ہمارے غازی وشہداء

کارگل کے ہیرو لالک جان شہید نشان حیدر

 شہید لالک جان گلگت بلتستان کے ضلع غذر کی تحصیل یاسین میں10فروری  1967 کو ایک غریب کسان نیت جان کے گھرپیدا ہوئے۔ نومولود کا نام لالک جان(سورج جیسا )رکھا گیا  تب یہ بات کسی کے وہم وگمان میں بھی نہیں ہوگی کہ لالک جان سچ مچ سورج کی طرح نہ صرف اپنے بزرگوں کا نام روشن کریگا بلکہ ملک کے لیے بھی باعثِ وقار ہوگا۔ لالک جان کی والدہ فوت ہوگئیں تو والد نے دوسری شادی کرلی۔

سوتیلی ماں لالک جان اور دیگر بہن بھائیوں کے ساتھ خوب شفقت کا برتائو کرتی رہی۔ لالک جان نے اپنی ابتدائی تعلیم اپنے آبائی گائوں ہندورسے حاصل کی اور مڈل تک تعلیم حاصل کرنے کے بعد ناردن لائٹ انفنٹری میں بحیثیت سپاہی بھرتی ہوا اور معرکہ کارگل کے دوران لالک جان اپنے گھر چھٹیاں گزارنے آیا ہوا تھا، جب ان کو کارگل لڑائی کی خبر ملی تو اس کی چھٹی ختم ہونے میں چھ دن باقی تھے۔ لالک جان نے اپنے والد محترم سے محاذجنگ کی طرف روانہ ہونے کی اجازت مانگی اور کہا کہ میری چھٹیاں ختم ہونے میں چھ روز باقی ہیں اور یہ دن میں گھر  گزارنے کے بجائے محاذجنگ پر گزارناچاہوں گا اور ماں سے کہا میرے لیے دعا کرنا کہ میں ملک کا دفاع کرتے ہوئے شہید ہوجائوں۔ لالک جان کی یہ آرزو پوری ہوئی اور ان کے والد نیت جان نے اللہ کا شکر ادا کیا اور کہا کہ میرے بیٹے نے اپنی جان سے بھی عزیز ملک پاکستان کے گلشن کو سیراب کرنے کے لیے اپنے خون کا نذرانہ پیش کیا۔ حوالدار لالک جان ناردن لائٹ انفنٹری کے ایک بے باک نڈراور بہادر فرزند کی مانند ابھر کے سامنے آئے۔ انھوں نے اپنے وطن عزیز کی خاطر ایسے دلیرانہ اقدام کیے جس کی مثال تاریخ میں شاذونادر ہی ملتی ہے۔ بحیثیت ایک جونیئر لیڈر انہوں نے اپنے جرأت مندانہ اقدام کی بدولت دشمن کو بھاری جانی نقصان پہنچایا اور ان کے متعددحملے پسپا کئے۔ اپنے فرائض کی انجام دہی میں انھوں نے تن من دھن کی بازی لگادی۔
 مئی1999میں جب یہ معلوم ہوا کہ دشمن ایک بڑے زمینی حملے کی تیاری کررہا ہے تو حوالدار لالک جان جو کسی اگلے مورچے پر نہیں بلکہ کمپنی ہیڈکواٹر میں اپنے فرائض سر انجام دے رہاتھا۔ اس موقع پر انھوں نے اگلے مورچے پر لڑائی لڑنے کے لیے اپنی خدمات پیش کیں۔ یہ جانتے ہوئے کہ اگلے مورچے دشمن کے حملوں کی زد میں ہیں، حوالدار لالک نے اپنے سینئر افسروں سے اگلے مورچوں پر جانے کے لئے اصرار کیا اورایک انتہائی مشکل پہاڑی چوکی پر دشمن سے نبردآزما ہونے کے لیے کمر باندھ لی۔ جون کے آخری ہفتے کی ایک رات دشمن کی ایک بٹالین کی نفری نے حوالدار لالک جان کی چوکی پر بھر پور حملہ کیا۔ حملے کے دوران حوالدار لالک جان اپنی جان سے بے پروا ہوکر مختلف پوزیشنوں سے فائر کرتے رہے اور ہر مورچے میں جاکر جوانوں کے حوصلے بڑھاتے رہے۔ رات بھر دشمن کا حملہ جاری رہا اور لالک جان نے دشمن کے تمام ارادوں کو ناکام بنادیا اور صبح تک دشمن سپاہ لاشوں کے انبار چھوڑ کے پسپا ہوگئی تھی۔ دوسری رات مزید کمک حاصل کرنے کے بعد دشمن نے ایک بار پھر مختلف اطراف سے حملہ شروع کردیا لیکن زیرک لالک جان نے اس رات بھی بے باکی اور جرأت کا مظاہر کرتے ہوئے دشمن کو بھاری نقصان پہنچایا۔ 7 جولائی کو دشمن نے لالک جان کی پوسٹ پر توپ خانے کا بھر پور فائرکیا، پورا دن گولیوں کی بارش ہوتی رہی اور رات کو دشمن نے ایک بار پھر لالک جان کی پوسٹ پر تین اطراف سے حملہ کردیا اور حملے کے دوران دشمن کے فائر سے لالک جان شدید زخمی ہوئے لیکن کمپنی کمانڈر کے اصرارکے باوجود اپنی پوسٹ پر زخمی حالت میں بھی ڈٹے رہے اور دشمن کا مقابلہ جاری رکھا۔ آخر کار اس سپوت نے دشمن کے اس حملے کو بھی ناکام بنادیا لیکن اس کے ساتھ زخموں کے تاب نہ لاتے ہوئے حوالدار لالک جان 7جولائی 1999 کواپنی پوسٹ پر ہی شہید ہوگئے۔ حوالدارلالک جان نے جس بے باکی اور جرأت مندی کا ثبوت دیتے ہوئے اپنے مورچے کا آخری وقت تک بھر پور دفاع اور دشمن کے پے درپے حملوں کو پسپا کیا، اس کی مثال بہت کم ملتی ہے۔ زخمی حالت میں بھی لالک جان دشمن سے نبردآزما رہے اور آخری وقت تک ملک کا دفاع کیا۔ان کی بے باکی، حوصلہ مندی اور جذبہ شہادت پر ملک کا سب سے بڑا فوجی اعزاز نشان حیدر عطا کیاگیا۔کارگل کے ہیرو شہید لالک جان نشان حیدر کے یوم شہادت پرہر سال عوام کی ایک بڑی تعداد ان کے مزار پر حاضری دے کر شہید کو خراج عقیدت پیش کرتی ہے۔ گلگت بلتستان کا ضلع غذر جس کو شہیدوں اور غازیوں کی سرزمین کہا جاتا ہے۔ 65یا71کی جنگیں ہوں یا کارگل معر کہ یہاں کے بہادر سپوتوں نے ہر میدان میں اپنی بہادری کی لازوال دستانیں رقم کیں ـ کارگل جنگ میں غذر کے ایک سو سے زائد جوانوں نے ملک کی گلشن کی آبیاری کرتے ہوئے جام شہادت نوش کیا اور چالیس کے قریب جوانوں کو عسکری اعزات سے نوازا گیا۔  غذر کو شہیدوں اور غازیوں کی سرزمین کہا جاتا ہے یہاں کے ہر گائوں اور قصبہ میں شہدا کے مزار کے اوپر سبز ہلالی پرچم نظر آرہا ہے۔ ||


[email protected]


 

یہ تحریر 209مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP