متفرقات

''کریئشن آف بنگلہ دیش، میتھس ایکسپلوڈڈ''

ڈاکٹر جنید احمد کی تصنیف میں سانحہ مشرقی پاکستان کے حوالے سے حقائق سے پردہ اٹھایاگیا.
 سانحۂ مشرقی پاکستان کے حوالے سے بہت سی کتابیں منظرِ عام پر آچکی ہیں۔ اکثر کتابوں اور مضامین میں مفروضوں کی بنیاد پر بات کی جاتی ہے۔ حقائق کو سامنے لانے کے حوالے سے بھی کاوشیں ہوئیں۔ اس پر متعدد کتابیں شائع ہوئیں۔ سرمیلا بھوس کی کتاب 'ڈیڈریکنگ' نے حقائق سے پردہ اُٹھایا۔ اسی طرح کی ایک کتاب حال ہی میں شائع ہوئی ہے جس کے مصنف ڈاکٹر جنیداحمد ہیں، کتاب کا نام :
"Creation of Bangladesh;Myths exploded"  ہے انہوں نے یہ کتاب1971 کی جنگ کے بارے میں گھڑی گئی کہانیوں کی حقیقت واضح کرنے کے لئے ایک سیر حاصل ریسرچ کرکے لکھی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کی اس کتاب کو غلط ثابت کرنے کے لئے بنگلہ دیش کی وزیرِ اعظم حسنیہ واجد نے ایک کمیشن بنایا لیکن ڈیڑھ ماہ بعد اس کمیشن نے رپورٹ دی کہ ہم اس کتاب کو غلط ثابت نہیں کرسکتے۔
اس کتاب میں وہ بتاتے ہیں کہ سقوطِ ڈھاکہ کے حوالے سے یہ بات کہی جاتی ہے کہ اس وقت پاکستان کی93 ہزار فوج نے ہتھیار ڈالے جو سر اسر غلط ہے۔ اس وقت بنگلہ دیش میں صرف تین ڈویژن فوج تھی جوکہ 45 ہزار سپاہیوں پر مشتمل تھی۔ ان میں سے بھی 11 ہزار سپورٹنگ عملہ تھا۔اگر آپریشن سرچ لائٹ کو ذکر کیا جائے تو یہ اسی قسم کا آپریشن تھا جیسے کراچی میں تین ہو چکے ہیں۔ سوات میں ہوا۔ شمالی اور جنوبی وزیرستان میں ہوا۔ اس آپریشن کا مقصد لاء اینڈ آرڈر اور گورنمنٹ کی رٹ کو قائم کرنا تھا۔
''آپریشن سرچ لائٹ''25 اور 26 مارچ کو شروع ہوا تھا جو 16 دسمبر 1971 کو ختم ہوا۔ یہ 262 دن بنتے ہیں، اگر ہم 30 لاکھ کو262 سے تقسیم کریں تو  480 افرادکا فگر آتا ہے، یعنی11480 افراد کو روزانہ ماراگیا۔ کیا پاکستان آرمی  کے پاس یہی کام رہ گیا تھا روزانہ11480 لوگوں کو پکڑ کر لائو، انہیں مارو اور گاڑھ دو اور اگلے دن پھر یہی کام کرو اور مسلسل262 دن یہی کام کرتے رہو۔ حقیقت یہ ہے کہ مشرقی پاکستان میں صرف 34 ہزار سپاہی موجود تھے جو15 سو میل پر پھیلے بارڈر پر15 ڈویژن بھارتی فوج سے لڑ بھی رہی تھی۔ اس کے علاوہ ایک لاکھ مکتی باہنی جو سول وارڈ کلیئر کرچکے تھے، جنہیں انڈیا کی مکمل حمایت حاصل تھی، رات کو عورتیں بھی فائرنگ کرتی تھیں۔ ایسے حالات میں پاکستانی فوج رات بھر بھارتی فوج اور مکتی باہنی سے لڑتی بھی رہی ہے اور دن میں 11480 بنگالیوں کو بھی مارتی ہے۔ یہ کس طرح ممکن ہے ۔ یہ بہت ہی آسان حساب ہے، جسے ایک عام آدمی بھی آسانی کے ساتھ کرسکتا ہے، لیکن دشمنوں نے یہ بھی نہیں کی۔
اسی طرح26 جنوری1972 کو شیخ مجیب الرحمن نے بھی ایک کمیشن بنایا تھا، جس میں 12 لوگ شامل تھے جنہیں یہ ٹاسک دیاگیا تھا کہ بتائو1971 میں پاکستانی فوج کے ہاتھوں کتنے بندے مرے اور کتنی عورتوں کی بے حرمتی ہوئی۔ 10 اگست تک انہیں مشرقی پاکستان یا بنگلہ دیش میں کوئی اجتماعی قبر نہیں ملی۔ جس پر انہیں بہت پریشانی تھی۔ انہوںنے اخبار میں اشتہار دیا کہ جو کوئی ہمیں آکر بتائے گا کہ وہ کسی ایسے بندے کو جانتا ہے جو اس دوران مرا ہے تو حکومت ہر مرنے والے کے لواحقین کو ایک ہزار ٹکا دے گی۔ اس کے بعد بھی جو ریکارڈ ان کے پاس اکٹھا ہوا وہ ہے38 ہزار کا تھا۔ بنگال حکومت نے ان سب کو ایک ایک ہزار ٹکا ادا کیا۔ جسے بعدازاں بڑھا کر 50 ہزار کردیاگیا تھا۔  اس کے بعد ایک اور اشتہار کے ذریعے  عوام کو پیشکش کی گئی کہ ہر اس شخص کو3 ہزار ٹکا دیا جائے گا جو کسی ایسی خاتون کے بارے میں معلومات دے گا جس کی بے حرمتی کی گئی ہو۔ پوری کمپین کے دوران مجموعی طور پر2380 شکایات موصول ہوئیں، جسے کمیشن نے بڑھا کر25 ہزار کردیا۔ یہ مجموعی وارداتیں تھیں جن میں مکتی باہنی ، جرائم پیشہ افراد اور بھارتی فوجیوں کی وارداتیں بھی شامل تھیں۔
یہ رپورٹ20 اگست1972 کو شیخ مجیب الرحمن کو پیش کی گئی تو وہ بہت ناراض ہوئے، اور کہا کہ میں نے کہا تھا کہ30 لاکھ اموات کو ثابت کریں۔ 30 لاکھ نہیں کرسکتے تھے تو 3 لاکھ  ہی کردیتے۔ یہ 50 ہزار کا فگر کہاں سے آگیا۔ دو لاکھ عورتوں کو تم ایک لاکھ ہی کردیتے۔ یہ 25 ہزار کا فگر ہی کیوں۔ اس رپورٹ پر شیخ مجیب الرحمن بہت ناراض ہوئے اور15 اگست1975 ، اپنے قتل تک اسے کبھی تسلیم نہیں کیا۔ 
اسی طرح کے بہت سے مفروضے ہیں جن کو اس کتاب میں مدلل نکات کے ساتھ واضح کیاگیا ہے۔ اس کتاب میں مصنف نے ہر ممکن کوشش کی ہے کہ قاری کو کہیں مایوسی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ قاری کو ہر اس سوال کا جواب دینے کی کوشش کی گئی ہے جو جنگ 1971 کے حوالے سے پوچھے جاتے ہیں یا سوچے جاتے ہیں اس کتاب کو پڑھنے کے بعد پڑھنے والے ایک گونہ اطمینان ضرور ہوگا کہ اس کتاب کو پڑھ کر وقت ضائع نہیں ہوا بلکہ بہت سی معلومات میں اضافہ ہوا ہے۔ ||



 

یہ تحریر 74مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP