بجٹ

دفاعی بجٹ : مفروضے اور اہم حقائق 

دنیا کے معرض وجود میں آنے کے بعد بنی نوع انسان نے بھی ارتقائی مراحل طے کیے یوں پتھروں کی دنیا سے نکل کر شعور کی منازل پانے والے حضرت انسان نے قبیلے اور قبیلوں سے بزور طاقت سلطنتیں قائم کیں ۔ان سلطنتوں کے قیام میں مسلح لشکر وں، جنہوں نے آگے چل کر افواج کا درجہ حاصل کیا، نے کلیدی کردار ادا کیا ۔صدیوں کے اس چکر میں ہر سلطنت کے وجود کو برقرار رکھنے یاپھر شکست و ریخت کی وجوہات میں بھی اسی ملک کی افواج اور ان کی بہبود،استعداد اور معاشی خوشحالی و خستگی شامل رہی ہے۔برصغیر پاک و ہندکی تقسیم کے بعد نومولودمملکت خداد اد پاکستان کو قیام کے ایک سال بعد ہی ہمسایہ ہندو بنیے کی جارحیت کا سامنا کرنا پڑا۔ایسے میں یہ افواج پاکستان ہی تھیں جنہوں نے محدود مالی ،حربی وسائل کے باوجود اس دشمن کو دندان شکن جواب دیا ۔



9500 ارب سے زائد کے بجٹ میں دفاع کے لیے صرف 1523ارب روپے رکھے گئے ہیں جو کہ پاکستان کی جی ڈی پی کا صرف 2.54  فیصد بنتا ہے ۔اسی طرح سے یہ ہمارے مجموعی بجٹ کا کل سولہ فیصد تک بنتا ہے ۔تو یہ تھیوری تو سرے سے ہی ناقابل فہم اور جھوٹ پر مبنی افسانہ ثابت ہوتی ہے اور یقین مانیے صرف ایک کلک کی دوری پر حقیقت اور افسانوں کا علم ہوجاتاہے۔


یوں کہیے کہ دو قومی نظریہ پر قائم کی گئی اسلامی ریاست پاکستان کے تحفظ کی پہلی اورآخری دفاعی لائن ہماری بری ،بحری اور فضائی افواج  ہیں ۔افواج کا یہ نظم نہ صرف ہمسایہ ملک کو کھٹکتا ہے بلکہ ارض پاک میں موجود کچھ بدخواہوں اور ان کے پراپیگنڈا کا شکار ہونے والے افراد کو بھی ہضم نہیں ہوتا ہے ۔اسی لیے پاکستان میں ہمیشہ سے یہ پراپیگنڈا کیا جاتارہاہے کہ افواج پاکستان کے لیے مختص کردہ بجٹ یعنی کہ دفاعی بجٹ ہمارے کل بجٹ کا ستر سے اسی فیصد ہوتا ہے۔حالانکہ نئے مالی سال کے ہی بجٹ کے اعداد و شمار اٹھا کر دیکھ لیں تو دو دھ کا دودھ پانی کا پانی ہوجاتا ہے۔9500ارب سے زائد کے بجٹ میں دفاع کے لیے صرف 1523ارب روپے رکھے گئے ہیں جو کہ پاکستان کی جی ڈی پی کا صرف 2.54 فیصد بنتا ہے ۔اسی طرح سے یہ ہمارے مجموعی بجٹ کا کل سولہ فیصد تک بنتا ہے ۔تو یہ تھیوری تو سرے سے ہی ناقابل فہم اور جھوٹ پر مبنی افسانہ ثابت ہوتی ہے اور یقین مانیے صرف ایک کلک کی دوری پر حقیقت اور افسانوں کا علم ہوجاتاہے۔
 جب اسلامی جمہوریہ پاکستان کومشرقی سر حد پر پڑوسی ملک بھارت جیسے کینہ پرور دشمن کا سامنا ہو اورمغربی سرحد استحکام کی ابتدائی منازل طے کرتے ہوئے ہمسایہ افغانستان بھی ساتھ ہو جس کے ساتھ بائیس سو سے زائد کلومیٹر کی سرحد اور اس پر مسلح افواج کی تعیناتی ہو تو دفاعی اخراجات میں اضافہ ناگزیر ہوجاتا ہے ۔مگر افواج پاکستان نے موجودہ معاشی چیلنجز کو مدنظر رکھتے ہوئے پچھلے 2 برس کی طر ح اس سال بھی بجٹ کی مد میں کسی اضافی فنڈکا مطالبہ نہیں کیا ۔ملک میں مہنگائی کی موجودہ شرح ، ڈالر کی قدر میں اضافہ اور پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باوجود دفاعی بجٹ میں اضافہ نہ لینے کی قربانی بلاشبہ قابل تحسین ہے ۔دوسری جانب اگر ہم پڑوسی ملک بھارت کے دفاعی بجٹ کی تفصیلات پر نظر دوڑائیں تو جارح ریاست نے مالی سال 2022-23 کے لیے اپنے دفاعی بجٹ میں مسلسل اضافے کو برقرار رکھا ہے اور ریکارڈ ستر بلین ڈالر سے زائد مختص کئے گئے ہیں ۔یہاں یہ یاد رہے کہ بھارت کا موجودہ دفاعی بجٹ پاکستان کے مجموعی بجٹ سے بھی زیادہ ہے ۔
سٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی جانب سے 2016 سے 2020 کے دوران اکٹھے کیے گئے اعداود شمار پر مبنی ایک رپورٹ کے مطابق اسلحہ خریداری کی دوڑ میں دنیا بھر میں بھارت دوسرے نمبر پر ہے،جبکہ پاکستان کا نمبر دسواں ہے۔دنیامیں بننے والے اسلحہ کا 9اعشاریہ 58فیصد انڈیا نے خرید لیا ہے،جو ہندوتوا کے پیروکار اس ملک کی جنونی کیفیت کا بخوبی اظہار کرتا ہے۔سپری  (سٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ)کی ہی رپورٹ کے  مطابق دنیا میں دفاعی بجٹ پر سب سے زیادہ رقم خرچ کرنے والے ممالک میں بھی امریکہ اور چین کے بعدتیسرے نمبر پر موجود انڈیا روس سے بھی آگے ہے،رپورٹ کے مطابق انڈیا دفاعی بجٹ پر 72 بلین ڈالر خرچ کرتا ہے جو کہ دنیا کی جی ڈی پی کا 3اعشاریہ 7 فیصد بنتا ہے۔دوسرے لفظوں میں دنیا کی کمائی جانے والی دولت کا 3اعشاریہ سات فیصد انڈیا دفاعی بجٹ پر لگاتا ہے۔دوسری جانب پاکستان کا اس فہرست میں 23واں نمبر ہے، پاکستان نے11بلین ڈالر خرچ کیے جو کہ دنیاکی کل جی ڈی پی کازیرو اعشاریہ پانچ فیصد بنتا ہے۔ یہاں یہ یاد رہے کہ انڈیا کو نہ تو اندرونی دہشت گردی کا سامنا ہے نہ ہی اس کے پڑوس میں افغانستان جیساخلفشار ہے۔جس سے تنگ آکر پاکستان آرمی نے ڈیورنڈ لائن یعنی کہ پاکستان اور افغانستان کے بیچ 22سو کلومیٹر سے زائد کی سرحد پر باڑ لگاکر باقاعدہ چوکیاں قائم کردی ہیں،اس باڑ پر آنے والے اخراجات کے ساتھ وہاں کی گئی ڈپلائمنٹ اور پیٹرولنگ کے اخراجات کا بھی بڑا حصہ پاک آرمی کو اسی قلیل بجٹ میں سے ہی پورا کرنا پڑرہا ہے۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ پاکستان آرمی گزشتہ دو دہائیوں سے قبائلی علاقوں،سیاچن کے محاذ، بلوچستان اوربھارت کے ساتھ سرحدوں پر مسلسل مصروف عمل ہے۔ اب ان سب پر اٹھنے والے اخراجات سمیت ٹریننگ،اسلحہ کی خریداری اور دیگر اخراجات  ملنے والے بجٹ سے پوراکرنا ہی ناممکن نظر آتا ہے مگر ہماری افواج نے تو نہ صرف چادر دیکھ پر پاؤں پھیلائے ہیں بلکہ ملکی معیشت میں ٹیکسوں کی مد میں بھی قابل قدر حصہ ڈالا ہے۔سپری کی ہی رپورٹ کے مطابق پاکستان اپنے ایک فوجی پر سالانہ 12500 ڈالر، انڈیا  42000 ڈالر،امریکہ 392,000 ڈالر، ایران 23000 ڈالرجبکہ سعودی عرب 371,000 ڈالر خرچ کرتا ہے۔بھارت صرف جدید اسلحہ کی خریداری کے لیے سالانہ 18سے19بلین ڈالر لگاتا ہے جو کہ پاکستان کے بجٹ کا تقریباََ 2 گْنا ہے۔
پاکستان میں گزشتہ سالوں کی نسبت مہنگائی کی شرح سولہ فیصد کی شرح کو چھورہی ہے ،ڈالر مسلسل بڑھتے ہوئے دوسو روپے تک پہنچ چکا ہے اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں جن بلندیوں پر پہنچی ہوئی ہیں ان سب کے سامنے رواں مالی سال کا بجٹ تو اونٹ کے منہ میں زیرہ کے مترادف نظرآتا ہے ۔مگر افواج پاکستان جو کہ ملک کی حفاظت کے لیے سرحدوں پر اور دہشتگردی کے خلاف جنگ میں اپنی جانیں نچھاور کررہی ہے، نے کم بجٹ کے باوجود جہاں دفاع اور دفاعی صلاحیتوں پر کوئی آنچ نہیں آنے دی ہے، وہاں اسی محدود بجٹ میں سے بھی ڈائریکٹ اور ان ڈائریکٹ ٹیکس اور ڈیوٹیز کی مد میں پاکستان آرمی اور ان کے رفاعی اداروں نے پچھلے 5 سالوں میں 935ارب روپے کی خطیر رقم قومی خزانے میں جمع کروائی ہے۔ زرِ مبادلہ کے ذخائر کی بچت کی مد میں عسکری سازو سامان کی خریداری کے لیے کئی معاہدوں کو مقامی کرنسی میں عمل میں لایا گیا ۔ پاک فوج نے گزشتہ مالی سال میں کرونا کی مَد میں الاٹ کی گئی رقم میں سے 6ارب روپے بچا کر حکومت کوواپس کیے۔
صرف یہی نہیں بلکہ معیشت کے استحکام کے لیے مسلح افواج نے ایک بار پھر بڑے اور اہم فیصلے بھی کیے ہیں جن میں چند اقدامات کا ذکر کرتا چلوں ۔  مسلح افواج نے یوٹیلیٹی بلز کی مد میں اخراجات کو مزید محدود کردیاہے۔جبکہ بڑی تربیتی مشقوں اور ٹریننگ کے لیے دور دراز علاقوں کے بجائے کنٹونمنٹس کے قریب چھوٹے پیمانے پر ٹریننگ کا فیصلہ کیا گیا ہے۔کانفرنسوں اور دیگر اہم امور کے لیے آن لائن کام کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس سے قومی خزانے کی بچت ہوگی۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ پراپیگنڈا کا شکار ہونے کے بجائے تحقیق کرلی جائے، کیونکہ افواج پاکستان کے ہی دم سے یہ قوم متحد ہے اور یہ وطن پاک بھی قائم ہے ۔ ||


مضمون نگار کالم نویس  ہیں اور ایک نجی ٹی وی چینل کے ساتھ وابستہ ہیں۔
[email protected]


 

یہ تحریر 451مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP