متفرقات

اے جذبۂ دل تجھے کہاں لے کر جائوں گا

باہر بہت تیز بارش ہو رہی تھی۔ طوفان کا منظرتھا۔ اُس کے اندر بھی ایک طوفان برپا تھا۔ بارش تو اُس کے اندر بھی ہو رہی تھی۔ وہ کھڑکی کے پاس اکیلابیٹھا تھا۔ گہری سوچوں میں ڈوبا تھا مگر چہرہ کسی تلاطم کا آئینہ دار نہ تھا۔ شاید اس کی زندگی جذبوں کے تلاطم کے کسی سفر کا ہی ایک نام تھا مگر سینے میں طوفان چھپائے کسی سمندر کی طرح خاموش رہنے کا ہنر اُسے خوب آتا تھا۔
صرف دوماہ پہلے ہی کی ایک صبح کی بات ہے کہ جب اُس کے سینیئر مگر قریبی دوست نے فون کیا کہ یونیفارم میں اُس کایہ آخری ہفتہ ہوگا۔ ٹھیک ساتھ دنوں بعد ہفتے کے اُسی دن وہ فوج سے ریٹائر ہو چکا ہوگا۔ جواب میں اُس نے اپنے سینیئر  دوست سے کہا کہ سر ہم ریٹائر تو ہو جائیں گے مگر ہمارے جذبے کبھی ریٹائرنہ ہوں گے۔ بھلا وطن سے محبت کا جذبہ کبھی ماند پڑ سکتا ہے۔ اُس کا سینیئر اُس دن جواباً صرف اتنا کہہ سکا تھا: ''ہاں مگر اس خاکی وردی کی بات ہی الگ ہے۔ لگتا تھا کہ جذبوں کو کوئی نہ ختم ہونے والی طاقت مل گئی ہو ۔اس مقدس وردی کو پہننے کے بعد سے وطن سے محبت کا جذبہ جسم سے کہیں بڑا ہو جاتا ہے۔ نہ کسی سمندر کی گہرائی اور نہ کسی پہاڑ کی اونچائی۔ نہ زندگی کی کوئی رعنائی اور نہ موت کی کوئی تاریک کھائی۔ ان سب پر حاوی صرف پاک فوج کی وردی اور اُس میں رچا بسا وطن سے محبت کا انمنٹ جذبہ۔ پاک فوج زندہ باد''  اور آج اِس اکیلی شام وہ بیٹھا سوچ رہا تھا کہ کل اُس کا وردی میں آخری دن ہوگا۔ کل کے بعدوہ ریٹائر ہو جائے گا۔ اُس کا دل اور جسم وردی کی دوری کیسے سہہ پائیں گے۔ اس کی روح میں بسی وطن سے محبت کو وردی سے یہ دوری کسی نہ سہے جانے والے درد میں تبدیل تو نہ کر دے گی۔'' باہر کی بارش سے بے نیاز وہ اپنی یادوں میں ڈوبتا چلاگیا۔
اُسے کچھ یاد نہ آیا کہ وطن سے اس شدید محبت کی ابتداء کہاں سے ہوئی مگر اُسے یہ ضرور یاد تھا کہ پاکستان ملٹری اکیڈمی کے دنوں میں وطن اور پاک فوج سے محبت اور جوش کے سوا کوئی دوسرا خیال کم ہی آیا تھا۔ وہ سب اپنے وطن پر جان نچھاور کرنے کے لئے ہر لمحہ پُرجوش تھے۔ پھر اُسے اپنی بٹالین کے شب وروز یاد آئے۔فوج میں اکثریت جوان آفیسرز اور سپاہیوں کی ہوتی ہے۔ جوانی کی طاقت تو خود ایک منہ زور سچائی ہے مگر اس وردی کا رشتہ ان تمام جوان دلوں کو ایسی لڑی میں پروتا ہے کہ سب کی زندگیوں کا محور امن اور جنگ کے حالات میں وطن کی خدمت کے سِوا کچھ نہیں ہوتا۔ وہ لڑنے کی ٹریننگ لیتے تھے اور دل میں وطن کی خاطر مرنے کی بھی ٹھان رکھی تھی۔ جوانی کے اِن دنوں میں جب دوسرے جوان دل کتابوں میں پھول رکھتے ہوں گے، ریت پر محبوب کا نام لکھنا راحتِ جان ٹھہرا ہوگا۔ تو اُسے یا دآیا کہ ان دنوں کئی پتھروں پر اس نے غیرارادی طور پر شہید لکھنا ہی باعثِ تسکین و افتخار سمجھا تھا۔ بہت سی گہری تاریک سرد راتوں میں وہ دشمن کی پوزیشن کے نزدیک جب گشت کیا کرتا تھا تو دل و جسم کسی موسم کی شدت اور پہاڑ و دشت کی سختی کو ماننے سے انکاری تھے۔ اُن شبوں میں گر کوئی خیال اس کے دل و دماغ پر حاوی رہا تو وہ صرف وطن کی حفاظت ، شان اور آن تھا۔
زندگی کی تمام سچائیوں کی کھوج بھلا کون لگا سکاہے مگر پھر بھی کتابوں سے محبت نے اُس میں سچ کھوجنے کی ایک جستجو پیدا کردی تھی۔ وہ اکثر محبت کے لازوال جذبے کو سمجھنے کی جستجو میں رہا۔ بہت عرصہ یہ سعیِ لاحاصل ہی ٹھہری اور پھر زندگی کے گزرتے سالوں میں اُسے لگا کہ زندگی میں سچی محبت تو صرف اُسے اپنی بیٹیوں سے تھی۔ کوئی لالچ، خوف یا اَنا کا بت اُس کی اپنی بیٹیوں سے محبت کے راستے میں حائل نہ تھا اور پھر ایک دن اُس پر یہ بھی وارد ہوا کہ عشق تو اُسے صرف اپنے وطن سے تھا۔ پاک سرزمین کی حرمت سے تھا۔ وطن سے عشق اور اس کے لئے جان نچھاور کرنے کے جذبوں میں تو اُس کی عزیز از جان بیٹیوں کی محبت بھی ایک لمحہ کے لئے حائل نہ تھی۔ وطن سے عشق تو تمام محبتوں پر حاوی تھا۔اُس کی زندگی میں سب کچھ وطن ہی تھا۔ باقی سب جذبے صرف اُسی ایک نام اور حوالے سے جُڑے تھے۔ 
اچانک باہر کی بارش نے شدت پکڑی اور چند قطروں نے اُس کے چہرے کو چھُوا تو اُسے اپنی آنکھوں میں کچھ نمی محسوس ہوئی ۔ اُسے یاد آیا کہ اُس کی آنکھوں نے رونا سیکھا ہی نہ تھا۔ مگر یہ کیا تھا کہ وطن کے نام سے، وطن سے جڑے کسی خیال سے، کسی نغمے سے، پرچم کو سلامی دیتے ہوئے یا وطن کے کسی بیٹے یا بیٹی کے عظیم کام سے۔ ان خشک آنکھوں میں چند آنسو ہمیشہ بے ساختہ اُمڈ آتے۔ بہت کم ہی ہوا کہ یہ آنسو آنکھوں سے ڈھلک گئے ہوں مگر ہر دفعہ دل کی زمین پر برس ضرور گئے۔ وطن سے محبت میں آنسوئوں کا یوں بے ساختہ دَر آنا اُس کی فہم سے باہر تھا۔ مگر ہرآنسو اُس کا زمین سے عشق اور پختہ کرتا رہا۔
سوچوں کے سلسلے دراز ہوئے تو خیال آیا کہ آنے والے کل کو کبھی اگر وطن پر مشکل وقت آن پڑا۔ کہیں جنگ چھڑ گئی تو وہ کیا کرے گا۔ اس وردی نے اُسے یہ طاقت عطا کی تھی کہ ہمیشہ اس نے اپنے آپ کو اپنی سپاہ سمیت اگلے محاذِ جنگ پر ہی دیکھا تھا۔ لڑائی کے موقع پر محاذ کے سوا کسی اور جگہ پر ہونا اس کی سوچوں میں بھی ناقابلِ قبول تھا۔ کیا اُسے فوج دوبارہ سب سے اگلی صفوں میں لڑنے اور شہادت کے سفر پر جانے کی اجازت دے گی۔ اُس سوال کا جواب اس کے علم میں تھا۔ پھر اُسے بہت سے پرانے فوجی یاد آئے جن کی جنگ کی اصلی اور فرضی داستانیں ختم ہونے کو نہ آتی تھیں۔ شاید یہ داستانیں اور اُن کے لب و لہجے کی گرج ہی اُن کے سپاہیانہ جذبے کا کوئی اظہار تھا۔ اس خیال سے ہی اُس کے لبوں پر ایک مسکراہٹ پھیل گئی کہ شاید وہ بھی کسی خیالی کمپنی یا بٹالین کے ساتھ کسی محاذ پر لڑی گئی داستانوں کا بے تکان راوی بن جائے گا مگرپھر اگلے ہی لمحے کسی ادھوری محبت کے خیال میں اُس کی آنکھیں بھر آئیں۔وہ وطن کی خاطر ہر لڑے جانے والے معرکے کی شدید خواہش کو کیسے روکے گا۔ وہ اپنے جذبۂ دل کو کہاں لے کر جائے گا۔ یہ سوچتے سوچتے اس کے چہرے پر اُداسی کی تہیں مزید گہری ہوتی گئیں۔
سپاہیانہ زندگی کی یادوں کے ساتھ مگر سپاہیانہ زندگی سے دوری کےآنے والے دنوں کے قیافوں نے اُس کے چہرے پر سوچوں کی لکیروں کو مزید گہرا کردیا۔ کیا بہت سے پرانے فوجیوں کی طرح اس کے پاس بھی صرف گزرے وقت کی نہ ختم ہونے والی داستانیں ہی رہ جائیں گی۔ کیا اس کے زور دار مگر اکثر کھوکھلے قہقہوں پر دوسرے لوگ بس مسکر ادیا کریں گے۔ کیا  وہ وطن سے محبت کے اِن بے پناہ جذبوں کو وردی کے بغیر بھی کوئی اظہار دے سکے گا۔ وطن سے محبت میں پہنی گئی یہ وردی ہی تو اس کی اصل طاقت تھی۔ اِس وردی نے تو موت کا خوف بھی کبھی نزدیک نہ آنے دیا تھا۔ اُس نے ہمیشہ اپنے آپ کو ایک سپاہی کے طور پرہی دیکھا تھا۔ خدمت  سے شہادت تک کی کوئی بھی منزل ہی اُس کی تمام زندگی کا مقصود تھی۔
سوچوں کا سلسلہ دراز ہوتا گیا۔ وہ کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکا۔ باہر لگی بارش بھی تھم چکی تھی۔ اندرکے جذبوں کا سفر مگر جاری تھا۔ بے خیالی میں وہ اٹھا اور الماری میں ٹنگی اپنی وردی کے سامنے جا کھڑا ہوا۔ کسی بے نام جذبے سے اُس کا دایاں ہاتھ بلند ہوا۔ وہ اپنی ہی وردی کو سلیوٹ کررہا تھا۔ بہت دیر تک وہ یوں ہی کھڑا تھا۔ آج زندگی میں پہلی مرتبہ چند آنسو اُس کی آنکھوں سے ڈھلک ہی گئے اور اس کا چہرہ آنسوئوں سے تر ہوتا گیا۔ ||

یہ تحریر 472مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP