متفرقات

ای لائبریریز کا قیام ، ایک انقلابی منصوبہ

زمانہ ایک نئی کروٹ لے رہاہے ، ترجیحات بدل رہی ہیں، نت نئی سائنسی ایجادات سامنے آرہی ہیں اور تما م شعبوں میں انقلاب برپا ہے۔انفارمیشن ٹیکنالوجی اور جدید ذرائع ابلاغ کی بدولت ایک طرف تو یہ کہاجا رہا ہے کہ لوگوں میں کتابوں کے مطالعہ کا رجحان کم ہو گیا ہے لیکن دوسر ی جانب کتاب کی دنیا میںای پیپر ، پی ڈی ایف اور ڈیجیٹل بکس نے حیرت انگیز انقلاب لاکر طالب علموں اور عام باذوق حضرات کے لئے بہت سی آسانیاں بھی پیدا کر دی ہیں۔
ایسے باذوق افراد جوفزیکل فارمیٹ یعنی ''ہارڈ کاپی ''کی صورت میں کتاب پڑھنے کے عادی تھے اور انہیں ڈیجیٹل کتابوں سے کوئی دلچسپی نہ تھی لیکن بہت مرتبہ ایسا ہوا کہ جو کتابیں انتہائی نایاب تھیں اورانہیں ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتی تھیں وہ انٹرنیٹ کی دنیامیں گردش کرتی ہوئی ان کے اینڈرائیڈ فون ، آئی فون اورلیپ ٹاپ تک پہنچ گئیں اور ان کی خوشی کی کوئی انتہانہ رہی۔یہ ایک ایسا انقلاب ہے جس سے اگرکوئی استفاد ہ نہیں کرتا تواس کا اپنا ہی نقصا ن ہے ۔ اگرہم اس نقصان سے بچنا چاہتے ہیں تو ہمیںخود کو جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرنا ہوگا۔اس وقت بہت سی ایسی ویب سائٹس اور Appsہیں جن پر ڈیجیٹل کتابیں موجود ہیں اور بہت سی قدیم و جدید کتابوں کو ڈیجیٹائزکرنے کا عمل تیزی سے جاری ہے ۔ 


ایک سروے کے مطابق پسماندہ علاقوںمیں موجود ای لائبریروںمیں روزانہ کی بنیاد پر200 سے 250 تک طلبہ و طالبات اور باذو ق حضرات آتے ہیں ۔پنجاب کے 20اضلاع میں قائم ان ای لائبریریوں نے بہت کم وقت میں اچھے اثرات مرتب کئے ہیں اور شہریوں کوایک پازیٹو ایکٹیویٹی مہیاکی ہے۔


گزشتہ پنجاب حکومت نے ای لائبریری کے حوالے سے ایک انقلابی قدم اٹھایا اور کتاب کلچر کے فروغ کے لئے مختلف اضلاع میں ''ای لائبریریز''کا قیام عمل میں لایا گیا۔اس منصوبے کا بیڑہ پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ(PITB)نے پنجاب سپورٹس بورڈ کے تعاون سے اٹھایا اور راولپنڈی،اٹک،سرگودھا،میانوالی،بھکر،فیصل آباد،ٹوبہ ٹیک سنگھ، گوجرانوالہ ، گجرات،نارووال،شیخوپورہ ، اوکاڑہ،ساہیوال ، ملتان ،وہاڑی، ڈیر ہ غازی خان ، مظفر گڑھ ،بہاولپور اور رحیم یارخان میں ای لائبریریاں قائم کی گئیں جبکہ مرکزی ای لائبریری قذافی سٹیڈیم لاہور میں بنائی گئی ۔ منصوبے کو کامیابی کے ساتھ چلانے کے لئے انتہائی قابل لائبریرین اور آئی ٹی ایکسپرٹس کی خدمات حاصل کی گئی ہیں۔
یہ پنجاب حکومت کا کتاب اور کتب خانے کو جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرنے کا ایک شاندار منصوبہ تھا جو کامیابی سے جاری ہے اور موجودہ حکومت بھی اس میں دلچسپی لے رہی ہے۔20اضلا ع میں قائم ای لائبریریوں کا مقصد شہریوں کو مثبت انداز میں مصروف رکھنا اور ان میں پڑھنے ،لکھنے،سیکھنے، تحقیق کرنے اورآگے بڑھنے کی لگن پیدا کرنا ہے۔ ان لائبریریوں نے طلبہ و طالبات اور عام شہریوں میں ای ریڈنگ ، ای روزگاراور ای لرننگ کلچر کو فروغ دیا ہے۔یہ لائبریریاں لوگوں میں خیالات و نظریات کے تبادلے ، مثبت سرگرمیوں کے فروغ اور شدت پسندی کی روک تھام کے لئے بھی معاون ثابت ہو رہی ہیں۔ان سے استفاد ہ کرنے کے لئے کسی قسم کی کوئی فیس نہیں لی جاتی۔ای لائبریریوں کی عمارتیں بہت ہی خوبصورت انداز میں تعمیر کی گئی ہیں۔ میل اور فی میل کے لئے الگ الگ کمرے اورلیبزبنائی گئی ہیں۔
 اگر آپ صحافت، قانون، میڈیکل ، انجینئرنگ یا کسی بھی شعبے کے طالب علم ہیں تواب آپ کو ویب سائٹس پر ادھر ادھر سرچ کرکے اور وقت صرف کر کے مواد تلاش کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ اب ای لائبریریز نے آپ کی مشکل آسان کر دی ہے اورای لائبریری کا عملہ ہمہ وقت آپ کی رہنمائی کے لئے موجود ہے۔اگرآپ ایک باذوق علمی اور ادبی قاری ہیں تو آپ کو ا پنی پسندیدہ کتاب اور دیگر لٹریچر تک رسائی دینا ای لائبریری انچارج کے فرائض میں شامل ہے اور وہ آپ کومطلوبہ کتاب فوری طور پر مہیا کرسکتاہے ۔
محمد جاوید اقبال اعلیٰ تعلیم یافتہ ، آئی ٹی کے ماہر اور وژنری شخصیت ہیں اورایک '' ای لائبریری ''کے انچار ج ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ لاہور میں بنائی گئی مرکزی ڈیجیٹل لائبریری کے ذریعے تمام لائبریریوں کو آن لائن کتابوں ، رسائل و جرائد اور مقالہ جات تک رسائی دی گئی ہے۔ان لائبریریوں میںای میگزین، ای بکس، ای اخبارات،ای تھیسس ،آڈیووڈیو ڈکشنریز، قومی وعالمی رسائل و جرائد،ریفرنس کولیکشن،نوبل انعام یافتہ مجموعے، کمپیوٹنگ، انجینئرنگ، میڈیکل، انسانیت، زبانیں، ریاضی، شاعری، سائنس، فکشن،اردو ادب،آڈیو ویڈیو لیکچرز ،بچوں کا ادب ، برصغیر کے مشہور زمانہ اور قدیم پبلیشر منشی نول کشور کی کتابیں ، صوفی ازم،کلیات، تحقیق و تنقید،مزاح ، سفرنامے ، طنز، خود نوشت، خطوط اور دیگر بہت سے موضوعات پر موجود لٹریچر تک رسائی بے حد آسان بنادی گئی ہے۔ جدید ٹیکنالوجی سے لیس ان لائبریریوں میں ڈیجیٹل کتابوں کی کیٹلاگنگ کی گئی ہے اوراپنی مطلوبہ کتا ب حاصل کرنے کے لئے ای لائبریری کا انچار ج اور دیگر عملہ آپ کی مکمل رہنمائی کے لئے موجود ہے ۔
لائبریریوں میںجدید لیپ ٹاپ،ٹیبلٹس اور کمپیوٹرز رکھے گئے ہیں،ہر لائبریری میں 30لیپ ٹاپ اور30ٹیبلٹس فراہم کی گئی ہیں ۔ اس کے علاوہ اگر کوئی شخص اپنے لیپ ٹاپ پر لائبریری میں بیٹھ کر استفادہ کرنا چا ہے تو کر سکتا ہے ۔ لائبریری کے مستقل ممبرزکے علاوہ عام لوگ بھی اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ لائبریریوں میں پرنٹ کتابیں بھی رکھی گئی ہیں تاکہ جو لوگ پرنٹ کتابیں پڑھنا چاہیں انہیں بھی سہولت دی جاسکے۔یہاں آپ جس قدر چاہیں اپنی پسند کی کتابیں ، آڈیو ویڈیو لیکچرز وغیرہ ڈائون لوڈ کر سکتے ہیں۔ لائبریروں میں وائی فائی کی سہولت میسر ہے اور 10-MBڈائون لوڈنگ سپیڈ سے بہت تیزی کے ساتھ کتابیں ڈائون لوڈ کی جا سکتی ہیں۔
 ہائر ایجوکیشن کمیشن کی ایک ڈیجیٹل لائبریری ہے جوپہلے صرف سرکاری یونیورسٹیوں کے لئے قابل رسائی تھی لیکن اب ای لائبریریوں کوبھی اس تک رسائی دے دی گئی ہے ۔پنجاب گورنمنٹ کی ایک اور ڈیجیٹل لائبریری، پاکستان لاء سائٹ اور دیگربہت سے قومی اور عالمی ڈیجیٹل کتب خانوں سے ''ای لائبریریز'' کے ذریعے موادڈائون لوڈ کیاجاسکتا ہے۔ تمام عدالتوں اوراداروں کے حوالے سے جتنا بھی لٹریچر اور قوانین ہیں وہ ان لائبریریوں میں بیٹھ کرAccess کئے جا سکتے ہیں۔
ہمیں بتایا گیاکہ اگر کوئی گھر بیٹھے ای لائبریری سے رابطہ کرکے مواد طلب کرتا ہے تو اسے اس کامطلوبہ مواد مہیا کر دیاجاتا ہے۔اگر کسی کو زیادہ مواد درکار ہے تو وہ ہارڈ ڈسک ، یو ایس بی یا مواد محفوظ کرنے کے لئے کوئی بھی ڈیوائس لے آئے تو اسے مواد دے دیا جاتا ہے۔ ایم فل ،پی ایچ ڈی سطح کے تھیسس کے لئے طلبہ و طالبات کے ساتھ بھرپور تعاون کیاجاتا ہے ۔ ڈاکٹرز،وکلاء اور دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد ای لائبریریوں سے بھرپور استفادہ کر رہے ہیں۔
 ای لائبریریوں میںپچاس سے ساٹھ آرام دہ نشستوں پر مشتمل خوبصورت آڈیٹوریم ہالز بھی بنائے گئے ہیں ۔ان میں مختلف عنوانات پر سیمینارز، ورکشاپس،لیکچرز،سمپوزیم اور ٹریننگ کا انعقاد کیاجاتا ہے ۔ان ہالوں میں ضلع بھر کے تمام سرکاری و نجی ادارے اور دوسری علمی و ادبی تنظیمیں مفت اپنے پروگرامز کروا سکتی ہیں۔ہالوں میں وائی فائی، پروجیکٹرز، سپیکرز،ایئر کنڈیشنز، مائیکرو فونز اور کیمرہ کی سہولتیں موجود ہیں۔ہالوں اور ان میں مہیا کی گئی سہولتوں کے استعمال کے لئے کوئی فیس نہیں لی جاتی۔ یوں یہ لائبریریاں ایک طرح سے بہترین کمیونٹی سنٹر ز کا درجہ بھی رکھتی ہیں۔ان لائبریریوں کے اوقات کار صبح نوبجے سے شام چھ بجے تک ہیں ۔ بعض لائبریریاں رات تک کھلی رہتی ہیں۔ 
  ای لائبریریوں میں مقامی نوجوانوں کو ''ای روزگار پروگرام'' کے تحت بالکل مفت تربیت بھی دی جاتی ہے ۔ای روزگار کا مطلب ہے کہ انٹرنیٹ ، ویب سائٹس اور سوشل میڈیا کے ذریعے کیسے پیسے کمائے جا سکتے ہیں۔ ای روزگار سیکشن میں ویب ڈویلپمنٹ ، گرافکس ، ڈیزائننگ،سوشل میڈیا کے ذریعے روزگار کمانے کے متعلق ٹریننگ دی جاتی ہے اورآن لائن کونٹینٹ مینجمنٹ کے کورسز کروائے جاتے ہیں۔ ''ای لرن پروگرام'' کے تحت پنجاب حکومت نے نرسری سے ایف ایس سی تک سائنس کی تمام کتابیںڈیجیٹائز کروادی ہیں ۔ ڈیجیٹائز کروانے کا مطلب یہ نہیں کہ ان کتابوں کو صرف کمپیوٹرائزڈ کر دیا گیا ہے بلکہ ان کتابوں کے اسباق آڈیوز،وڈیوز اور مختلف ڈاکومینٹریزکی صورت میں ڈیجیٹائز کئے گئے ہیں۔طلبہ وطالبات لائبریری میں بیٹھ کر بھی استفادہ کر سکتے ہیں اورانہیں یہ ڈیٹا ہارڈڈسک اوریو ایس بی میں بھی مہیا کر دیا جاتا ہے ۔ ہمیں بتایا گیا کہ''ای لر ن پروگرام '' سے بہت سے طلبہ و طالبات کوٹیوشن سے نجات مل گئی ہے اور وہ گھر بیٹھ کر اپنے اسباق کی تیاری کر رہے ہیں۔
  مختلف سرکاری و نجی اداروں اور سماجی ، ادبی و سیاسی شخصیات کو ان لائبریروں میں آنے کی دعوت دی جاتی ہے ۔پنجاب کے پسماندہ ضلع بھکر میں قائم ای لائبریری میں گزشتہ دنوں ڈپٹی کمشنر بھکراور پاک آرمی کی ٹیم نے کیپٹن فیصل اور کیپٹن وزیرخان کی سربراہی میں دور ہ کیا۔ انہوںنے لائبریری میں موجود سہولتوں کو وقت کا اہم ترین تقاضا قرار دیتے ہوئے حکومت پنجاب کے وژن کوسراہا اور لائبریری میں موجود باذو ق حضرات کے علمی ، ادبی اور تحقیقی ذوق کی داد دی۔
میانوالی،بھکر ، ٹوبہ ٹیک سنگھ اور نارووال جیسے پسماندہ علاقوں میں ایسے جدید اداروں کاقیام کسی نعمت او رشجر سایہ دار سے کم نہیں ہے۔ ایک سروے کے مطابق پسماندہ علاقوںمیں موجود ای لائبریروںمیں روزانہ کی بنیاد پر200 سے 250 تک طلبہ و طالبات اور باذو ق حضرات آتے ہیں ۔پنجاب کے 20اضلاع میں قائم ان ای لائبریریوں نے بہت کم وقت میں اچھے اثرات مرتب کئے ہیں اور شہریوں کوایک پازیٹو ایکٹیویٹی مہیاکی ہے۔
تازہ ترین رجحا نات، تخلیقات اور تحقیقات تک فوری رسائی حاصل کرنا کسی بھی علمی ، ادبی اور تحقیقی فردکے لئے ضروری ہوتا ہے۔ ایسے افراد کی ضرورت کو پوراکرنے اور ان کے ذوق کی آبیاری کے لئے ای لائبریریاں ایک بہترین فورم ہیں ۔ پنجاب حکومت مستقبل قریب میں اس عظیم الشان منصوبے کا    دائرہ کار تمام اضلاع اورتحصیلوں تک بڑھانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ ان لائبریریوں میں خصوصی افراد(نابینا،بہرے اور جسمانی طور پر معذورافراد) کے لئے بھی سہولتیں مہیا کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ دیگر صوبہ جات بھی پنجاب کے اس انقلابی منصوبے کی تقلید کرتے ہوئے ڈیجیٹل لائبریروںکا قیام عمل میں لائیں اور شہریوں کو ایک مثبت اور تعمیری سرگرمی مہیا کریں۔
Reference:
www.elibrary.punjab.gov.pk
www.digitallibrary.punjab.gov.pk
www.sportsboard.punjab.gov.pk
                 
                        ٭٭٭٭٭
[email protected] 

یہ تحریر 844مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP