کی یونٹ 5-FFسے تھا۔انہوںنے جنگ ستمبر65ء میں کھیم کرن کے محاذپر اپنے سیکشن کی کمانڈ کرتے ہوئے دشمن کے کچھ علاقہ پر قبضہ کرلیاتھا اور اسی موقع پر ٹینک کا شیل لگنے سے جام شہادت نوش کیا۔سیف زلی کے بقول کھیم کرن کے ایک مورچے پر قبضہ کرنے میں ان کے والد صاحب نے نہایت اہم کردار ادا کیاتھا۔ اس فتح کی یاد میں آج بھی ان کی یونٹ میں ایک نیلی ڈوری کو بطور پرچم لہرایاجاتا ہے اور فاتحین کھیم کرن کو سلام پیش کیاجاتا ہے ۔عزت خان شہید کا اسم گرامی فاتحین کھیم کرن میں سرفہرست آتا ہے۔
ٹولہ منگلی گائوں میں واقع'' عیسیٰ خیل کیڈٹ کالج ''کے پرنسپل عالم شیر نے بتایا کہ اس ادارے کی تعمیر2006ء میں شروع ہوئی اور 2017ء میں یہاں کلاسوں کا اجراء ہوا ۔ یہ عمارت تقریبا ً 22سوکنال رقبے پر مشتمل ہے ۔ یہ ساری زمین ٹولہ منگلی کے مکینوں نے ادارے کو عطیہ کی ہے ۔ اس حوالے سے معززین علاقہ کاکہنا ہے کہ جس دھرتی سے محبت ہو اسی سے کچھ شکوے بھی ہوا کرتے ہیں۔ ہمیں اپنے وطن کی سول ایڈمنسٹریشن سے شکوہ ہے کہ ٹولہ منگلی کیڈٹ کالج کی زمین ہم نے فراہم کی لہٰذا ہمارا اس ادارے پر پہلا حق تھا کہ اس کا نام ٹولہ منگلی کے کسی شہید فوجی جوان کے نام سے منسوب کیا جاتا ۔تحصیل عیسیٰ خیل کے نام پر کیڈٹ کالج کا منسوب کیاجانا قرین انصاف نہیں۔
قارئین ! یہ تھا شہیدوں کے گائوں ٹولہ منگلی کا ایک مختصرتعار ف ۔ذیل میں اس خطے کے 70کے قریب شہداء میں سے چندایک کامختصر ذکر پیش کیاجارہا ہے۔
لانس نائیک ظفراقبال :شہید کے والد کا نام صوبیدار نورافضل (ر)ہے ۔ شہید والی بال اور باسکٹ بال کے اچھے کھلاڑی تھے۔ظفر اقبال 1996ء میں فرنٹیر کور بلوچستان میں بھرتی ہوئے اوربھمبور رائفلز یونٹ کی طرف سے ڈیرہ بگٹی میں خدمات انجام دیتے رہے۔افغانستان اور ایران کی سرحد پر بھی تعینات رہے۔ آپ نے ساڑھے بار ہ سال سروس کی اورجنوری2006ء میں کوہلو میں جاری فوجی آپریشن کے دوران بم حملے میں شہید ہوئے۔بعدازاں شہید کے بھائی سپاہی واجد خان نے بھی جام شہادت نو ش کیا۔
سپاہی واجدخان شہید: آپ صوبیدار نور افضل(ر) کے ہاں پیدا ہوئے ۔ میٹرک کا امتحان کالاباغ ہائی سکول سے پاس کیا اور2009ء میں فرنٹیر کور خیبر پختونخوا میں بھرتی ہوئے اور مہمند ایجنسی میں مہمند رائفلز کا حصہ بنے۔واجد خان نے مہمند ایجنسی میں محمد گڑھ کے مقام پر ایک فوجی آپریشن میں دہشت گردوں کے خلاف لڑتے ہوئے شہادت پائی۔  
 سپاہی جمشید خان شہید :آپ کے والد کانام حسن خان اور قوم قلندو خیل ہے ۔ آپ خاران رائفلز بلوچستان FC)بلوچستان کی ایک کور ( کا حصہ تھے اور یکم اپریل 2000ء کو ڈیرہ بگٹی میں ایک فوجی آپریشن میں شہید ہوئے۔شہید کے ایک بھائی ایاز خان پاک فوج میں کلرک تھے ، بعد ازاں وہ بھی مؤرخہ 2جولائی 2002ء کو کوئٹہ میں ایک بم حملے میں جام شہادت نوش کر گئے۔
اے ایل ڈی شاہ پور خان:شاہ پور خان1935ء میںضافطہ خان کے ہاں پیدا ہوئے۔آپ کا تعلق6لانسرز سے تھا۔ آپ ایک جوان رعنا، نہایت پھرتیلے اور بہادر انسان تھے۔ آپ نے 20 ستمبر 1965ء کو کھیم کرن کے محاذ پراگلے مورچوں پر لڑتے ہوئے شہادت پائی ۔شہید کے تین بھائی بھی فوج میں ملازمت کرتے رہے۔
سپاہی خلیل الرحمن شہید :آپ کے والد کا نام گل رحمن ہے ۔آپ نے فروری2010ء میں پنجاب رجمنٹ کے مردان سنٹر میں ایک بم دھماکے میں جام شہادت نوش کیا۔ شہید کے والد گل رحمن سابق فوجی اور 65ء اور 71ء کی جنگوں میں حصہ لے چکے ہیں ۔شہید کے چار بھائی بھی پاک فوج کا حصہ ہیں ۔
 صوبیدارمیجر امیرافضل شہید:آپ امیرخان کے ہاں پیدا ہوئے اور مؤرخہ13جنوری2010ء کو جام شہادت نوش کیا ۔شہیدکے بیٹے صنوبرخان نے بتایاکہ والد صاحب جب وزیر ستان آپریشن میںشامل ہوئے تو ان کاجذبہ دیدنی تھا۔ وہ اپنے سچے جذبے اور لگن کی بنیاد پر ترقی کرتے گئے اور صوبیدارمیجر کے عہدے تک پہنچے۔والد صاحب کی شہادت سے صرف دو دن قبل پاک فوج کی طرف سے بیرون ملک جانے کے لئے سلیکشن ہو گئی تھی ،وہ اس سلسلے میں گھر چھٹی آرہے تھے کہ کوہاٹ ٹنل کے قریب ان کی گاڑی کوریموٹ کنٹرول بم دھماکے سے اڑا دیا گیا جس کے نتیجے میں وہ جام شہادت نوش کر گئے۔
  صوبیدار نورسعید خان شہید:آپ عبدالحنان کے ہاں پیدا ہوئے ۔ پاک فوج میں شامل ہونا ان کا دیرینہ خواب تھا۔شہید اپنے کام سے اس قدر لگن رکھتے تھے کہ صوبیدار کے عہدے تک ترقی پائی ۔آپ سوات میں دہشتگردوں کے خلاف ہونے والے فوجی آپریشن 'راہ راست' میں شہید ہوئے۔ شہیدکے بڑے بھائی بھی پاک فوج سے بطور صوبیدار ریٹائر ہوئے۔ 
   سپاہی آصف اقبال شہید: آپ ٹولہ منگلی میںگلاب دین کے ہاں پیدا ہوئے اور  آزاد کشمیر کے ایک سرحدی علاقے میں انڈین آرمی کے ساتھ فائرنگ کے تبادلہ میں جام شہادت نوش کیا۔شہید کی والدہ کہتی ہیں کہ وہ بارہ دن کی چھٹی پر گھر آئے لیکن پانچ دن بعد ہی واپس چلے گئے اور پھر کچھ دن بعد ان کی شہادت کی اطلاع ملی۔ بس اللہ کامال تھا اللہ نے لے لیا ۔ شہید کے دو بھائی بھی آرمی میں ہیں۔              
  سپاہی سردار خان شہید:آپ سیاچن میں شہید ہوئے ، شہید کا جسد خاکی تین ماہ کے بعد ملا اورانہیں آبائی گائوں میں سپرد خا ک کیا گیا۔والدہ کا کہنا تھا کہ میرا بیٹا پاکستان کے کام آگیا ۔ یہ بڑی عزت کی بات ہے لیکن میں اُس کی جدائی کا دُکھ ہر دم محسوس کرتی ہوں۔ یہ میرے رب کا فیصلہ ہے جسے میں نے قبول کیا ہے 
 سپاہی مہر دِ ل شہید :آپ ایک اچھے اورملنسار انسان تھے ،1971ء میں مشرقی پاکستان کے محاذ پر بہادری سے لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کیا اور جسد خاکی کا کچھ پتہ نہ چل سکا۔ شہید کی بیوہ کا کہنا تھا کہ ہمیں آج بھی شہید کے جسد خاکی کا انتظار ہے ۔ 
    سپاہی نصر اللہ شہید :آپ نے بنوں میں ایک دھماکے میں جام شہادت نوش کیا۔شہید کے والد بسم اللہ دین بھی فوج سے ریٹائر ہیں اور 65ء ،71ء کی جنگیں لڑ چکے ہیں ۔شہید کے دو بھائی آرمی اور ایک پاک فضائیہ میں ہے۔ ٹولہ منگلی گائوں کے جن دیگر شہداء کے اسمائے گرامی ہمیں معلوم ہو سکے درج ذیل ہیں۔
  (1)سپاہی اکرم شہید ولد امیر عثمان (2)سپاہی عزیز الرحمن شہید ولد گل رحمان (3)سپاہی سمیع اللہ شہیدولد رائیں خان (4)سپاہی اکبر خان شہیدولد محمد گل (5)سپاہی عبد الرحمن شہید ولد محمد گل (6) لانس نائیک امیر خان شہید ولد ولی خان (7)سپاہی گل صاحب دین شہید ولد بسم اللہ دین (8)سپاہی محمدظہور (9)سپاہی کلرک ایاز خان شہید ولد حسن خان (10)سپاہی اعظم خان شہید ولد غلامت خان ۔(11)سپاہی محمد یونس خان شہید (12)سپاہی حضرت خان شہید ولد عبد الرحمن (13)سپاہی عزیز الرحمن شہید ولد نیازگل (14)سپاہی نواز خان شہید ولد ریشم خان ۔(15)سپاہی ابراہیم خان شہید ولد خان گل (16) سپاہی نورزاد خان شہید (17) سپاہی تنویر احمدشہیدولد  صوبیدارنذیراحمد ۔ 


مضمون نگار ایک قومی اخبار کے لئے کالم لکھتے ہیں۔
[email protected]
 

یہ تحریر 59مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP