قدرتی آفات

حالیہ سیلاب کی تباہ کاریا ں اور پاک فوج کی خدمات

پاک فوج کی جانب سے سیلاب زدگان کی بحالی کے لیے سرانجام دی گئی امدادی کارروائیوں اور لسبیلہ ہیلی کاپٹر کریش کے نتیجے میں ہونے والی شہادتوں کے تناظر میں لکھی گئی تحریر۔

پاک فوج وطن عزیز کا ایک ایسا ادارہ ہے جس نے سرحدوں کی حفاظت کے ساتھ ساتھ ملک کی تعمیر و ترقی میں بھی ایک مثبت اور بنیادی کردار ادا کیا ہے۔زمانہ جنگ ہو یا امن، پاکستان کی مسلح افواج ہر وقت وطن عزیز کو اندرونی اور بیرونی خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے سرگرم عمل رہتی ہیں۔سیا چن  گلیشیئر سے لے کر سندھ  کے ریگزاروں اور سمندر تک ہر جگہ پاکستان کی بہادر افواج اپنے خون سے عزم و ہمت اور استقلال کی داستان رقم کر رہی ہے۔قیامت خیز زلزلہ ہو یا تباہ کن سیلاب،کرونا وبا کی مصیبتیں ہوں یا دیگر ہنگامی حالات، پاکستان کی مسلح افواج نے ہمیشہ ہراول دستے کے طور پر قوم کی خدمت کی ہے اور انہیں قدرتی آفات اور مصائب سے محفوظ رکھنے میں مثالی کردار ادا کیا ہے۔چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ ایک ہمہ وقت متحرک اور فعال رہنے  والی شخصیت ہیں۔کرونا وبا  کے دوران انہوں نے تمام اداروں کو مضبوط بنانے کے لیے این سی او سی  جیسا ادارہ قائم کیااور اب  سیلاب کی آفت سے نمٹنے کے لیے وہ ملک بھر میں سیلاب زدہ علاقوں کے دورے کر رہے ہیں۔انہوں نے مسلح افواج کو ہدایت کی ہے کہ وہ اس مصیبت سے نمٹنے کے لیے سول انتظامیہ کی بھرپور مدد کریں۔چیف آف آرمی سٹاف ہر  اس مقام تک پہنچ رہے ہیں جہاں پر پاکستانی قوم مصیبت سے دوچار ہے۔
سیلاب کی تباہ کاریاں
اس وقت پاکستان تاریخ کے بد ترین سیلاب سے دوچار ہے۔پاکستان کے چاروں صوبوں میں سیلاب نے تباہی مچا رکھی ہے۔جنوبی پنجاب کے اضلاع کے علاوہ صوبہ سندھ اور صوبہ بلوچستان شدید متاثر ہوئے ہیں۔خیبر  پختونخوا کے بعض علاقے بھی سیلاب کی آفت کا شکار ہوئے ہیں۔خصوصی طور پر صوبہ بلوچستان کے دور دراز اور دشوار گزار علاقوں میں وسیع پیمانے پر جانی و مالی نقصان ہوا ہے۔بلوچستان میں سیکڑوں افراد اپنی جانیں گنوا بیٹھے ہیں، سیکڑوں مکانات منہدم ہو چکے ہیں۔ہنستی بستی سیرگاہیں ویرانے کا منظر پیش کر رہی ہیں۔ سڑکیں اور رابطہ پل بہہ گئے ہیں۔بلوچستان میں ڈیم ٹوٹنے سے بے پناہ نقصانات ہوئے ہیں۔صوبہ بلوچستان کے متعدد اضلاع جن میں دارالحکومت کوئٹہ سمیت،بولان،ژوب، دکی،قلعہ سیف اللہ، خضدار، کوہلو، کیچ، مستونگ،لسبیلہ اور سبی شامل ہیں، شدید تباہی کا شکار ہوئے ہیں۔بلوچستان جو پاکستان کے کل رقبے کا 42 فیصد ہے،موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث مسلسل ماحولیاتی خطرات میں گھرا ہوا ہے۔زلزلے،سیلاب،شدید گرمی،شدید سردی اور خشک سالی نے اس صوبے کا رخ کر لیا ہے۔ایک ایسا صوبہ جو پہلے ہی پسماندگی کا شکار ہے،تعلیم صحت،ذرائع آمدورفت اور روزگار کے وسائل نہ ہونے کے برابر ہیں،ملک دشمن عناصر کی طرف سے مسلسل دہشت گردی کا شکار رہنے کے باعث یہاں پر عدم تحفظ کا احساس بھی پایا جاتا ہے، یہاں کے شہریوں کو سیلاب جیسی آفات سے محفوظ رکھنے کے لیے مسلح افواج نے تاریخی کردار ادا کیا ہے۔پاک فوج نے ان متاثرہ علاقوں میں شدید طوفانی بارشوں کے باعث ہونے والے نقصانات سے عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر ریسکیو اور بحالی کے آپریشن شروع کیے ہوئے ہیں۔سیلاب متاثرین کو سیلابی ریلوں سے محفوظ مقامات تک پہنچانے کے لیے پاک فوج تمام ذرائع استعمال کر رہی ہے۔دور دراز علاقوں میں بارش اور سیلاب سے متاثرہ افراد کے لیے پاک فوج کے فری میڈیکل کیمپس کام کر رہے ہیں۔ان میڈیکل کیمپوں میں علاج معالجے کی مفت سہولیات کے ساتھ ساتھ  مفت ادویات بھی فراہم کی جا رہی ہیںتاکہ بارشوں سے متاثرہ افراد کو علاج معالجے کی سہولیات مل سکیں۔
سیلاب سے نمٹنے کے لیے پاک فوج کی حکمت عملی
مستقبل کے حالات کو دیکھتے ہوئے منظم منصوبہ بندی،دستیاب  وسائل کا بہترین استعمال اور خطرات کو بھانپ کر ان سے نمٹنے کے لیے اقدامات کرنا پاک فوج کا خاصا رہا ہے۔یہی وجہ ہے کہ پاک فوج کی بدولت پاکستان تمام بڑے سانحات کا بہادری سے سامنا کرتا ہے۔پاک فوج نے ملک میں سیلاب کے نتیجے میں  آنے والی کسی بھی تباہی سے نمٹنے کے لیے ایک الگ نظام قائم کر رکھا ہے۔جسے''آرمی فلڈ پروٹیکشن اینڈ ریلیف آرگنائزیشن''کہا جاتا ہے۔یہ فلڈ ریلیف سنٹر 1977 میں قائم کیا گیا تھا۔سیلاب کا موسم شروع ہونے سے قبل یہ سنٹر فعال ہوتا ہے اور کچھ احتیاطی تدابیر کا آغاز کردیا جاتا ہے۔ہر سال برسات شروع ہونے سے قبل انجینئر ڈائریکٹوریٹ میں''آرمی پری فلڈ سیزن کوآرڈی نیشن''کانفرنس منعقد ہوتی ہے۔جس کی صدارت انجینئر ان چیف کرتے ہیں۔اس کا نفر نس میں تمام کمانڈرز،کور انجینئرز،چیئرمین فلڈ کمیشن،محکمہ آب پاشی کے صوبائی سیکرٹری صاحبان،واپڈا اور دیگر متعلقہ محکموں کے افسران شریک ہوتے ہیں۔سیلاب سے نمٹنے کے لیے تمام امور نمٹانے کا اہتمام کیا جاتا ہے اور متعلقہ سول انتظامیہ سے مل کر ہنگامی متبادل منصوبہ بندی کی جاتی ہے۔عام طور پر یہ کاروائی 30 مئی سے قبل مکمل کر لی جاتی ہے۔بلوچستان میں بارشوں اور سیلاب کے بعد فوری طور پر فوج کی طرف سے ریلیف آپریشن کا آغاز اس بات کا اظہار ہے کہ فوج نہ صرف دہشت گردوں کی سرکوبی کے لیے تیار ہے بلکہ سیلاب طوفان اور دیگر قدرتی آفات کی صورت میں اپنے ہم وطنوں کے ساتھ کھڑی ہے اور ریلیف  سرگرمیوں میں بھی سب سے آگے ہے۔
لسبیلہ میں فوج کی قربانی
پاک فوج کی طرف سے سیلاب زدگان کو ریلیف دینے کے حوالے سے کمٹمنٹ کا یہ عالم تھا کہ کور کمانڈر کوئٹہ بذات خود ریلیف کی سرگرمیوں میں حصہ لیتے رہے اور اسی سرگرمی کے دوران انہوں نے جام شہادت نوش کیا۔جنرل سرفراز علی کی شہادت اس بات کا واضح ثبوتہے کہ پاکستان کی افواج کے ہر سطح کے افسران اپنی قوم کو مصیبت سے محفوظ رکھنے کے لیے میدان عمل میں موجود ہوتے ہیں۔ان کے ساتھ ہیلی کاپٹر میں سوار دیگر افراد میں ڈی جی کوسٹ گارڈز میجر جنرل امجد حنیف ستی کی ایک ہفتہ قبل آرمی کے پروموشن بورڈ کے دوران میجر جنرل کے رینک میں ترقی ہوئی تھی۔ہیلی کاپٹر میں موجود بریگیڈیر خالد کا تعلق کور آف انجینئرز سے تھا۔یوں اس حادثے میں شہید ہونے والوں میں کور کمانڈر کوئٹہ لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی، کے علاوہ  ڈائریکٹر جنرل پاکستان کوسٹ گارڈز میجر جنرل امجد حنیف ستی اور بریگیڈیئر خالد،عملے کے تین ارکان بشمول پائلٹ میجر سعید احمد، پائلٹ میجر محمد طلحہ منان اور نائیک مدثر فیاض بھی شامل تھے جنہوں نے مادر وطن کی حفاظت اور اپنے ہم وطنوں کو سیلاب سے محفوظ رکھنے کے مشن کے دوران اپنی جانیں قربان کردیں۔
صوبہ سندھ میں پاک فوج کی امدادی کارروائیاں
بارشوں اور سیلاب سے متاثر ہونے والے صوبوں میں سندھ شدید متاثرہصوبہ ہے۔اعداد و شمار کے مطابق صوبہ سندھ میں زیادہ پانی کی وجہ سے سانگھڑ، لاڑکانہ اور خیرپور میں 13 افراد جاں بحق ہوئے۔ قمبر شہداد کوٹ میں مقامی بند ٹوٹنے کے سبب 600 افراد متاثر ہوئے۔ اسی طرح پاکستان کا تجارتی مرکز کراچی بھی بارش سے شدید متاثر ہونے والے شہروں میں شامل تھا۔یہاں پر پاکستان کی مسلح افواج اور رینجرز نے سول انتظامیہ کے ساتھ شہری علاقوں میں جمع ہونے والے پانی کو نکالا۔کچی بستیوں میں رہنے والے لوگوں کی جانیں محفوظ بنانے کے لیے انہیں مختلف ریلیف کیمپوں میں منتقل کیا۔ اندرون سندھ میں افواج پاکستان نے سندھ کے عوام کو فوری ریلیف اور ریسکیو کرنے کی فعال حکمت عملی مرتب کی،پاک فوج نے ٹھٹھہ میں 60 خاندانوں کے لیے ہنگامی بنیادوں پر خیمہ گاؤں قائم کیا, پاک فوج کے جوان تھر، بدین،سجاول، سانگھڑ، جامشورو،  میرپور خاص،کوٹ ڈیجی، خیرپور،نوشہرو فیروز اور دادو ضلع میں سیلاب متاثرین کو راشن اور امدادی اشیاء فراہم کر رہے ہیں۔ ٹنڈو اللہ یار اور مٹیاری میں موبائل میڈیکل ٹیموں کے ذریعے طبی امداد فراہم کر رہے ہیں، پاک فوج کی جانب سے سانگھڑ میں فیلڈ میڈیکل سینٹر کو فوری قائم کیا گیا ۔ 
صوبہ پنجاب میں فوج کی امدادی کارروائیاں
صوبہ پنجاب کے جنوبی اضلاع میں بارشوں کی وجہ سے آنے والے سیلاب نے تباہی مچادی۔ڈیرہ غازی خان ڈویژن کے تمام اضلاع ان بارشوں سے متاثر ہوئے۔کوہ سلیمان سے آنے والے سیلاب نے انفراسٹرکچر کو تباہ کر دیا۔پانی کی گزرگاہوں پر بنی ہوئی آبادیاں ملیا میٹ ہوگئیں۔ضلع راجن پور بھی شدید متاثر اضلاع میں شامل ہے۔اس ضلع کے گاؤں سیلاب میں بہہ گئے۔فاضل پور اور صحبت پور کے دیہاتوں میں ہونے والی تباہی نے ہر آنکھ اشکبار کردی۔تحصیل تونسہ شریف میں بھی وسیع پیمانے پر تباہی ہوئی۔یہاں پر سیکڑوں لوگ جاں بحق ہوگئے ان کے مال مویشی پانی میں بہہ گئے۔زراعت تباہ ہو کر رہ گئی۔ان حالات میں پاکستان کی مسلح افواج خاموشی سے کیسے بیٹھ سکتی تھیں۔انہوں نے سول انتظامیہ کی مدد کرنے کے لیے ایک مربوط پلان تشکیل دیا۔ پاک فوج نے ڈی جی خان کے 300 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا، 2000 مریضوں کا علاج کیا گیا۔ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں 50 سے زائد ریلیف کیمپ قائم کیے گئے جہاں 5562 افراد کوپناہ دی گئی۔ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں مجموعی طور پر 38242 راشن کے پیکٹ تقسیم کیے جا چکے ہیں۔ 37428 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے 4 فیلڈ میڈیکل کیمپس قائم کیے گئے،ہر ایک فیلڈ میڈیکل کیمپ میں ایک لیڈی میڈیکل آفیسر کے علاوہ دو میڈیکل آفیسرز ہیں جہاں 3847 مریضوں کا اب تک علاج کیا جاچکا ہے۔طبی امداد کا یہ عمل ابھی بھی جاری ہے۔جنوبی پنجاب کے تمام اضلاع میں فوج کی طرف سے ریلیف کا کام مسلسل جاری ہے۔چیف آف آرمی سٹاف نے یہ عزم ظاہر کیا ہے کہ عوام کی بحالی تک مسلح افواج کا ادارہ سول انتظامیہ کے شانہ بشانہ کام کرتا رہے گا۔
صوبہ بلوچستان میں امدادی کارروائیاں
جیسا کہ پہلے عرض کیاگیا کہ صوبہ بلوچستان سیلاب کے شدید ترین متاثرہ حصوں میں شامل ہے۔سیلابی پانی کے باعث وہاں کا انفراسٹرکچر بری طرح تباہ ہو چکا ہے۔یہاں پر پاک فوج نے ریلیف آپریشن میں حصہ لیتے ہوئے وسیع قربانیاں پیش کی ہیں۔کور کمانڈر کوئٹہ اپنے ساتھیوں سمیت ریلیف آپریشن میں حصہ لیتے ہوئے شہادت کے منصب پر فائز ہوئے۔ پاک فوج کی امدادی کوششوں کے تحت صوبے میں 5  فیلڈ میڈیکل کیمپس قائم کیے گئے ہیں جہاں اب تک سیکڑوں مریضوں کا علاج کیا گیا ہے جبکہ طبی امداد کا یہ سلسلہ تا حال جاری ہے۔ متاثرین کو ریسکیو کرنے کے ساتھ ان کے کھانے،پینے، رہائش کے انتظام کو فوری یقینی اور موثر بنایا جارہا ہے۔لسبیلہ، جھل ماگی، غنڈاوا، راجن پور، ڈی جی خان دادو اور غذر کے آفت زدہ علاقوں سے 40000 سے زائد شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔ریلیف کا کام مسلسل جاری ہے۔
خیبرپختونخوا میں امدادی کارروائیاں
 صوبہ خیبر پختونخوا میں مسلسل بارشوں کے باعث شہر در شہر سڑکوں کا رابطہ منقطع ہوگیا ہے۔پاک فوج کی امدادی کوششوں کے سبب زندگی کو محفوظ رکھنے کا عمل جاری ہے۔پاک فوج ریلیف کیمپ قائم کرچکی ہے۔مزید کا قیام جاری ہے۔پاک  فوج کی جانب سے تاحال ایک ہزار سے زائد متاثرین میں راشن کے پیکٹ تقسیم کیے گئے ہیں۔ ایک ہزار سے زائد مریضوں کا علاج ہوچکا ہے۔چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں کا دورہ کیااور وہاں پر ریلیف سرگرمیوں میں حصہ لینے والے فوجی جوانوں سے ملاقات کی۔پاک فوج کے ہیلی کاپٹرز کے ذریعے کمراٹ میں پھنسے ہوئے سیاحوں کو محفوظ طریقے سے نکال کر اسلام آباد پہنچایا۔ریلیف سرگرمیوں کا سلسلہ تاحال جاری ہے
3 دن کا راشن سیلاب زدگان کو دینے کا اعلان 
پاک  فوج نے  اپنا 3  دن کا راشن یعنی 1500 ٹن راشن سیلاب زدگان میں تقسیم کردیا ہے۔ سیلاب زدگان کے لیے عوامی عطیات وصول کرنے کی غرض سے آرمی کے تحت عطیہ مراکز قائم کرنے کا بھی  فیصلہ کیا گیا ہے۔ فوج نے عوام اور مخیر حضرات سے اپیل کی ہے کہ خیموں، بستروں، کمبلوں، پانی کے ٹینکوں اور تَرپالوں کی اشد ضرورت ہے۔وفاقی کابینہ اور فوجی افسران کا ایک ماہ کی تنخواہ سیلاب فنڈ میں دینے کا اعلان کیا ہے۔
پاک فوج اب تک 40 ہزار افراد کو محفوظ مقامات اور آرمی کے قائم کردہ 137  سے زائد ریلیف کیمپوں میں منتقل کر چکی ہے۔
متفرق سرگرمیاں 
سیلاب متاثرہ صوبوں میں فوجی دستے ملبہ ہٹانے اور بند سڑکوں کو کھولنے میں سول انتظامیہ کی مدد کر رہے ہیں۔پاکستان آرمی کے جنرلز نے ایک ماہ کی سیلری سیلاب زدگان کو دینے کا اعلان کیا ہے۔
6500 فوجی اہلکاروں کو  ملک بھر میں اب تک  250 گاڑیاں، 50  کشتیاں اور 60 ڈی واٹرنگ ٹیموں کے ساتھ مختلف ریسکیو/ ریلیف آپریشنز میں متعین کیا جا چکا  ہے۔ وقتاً فوقتاً متعدد ہیلی کاپٹرز کو امدادی سرگرمیوں کے درمیان استعمال کیا جارہا ہے  اور پھنسے ہوئے افراد کی بڑی تعداد کو نکالاجارہا ہے اس کے علاوہ لسبیلہ، اُتھل، آواران، غذر، کوہ سلمان (جنوبی پنجاب)، راجن پور کے دور دراز علاقوں میں امدادی اشیاء کی تقسیم میں مدد  اور ڈی جی خان کے متاثرہ علاقوں میں ریسکیو آپریشن کیا گیا ہے
خدمت کا سفر جاری
پاک فوج سول اداروں کے شانہ بشانہ خدمت کا سفر جاری رکھے ہوئے ہے۔عوام کو مفت ادویات کی فراہمی کا سلسلہ جاری ہے،پانی میں پھنسے ہوئے لوگوں کو محفوظ مقامات تک پہنچایا جا رہا ہے،بے گھر ہونے والے لوگوں کو خیموں کی فراہمی کا سلسلہ جاری ہے،چیف آف آرمی سٹاف کی اپیل پر غیر ملکی ڈونرز نے بھی حوصلہ افزا رویّے کا مظاہرہ کیا ہے۔خصوصاً متحدہ عرب امارات اور چین نے آرمی چیف کی اپیل پر ردعمل دیتے ہوئے حکومت پاکستان کے ساتھ بھرپور تعاون کا مظاہرہ کیا ہے۔پاک فوج اور عوام ایک دوسرے کے شانہ بشانہ ہیں۔مشکل کی اس گھڑی میں ساتھ دینے اور مشکلات کم کرنے میں مسلح افواج کی خدمات پر پوری قوم پاک فوج کی شکر گزار ہے۔ ||


 مضمون نگار لاہور اور کراچی میں قائم جسٹس پیرمحمد کرم شاہ انسٹیٹیوٹ آف ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ کے بانی ڈائریکٹر ہیں۔
 [email protected]
 

یہ تحریر 155مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP