قومی و بین الاقوامی ایشوز

حجاب پر پابندی.....بھارت کاسیکولر چہرہ بے نقاب

 تقسیم ہند کے بعد بھارت نے یہ دعویٰ کیاتھا کہ سرکاری سطح پر اس کا کوئی مذہب نہیں ہوگا۔ یہ ایک ایسی سیکولر ریاست ہوگی جس میں تمام مذاہب اور اقلیتوں کو یکساں حقوق حاصل ہوں گے لیکن تاریخ نے ثابت کیا کہ بھارت کی تنگ نظر ہندوقیادت نے محض وقتی طور پر اقلیتوں کی ہمدردیاں لینے کی خاطر یہ ڈھونگ رچایا تھا اور حقیقت اس کے برعکس تھی۔آج پوری دنیا دیکھ رہی ہے کہ بھارت میں اقلیتوں اور بالخصوص مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کر دیا گیا ہے اورپورا ملک جنونی ہندوئوں کے رحم و کرم پر ہے۔ امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی کی آفیشل ویب سائٹ پر بھارت کے حوالے سے جاری کی گئی رپورٹس میں یہ بات واضح طور پر کہی گئی ہے کہ ''بھارت میں ہندوقوم پرست پالیسیوں کو فروغ دیا گیا ہے اور دیگر مذاہب کی آزادی کے بارے میں سنگین خلاف ورزیاں کی جارہی ہیں''۔انڈیا چیپٹر کے عنوان سے امریکی کمیشن کی رپورٹ میں اور بھی بہت سے تلخ حقائق سے پردہ اٹھایاگیاہے۔
 اقلیتوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے بھارت کے ''نیشنل مینارٹی کمیشن'' کابھی کہناہے کہ بھارت میں اقلیتوں کو لاحق خطرات میں   اضافہ ہو رہا ہے۔ عالمی انسانی حقوق کی دیگر تنظیمیں بھی اقلیتوں کے خلاف بھارتی حکومت کی تنگ نظری اورنفرت انگیز پالیسیوں پر آئے روز تنقید کرتی رہتی ہیں۔



امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی کی آفیشل ویب سائٹ پر بھارت کے حوالے سے جاری کی گئی رپورٹس میں یہ بات واضح طور پر کہی گئی ہے کہ ''بھارت میں ہندوقوم پرست پالیسیوں کو فروغ دیا گیا ہے اور دیگر مذاہب کی آزادی کے بارے میں سنگین خلاف ورزیاں کی جارہی ہیں''۔انڈیا چیپٹر کے عنوان سے امریکی کمیشن کی رپورٹ میں اور بھی بہت سے تلخ حقائق سے پردہ اٹھایاگیاہے۔


 یوں تو بھارت کی 74سالہ تاریخ اقلیتوں پر ڈھائے جانے والے مظالم سے بھری پڑی ہے لیکن جب سے بی جے پی کے نریندر مودی برسراقتدار آئے ہیں مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کردیا گیا ہے کیونکہ مسلمانوں پر ظلم و تشددکرنا مودی کی گھٹی میں پڑا ہوا ہے۔2002ء میں گجرات کے مسلمانوں پر مظالم کی دردناک کہانی کس کو یاد نہیں۔ اس سانحہ میں تین ہزار سے زائد مسلمانوں کو نہایت بے دردی سے شہید کر دیاگیاتھا اورا ن کی املاک لوٹ لی گئی تھیں۔انسانی حقوق کی تنظیموں کاماننا ہے کہ یہ درحقیقت مسلمانوں کی نسل کشی تھی ۔آج جو نریندر مودی وزیر اعظم کے منصب پر فائز  ہیں۔ یہ وہی مودی ہیں جنہیں'' گجرات کا قصائی'' بھی کہاجاتا ہے۔جب مسلمانوں کا قتل عام جاری تھا اس وقت گجرات کے وزیراعلیٰ نریندرمودی تھے جنہوں نے بلوائیوں کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے الٹا ان کا ساتھ دیا اور ان کی حوصلہ افزائی کی۔گجرات کے مسلمان آج بھی انصاف کے منتظر ہیں۔بھارت میں انصاف کی حالت زار یہ ہے کہ 2002میں ہونے والے فسادات کے ذمہ داروں کا تعین کرنے کے لئے بنائے گئے کمیشن نے 2019ء میں اپنا فیصلہ سنایا اورنریندر مودی کو فسادات سے بری الذمہ قرار دے دیا۔یاد رہے کہ ُان دنوں امریکہ نے مودی کا اپنے ملک میں یہ کہہ کرداخلہ بندکر دیا تھا کہ یہ شخص گجرات میں مسلمانوں کی نسل کشی میں براہ راست ملوث ہے۔


مودی حکومت کی سرپرستی میں ہر گزرتے دن کے ساتھ بھارتی مسلمانو ں پر مظالم میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے ۔آج کل بھارت میں حجاب پر پابندی ایک اہم مسئلہ بن کر سامنے آیا ہے ۔حجاب پر پابندی درحقیقت مسلمان خواتین کوعدم تحفظ سے دوچار کرنے کے لیے مودی حکومت کی مسلم دشمن پالیسی کا شاخسانہ ہے ۔ بھارتی ریاست کرناٹک میں نریندر مودی کی بی جے پی برسراقتدار ہے اور مسلمان طالبات پر تعلیمی اداروں میں حجاب پر پابندی لگا ئی جا رہی ہے،اس سے مسلمان طالبات خود کو غیر محفوظ سمجھ رہی ہیں۔


مودی حکومت کی سرپرستی میں ہر گزرتے دن کے ساتھ بھارتی مسلمانو ں پر مظالم میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے ۔آج کل بھارت میں حجاب پر پابندی ایک اہم مسئلہ بن کر سامنے آیا ہے ۔حجاب پر پابندی درحقیقت مسلمان خواتین کوعدم تحفظ سے دوچار کرنے کے لیے مودی حکومت کی مسلم دشمن پالیسی کا شاخسانہ ہے ۔ بھارتی ریاست کرناٹک میں نریندر مودی کی بی جے پی برسراقتدار ہے اور مسلمان طالبات پر تعلیمی اداروں میں حجاب پر پابندی لگا ئی جا رہی ہے،اس سے مسلمان طالبات خود کو غیر محفوظ سمجھ رہی ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ کرناٹک کا علاقہ وزیراعظم نریندر مودی کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کا گڑھ ہے،یہاں بی جے پی برسراقتدار ہے اور یہ علاقہ ہندو قوم پرست پالیسیوں اور متعصبانہ نظریات کی'' لیبارٹری'' ہے۔


پاکستان میں سرکاری سطح پر بھی بھارت میں حجاب پر پابندی اورکرناٹک واقعہ پر شدید احتجاج کیاگیا۔ اسلام آباد میں تعینات بھارتی ناظم الامور کو وزارت امور خارجہ میں طلب کیا گیا اورحکومت پاکستان کی جانب سے کرناٹک میں مسلمان طالبات کے حجاب پہننے پر پابندی کے بہیمانہ اقدام کی  شدید مذمت کرتے ہوئے گہری تشویش سے آگاہ کیا گیا۔ بھارتی ناظم الامور پر زور دیا گیا کہ وہ کرناٹک میں آر ایس ایس،بی جے پی جیسی متعصب تنظیموں کی مشترکہ سرپرستی میں جاری حجاب مخالف مہم پر پاکستان کی تشویش سے بھارتی حکومت کو آگاہ کریں۔


بھارتی حکومت کی مسلم دشمنی کا اندازہ اس سے لگائیے کہ مدھیہ پردیش کے وزیر تعلیم حجاب کے خلاف زہر اگل رہے ہیں۔ وزیر تعلیم اندر سنگھ پرمرکا کہنا ہے کہ'' حجاب کو سکول یونیفارم کا حصہ نہیں ہونا چاہئے، جسے حجاب پہننا ہے وہ اپنے گھر میں پہن لے''۔ یاد رہے کہ اس حکومتی پابندی کے خلاف کرناٹک ہائی کورٹ میں مسلمانوں کی طرف سے پٹیشن دائر کی گئی ہے،مسلمان طالبات نے عدالت سے درخواست کی ہے کہ انہیں حجاب کے ساتھ کلاس میں بیٹھنے کی اجازت دی جائے ۔یہ کیس کورٹ میں زیرسماعت ہے لیکن اس کے باوجود متعصب ہندوجتھے حجاب پہننے والی طالبات کو  ہراسا ں کر رہے ہیں۔مسلم طالبات کو حجاب سے روکنے کے لیے زعفرانی رومال پہنے ہندو انتہا پسند تنظیموں کے کارکن بھی میدان میں آ گئے ہیںاورمسلمان طالبات سکیورٹی حصار میں تعلیمی اداروں میں جانے پر مجبور ہیں۔مودی کی اس نئی مسلم دشمن پالیسی کے خلاف بھارت میں احتجاج کا ایک بڑا سلسلہ جاری ہے۔ 
چند روز قبل ایک ویڈیو وائر ل ہوئی ہے جس میں واضح دیکھا جا سکتا ہے کہ ہندو لڑکوں کا ایک جتھہ زعفرانی رومال(یاد رہے کہ زعفرانی رنگ ہندووں کا مذہبی علامتی رنگ ہے) پہنے ہوئے ایک طالبہ مسکان کو ہراساں کر رہا ہے کہ وہ حجاب اتار کر کالج میں داخل ہو۔ ہجوم میں شامل لوگ آگے بڑھ کر اسے حجاب اتارنے کا کہتے ہیں تووہ بہادر لڑکی اللہ اکبر کے نعرے لگاناشروع کر دیتی ہے۔ ہندوانتہا پسندوں کے سامنے نعرہ تکبیر بلند کرنے والی یہ بچی اب جرأت اور حمیت کاایک استعارہ بن چکی ہے۔اس وقت دنیا بھر میں مسکان کی حوصلہ افزائی اورپذیرائی کا سلسلہ جاری ہے۔مسکان کی بہادر ی پر سوشل میڈیا پر کئی ٹاپ ٹرینڈز بنے ہیں اور اسے خراج تحسین پیش کیا گیا ہے۔ حجاب کو ترقی اور شہرت کی راہ میں رکاوٹ قراردینے والے ہندو آنکھیں پھاڑکر دیکھتے رہ گئے اور مسکان کو چندگھنٹو ں میں عالمی شہرت مل گئی ۔شیر دل مسلمان لڑکی نے جس غیرت اور حمیت کامظاہرہ کیا ہے، پوری امت مسلمہ اور پاکستانی قوم اسے سلام پیش کرتی ہے۔سوشل میڈیا اور دیگر فورمز پر دنیابھرکے مسلمانوںنے اس کے حق میں آواز اٹھائی ہے۔اہم شخصیات اور عام شہریوں نے بہادر مسلمان لڑکی کے ساتھ بھرپور اظہار یکجہتی کرتے ہوئے عالمی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ بھارت کی متعصب اور اقلیت دشمن مودی حکومت کو لگام ڈالی جائے۔مسکان نے بھارتی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ میں نے حجاب اوڑھ رکھا تھا اورمیں جیسے ہی اپنی سکوٹی کھڑی کر کے کالج داخل ہوئی تو ہندوانتہاپسندوں کے ایک بڑے جتھے نے مجھے روکنے کی کوشش کی اور ہراساں کیاکہ پہلے حجاب اتار و پھر کالج میں داخل ہونے دیاجائے گا۔اگر پڑھنا ہے تو برقع اتار کر اندر جائو۔ہجوم کہہ رہا تھا کہ ''جیشی را م جیشی رام ۔۔۔برقع اتار، برقع اتار''۔ میں نے ان انتہا پسندوں سے ڈرنے کے بجائے اللہ اکبر کے نعرے لگانا شروع کردیے۔مسکان نے کہا کہ جب میں بہت زیادہ ان کے نرغے میں آگئی تو میں نے زور زور سے اپنے اللہ کو یاد کرنا شروع کر دیا اور پھر اس اللہ نے مجھے اتنی عزت بخشی کہ جس کامیں سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔مسکان نے کہا کہ جنونی ہندو جتھے کا تنہا سامنا کرنے کے لیے میں پریشان نہیں تھی اور اگر مستقبل میں بھی ایسا واقعہ پیش آیا تو میں اپنا حجاب پہننے کا حق لینے کے لیے اسی طرح لڑتی رہوں گی۔
پاکستان میں سرکاری سطح پر بھی بھارت میں حجاب پر پابندی اورکرناٹک واقعہ پر شدید احتجاج کیاگیا۔ اسلام آباد میں تعینات بھارتی ناظم الامور کو وزارت امور خارجہ میں طلب کیا گیا اورحکومت پاکستان کی جانب سے کرناٹک میں مسلمان طالبات کے حجاب پہننے پر پابندی کے بہیمانہ اقدام کی  شدید مذمت کرتے ہوئے گہری تشویش سے آگاہ کیا گیا۔ بھارتی ناظم الامور پر زور دیا گیا کہ وہ کرناٹک میں آر ایس ایس،بی جے پی جیسی متعصب تنظیموں کی مشترکہ سرپرستی میں جاری حجاب مخالف مہم پر پاکستان کی تشویش سے بھارتی حکومت کو آگاہ کریں کیونکہ یہ مہم ایک بڑے طبقے کو معاشرے سے خارج کرنے کے ایجنڈے کا حصہ ہے۔ اس کا مقصد مسلمان خواتین کے ساتھ غیر انسانی طرز عمل اختیار کرتے ہوئے انہیں مثبت سرگرمیوں میں شرکت سے روکنا اور بدنام کرنا ہے۔وزیر مملکت زرتاج گل نے بھی مسکان کی تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ'' بھارت کی یہی وہ صورتحال ہے جس کے بارے میں وزیراعظم عمران خان مغرب کو خبردار کرتے آرہے ہیں ،وزیر اعظم عمران خان بارہا کہہ چکے ہیں کہ ہمیں اسلاموفوبیا کے بڑھتے ہوئے رجحان پر شدید تشویش ہے''۔وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے بھارتی ریاست کرناٹک میں پیش آنے والے واقعہ کی شدید مذمت کی ہے۔
پاکستان ایک طویل عرصہ سے عالمی برادری کوبھارت میں بسنے والی اقلیتوں ، بالخصوص مسلمانوں اورکشمیری عوام پر جاری بھارتی حکومت کے مظالم سے آگاہ کرتا آرہا ہے۔پاکستان کا مؤقف بہت ہی واضح اور ٹھوس ہے کہ بھارتی حکومت کے متعصبانہ رویے اورنفرت انگیز پالیسیاں ایک طرف توبھارت میں بسنے والی اقلیتوں کو عدم تحفظ کے احساس سے دوچار کر رہی ہیں تو دوسری جانب اس پورے خطے میں امن کو سبوتاژکر رہی ہیں۔
 قارئین !بھارت تسلسل کے ساتھ یہ دعویٰ کرتا ہے کہ وہ ایک سیکولر اور جمہوری ریاست ہے جہاں پر تمام اقلیتوں کوحقوق میسر ہیں جبکہ حقیقت میں ایسا نہیں ہے اور کرناٹک واقعہ بھارت کے سیکولر چہرے کو بے نقاب کرنے کے لیے کافی ہے ، اس کے لیے اب مزید کسی ثبوت کی ضرورت نہیں رہ جاتی۔ ||
 

یہ تحریر 264مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP