یوم دفاع

نقطۂ پرکارِ حق مردِ خدا کا یقیں

میں اس بات کا شاہد ہوں کہ 1965  میں افواج پاکستان آج ہی کی طرح جہاد کے جذبے سے معمور تھیں۔ مملکت خداداد 14 اگست 1947 ء کو معرضِ وجود میں آئی۔اُس دن رمضان المبارک کی ستائیسویں تاریخ تھی یعنی وہ مبارک دن جب قرآن پاک کا نزول ہوا۔ 
32 سالہ فوجی ملازمت میں1965ء کی جنگ بلا شبہ میری زندگی کا سنہرا دور تھا۔ سکینت قلب کی اصطلاح ہم پڑھتے اور سنتے آئے ہیں، لیکن سکینت وارد ہونے کی کیفیت کا عملی تجربہ اتنا خوبصورت اور ناقابل بیان تھا کہ میں اسے حاصل زندگی سمجھتا ہوں یعنی ہر خطرناک، تکلیف دہ اور پریشان صورتِ حال سے عجیب طرح کی لا تعلقی۔یوں جیسے جیتے جاگتے آپ کی حسیات کی لَو مدھم کر دی گئی ہو۔ 1965 ء والی اخوت ، یگانگت، محبت اور وحدت دوبارہ دیکھنے کو آنکھیں ترس گئی ہیں۔ تب قوم مختلف سیاسی ٹکڑیوں اور مذہبی فرقوں میں بٹے ہونے کے بجائے جسد واحد کی مانند تھی۔ بلا استثنا ہر پاکستانی قوم و ملت کی خاطر کچھ کر گزرنے کے جذبے سے سر شار دکھائی دیتا تھا۔ یوں لگتا تھا جیسے تمام قوم اپنے قول و فعل سے قرآنی آیات کی عملی تصویر بن گئی ہو۔ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑنے اور متحد ہونے والی آیت پر عمل کا نمونہ پیش کیا جارہا تھا۔ تب پہلی بار علامہ اقبال  کے شعر 
یہ بات کسی کو نہیں معلوم کہ مومن  
قاری نظر آتاہے حقیقت میں ہے قرآن   
 کا مفہوم پورے سیاق و سباق کے ساتھ مجھ پر منکشف ہوا ۔ مناجات سحر کے مقابلے میں معرکہ آرائی کی اہمیت واضح ہوئی۔ میری گنہگار آنکھوں نے اللہ کے بھیجے ہوئے فرشتوں کا احاطہ تو نہ کیا،لیکن قدم قدم پر اللہ کی مدد شامل حال نظر آئی ۔ ویسے بھی جب بھیجنے والا بصیرت کی آنکھوں سے دکھائی دے رہا ہو تو فرستادوں کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی ۔ کیا جوان اور کیا افسران، سب کا جوش و جذبہ دیدنی تھا۔ ہر کوئی وطن کے دفاع کی خاطر تن من دھن کی بازی لگانے میں سبقت لے جانا چاہتا تھا۔
دنیا کی جنگی تاریخ کے اعداد و شمار کے مطابق اوسطاً اموات کی شرح پینتیس جوانوں کے پیچھے ایک افسر کی ہے لیکن جب پاکستان کا وجود خطرے میں پڑا تو اس پاک دھرتی کے سپوت اپنے ہاتھوں پر سروں کی قندیلیں سجائے موت کو للکارتے نظر آئے۔ ہمارے افسروں کی شہادت کی شرح ایک افسر فی پندرہ جوان رہی۔ اتنی بلند شرح شہادت کو انگریزوں کی بقا کی خاطر جنگیں لڑنے والوں نے نا تجربہ کاری پر محمول کیا، لیکن ملک کی عزت و وقار پر جانیں قربان کر دینے والوں کے جذبے کی سچائی کا ایسے مادہ پرستوں کوشعور نہ تھا۔ بے شک دلوں کا حال اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ 
1965ء کی جنگ میں بہت سے انہوں نے واقعات کا مشاہدہ بھی ہوا جن کی کوئی سائنسی یا عقلی توجیہہ ممکن نہیں تھی۔ جنگ کے دوران چونکہ اس نوعیت کے بہت سے واقعات پیش آتے رہے اس لیے وہ چنداں غیر معمولی ہونے کی اہمیت حاصل نہ کر پائے ۔ آنے والے برسوں میں ان کی حیثیت محض ناقابل یقین قصے کہانی کی رہ گئی، تاہم آج مجھے یہ احساس ہوتا ہے کہ ایسے واقعات کوریکارڈ پر لانا چاہیے کیونکہ یہ ہماری آنے والی نسلوں کی امانت ہیں۔ درج ذیل واقعات اسی سلسلے کی کڑی ہیں۔ 
9 ستمبر کا دن تھا اور میری یونٹ سیالکوٹ سیکٹر میں سچیت گڑھ کے محاذ پر دشمن کے دانت کھٹے کر رہی تھی۔اس وقت تک ہم72 گھنٹوں سے لگاتار اپنی پیادہ فوج کو فائری امداد دے رہے تھے۔ کسی نے آنکھ جھپکی تھی نہ کسی کو کھانے پینے کا ہوش تھا۔ فائر کی طلب میں اس قدر اضافہ ہوگیا تھا کہ توپیں مسلسل رعد و برق کی طرح دشمن پر آہن و آتش کی بارش کر رہی تھیں۔ دشمن پر توپ خانے کا فائر گرانے کی ضرورت ختم ہونے کو نہ آتی تھی ۔ جونہی ایک ہد ف پر کامیاب فائر گرایا جا چکتا، ساتھ ہی دوسرے ہدف پر توپ خانے کا فائر طلب کر لیا جاتا۔ توپ خانے کے نپے تلے اور درست فائر کی بنا پر دشمن کے تین ڈویژنوں کا حملہ کامیابی سے روکا جا چکا تھا ۔ اس کے باوجود دشمن زخمی ناگ کی طرح پہلو بدل بدل کر حملہ آور ہورہا تھا۔ دونوں جانب سے غالب آنے کی انتھک کوشش جاری تھی۔
توپ خانے کے فائر کی مسلسل ضرورت کی بنا پر سکھلائی کے برعکس تو پ خانے کی پوزیشن کو بر وقت بدلنا ممکن نہ تھا ۔ اس وجہ سے دشمن کے سراغ لگانے والے برقی آلات ہماری پوزیشن معلوم کرنے میں کامیاب ہوگئے ۔ 9 ستمبر کے دن تقریباً 10بجے دشمن نے اچانک شدید جوابی گولہ باری شروع کر دی۔ گولہ باری اس شدت کی تھی کہ الامان والحفیظ۔ گویا دشمن نے اندازہ لگا لیا تھا کہ پاکستانی توپ خانے کو تباہ کیے بغیر اس کے لیے ہمارے دفاعی مورچوں کو روندنا نا ممکن تھا۔ادھرہماری جانب اشد ضرورت کی بنا پراضافی گولہ بارودبھی  ہماری بیٹری ہی میں ذخیرہ کر دیا گیا تھا تاکہ فائری امداد میں تعطل پیدا نہ ہو۔ مجھے شدید خطرے کا احساس تھا کہ اگر دشمن کا ایک بھی گولہ ہمارے گولہ بارود کے ذخیرے پر پڑ گیا تو تمام بیٹری کا وجود حرف غلط کی طرح مٹ جائے گا، لیکن ایسی شدید گولہ باری میں کسی بہتر حکمتِ عملی پر عمل در آمد ممکن نہ تھا۔ دشمن کا فائر بتدریج قریب سرکتا آرہا تھا۔ میں نے احتیاطاً گولہ بارود سے لدی ہوئی گاڑیوں کو محفوظ مقام پر منتقل ہونے کا حکم دیا۔تاہم توپوں کے نزدیک زمین پر پڑے ہوئے گولہ بارود کا کچھ نہیں کیا جاسکتا تھا۔ یوں لگتا تھا کہ گن پوزیشن پر اپنے ہی گولہ بارود کے پھٹنے سے تمام بیٹری کے مقدر میں شہید ہونا لکھ دیا گیا ہو۔ میں نے بے بسی کے عالم میں اللہ کے حضور صدق دل سے دعا کی کہ اے پروردگار عالم میری بیٹری کو تو ہی تباہی سے بچا سکتا ہے۔ اسی اثنا میں دشمن کی گولہ باری میں مزید شدت پیدا ہوگئی۔ گرد، دھوئیں اور گولوں کے پر افشاں آتشیں ٹکڑوں کے علاوہ کچھ دکھائی نہیں دیتا تھا۔ اچانک ایک گولہ قریب کی توپ کے گولہ بارود کے ذخیرے پر گرا۔ میں نے آنکھیں بند کر لیں، شدت یاس و غم سے سر جھکا لیا اور کلمہ طیبہ کا ورد کرنے لگا۔ اب صرف ایک ثانیے کی دیر تھی اور سب کچھ ختم ہوجاتا۔ میں انتظار میں تھا کہ دھماکہ اب ہوا کہ ہوا۔ وقت کی نبض تھم گئی ، ز مین کی گردش رک گئی، لیکن موت سے شدیدتر انتظار طویل ہوتا چلا گیا۔ اچانک مجھ پر آشکارہوا کہ دشمن کی گولہ باری تھم چکی ہے۔ لیکن ان گولوں کا کیا ہوا جو ہمارے گولہ بارود کے ذخیرے پر گرے تھے ؟
 میں کمان پوسٹ سے دیوانہ وار ذخیرے کی طرف بھاگا۔ دشمن کا گرایا ہوا ایک گولہ ہمارے ذخیرے سے صرف دس فٹ دور پھٹا تھا۔ اس کے ٹکڑوں نے ہمارے ایمونیشن کے بکسوں کے اوپر والے ڈھکن اڑا دیے تھے، لیکن تمام ایمونیشن ماں کی گود میں بچے کی طرح محفوظ تھا۔ دوسرا گولہ کہاں گیا جو باردوی ذخیرے کے عین وسط میں گرا تھا؟ میں بہت احتیاط سے  قدم بہ قدم آگے بڑھا، لیکن عقدہ حل نہ ہوا۔ میں نے کھلی آنکھوں سے توپ کا گولہ ذخیرے کے عین وسط میں گرتے دیکھا تھا۔ زمین سے دھول بھی اڑی تھی۔ تو پھر گولہ کہاں گیا؟ میں نے چند بکس ہٹوا کر قریب سے جائزہ لیا۔ بے ترتیب پڑے ہوئے ایمونیشن کے بکسوں کے درمیان تقریباً ایک فٹ جگہ خالی رہ گئی تھی۔ دشمن کا گرایا ہوا گولہ اس کے عین وسط میں یوں پیوست تھا گویا ہر طرف سے پیمائش کرکے وہاں کھونٹا گاڑ دیا گیا ہو۔ میں مسرت اور حیرت سے سن ہو کر رہ گیا۔ پھر میں نے تشکر بھری نگاہوں سے آسمان کی طرف دیکھا اور اللہ کا ایک عاجز بندہ خاموشی کی زبان میں اپنے خالق سے ہم کلام ہوا :  فبای الاء ربکماتکذبان ۔
بیٹری کے تمام جوانوں نے موت کو اتنے قریب آکر واپس جاتے دیکھا تو سب کا ایمان تازہ ہو گیا جوانوں نے اللہ اکبر کا فلک شگاف نعرہ لگایا اور دوبارہ دشمن پر گولہ باری شروع کر دی۔ اس بار ہم نے پہلے وہ گولے فائر کیے جن کے ایمونیشن بکس کے ڈھکنے دشمن کے فائر سے ٹوٹ گئے تھے۔ آبزرور کی رپورٹ کے مطابق ہمارے اس فائر نے دشمن کو بہت نقصان پہنچایا۔ 
چونکہ ہماری یہ پوزیشن دشمن کے سراغ لگانے والے برقی آلات کی زد میں آچکی تھی، لہٰذا فائر کی شدت میں کمی آتے ہی میں توپ خانے کے لیے متبادل پوزیشن کی تلاش میں روانہ ہوگیا۔ ہم نے بمشکل دو تین میل کا فاصلہ طے کیا تھا کہ آسمان پر دشمن کے جیٹ طیارے نمودار ہوئے۔ ان کی نیچی پرواز سے ان کا جارحانہ انداز مترشح تھا۔ جونہی انہوں نے غوطہ لگایا ، میں نے جیپ ایک قریبی جھنڈ کی طرف دوڑا دی۔ مقصد ان کے نشانہ باندھے ہوئے فائر سے بچنا تھا۔ میری نگاہ آسمان کی طرف تھی اور پائوں ایکسی لیٹر پر ۔ ایم 38 امریکن جیپ ایک تنگ پگڈنڈی پر پوری رفتار سے دوڑ رہی تھی۔ جہاز سے مشین گن کا برسٹ فائر ہوا جو جیپ سے چند فٹ آگے پگڈنڈی پر لگا ۔ زمین سے دھول اٹھی۔ سفر جاری رہا۔ جہاز آگے نکل گیا۔ اب پیچھے والے جہاز نے جیپ کو اپنا ہدف بنا لیا۔ ایکسی لیٹر جیپ کے فرش سے لگ گیا تھا ۔ جیپ اچھلتی کودتی ساٹھ میل کی رفتار سے دوڑ رہی تھی۔ اچانک زور دار جھٹکا لگا اور میں ونڈ سکرین سے جا ٹکرایا۔ دوبارہ سنبھل کر میں نے ایکسی لیٹرپر پائوں جما دیا۔ انجن غرایا، پہئے گھومے، لیکن جیپ ساکن رہی۔ میں نے گرد و پیش کا جائزہ لیا تو جیپ رکی ہوئی تھی۔ عین اس وقت جیٹ طیارے نے برسٹ فائر کیا تھا لیکن جیپ ایک سیکنڈ پہلے ہی غیر متحرک ہوچکی تھی۔اس لیے فائر جیپ سے چند قدم آگے پانی کے کھال میں لگا۔ جیپ کا رک جانا ہمارے لیے نئی زندگی کا پیغام ثابت ہوا۔ میں سخت متعجب تھا کہ جیپ رک کیسے گئی۔ نیچے اتر کر جائزہ لیا ۔ دراصل درختوں کے جھنڈ کی طرف جاتی ہوئی پگڈنڈی بتدریج تنگ ہوتی جارہی تھی۔ ایک مرحلہ ایسا آیا کہ جیپ کا پیٹ پگڈنڈی سے جا لگا اور چاروں ٹائر ہوا میں معلق ہوگئے کیونکہ پگڈنڈی کے دونوں طرف پانی کا خشک کھالا تھا اور پگڈنڈی کھیتوں کی عام سطح سے اونچی تھی۔ بھارتی جیٹ اپنے ناکام مشن کے بعد واپس جا چکے تھے۔ میرے ساتھ صرف تین افراد تھے۔ ڈرائیور مہر خان،  وائرلیس آپریٹر محمد اشرف اور نقشہ بردار ٹیکنیکل اسسٹنٹ عاشق حسین ۔ اتنے میں دو دیہاتی بھی آشامل ہوئے اور جیپ کو نکالنے میں مدد کی پیش کش کی۔ دس منٹ کی زور آزمائی کے بعد سب نے متفقہ فیصلہ دے دیا کہ ریکوری کے بغیر جیپ کو نہیں نکالا جاسکتا ۔ میں نیا نیا پُر جوش لیفٹیننٹ تھا جو کچھ نہ جانتے ہوئے بھی سب کچھ کرگزرتا ہے۔
 میں نے کہا کہ تعجب ہے ہم چھ افراد صرف سات من وزنی جیپ کو نہیں اٹھا سکتے ۔ دیہاتیوں نے استفسار کیا کہ کیا واقعی جیپ صرف سات من وزنی ہے۔ میں نے پورے یقین سے کہا کہ ہاں صرف سات من وزنی ہے۔ ڈرائیور نے دبی زبان میں کہا کہ سر اس کا وزن سات من سے بہت زیادہ ہے، لیکن میں نے اسے ڈانٹ دیا کہ تم نہیں جانتے تو مت بولو۔ دراصل M-38 جیپ کو عرف عام میں کوارٹر ٹن (1/4)گاڑی کہا جاتا ہے۔ یہ اس کی وزن اٹھانے کی صلاحیت ہے نہ کہ اپنا وزن، تاہم ان دنوں میں واقعی یہ سمجھتا تھا کہ جیپ کا اپنا وزن سات من ہے۔ میں نے کہا1/4 ٹن کا مطلب ہے ایک ٹن کا چوتھائی وزن۔ چونکہ ٹن 28 من کا ہوتا ہے ، لہٰذا جیپ کا وزن سات ہی من ہے۔ میرا پر اعتماد انداز متاثرکن تھا۔ سب یک زبان ہو کر بولے کہ پھر تو کوئی بات ہی نہیں۔ ہر شخص کے حصے میں صرف پینتالیس سیر وزن آتا ہے۔ سب نے مل کر اللہ اکبر کا نعرہ لگایا اور جیپ کو کھلونے کی طرح اٹھا کر ہموار جگہ پر رکھ دیا۔ ہم دیہاتیوں کا شکریہ ادا کرکے پھر اپنے مشن پر روانہ ہوگئے۔
اس واقعے کے دو سال بعد ایک لیکچر کے دوران مختلف گاڑیوں کی خصوصیات بیان کی جارہی تھیں۔ کیپٹن رستم علی خان لیکچر دے رہے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ 1/4 ٹن جیپ کا وزن تقریباً تین ہزار پائونڈ یعنی کم و بیش سوا ٹن ہے۔ یہ سن کر میں بول اٹھا کہ ستمبر 1965 ء کی جنگ کے دوران ہم چھ افراد نے اسے باآسانی اٹھا لیا تھاتو سب بے یقینی سے ہنسنے لگے۔ تقریباً سب افسر یک زبان ہو کر بولے کہ حامد سعید کوئی ایسی بات کرو جس پر یقین بھی کیا جاسکے۔ سواٹن وزنی گاڑی کو بھلا چھ افراد کیسے اٹھا سکتے ہیں ؟میں اپنے ساتھیوں کو تو قائل کرنے میں ناکام رہا لیکن اس موقع پر مجھے اپنے نفسیات کے پروفیسر زیدی صاحب یاد آگئے۔ 1958 ء میں جب راقم ایف اے کا طالب علم تھا تو زیدی صاحب نے ہمیں بتایا تھا کہ بعض دفعہ کسی لمحاتی صدمے یا نفسیاتی دبائوکے تحت انسان ناممکن چیزیں بھی کر لیتا ہے۔ موصوف نے نفسیات کی کتاب میں سے دو مثالیں بھی بیان کی تھیں۔ ایک موقع پر ایک بپھرا ہوا سانڈ بے قابو ہو کر بُل فائٹر کو مارنے کے لیے لپکا تو بُل فائٹر اپنی جان بچانے کے لیے بارہ فٹ اونچے حفاظتی جنگلے کے اوپر سے پھلانگ کر باہر جا گر ا۔ عام حالات میں کسی انسان کے لیے اتنی اونچی چھلانگ لگانا ممکن ہی نہیں ہوسکتا۔ اسی طرح اپنے خاوند کی موت کے صدمے سے دو چار ایک خاتون سڑک سے چھلانگ لگا کر آٹھ فٹ بلند بیڈر وم کی کھڑکی کے راستے گھر میں داخل ہوگئی۔ یہ باتیں ہمیں اُس وقت بالکل ناقابل یقین لگتی تھیں لیکن جب عملی زندگی میں ایسی صورت حال کا سامنا کرنا پڑے تو پھر ایسے حقائق کی صداقت آشکار ہوجاتی ہے۔
آج میں سوچتا ہوں تو اس بات کا نفسیاتی پہلو تو یہ دکھائی دیتا ہے کہ شاید جنگی صورت حال کے غیر معمولی دبائو نے ہمیں بروئے کار لانے کیلئے غیر معمولی قوت فراہم کر دی تھی۔اس بات کا روحانی پہلو یہ ہے کہ ممکن ہے وہ دو دیہاتی جنہوں نے جیپ کو باہر نکالنے میں ہمارا ہاتھ بٹایا تھا وہ انسانی روپ میں اللہ کے بھیجے ہوئے فرشتے ہوں۔ میں اس پر کوئی حتمی رائے دینے سے قاصر ہوں ۔ تاہم میں جب ساری صورتِ حال کا مجموعی طور پر جائزہ لیتا ہوں تو نگاہ علامہ اقبال کے اس شعر پر جم کر رہ جاتی ہے۔ 
جب اس انگارۂ خاکی میں ہوتا ہے یقیں پیدا 
تو  کر  لیتا  ہے یہ بال و پرِ روح الامیں پیدا ||


مضمون نگار مختلف موضوعات پر لکھتے ہیں اور متعدد کتابوں کے مصنف ہیں۔
[email protected]

یہ تحریر 50مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP