متفرقات

اُردو ہے میرا نام میں خسرو کی پہیلی۔۔۔

رینجرز سندھ کے زیرِاہتمام بزمِ اُردو تقریب 

اُردو پاکستان کی قومی زبان ہے۔ یہ قومی زبان ہونے کے ساتھ ساتھ باہمی رابطے کی بھی زبان ہے۔ یہ میرتقی میر ، خواجہ میر درد، حیدر علی آتش، مرزا اسداﷲ خان غالب ، سودا، حالی، فانی، جگر مراد آبادی، داغ دہلوی، اکبر الٰہ آبادی اور جوش ملیح آبادی کی زبان ہے۔ اُردو زبان کے ارتقا کے حوالے سے کئی نظریئے ہیں۔ اس کی ابتداء کہتے ہیں دکن سے ہوئی۔ پنجاب سے اُردو کی ابتداء کی بھی تاریخ ملتی ہے۔ بعض کا خیال ہے کہ یہ لشکری زبان ہے۔اُردو نے کہیں سے بھی جنم لیا ہو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اصل بات تو یہ ہے کہ یہ محبت، اخلاص اور شائستگی کی زبان ہے۔ یہ تہذیب و تمدن کا ایسا شاہکار ہے کہ سب ہی اس کے پرستار ہیں۔



زبانیں تو ساری ہی خوبصورت ہوتی ہیں۔ محبت، دوستی اور خلوص کے اظہار کے لئے الفاظ کی اہمیت ثانوی ہے۔ جذبات کا بھرپور اندازہ تو مخاطب سامنے والے کے چہرے کے تاثرات اور آنکھوں سے پھوٹتی کرنوں سے ہی لگا لیتا ہے۔ تاہم گفتگو شخصیت میں ایک خاص نکھار پیدا کرتی ہے۔ جملوں کی ادائیگی مناسب الفاظ کا انتخاب اور لہجہ اندازِ تکلم کو دلنشین بناتا ہے۔ اُردو زبان کی چاشنی کے سب معترف ہیں۔ یہ رشتوں کو ملانے اور دلوں کو جوڑنے کے علاوہ باہمی تعلق کو مضبوط بنانے والا ایسا پُل ہے جس سے دوریاں مٹ جاتی ہیں اور قربتیں بڑھ جاتی ہیں۔
اُردو زبان سے محبت اور شہر کراچی سے لگائو کے اظہار کے لئے گزشتہ دنوں ڈی جی  رینجرز سندھ میجر جنرل افتخار حسن چودھری کی جانب سے رینجر زکوارٹر کے سبزہ زار میں ایک شاندار تقریب کا اہتمام کیاگیا جس کا احوال ہم قارئین کے لئے پیش کریں گے۔
تقریب کا انعقاد شاعرِِ مشرق، حکیم الامت علامہ محمداقبال کے یومِ پیدائش کی مناسبت سے کیاگیا تھا۔ اس طرح یومِ اُردو کو یومِ اقبال پر منایاگیا جس سے لطف دوبالا ہوگیا۔ بزمِ اُردو کی یہ خوبصورت  تقریب یادگار رہی۔ یومِ اقبال اور اُردو کے امتزاج نے قوس قزح کے وہ رنگ بکھیرے کہ بس کیا کہنے!
یہ محفل کئی حصوں پر مشتمل تھی۔ تقاریر، مشاعرہ ، محفلِ موسیقی، اُردو کے حوالے سے دستاویزی فلم ، طعام اور پروگرام کی نظامت ہمارے ذمہ تھی۔ ہم بہت خوش تھے، کمپیئرنگ کے علاوہ ہمیں گانا بھی گانا تھا۔ ہم نے پروگرام کی ابتداء کی تو سب سے پہلے رینجرز کو زبردست الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا کہ ان ہی کے باعث آج شہر میں امن و سکون ہے۔
عروس البلاد کراچی نے کئی رنگ دیکھے ہیں، روشنیوں کا شہر کراچی علم وادب اور فن وثقافت کا گہوارہ ہے۔ یہ شہر تجارتی سرگرمیوں کا مرکز ہے۔ صنعت اور معیشت کے اعتبار سے کراچی کی حیثیت وطنِ عزیز میں ریڑھ کی ہڈی جیسی ہے۔
شہرِ قائد بڑے اتار چڑھائو سے گزرا ہے۔ اس شہر پہ ایسا وقت بھی آیا جب خوف، دہشت اور بدامنی نے اپنے ڈیرے جمائے ہوے تھے۔ تاریکیوں سے اُجالے کی طرف آنے میں وقت لگا، بہت نشیب و فراز آئے۔رینجرز نے جوانمردی اور ہمت سے کراچی کو دوبارہ امن کا گہوارہ بنایا۔ نہ صرف امن وامان کی صورت حال بہتر کی بلکہ بزمِ اُردو کی تقریب منعقد کرکے علمی و ثقافتی سرگرمیوں کے فروغ میں اپنا کردار ادا کیا۔
ہم تو جب پنڈا ل میں داخل ہوئے تھے اُسی وقت سے ہی ماحول کی کشش نے ہمیں جکڑ لیا تھا۔ رنگوں ، روشنیوں، خوشبوئوں کا ایک طوفان تھا، برقی قمقمے جگمگا رہے تھے، مسکراہٹیں اور کھنکتے قہقہے بکھرے ہوئے تھے۔ ہر سُو شعرو سخن کی مہک تھی، سُر اور تال کی رونق تھی۔ بڑے بڑے اساتذہ کے قدآدم پورٹریٹ آویزاں تھے جن پر اُن کی تصویر کے ساتھ اُن کا مشہور شعر بھی درج تھا۔ علامہ اقبال ، میر، درد، منیر نیازی ، پروین شاکر ، جون ایلیااور دیگر بہت سے نامور شعراء کی تصاویر اور اشعار محفل کی زینت تھے۔
تقریب میں فنکار، صحافی ، شعراء کرام ، ادیب، سماجی کارکن، سمیت تقریباً ہر شعبۂ زندگی سے تعلق رکھنے والے معززینِ شہر کو مدعو کیاگیا تھا۔ تلاوتِ کلامِ پاک ، قومی ترانے اور ابتدائی گفتگو کے بعد اُردو زبان کی تاریخ کے حوالے سے تیار کی گئی ایک خصوصی دستاویزی فلم پیش کی گئی جس میں اُردو زبان کی ابتدا، اُس کے ارتقائی ادوار اور اس کے فروغ کے لئے کی جانے والی کوششوں کو نہایت دلچسپ اور خوبصورت طریقے سے اُجاگر کیاگیا ۔ دستاویزی فلم کا بیان بہت معلوماتی اور مؤثر تھا۔ دستاویزی فلم کے بعد مشاعرہ ہوا جس میں امجداسلام امجد، ڈاکٹر پیرزادہ قاسم، انور شعور، فاطمہ حسن، اجمل سراج، عباس تابش، خواجہ رضی حیدراور عنبرین حسیب نے اپنا کلام پیش کیا۔
امجد اسلام امجد اور عباس تابش خاص طور پر لاہور سے تشریف لائے تھے۔ اُن کی آمد نے مشاعرے کو چار چاند لگادیئے۔ مشاعرہ جما اور بہت لطف آیا۔
مشاعرے کے بعد محفل موسیقی کا اہتمام تھا جس میں انتظار حسین، کرم عباس اور ہم نے گلو کاری کا مظاہرہ کیا۔ انتظار حسین ایک عمدہ گلوکار ہیں، اُن کے والد ریڈیو پاکستان کے سنٹرل پروڈکشن یونٹ میں میوزک ڈائریکٹر تھے۔ انتظار حسین کلاسیکی ، نیم کلاسیکی اور غزل کی گائیکی میں خاص مہارت رکھتے ہیں۔ کرم عباس بھی اچھے گائیک ہیں۔ انہوں نے بھی بہترین پرفارمنس دی۔ سب سے آخر میں ہماری باری تھی ہم نے جیوے جیوے پاکستان گایا اور اسی پر تقریب اختتام پذیر ہوئی۔ تاہم جیوے جیوے پاکستان گیت سے قبل آرٹس کونسل کے صدر محمداحمد شاہ اور ڈی جی پاکستان رینجرز سندھ میجر جنرل افتخار حسن چودھری نے خطاب کیا۔ ڈی جی کی تقریر نہایت پُرمغز اور شاندار تھی۔ ان کی تقریر کو حاضرین نے بہت سراہا۔ ماحول میں جوش و خروش پیدا ہوگیا۔ ہم نے ڈی جی رینجرز سندھ کی تقریر کے بعد جیوے جیوے پاکستان نہایت جوش وجذبے سے گایا۔ ملی گیت ویسے ہی دل کے بہت قریب ہوتے ہیں۔ گیت کے بول جیسے روح کو چھو لیتے ہیں۔ اس کی موسیقی اور دھن گویا ایک نیاولولہ پیدا کردیتی ہے۔ ہم جیوے جیوے پاکستان گاتے رہے اور داد و تحسین سمیٹتے رہے۔ تقریب ختم ہوئی تو پُرتکلف عشائیے سے مہمانوں کی تواضع کی گئی۔
ہمیں یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ اس تقریب نے اہلِ کراچی کے دل جیت لئے۔ ایسی شاندار اور بھرپور تقریب جو ہمیشہ یاد رہے گی۔
اُردو ہے جس کا نام ہم ہی جانتے ہیں داغ
سارے جہاں میں دھوم ہماری زبان کی ہے ||


مضمون نگار معروف ادا کارہ' کمپیئر اور مصنفہ ہیں۔
[email protected]
 

یہ تحریر 222مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP