ہمارے غازی وشہداء

شہید کی جو موت ہے وہ قوم کی حیات ہے۔

(کیپٹن کرنل شیر خان کی شہادت کے بارے میں پیر فاروق بہا ئوالحق شاہ کی تحریر)
پاکستانی عوام  اپنے لئے اپنی جانوں کی قربانی پیش کرنے والے ہر شہید کی روح کو ہر وقت سلام عقیدت پیش کرتے ہیں۔شہداء ہمارے سلاموں کے محتاج نہیں۔وہ اپنے کریم رب کی بارگاہ میں اس کی نعمتوں سے لطف اندوز ہو رہے ہیں لیکن ساتھ ساتھ وہ ہم پر بھی نگاہیں مرکوز کیے ہوئے ہیں۔بے شک شہید زندہ ہیں۔ان کو موت آ ہی نہیں سکتی۔یہ قرآن کا اٹل فیصلہ ہے۔
ترجمہ:اور جو خدا کی راہ میں مارے جائیں انہیں مردہ نہ کہو بلکہ وہ زندہ ہیں ہاں تمہیں خبر نہیں۔
شہداء کے فضائل
اس آیت سے قبل صبر کے متعلق آیات ہیں صبر کے ذکر کے بعد یہ آیت ِکریمہ شہداء کے حق میں نازل ہوئی۔ بعض لوگ شہداء کی شہادت پر افسوس کرتے ہوئے کہتے تھے کہ وہ لوگ شہید ہو کر نعمتوں سے محروم ہو گئے۔ تب یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی۔ جس میں فرمایا گیا کہ انہوں نے فانی زندگی اللہ تعالیٰ کی راہ میں قربان کر کے دائمی زندگی حاصل کرلی ہے۔
آیت میں شہداء کو مردہ کہنے سے منع کیا گیا ہے، نہ زبان سے انہیں مردہ کہنے کی اجازت ہے اور نہ دل میں انہیں مردہ سمجھنے کی اجازت ہے،جیسا کہ ایک اور مقام پر فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
ترجمہ: اور جو اللہ کی راہ میں شہید کئے گئے ہر گز انہیں مردہ خیال نہ کرنا بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں، انہیں رزق دیا جاتا ہے۔ (آل عمران:961)
 موت کے بعد اللہ تعالیٰ شہداء کو زندگی عطا فرماتا ہے، ان کی ارواح پر رزق پیش کیا جاتا ہے،انہیں راحتیں دی جاتی ہیں، ان کے عمل جاری رہتے ہیں، ان کا اجرو ثواب بڑھتا رہتا ہے، حدیث شریف میں ہے کہ شہداء کی روحیں سبز پرندوں کے بدن میں جنت کی سیر کرتی اور وہاں کے میوے اور نعمتیں کھاتی ہیں۔
  حضرت انس بن مالک رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے،نبی کریم َۖ نے ارشاد فرمایا: ''اہل جنت میں سے ایک شخص کو لایا جائے گا تو اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا:اے ابن آدم! تو نے اپنی منزل و مقام کو کیسا پایا۔ وہ عرض کرے گا:اے میرے کریم رب!، بہت اچھی منزل ہے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا:''تو مانگ اور کوئی تمنا کر۔ وہ عرض کرے گا: میں تجھ سے اتنا سوال کرتا ہوں کہ تو مجھے دنیا کی طرف لوٹا دے اور میں دس مرتبہ تیری راہ میں شہید کیا جاؤں۔ (وہ یہ سوال اس لئے کرے گا) کہ اس نے شہادت کی فضیلت ملاحظہ کر لی ہو گی۔
شہید کی تعریف اور ا س کے احکام:  
شہید وہ مسلمان،مُکَلَّف،طاہر ہے جو تیز ہتھیار سے ظلماً مارا گیا ہو اور اس کے قتل سے مال بھی واجب نہ ہوا ہو یا معرکہ جنگ میں مردہ یا زخمی پایا گیا اور اس نے کچھ آسائش نہ پائی۔ اس پر دنیا میں یہ احکام ہیں کہ نہ اس کو غسل دیا جائے نہ کفن، اسے اس کے کپڑوں میں ہی رکھا جائے، اسی طرح اس پر نماز پڑھی جائے اور اسی حالت میں دفن کیا جائے
''لیکن تمہیں اس کا شعور نہیں۔'' یعنی یہ بات تو قطعی ہے کہ شہداء زندہ ہیں لیکن ان کی حیات کیسی ہے اس کا ہمیں شعور نہیں اسی لئے ان پر شرعی احکام عام میت کی طرح ہی جاری ہوتے ہیں جیسے قبر، دفن، تقسیمِ میراث، اور دیگر احکامات جاری ہوتے ہیں۔
شہادت کے مرتبہ پر فائز ہونے والے عظیم خوش نصیبوں میں کیپٹن کرنل شیر خان کا نام بھی نمایاں ہے۔کیپٹن کرنل شیر خان کے والدین کی  فوج سے محبت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ جب شیر خان پیدا ہوئے تو ان کے نام کے ساتھ کرنل  لازمی جز بنا دیا گیا۔یہ وہ شخصیت تھے جو پیدا ہوتے ہی شہادت کی آرزو اپنے من میں لے کر جوان ہوئے۔ان کے خوش نصیب دادا  جنہوں نے 1948 کی جنگ میں داد شجاعت دی تھی ان کی یہ خواہش تھی کہ ان کا پوتا  فوج میں جائے اور اپنے خون سے وطنِ عزیز کی حفاظت کرے۔وطن عزیز پاکستان کے چپے چپے پر ایسی داستانیں بکھری  پڑی ہیں جنہوں نے کرنل شیر خان کی طرح اپنی جوانی وطن عزیز پر قربان کر دی۔پاک فوج کے افسران پیچھے بیٹھ کر ہدایات دینے کے بجائے اپنے دستے کو فرنٹ سے لیڈ کرتے ہیںاور جوان ایسے جوان ہیں کہ پاکستانی فوج میں ایسا ایک واقعہ بھی وقوع پذیر نہیں ہوا کہ جس میں سپاہیوں نے الٹے قدم بھاگنے میں ہی عافیت جانی ہو۔ہم جس شہید کی بھی داستان حیات پڑھتے ہیں اس میں یہی پڑھنے کو ملتا ہے کہ انہوں نے بصد شوق میدان جنگ میں جانے کو ترجیح دی۔کارگل جنگ سے پہلے معرکہ سیاچن میں بھی ایسی داستان موجود ہیں۔ہمارے افسران اور سپاہی خود اپنی خوشی سے دنیا کے بلند ترین محاذ جنگ پر جانے کو پسند کرتے ہیں۔کیپٹن کرنل شیر خان بھی انہی شیر دل جوانوں میں سے ایک تھے جنہوں نے بذات خود میدان جنگ میں جانے کے لیے اپنے آپ کو پیش کیا۔
کیپٹن کرنل شیر خان شہید پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخواکے ضلع صوابی کے ایک گاؤں نواں کلی میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے 1999 میں بھارت کے خلاف کارگل کے معرکے میں اپنی جان کا نذرانہ پیش کر کے پاک فوج کا اعلی ترین فوجی اعزاز نشانِ حیدر حاصل کیا۔
ابتدائی حالات
شیرخان یکم جون 1970ء کو ضلع صوابی کے نواحی قصبے نواں کلی میں پیدا ہوئے۔میٹرک کا امتحان گورنمنٹ ہائی سکول نواں کلی سے پاس کیا۔1994ء میں بری فوج کی27 سندھ رجمنٹ کا حصہ بنے۔1997میں کارگل کے لئے خود کو پیش کیا۔کیپٹن شیر خان چار بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹے تھے۔ اُنکی والدہ کا انتقال 1978 میں ہوا جب شیر خان کی عمر صرف آٹھ سال تھی۔ اُن کی پرورش پھوپھیوں اور چچیوں نے کی۔ اُن کا خاندان مکمل طور پر مذہبی ہے جس کی وجہ سے شیر خان مکمل طور پر اسلامی تعلیمات اور افکار پر عمل کرتے تھے۔
تعلیمی سفر اور کیرئیر    
گورنمنٹ کالج صوابی سے اپنا انٹرمیڈیٹ مکمل کرنے کے بعد انہوں نے ائیر مین کے طور پر پاکستان ائیر فورس میں شمولیت اختیار کر لی اور اپنی ٹریننگ مکمل کی اور رسالپور کے بنیادی فلائنگ ونگ میں الیکٹریکل فٹر(ایروناٹیکل) کے طور پر تعینات ہوئے۔ اس دوران انہوں نے دو بار پاکستان آرمی میں کمیشن حاصل کرنے کی کوشش کی اور کامیابی حاصل کی۔ 1994 میںPMA 90لانگ کورس سے گریجویشن مکمل کی۔ ان کی پہلی تعیناتی ستائیسویں سندھ رجمنٹ کے ساتھ اوکاڑہ میں ہوئی۔ ان کے چہرے پہ ہمیشہ ایک فوجی کی مسکراہٹ رہتی تھی جس کی وجہ سے شیراکے لقب سے مشہور تھے۔ کیپٹن شیر خان اپنے آفیسرز اور ساتھیوں کے درمیان بھی بہت مشہور تھے۔ جنوری 1998 میں انہوں نے خود کولائن آف کنٹرول پر تعیناتی کے لیے پیش کیا جہاں وہ ستائیسویں سندھ رجمنٹ کے طرف سے ناردرن لائن انفنٹری میں تعینات ہوئے۔کارگل کے محاذ پر اپنی پوزیشن کے دفاع میں انہوںنے جارحانہ حکمتِ عملی کو اپناتے ہوئے دشمن پر کئی حملے کئے اور دشمن کے جوابی حملوں کا بھی کامیابی سے دفاع کیا۔
شہادت
پاکستانی اور بھارتی فوجیوں کے مابین دست بدست جنگ شروع ہوگئی۔کیپٹن شیر خان گھیرے میں آگئے مگر وہ لڑتے رہے اور آگے بڑھ بڑھ کر دشمن پر حملے کئے۔ بالآخر ان کا ایمونیشن ختم ہوگیا مگر اس وقت تک وہ دشمن کی صفوں میں گھس چکے تھے۔ بھارتی فوجیوں نے فائر کھول دیا جس سے کیپٹن شیر خاں کافولادی جسم گولیوں سے چھلنی ہوگیا۔ اللہ اکبر کا ورد کرتے ہوئے جام شہادت نوش کرلیا۔بھارتی کمانڈر' کیپٹن شیر خان کی بہادری پراش اش کراٹھا۔اس نے بلند آواز میں کہا اس جوان کی بے حرمتی نہ کرنا یہ بہت بہادر افسر ہے۔
بھارتی کمانڈر کا اعتراف عظمت
کارگل محاذ پر بھارتی فوج کی کمانڈ کرنے والے بریگیڈیر ایم ایس باجوہ نے کیپٹن شیرخان کی بہادری کی تعریف کی۔ان کے جسد خاکی کی جیب میں چٹ لکھ کر پاکستان بھیجی جو شیرخان شہید کی عظمت کا واضح اعتراف تھا۔
کیپٹن شیر خان کا جسد خاکی بھارتی فوج پہلے سرینگر اور پھر دہلی لے گئے۔وہاں سے 18 جولائی1999 کی نصف شب کوکراچی کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر لایا گیا۔بلوچ رجمنٹ کے جوانوں نے ایمبولینس سے تابوت اتار کر عوام کے سامنے رکھا جہاں خطیب نے نماز جنازہ پڑھائی، جس میںہزاروں شہریوں نے شرکت کی۔ نماز جنازہ کے بعد شہید کی میت خصوصی طیارے کے ذریعے اسلام آباد لائی گئی جہاں پر دوسری مرتبہ نمازجنازہ ادا کی گئی اس موقع پر پاکستان کے صدر رفیق تاڑر بھی موجود تھے۔ اس کے بعد کیپٹن شیر کی لاش ان کے آبائی گاؤں لے جائی گئی جہاں ہزاروں افراد نے پاکستانی فوج کے اس بہادر فوجی کو الوداع کہا۔ ان کے اس گاؤں کا نام اب ان کے نام پر رکھ دیا گیا ہے۔
کیپٹن شیر خان کو پاکستانی فوج کے سب سے بڑے اعزاز نشان حیدر سے نوازا گیا۔ ||


مضمون نگار مختلف موضوعات پر لکھتے ہیں۔
[email protected]

یہ تحریر 183مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP