ہمارے غازی وشہداء

مُحسنِ وطن

شہید پائلٹ میجر ایاز حسین پاکستان کے صوبہ سندھ کے بہادر سپوت  تھے۔ میجر ایاز حسین شہید کا خاندان صوبہ سندھ کے شہر مورو میں آباد ہوا۔ میجر ایاز حسین شہید کے والد ممتاز حسین کورائی بھی پہلے 54 بلوچ رجمنٹ اور پھر بطور ایس ایس جی کمانڈو پاک فوج میں خدمات انجام دے چکے ہیں۔  ممتاز حسین کورائی اپنے علاقے سے فوج میں شمولیت اختیار کر نے والے پہلے جوان تھے۔ والد کی وطن سے محبت اور پاک فوج کے لیے خدمات کو دیکھ کر ایاز حسین کورائی کو فوج میں جانے کا شوق پیدا ہوا۔ ایاز حسین کورائی نے انٹر کے امتحانات کا نتیجہ نکلنے سے پہلے ہی فوج کا انٹری ٹیسٹ دیا جس کو وہ اپنی صلاحیت کی بنیاد پر پاس کر گئے ۔



ایاز حسین کو اکتوبر2005 میں 116 لانگ کورس کے لیے کال آئی۔ خاندان میں سب اس کامیابی پر خوش تھے کہ سندھ کے ایک دور افتادہ علاقے کا بیٹا میرٹ پر پاک فوج میں سلیکٹ ہوا۔
میجر ایاز حسین  کے والدین نے ان کے بچپن کے بارے میں بتایا کے میجر ایاز شہید ایک ذہین اور محنتی بچے تھے۔ اپنے بھائیوں میں چوتھے نمبر پر تھے۔ بہن بھائیوں کے ساتھ بہت دوستانہ تعلقات رکھتے۔ایاز کھانے میں کبھی ضد نہ کرتے۔ ان کو سندھ کی ڈش 'بسری' بہت پسند تھی جس کو گڑ اور روٹی سے بنایا جاتا ہے۔ ان کی والدہ نے ان کی تربیت میں ہمیشہ وطن سے محبت اور وطن عزیز کی ماں ،بہنو ں، بیٹیوں کی عزت کا سبق دیا۔
 میجر ایاز حسین شہید 27 اکتوبر 2007کو 116 لانگ کورس کے ساتھ پاس آئوٹ ہوئے اور اپنے والد کی یونٹ 54بلوچ رجمنٹ میں پوسٹ ہو کر کمیشن حاصل کیا ۔ یونٹ ان دنوں کشمیر کے دیوا سیکٹر پر مامور تھی ۔ان کو بھی وہاں تعینات کیا گیا ۔ انہوں نے دو سال بارڈر کے اگلے دفاعی مورچوں پر بھارتی فوج کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر انتہائی چوکسی اور پروفیشنل انداز سے اپنی سپاہ کی کمانڈ کی۔ اس دوران ان کو لیفٹیننٹ اور پھر کیپٹن کے پروموشن بھی ملے اور پہلے پلاٹون کمانڈر پھر کمپنی کمانڈر کی ڈیوٹیاں کیں۔ 
انہیں آرمی کے جہاز اڑانے کا شوق ہوا تو انہیں ٹیسٹ اورانٹرویو کے بعد سلیکٹ کر لیا گیا ۔انہیں 2012 میں پائلٹ کورس P53  کے لیے گوجرانوالہ میں آرمی ایوی ایشن سکول بھیجا گیا جہاں انہوں نے بڑی محنت اور لگن سے کورس مکمل کیا اور پائلٹ بن کر بہاولپور میں 12 آرمی ایوی ایشن سکواڈرن میں تعینات ہوئے ۔ وہ چونکہ بہت جلد اچھے پائلٹ ثابت ہوئے تو انہیں پائلٹ انسٹرکٹر کورس کے لیے سلیکٹ کر لیا گیا اورپی اے ایف اکیڈمی رسالپور میں انسٹرکٹر کورس کے لیے بھیج دیا گیا ۔ وہاں پر بھی اعلیٰ کارکردگی کے ساتھ کورس مکمل کرکے واپس لوٹے اور کچھ عرصہ بعد پائلٹ انسٹرکٹر کے طور پر آرمی ایوی ایشن سکول گوجرانوالہ پوسٹ کردیا گیا ۔ آپ وہاں دو سال پائلٹ انسٹرکٹر رہے اور مشاق جہاز اڑانے کی تربیت دیتے رہے جہاں انہیں میجر کے عہدے پر ترقی ملی ۔اپنا دورانیہ پورا کرنے کے بعد ان کی پوسٹنگ ون ایوی ایشن سکواڈرن منگلا میں ہو گئی ۔
 میجر ایاز حسین شہید VVIPs پائلٹ کی ڈیوٹیاں سرانجام دیتے رہے۔میجر ایاز حسین کو ستمبر 2020 میں سکردو بیس پر 5 آرمی ایوی ایشن ہائی الٹیٹیوڈ سکواڈرن میں پوسٹ کیا گیا۔ جہاں 3 ماہ کے قلیل عرصے میں کے ٹو اور سیاچین گلیشیئر کے بلند وبالا  پہاڑوں پر افواج پاکستان کے جوانوں کے ریسکیو اور آپریشن مشن  سر انجام دیتے رہے اور ساتھ ساتھ سول امدادی کارروائیاں اور کوہ پیما ٹیموں کے رسد و ریسکیو مشن بھی کیے۔ میجر ایاز حسین شہید انتہائی مہارت سے مشن مکمل کرتے جس سے ان  کے سکوارڈن کے سینئر افسران بہت مطمئن تھے۔
 26 دسمبر 2020 کو میجر ایاز حسین کو سیاچن گلیشیئرکے منی مرگ سیکٹر سے سپاہی قدیر احمد شہید کا  جسد خاکی بذریعہ ہیلی کاپٹر ریسکیو کرنے کا ٹاسک ملا ۔ دوران آپریشن فنی خرابی کے باعث ان کا ہیلی کاپٹر حادثے کا شکار ہوا جس کے نتیجے میں میجر ایاز حسین ، میجر حسین محمد ارشاد،  نائیک انضمام عالم، سپاہی فاروق احمد نے شہادت کا درجہ حاصل کیا۔پاک فوج کے شہدا اپنا آج ہمارے کل پرقربان کر دیتے ہیں۔ میجر ایاز حسین شہید نے اپنی قیمتی جان کا نذرانہ پیش کر کے اپنے والدین کو سر خرو کر دیا۔ 
 موسم خراب ہونے کی وجہ سے کمیونیکیشن نہیں ہو پا رہی تھی اور رات ہونے کی وجہ سے ریسکیو مشن معطل کر دیا گیا  لیکن جائے حادثہ کا پتہ لگالیا گیا تھا ۔ اگلے دن 27 دسمبر 2020 کو تمام شہداء کے جسد خاکی جائے حادثہ سے نکال کر سکردو بیس لائے گئے جہاں ان کی نماز جنازہ پڑھائی گئی اور اپنے اپنے آبائی علاقوں میں بھجوادیا گیا ۔ شہید میجر ایاز حسین کا جسدِ خاکی 27 دسمبر 2020 کی شام کراچی پہنچایاگیا جس کو 28 دسمبر 2020 کو ان کے گھر کے نزدیک حاجی زکریا جوکھیو گوٹھ میں اہل علاقہ کی بڑی تعداد ، اعلیٰ فوجی افسران، جوانوں نے  فوجی اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کیا  ۔
میجر ایاز حسین شہید کے لواحقین میں والدین اورچھ بہن بھائی شامل ہیں۔ میجر ایاز حسین شہید کی بیوہ ، 6 سال کا بیٹا محمد ابرہیم ، 4 سال کا محمد سلیمان اوراڑھائی سال کی بیٹی آئمہ فاطمہ ہیں۔ہم بحیثیت  قوم شہدا ء پاک فوج کے مقروض ہیں کہ وہ اپنا آج قوم کے کل کے لیے قربان کردیتے ہیں۔


 [email protected]

یہ تحریر 242مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP