ہمارے غازی وشہداء

پاک مٹی کے عظیم بیٹے


تحریر: عبد الستار اعوان

1971 کی جنگ میں مشرقی پاکستان کے محاذ پر شہادت کا رتبہ پانے والے کیپٹن ایزد امتیاز علی شہید(ستارۂ ہ جرأت) کے بارے میں ایک تحریر

سانحہ مشرقی پاکستان ہماری تاریخ کا ایک المناک پہلو ہے، تاہم ہمیں اپنی افواج کے اُن لاتعداد شہداء، غازیوں اور ہیروز کی قربانیوں کو کبھی نہیں بھولنا چاہئے جنہوں نے اپنے لہو سے چراغ روشن کرکے مشرقی پاکستان میں پھیلے اندھیرے کو ختم کرنے کی جدوجہد میں اپنی جانیں نچھاور کردیں۔ جن قومی ہیروز نے اس موقع پرغیر معمولی جرأت، استقامت اوربہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی دھرتی کی حفاظت کا فرض اداکیا ان میں ایک نام کیپٹن ایزد امتیاز علی( شہید) کا بھی ہے۔


کیپٹن ایزد امتیاز علی شہید 1946ء میں شیخ امتیاز علی (مرحوم)کے ہاں بھیرہ ضلع سرگودھا میں پیدا ہوئے۔ملٹری کالج جہلم سے ایف ایس سی کرنے کے بعد آئی ایس ایس بی کے امتحان میں کامیاب ہوکر2فروری 1968ء کو فوج میں شمولیت اختیار کی اور پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں فوجی تربیت حاصل کی۔ پی ایم اے کاکول سے پیراٹروپر کا خصوصی کورس بھی کیا۔ پاسنگ آؤٹ کے بعد کیپٹن ایزدامتیاز علی کی تعیناتی انفینٹری کی ایک یونٹ 6پنجاب میں ہوئی۔ شہید کے ماموں اور معروف علمی و فکری شخصیت محمدسمیع اللہ (سابق وفاقی سیکرٹری) بتا رہے تھے کہ آپ بہت خوبصورت جوان تھے۔گورا رنگ، چھ فٹ سے نکلتا قد، نیلی آنکھیں،غرض آپ بہت خوش وضع اور وجیہہ شخصیت کے مالک تھے۔جب ہم ان کی پاسنگ آؤٹ پریڈ کے موقع پر پی ایم اے کاکول گئے تو دیکھا کہ ان کی اسی بارعب شخصیت کی بناپر انہیں سب سے آگے کھڑا کیا گیا تھا۔

 

مشرقی پاکستان میں جب انڈیا کی بھرپور مداخلت سے بغاوت کی آگ بھڑکنے لگی تووطن عزیز کے عوام کی طرح اس فوجی افسر کادل بھی آگ بگولہ ہو کر رہ گیا اور انہوں نے اس موقع پر غیر معمولی بہادر ی اور حب الوطنی کامظاہرہ کرتے ہوئے خود کو رضاکارانہ طورپر پیش کر دیا کہ وہ ہر صورت اپنے وطن کو مستحکم اور متحد دیکھنا چاہتے تھے۔ آپ کی یونٹ6پنجاب رجمنٹ نے چونکہ اس جنگ میں باقاعدہ حصہ نہیں لیا تھا لہٰذا آپ نے اپنا نام اس بٹالین میں لکھوا دیا جو مشرقی پاکستان جا رہی تھی، یوں انہیں ان کی رضا کارانہ پیشکش کے تحت اپریل1971ء میں مشرقی پاکستان کے دفاع کے لئے بھیج دیا گیا۔ کیپٹن ایزد امتیاز علی نے اس علاقے میں پہنچ کر خداداد صلاحیتوں اور فطری بہادری کو کام میں لاتے ہوئے اپنے وطن کو متحد رکھنے کے لئے ایک خوفناک جنگ کا سامنا کیا او راپنے لہو کے آخری قطرے تک دشمن سے برسرپیکاررہے۔


21اور22نومبر71ء کی درمیانی شب ان کی بٹالین کوجیسو ر سیکٹر کے دفاع کاٹاسک سونپا گیا۔ ان کی بہادر بٹالین نے 23نومبرکو یہ ٹاسک مکمل کیا اور دشمن کے کسی بھی حملے سے نمٹنے کے لئے مکمل طور پرتیار ہو گئی۔ اسی محاذپر2دسمبر کو دشمن نے بڑاحملہ کیا اور پلاٹون کمانڈر کیپٹن ایزد امتیاز علی نے اپنے ساتھیوں سمیت دشمن کی کثیر تعداد‘ جو ٹینکوں، توپوں اور بھاری اسلحہ سے لیس تھی، کا بڑی ہمت کے ساتھ مقابلہ کیا۔ اس سے اگلے روز دشمن نے اس پلاٹون کو سخت ترین فضائی حملوں سے نشانہ بنایا جس سے پلاٹون کی آر آرگن تباہ ہو گئی۔اسی معرکے کے دوران کیپٹن ایزد امتیاز علی لاپتا ہوگئے اور چند روز بعد ان کی شہادت کی مصدقہ خبرملی۔ آپ نے جیسو ر سیکٹر میں پلاٹون کمانڈر کی حیثیت سے اس سرزمین کی خاطر اپنی جان قربان کی۔


آپ تقریباً چھ ماہ تک مشرقی پاکستان محاذ پر فرائض انجام دیتے رہے۔ اس دوران دو تین دن کے لئے گھر چھٹی آئے اور انہوں نے اہلِ خانہ کو مشرقی پاکستان کے خوفناک حالات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ گو ہر طرف مایوسی کے اندھیرے ہیں لیکن میں انشاء اللہ اپنی دھرتی کے دفاع کی جنگ اپنے خون کے آخری قطرے تک لڑوں گا۔


ان کے ماموں اور بھائی بتاتے ہیں آپ کو شہادت کا اس قدر شوق تھا کہ اکثر وہ ذاتی ڈائری پر اپنے نام کے ساتھ ’’شہید‘‘اور ’’ستارہ جرأت‘‘جیسے الفاظ لکھا کرتے۔ شہید کے تین بھائی اور دو بہنیں ہیں۔اسجد امتیاز اور سعد امتیاز حیات ہیں جبکہ والد اور بڑے بھائی عابد امتیازجوپولیس میں ایس ایس پی تھے، وفات پا چکے ہیں۔کیپٹن ایزد امتیاز علی شہید کا گھرانہ اور ان کا خاندان اعلیٰ تعلیم یافتہ ہے۔ شہید کے ماموں ، بہن بھائی اور ان کا خاندان اس بات پر فخر محسوس کرتا ہے کہ ان کے فرزند نے سرزمین وطن کے دفاع کی خاطر اپنی خوبصورت جوانی ایک خوفناک جنگ کی نذرکرتے ہوئے اپنے عہد کے مطابق اپنی جان قربان کر دی۔پاک فوج کے اس بہادر افسر کی بے مثال جرأتِ رندانہ کو سراہتے ہوئے انہیں بعد از شہادت ستارہ جرأت سے نوازا گیا۔


مضمون نگار ایک قومی اخبار میں کالم نویس ہیں

[email protected]

یہ تحریر 592مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP