ہمارے غازی وشہداء

فرض اور مٹی کا قرض

 کیپٹن محمد الحسنین نواز شہید کے حوالے سیعبدالستار اعوان کی تحریر

ارضِ وطن کو ہر قسم کے اندرونی و بیرونی خطرات، اور دہشت گردی کے ناسور سے نجات دلانے کے لئے ہمارے محافظوں کا کردار بڑا جاندار اور بے مثال ہے ۔ برصغیر کے لاکھوں مسلمانوں نے بے پناہ قربانیاں دے کر الگ وطن حاصل کیا تھا اور آج اسی وطن کی بقاء کا معاملہ درپیش ہے جس کے لئے پاک وطن کے محافظ سربکف ہیں۔ گزشتہ سات دہائیوں سے ہماری سکیورٹی فورسز کے جوان دشمن کی راہ میں سد سکندری بنے ہوئے ہیںاور ان کے شجاعت بھرے تذکرے نگر نگر بکھرے پڑے ہیں ۔ دھرتی کے ایک ایک محافظ نے دشمن پر واضح کر دیاہے کہ جس قوم میں ایسے سپوت موجود ہوں اسے کوئی شکست نہیں دے سکتا۔کیپٹن محمد الحسنین نواز (شہید)ایک ایسے ہی جری فوجی افسر تھے جنہوں نے تقریباً ڈیڑھ ماہ پیشتر ملکی سرحدو ں کو محفوظ بناتے ہوئے اپنے تین وفادار ساتھیوں سمیت جانوں کا نذرانہ پیش کیا ۔

شہید کے والد ِمحترم محمد نواز گوہر ایم اے اردو، ایم اے ایجوکیشن، ایم اے فارسی ہیں اورگورنمنٹ ہائی سکول کوٹ نظام دین تحصیل شاہ کوٹ ضلع ننکانہ صاحب میں ہیڈ ماسٹر ہیں۔محمدنوازبڑے عاجز، حلیم الطبع ، ملنساراور محب وطن شخصیت ہیں۔عمر عزیز کی تقریباً ساٹھ بہاریں دیکھ چکے ہیں لیکن عزم و استقلال کے ایسے کوہ گراں کہ زبان بے اختیار ایسے عظیم باپ کو خراج تحسین پیش کرنے پر مجبور ہو جاتی ہے۔جواں بیٹے کی شہادت کے بعد ان سے بات ہوئی تو ہم نے گزارش کی کہ فی الحال آپ کو آرام کی ضرورت ہے، آپ سے بعد میں رابطہ کرلیں گے ۔ کہنے لگے ایسی کوئی بات نہیں ، جو معلومات آپ کو درکار ہیں ابھی فراہم کر دیتا ہوں۔ مجھے بے حد خوشی ہے کہ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں میرے لخت جگر کی بہادری اوربسالت کوسراہاجارہا ہے اور قوم کی طرف سے انہیں بھرپور خراج تحسین پیش کیا جا رہا ہے ۔ شہید کے بہادر والد کا یہ بیان تو ہم نے اخبارات میں پڑھا تھا کہ: ''اگرمیرے سو بیٹے بھی ہوتے تو وطن پر قربان کر دیتا ''۔ لیکن اس وقت ہمارے تعجب کی انتہا نہ رہی جب شہید کے والد نے ہم سے براہ راست بات کرتے ہوئے بڑے پرعزم انداز میں ایک بار پھر انہی جذبات کا اظہار کیا۔ محمد نواز گوہر کہنے لگے:''میں توایک بالکل عام سا انسان ہوں لیکن میرا بہادر بیٹا مجھے شہید اور غازی کا باپ بناکر میرا رتبہ بلند کر گیا۔جس وقت مجھے جوان بیٹے کی شہادت کی اطلاع ملی تو میں نے انتہائی صبر اور تحمل سے کام لیتے ہوئے اپنے اللہ کا شکراداکیا ۔ میرے شہیدبیٹے کا تابوت سامنے آیا تو میں نے نعرہ تکبیر بلند کر کے اسے چوم لیاتھا۔میں پور ی طرح سے باحوصلہ ہوں اور مجھے اس پر کوئی پچھتاوا نہیں کہ میں نے اپنے لخت جگر کو پاک فوج میں کیوں بھیجا تھا۔ ''

وطن پر جان نچھاور کر دینے والے ایک دلیر فوجی افسر کے دلیر والد کی باتیں سنتے ہوئے میں سوچوں میں گم تھا کہ بے شک ایسے باہمت والدین اور ان کے بہادر بیٹوں کے ہوتے ہوئے دشمن کے ناپاک قدم کبھی اس دھرتی کی جانب نہیں بڑھ سکیں گے اور ان غازیوں کی بدولت سبزہلالی پرچم ہمیشہ لہراتا رہے گا۔ محمد نواز گوہر اپنے بیٹے سے وابستہ یادیں تازہ کرتے ہوئے بتا رہے تھے کہ محمد الحسنین نوازکو اسلام اور وطن سے بے حد محبت تھی ۔ والدین کے انتہائی فرماںبردار تھے۔فٹ بال کے ایسے زبردست پلیئر کہ اکثر ٹورنامنٹ میںان کو شامل کرنا ضروری سمجھاجاتا ۔ فوجی کورس پر 22دن کے لئے انگلینڈ گئے اور واپس آئے تو مجھے اور اپنی امی کو وہاں گزرے ایک ایک لمحے کی روداد سناتے رہے ۔ایک موقع پر جب میں اسلام آباد میں ان کی یونٹ میں گیا تو جوانوں نے کہا کہ سر!آپ نے اپنے بیٹے کی تربیت میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی،آپ کا بیٹا نہایت شفیق اور پیار کرنے والا ہے، اپنے جونیئر ز سے نہایت اخلاق کے ساتھ پیش آتا ہے ۔شہاد ت سے صرف پندرہ دن قبل گردے کی تکلیف کے سبب سی ایم ایچ پشاور میں ایڈمٹ رہے اور علاج کے بعد واپس ڈیوٹی پر پہنچے ۔ شہید نے میجربننے کے لئے امتحان پاس کر لیا تھا اور 2018ء میں انہیں اس رینک پر ترقی ملنی تھی ۔محمد نواز گوہر بتارہے تھے کہ محمد الحسنین نواز کی دو سال قبل شادی ہوئی تھی ، ان کا ایک سال کا بیٹا محمد ذوہان الحسنین ہے جو بالکل اپنے بابا کی تصویر ہے اور ہماری امیدوں کا مرکز بھی ہے ۔ پندرہ اکتوبر صبح سات بجے ان کی شہادت ہوئی اور صرف دو دن پہلے جمعہ کی رات بارہ بجے میری ان سے آخری گفتگو ہوئی ۔ کہنے لگے بابا میں بالکل ٹھیک ہوں ، آپ فکر نہ کریں،میں اس وقت ڈیوٹی پر ہوں اور بعد میں بات کروں گا۔ اتوار کے دن صبح دس بجے میجر عتیق نے فون پر بیٹے کی شہادت کی اطلاع دی اور کہا آپ تجہیزو تکفین کی تیار ی کریں، بعد میں بہو کا فون آیا تو وہ رو رہی تھی کہ بابا ! محمد الحسنین اب اس دنیا میں نہیں رہے ۔

شہید کی والدہ بھی صبرو استقامت کا دامن تھامے ہوئے ہیں اورہر گھڑی اپنے رب کی رضا میں راضی ہیں ۔ ظاہر ہے ان کی ممتاایک جوان بیٹے کی شہادت پر گہرے صدمے سے دوچار ہے لیکن انہوں نے اپنے دکھ کو ضبط کرتے ہوئے اپنے بیٹے کے متعلق کچھ باتیں ضرور شیئر کیں اور مادرِ وطن کے لئے اس کی قربانی کو سراہا ۔شہید ِوطن کی شریک حیات ڈاکٹر صفیہ اکرم( پی ایچ ڈی میتھ) جو نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی( NUST)میں ایسوسی ایٹ پروفیسر ہیں، کہنے لگیں: میرے (شہید) شوہر ایک سلجھے ہوئے انسان تھے۔ نماز اور روزہ کے بہت پابندتھے، ہمیشہ والدین کی نصیحت پر عمل کرتے اور اہلِ خانہ کا خاص خیال رکھتے۔انہیں سگریٹ نوشی اور دیگر فضول مشاغل سے شدید نفرت تھی ۔ان کی فوجی زندگی یہ تھی کہ دفاع وطن کے لئے ہر دم تیار و بیدار رہتے ۔ کرم ایجنسی میں دہشت گردوں کے خلاف ہر ٹاسک میں صفِ اول میں رہے۔ مادر وطن سے بے پناہ محبت انہیں پاک فوج میں کھینچ لائی تھی ، وہ اپنی ڈیوٹی کے حوالے سے کسی کمپرومائز کے قائل نہ تھے ۔ شہادت سے کچھ دن پہلے انہیں گردوں کی تکلیف کی وجہ سے سی ایم ایچ پشاور سے دو ہفتے کی میڈیکل لیو دی گئی لیکن وہ چھٹی ختم ہونے سے قبل ہی کرم ایجنسی پہنچے کیونکہ فرض اور مٹی کا قرض انہیں پکا ر رہا تھا۔ والدین ، بیوہ ، بھائیوں اور عزیز و اقارب کو محمد الحسنین نواز کی یادبہت ستاتی ہے لیکن عزم و ہمت اور جرأت سے مالا مال یہ قابلِ رشک لوگ اللہ کاشکر بھی ادا کرتے ہیں کہ ان کا بیٹا،شوہر اور بھائی ایک اعلیٰ مقام پر فائز ہوا،اور اس نے اپنی جوانی وطن کی حفاظت کرتے ہوئے قربان کر دی۔ جہاں تک اس عظیم گھرانے کے دکھ اور کرب کی بات ہے، جو کہ ایک فطری شئے ہے، تو بلاشبہ اسے لفظوںمیں بیان کرنا ممکن نہیں۔

محمد نواز گوہر کو اللہ تعالیٰ نے تین بیٹے عطا کئے تھے۔سب سے بڑے کیپٹن محمد الحسنین نواز (شہید) تھے، دوسرے نمبر پر محمد ثقلین نواز (بی ایس کمپیوٹر) اورتیسرے محمد القوسین نواز ہیں جو 10thکلاس کے سٹوڈنٹ ہیں۔ محمد الحسنین نواز 12ستمبر1992ء کو پیدا ہوئے۔گورنمنٹ ایم سی ہائی سکول اورگورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج ننکانہ صاحب سے میٹرک او ر ایف ایس سی کے امتحانا ت اعلیٰ گریڈز میں پاس کئے۔نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (NUST) سے کمیونیکیشن انجینئرنگ کی ، ہر سمسٹر میں سکالر شپ اور گولڈ میڈل حاصل کیا۔دوران تعلیم پاک فوج میں کمیشنڈ آفیسر کے لئے اپلائی کیا اور ISSB میں کامیابی کے بعد پی ایم اے کاکول پہنچے ۔فوجی تعلیم و تربیت نہایت لگن سے حاصل کی اور پاسنگ آئوٹ پریڈ کے بعد سگنل کور کا حصہ بن کر 92سگنلز بٹالین اسلام آباد میں تعینات ہوئے ۔انہیںشہادت سے صرف دو ماہ قبل ایف سی کے ساتھ اٹیچ منٹ پر کرم ایجنسی میں پوسٹ کیا گیا تھا اور ان کی تعیناتی کاعرصہ چھ ماہ تھا ۔

 پندرہ اکتوبر2017ء کی صبح کیپٹن محمد الحسنین نواز کو حکم ملا کہ کرم ایجنسی میں پاک افغان سرحد کے قریب سرچ آپریشن کر کے ان دہشت گرد اغواکاروں کو تلاش کیا جائے جن کے قبضے سے ایک روزقبل کینیڈین خاندان کو بازیاب کروایاگیاتھا۔ (یاد رہے کہ انہی جوانوںنے کینیڈین شہری جوشوابوئل ، ان کی امریکی اہلیہ اور ان کے تین بچوں کو قبائلی علاقے کرم ایجنسی میں ایک آپریشن کر کے بازیاب کروایاتھا ،اس خاندان کو افغانستان میں 2012ء میں اغواکیا گیا تھا)۔کیپٹن شہید نے اپنے سی او کے حکم پر ساتھیوں کے ہمراہ آگے بڑھ کر دشمن کے گرد گھیرا تنگ کرنا شروع کیا ۔صبح سات بجے ا ن کی گاڑی خرلاچی چیک پوسٹ پر پہنچی تو پہلے سے نصب شدہ ایک بارودی سرنگ( آئی ای ڈی) کی زد میں آگئی جس کے نتیجے میں کیپٹن محمد الحسنین نواز نے تین جوانوںسپاہی جمعہ گل، سپاہی سعید بازاور سپاہی قادر خان کے ہمراہ جام شہادت نوش کیا جبکہ نائیک محمد انور ،لانس نائیک شیر افضل اور سپاہی ظاہر شدید زخمی ہوئے۔ کیپٹن محمد الحسنین نواز شہیداور ان کے جانثاروں کی پہلی نماز جنازہ ایف سی گرائونڈ میں ادا کی گئی جس میں کور کمانڈر پشاورلفٹیننٹ جنرل نذیر احمد بٹ، جی او سی میجر جنرل اظہر عباسی ، بریگیڈئیر علیم اختر اور پولیٹیکل ایجنٹ بصیر خان اور شہریوں نے شرکت کی ۔ جس وقت شہید کا جسد خاکی بذریعہ ایئر لاہور اور بعد میں ننکانہ صاحب پہنچا تو عوام کاایک جم غفیر تھا جو شہید پر گل پاشی کر تے ہوئے نعرے لگا رہا تھا ۔اس موقع پر اہلیان ننکانہ کی آنکھیں نم تھیںاور وہ اپنے قابل فخر سپوت اور نڈر بیٹے کو والہانہ طور پر خراج تحسین پیش کر رہے تھے ۔ننکانہ صاحب میں ان کی نماز جنازہ میںسیاسی ، مذہبی ،سماجی شخصیات کے علاوہ ہزاروں افراد شریک ہوئے ۔ لاہور سے آنے والے چست و توانا فوجی جوانوںکی سلامی میں انہیں قبرستان دھولر والا ننکانہ صاحب میں سپرد خاک کیا گیا ۔ وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف ، صدیق الفاروق اور کور کمانڈر لاہور لیفٹیننٹ جنرل عامر ریاض شہید کے گھرپہنچے 'اہل خانہ سے تعزیت کی اور ان کی قربانی کو سراہا۔ شہید کے پسماندگا ن میں والدین، دو چھوٹے بھائی ، بیوی اور ایک کمسن بیٹا شامل ہیں۔دعا ہے اللہ تعالیٰ اس عظیم گھرانے کی جھولی صبرو رضا سے بھر دے اور ان کی زندگی میں آسانیاں پیدا فرمائے۔(آمین)                               

[email protected]

یہ تحریر 663مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP