قومی و بین الاقوامی ایشوز

میجر ذکاء الحق شہید

دو رویہ کھڑے فوجی جوانوں کی رائفلیں اوپر کو اٹھیں اور فضاء میں اس نعرے اور گولیوں کی تڑتڑاہٹ نے عجب سا سماں باندھ کے رکھ دیا۔ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے چوک سرور شہید کے در و دیوار تک لرز اٹھے ہوں۔ ایسا لگ رہا تھا گویا پورا شہر ہی امڈ آیا ہو، کیا بچے، بوڑھے اور جوان سب پر ایک جوش، جذبہ اور ولولہ سا طاری تھا اور عوام کا جمِ غفیر تھا۔ کیونکہ آج کے دن گیاری سیکٹر میں شہادت کے منصب پر فائز ہونے والے میجر ذکاء الحق شہید کا جسد خاکی ان کے آبائی علاقہ میں لایا جا رہا تھا اور لوگ گروہ در گروہ اپنے اس محبوب اور بہادر فوجی افسر کا آخر ی دیدار کرنے کو بے تاب تھے۔

قوم کے اس بہادر سپوت نے 16جون 1981کو چوک سرور شہید میں زندگی کی پہلی سانسیں لیں۔مظفر گڑھ کے ممتاز تعلیمی ادارے میں آٹھویں جماعت کا امتحان پاس کرنے کے بعد انہوں نے ملک کے مختلف کیڈٹ کالجز کے داخلہ ٹیسٹ پاس کئے اور بالآخر مشہورِ زمانہ کیڈٹ کالج حسن ابدال کی جانب رختِ سفر باندھا۔ ایف ایس سی کرنے کے بعد جب انہوں نے پاکستان آرمی میں کمیشن کا ارادہ باندھا تو یہاں پر بھی کامرانی و کامیابی نے ان کے قدم چومے اور باری تعالیٰ نے انہیں پہلے ہی مرحلے میں کامیابی سے نوازدیا اور یوں وہ پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکو ل جا پہنچے۔ دوسال پر محیط عسکری تربیت کے مراحل کو نہایت جانفشانی کے ساتھ طے کیا بعد ازاں اپنی یونٹ کے ساتھ ملک کے مختلف مشکل ایریازمیں ڈیوٹی کے فرائض انجام دیتے رہے۔ پھر انہیں اقوام متحدہ کے امن مشن پر کانگوبھیج دیا گیا۔شہید میجر ذکاء الحق کی ساری زندگی ہی مہم جوئی میں گزری تھی ۔وہ ایک سالہ مشن کے بعد کانگو سے پلٹ کر گھر پہنچے تو دنیا کے بلند اورسرد ترین محاذ جنگ سیاچن گلیشئیرنے انہیں پکار ا۔ چنانچہ انہوں نے پھر سے سامانِ حرب باندھا اور اپنے بہادر جوانوں کے ہمراہ سیاچن محاذ کا رخ کیا۔ شہید کے بڑے بھائی صدام الحق راقم کو بتا رہے تھے کہ سیاچن گلیشئرمیں اس جری سپوت کا جوشِ جنوں اور جذبۂ حب الوطنی قابلِ دید تھا۔ وہ بتاتے ہیں کہ میجر ذکاء الحق شہیدجب بھی گیاری سے چھٹی آتے تمام اہلِ خانہ، عزیز و اقارب، دوست احباب ان کے اس بلند جذبے کی داد دیئے بغیر نہ رہتے تھے۔ آخری بار جب وہ چھٹی آئے تو انہوں نے بتایا کہ مئی کے آخری دنوں یا جون کے پہلے ہفتے میں ہمارا مشن ختم ہو جائے گا اور ہم گیار ی سے واپس آجائیں گے اوردنیا نے دیکھا کہ انہوں نے اپنے وعدے کی پاسداری بھی کیاخوب کی اور وہ واقعی جون کے پہلے ہفتے میں گھر آگئے مگر۔۔۔کچھ اس اندازسے کہ ان کے فوجی ساتھیوں نے انہیں سبز ہلالی پرچم میں لپیٹ کر اپنے کندھوں پر اٹھا رکھا تھا۔سات اپریل 2012کو سانحہ گیاری سیکٹر‘ میں پاکستانی فوج کی پیدل سپاہ ناردرن لائٹ انفنٹری کے یہی وہ جری اور شاہین صفت کمانڈر میجر ذکاء الحق تھے جنہوں نے اپنے ایک سو چالیس (140)جانثار سپاہیوں کے ہمراہ سیاچن کے اس ’’برف زار‘‘ میں اپنی خوبصورت جوانیوں کو لٹا دیا اور 1984ء سے گرم اس محاذ جنگ کو اپنے جواں اور تازہ لہو سے ٹھنڈا کرنے کی ایک سعی اور کر ڈالی، ملک و ملت کا دفاع کر تے ہوئے اپنی جان سے بھی گزر گئے اور تاریخ کے صفحات پر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے زندہ وجاوید ہو گئے۔

یہ تحریر 432مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP