گوشہ عساکر

ضلع نگر(گلگت بلتستان) کا جنت نظیر مقام چھپروٹ

حال ہی میں گلگت جانے کا موقع ملا اور اہل وعیال سے ملنے کیلیے وادیٔ چھپروٹ بھی گئے اور کچھ عرصہ وہیں قیام  پذیر رہے۔ وادیٔ چھپروٹ کے بارے میں جو معلومات میں نے حاصل کیں وہ آپ کے لیے پیش خدمت ہیں۔
چھپروٹ گائوں، ضلع نگر کا وسیع رقبے پر پھیلا ہوا ایک قدیم گائوں ہے جو کہ تاریخی اور ثقافتی اعتبار سے نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ گلگت شہر سے تقریباً64 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع یہ گائوں مشہور شاہراہ قراقرم سے صرف 9 کلومیٹرکی دُوری پر واقع ہی جو کہ خوبصورتی میں اپنی مثال آپ ہے۔



یہ خطہ چودھویں صدی میں قائم ہوا۔ یہ خود مختار ریاست تھی جب تک کہ انگریزوں نے ہنزہ نگر مہم(1839-1893)کے بعد ریاست کا کنٹرول حاصل کیا۔ حالانکہ یہ جموں و کشمیر کے مہاراجائوںکی جاگیر تھی۔ اس خطہ کے حکمرانوں کو جموں کشمیر کے مہاراجہ کے سب سے زیادہ وفاداروں میں شمار کیاجاتا تھا۔ اس پُرسکون وادی کو مقامی لوگوںنے ''وادیٔ تحفظ'' کا نام دیاتھا کیونکہ ایک زمانے میں یہ جگہ اقتدار کے تخت کے طور پر کام کرتی تھی جہاں سے نگر کی شاہی ریاست کے معاملات چلائے جاتے تھے۔ جغرافیائی لحاظ سے یہ ایک انتہائی دشوار گزار علاقہ مانا جاتا جو کہ حملہ آور قوتوں کے خلاف ایک خاص حد تک تحفظ فراہم کرتا تھا۔ نومبر1947 میں اس خطے نے پاکستان کے ساتھ الحاق کیا جو کہ اس کے خارجی اُمور اور دفاع کا ذمہ دار بن گیا جبکہ اندرونی خود مختاری اورسیاسی معیشت میں اپنا مقام برقرار رکھا۔ 1968 میں وادی کے پہلے تعلیم یافتہ سیاست دان سید یحییٰ شاہ نے میر آف نگر سے شہری حقوق کا مطالبہ کیا۔ جب پاکستان میں ایوب خان کی حکومت کا خاتمہ ہوا اور پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو وزیرِاعظم منتخب ہوئے تو حکومت نے میر آف نگر کو تخت سے دستبردار ہونے پر مجبور کردیا اور سرزمین چھپروٹ نے نگر کے بادشاہ کے خلاف بغاوت کرنے والے انقلابیوں کو پناہ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس کے بعد یہ علاقہ شمالی علاقہ جات کے ساتھ ملا دیاگیا۔ آج چھپروٹ کے باشندوں کا شاندار ماضی لوک داستانوں کا حصہ بن چکا ہے۔
پہاڑوں اور گلیشیئرز میں گھرا ہوا چھپروٹ گائوں 500گھروں پرمشتمل ہے۔ یہاں کی دھرتی دل آویز مناظر پیش کرتی ہے۔ یہاں کے جنگلات اور چراگاہیں نگر کا قیمتی اثاثہ ہیں۔ مختلف اقسام کی بیش بہا قیمتی جڑی بوٹیاں یہاں کے جنگلات میں پائی جاتی ہیں۔ مقامی زبان''شینا'' ہے جبکہ اُردو اور انگریزی بھی بولی اور سمجھی جاتی ہے۔ ہر گھر سے نظر آنے والا  ''راکا پوشی''(سب سے اونچا پہاڑ7788 میٹر) کا منظر ، خوشگوار موسم ، چاروں طرف ہرے بھرے پہاڑ اور ٹھنڈی راتیں اس گائوں کی خوبصورتی کو چار چاندلگا دیتے ہیں۔ مقامی لوگ نہایت محنتی، ملنسار، مہمان نواز اور ایماندار ہیں۔ لوگوں کا ذریعہ معاش آلو، چیری، خوبانیاں اور سیب کی زراعت ہے،اس کے علاوہ قیمتی جڑی بوٹیوں کی تجارت سے وابستہ ہیں ۔ اخروٹ، چیری، بادام ، سیب خوبانی، ناشپاتی اور توت کا شمار پھلدار اشجار میں ہوتا ہے۔ نقش و نگار پر مشتمل لکڑی کے بنے ہوئے قدیم گھر، جن میں رکھا ہوا مخصوص انداز کا چولہاجسے مقامی لوگ''بخاری'' کہتے ہیں، اس سے لکڑی کے گھر کا درجۂ حرارت گرم رہتا ہے۔
اس گائوں کی سب سے اچھی بات یہ ہے کہ یہاں پر تعلیم کی اہمیت پر بہت زیادہ زور دیا جاتا ہے۔ہر گھر سے بچے اوربچیاں تعلیم کے حصول کے لیے اچھے سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں مصروفِ عمل ہیں۔ اب تک اس گائوں کے کئی گھرانوں سے اچھے تعلیم یافتہ سرکاری افسران، اسسٹنٹ کمشنر، ڈپٹی کمشنر، فوجی افسران، ایڈووکیٹ اور سکول ٹیچرز اپنے اپنے عہدوں پر اپنی ذمہ داریاں نہایت پیشہ ورانہ طریقے سے انجام دے رہے ہیں۔
 یہ گائوںشاہراہِ قراقرم  سے صرف9 کلومیٹر کی دوری پر ہے اسے تعمیرو ترقی کے اعتبار سے توجہ درکار ہے۔ شاہراہِ قراقرم سے چھپروٹ جانے کے لیے صرف3 کلومیٹر لمبی سڑک ہے جو چھپروٹ گائوں تک ہے مگر اس سے آگے کا راستہ پتھریلا اور ناہموار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آئے دن حادثات وہاں کا معمول ہیں۔
قدرت نے چھپروٹ کو جہاں فطری حُسن ودلکشی عطا کی ہے وہیں اس کے ایک خوبصورت جنگل''گپہ'' کو بھی اپنی مثال آپ بنایاہے۔ قدیم مویشی خانوں، گھنے درخت اور جگہ جگہ  بہتے چشموں کا صاف پانی اس جنگل کی خوبصورتی میں مزید اضافہ کردیتے ہیں۔
حکومت اور مقامی ذمہ داران مل کر سرزمین پر واقع اس خوبصورت خطہ پر اگر سیاحتی اقدامات کریں تو یہ جگہ سیاحوں کی من پسند منزل بن سکتی ہے اور مقامی لوگوں کے ذریعے آمدنی کے بھی بہت مواقع پیدا ہوسکتے ہیں۔ بجلی اور پانی میسر ہونے کے باوجودبھی یہ خوبصورت وادی سیاحوں کی نظروں سے اوجھل ہے۔ اس جنت نظیر وادی میں صرف کمی ہے تو چند میل کی ایک پکی سڑک اور چند سیاحتی اقدامات کی۔اﷲ اس خطے کو شاد و آباد رکھے۔ ہرا بھرا رکھے (آمین)

یہ تحریر 230مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP