متفرقات

فلائنگ برڈ آف ایشیا عبدالخالق:

پاکستان کے مایہ ناز اتھلیٹ

 عالمی شہرت یافتہ ایشین گولڈ میڈلسٹ اتھلیٹ اولمپیئن صوبیدار عبدالخالق جنہیں فلائنگ برڈ آف ایشیا Flying Bird of Asia اور فاسٹسٹ مین آف ایشیا Fastest Man of Asia کے خطاب سے نوازا گیا۔23مارچ 1933ء کو ضلع چکوال کے گائوں جند اعوان میں پیدا ہوئے ۔ان کے والد کا نام ماسٹر سجاول خان تھا جو تعلیم کے شعبہ سے وابستہ تھے ۔عبدالخالق نے مڈل کا امتحان گورنمنٹ مڈل سکول حسولا سے پاس کیا اور دوران سرو س میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ ان کے والد اپنے علا قہ میں وزن اُٹھانے کے مقابلوں میں حصہ لیتے تھے۔ یو ں کھیل سے دلچسپی عبدالخالق کو ورثے میں ملی۔ انہیں بچپن سے ہی پنجاب کے روایتی کھیل پڑکوڈی کا شو ق تھا اور اکثر گا ئوں میں منعقد ہو نے والے مقابلوں میں شریک ہو تے۔ اس کھیل کی تربیت انہوں نے اپنے ما موں غلام عباس سے حا صل کی۔ 1948ء میں ان کے گا ئوں میں پڑ کوڈی کے مقابلوں کا انعقاد ہو ا جن کو دیکھنے کے لیے وہاں پاکستان آرمی کے کوچز بھی مو جو د تھے وُہ ان دنوں اکثر ایسے مقابلوں سے کبڈی اور اتھلیٹکس کے نوجوان کھلاڑیوں کا انتخاب کر تے تھے ۔چونکہ اس کھیل میں ایک کھلاڑی آگے دوڑتا ہے اور دو کھلاڑی دوڑ کراسے پکڑنے اور گرانے کی کو شش کرتے ہیں اس لئے اس سے کھلاڑی کی تمام خصوصیات کھل کر سامنے آجاتی ہیں۔ انہوں نے عبدالخالق کو دوڑتے اور عمدہ کھیل کا مظاہر ہ کر تے ہوئے دیکھا۔ وہ بھانپ گئے کہ اس نوجوان میں تیزی پھرتی اور استقلال یعنی وُہ تمام خوبیاں موجود ہیں جو دوڑ کے کھلاڑی میں ہونی چاہئیں۔ انہی خصوصیات کے پیش نظر عبدالخالق کو پاکستان آرمی جوائن کرنے کی پیش کش کی گئی جسے انہو ں نے قبول کر لیا ۔ کسے معلوم تھا کہ یہ نوجوان آگے چل کر ملک و قوم کا نام  اتھلیٹکس کے میدان میں بین الاقوامی سطح پر روشن کر ے گا۔ اس طرح عبدالخالق نے ملازمت کا آغاز 1948ء میں پاکستان آرمی کے آرٹلری سنٹر اٹک سے بطور سپورٹس مین کیا ۔انتھک محنت اور خداداد صلاحیتوں کی بدولت یہ جلد ہی پاکستان آرمی کی ٹیم میں جگہ بنانے میں کامیاب ہو گئے۔پاکستان آرمی کے تربیتی کیمپ میں ان کی صلا حیتو ں کو نکھارنے میں پاکستان آرمی سپورٹس کے انچارج بریگیڈیئر رودھم نے اہم کر دار ادا کیا۔ ان کی اعلیٰ تربیت اور عمدہ کو چنگ کی بدولت عبدالخالق نے قومی اور عالمی سطح پر اتھلیٹکس کے میدان میں کامیابیاں حا صل کیں ۔ انہوں نے اپنے سپورٹس کیریئر کے دوران پاکستانی کو چز کے علا وہ برطانیہ کے کو چ مسٹر ریلے سے بھی تربیت حاصل کی ۔1954ء میں چوتھی نیشنل گیمز ساہیوال (اس وقت نام منٹگمری تھا) میں منعقد ہوئیں جن میں عبدالخالق نے 100میٹر دوڑ او ر 4x100میٹر ریلے دوڑ کے ایونٹس میں گولڈ میڈل حا صل کر کے قومی سطح پر کامیابیوں کا آغاز کیا ۔عالمی سطح پر Legend Sprinterعبدالخالق کے گولڈ میڈل، سلور میڈل اوربرونز میڈل حاصل کرنے کی فہرست طویل ہے مگر ان میں سے چند ایک کا تذکرہ پیش خدمت ہے۔ 
بین الاقوامی سطح پر عبدالخالق نے کا میا بیوں کا آغاز1954ء میں فلپائن کے شہر منیلا میں منعقد ہو نے والی دوسری ایشین گیمزسے کیا ۔ ان مقابلوں میں انہو ں نے عمدہ کارکر دگی کا مظاہرہ کر تے ہوئے 100میٹر دوڑ کے ایونٹ میںنہ صرف گولڈ میڈل حاصل کیا بلکہ ساتھ ہی نیا ایشین ریکارڈ بھی بنا ڈالا۔اس طر ح یہ ایشیا کے تیز ترین کھلاڑی قرار پائے۔ ان مقابلوں میں ہی 4x100میٹر ریلے دوڑ کے ایونٹ میں ٹیم کے ساتھ سلور میڈل حاصل کرنے میں کامیاب رہے ۔ 1956ء میں انڈیا کے شہر دہلی میں پاک بھارت میٹ (مقابلوں )کا آغاز ہوا جس میں عبدالخالق نے 100میٹر اور 200میٹر دوڑ کے ایونٹس میں نہ صرف گولڈ میڈل حا صل کیے بلکہ ساتھ ہی دو نئے ایشین ریکارڈ بنانے کا اعزازبھی حاصل کیا ۔ان مقابلوں میں ہی 4x100میٹر ریلے دوڑ کے ایونٹ میںٹیم کے ساتھ سلور میڈل حا صل کر نے میں کامیاب رہے۔ عبدالخالق کو اس شاندار کارکر دگی پر Flying Birdکا خطاب ان مقابلوں کے مہمان خصوصی انڈیا کے وزیر اعظم آنجہانی پنڈت جواہر لال نہرونے دیا تھا، جب انہوں نے انڈیا کے معروف تیز دوڑنے والے اتھلیٹس پر سبقت حا صل کی۔ 1956ء میں عبدالخالق نے میلبورن اولمپک گیمز میں پاکستان کی نما ئندگی کی۔ ان مقابلوں میں یہ دُنیا کے سات بہترین کھلاڑیوں میں جگہ بنانے میں کامیاب رہے۔1957 میں ایران کے شہر تہران میں اتھلیٹکس مقابلوں کا انعقاد ہو ا جن میں عبدالخالق نے 100میٹر دوڑ، 200میٹر دوڑ اور 4x100میٹر ریلے کے تینوں ایونٹس میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منواتے ہوئے گولڈ میڈل حا صل کیے۔ اسی سال ایتھنز میں ورلڈ ملٹری اتھلیٹکس مقابلوں میں100میٹر دوڑ کے ایونٹ میں سلور میڈل کے ساتھ بڑی کامیابی حا صل کی۔1958ء میں عبدالخالق کو جاپان کے شہر ٹوکیو میں ایشین گیمزمیں ایک مر تبہ پھر قسمت آزمانے کا موقع میسر آیا۔ انہو ں نے کامیابیوں کاسلسلہ جاری رکھتے ہوئے 100میٹر دوڑ کے ایونٹ میں گولڈ میڈل اور200میٹر دوڑ کے ایونٹ میں سلور میڈل حاصل کیا۔1959ء میں انہوں نے انگلینڈ کے شہر بیڈ فورڈ(Bed ford) میں انٹرنیشنل مقابلوں میں 100گز دوڑ کے ایونٹ میں گولڈ میڈل، ڈبلن میں 220گز کے ایونٹ میں گولڈ میڈل اور Dual Empire Games میں 220گز دوڑ کے ایونٹ میں برونز میڈل حا صل کیا۔ اسی سال انگلینڈ کے شہر گلاسکو میں انٹرنیشنل مقابلوں میں 120گز دوڑ کے ایونٹ میں گولڈ میڈل اپنے نام کیا۔1959ء میں ہی سویڈن میں انہو ں نے دو انٹرنیشنل مقابلو ں میں 200میٹر کے ایونٹ میں ایک گولڈ میڈل اور ایک سلور میڈل حا صل کیا۔ 
ان کے بیٹے محمد اعجاز کا کہنا ہے کہ 1959ء میں یورپ میں لگا تار گیارہ میڈل جیتنے پر انہیں وہاں Unbeaten Man کے خطاب سے نواز گیا ۔ 1960ء میں روم اولمپک گیمز میں عبدالخالق کو ایک مر تبہ پھر پاکستان کی نمائند گی کا موقع ملا۔ اس مرتبہ انہوں نے100میٹر دوڑ اور 4x100میٹر ریلے دوڑ کے ایونٹس میں ابتدائی مقابلوں میں کامیابیاں حاصل کیں مگر میڈل تک رسائی حاصل نہ کرسکے ۔1960ء میں پاکستان، ایران اور انڈیا کی اتھلیٹکس ٹیموں کے درمیان لا ہور میں مقابلے منعقد ہو ئے جن میں عبدالخالق نے 100میٹر دوڑ کے ایونٹ میں گولڈ میڈل اور200میٹر دوڑ کے ایونٹ میں برونز میڈل حا صل کیا ۔انہی مقابلوں میں 200میٹر دوڑ کے ایونٹ میں انڈیا کے مشہور زمانہ اتھلیٹ ملکھا سنگھ کو گولڈ میڈل حا صل کر نے پر اُس وقت کے صدر پاکستان فیلڈ مارشل محمد ایوب خان نے Flying Sikhکا خطاب دیا۔1962ء میں عبدالخالق نے ملائشیاء میں 100میٹر دوڑ کے ایونٹ میں سلور میڈل اور 200میٹر دوڑ کے ایونٹ میں برونز میڈ ل حاصل کیا۔انٹرنیشنل مقابلوں میں یہ ان کی آخری کامیابی تھی۔عبدالخالق کا انٹرنیشنل سطح پر کا میابیوں کا سلسلہ 1954ء سے شروع ہو کر 1962ء میں اختتام پذیر ہوا ۔ انہو ں نے اتھلیٹکس کے میدان میں پاکستان کے علاوہ ہالینڈ ، آسٹریلیا، ایران ، یونان ، فلپائن، انگلینڈ ، انڈیا ، جرمنی ، سکاٹ لینڈ، جاپان، چین ، سویڈن ، آئرلینڈ، مصر اور ملائشیاء میں کامیابیوں کے جھنڈے گاڑھے ۔یاد رہے کہ عبدالخالق کے چھوٹے بھائی آنریری کیپٹن عبدالمالک کو بھی اللہ تعالیٰ نے اعلیٰ صلاحیتوں سے نواز ا تھا ۔ انہوں نے قومی سطح پر نہ صرف ممتاز مقام حا صل کیا بلکہ انٹرنیشنل مقابلوں میں بھی کامیابیاں حا صل کیں ۔عبدالمالک نے 1960ء سے 1971ء تک وطن عزیز میں نیشنل گیمز اور نیشنل اتھلیٹکس چیمپئن شپ میں 110میٹر ہرڈل دوڑ کے ایونٹ میں 3گولڈ، 2سلور میڈل اور 3برونز میڈل حاصل کیے۔ عبدالمالک نے لا ہور میں پاکستان ،ایران اورانڈیا کی ٹیموں کے درمیان منعقد ہو نے والے اتھلیٹکس مقابلوں میں 110میٹر ہرڈل دوڑ کے ایونٹ میں سلور میڈل اور 4x100میٹر ریلے دوڑ کے ایونٹ میں ٹیم کے ساتھ گولڈ میڈل حا صل کیا۔ بلا شبہ دونوں بھائیوں کی کھیل کے میدان میں خدمات نا قابل فراموش ہیں۔ عبدالمالک 2021ء میں اس جہان فانی سے کو چ کر گئے، انہیں آبائی گائوں میں سپرد خاک کیا گیا۔دُعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے۔
 عبدالخالق کی کوچنگ کے شعبہ میں خدمات قابل تحسین ہیں ۔انہو ں نے1965ء سے1970ء تک مختلف اوقات میں پاکستان آرمی میں بطور کوچ خدمات انجام دیں ۔تین سال پاکستان سپورٹس بورڈ میں قومی ٹیم کے کوچ رہے۔ پاکستان آرمی سے ریٹائرمنٹ کے بعد پنجاب سپورٹس بورڈ میں بطور اتھلیٹک کوچ اپنی خدمات پیش کیں ۔
 اس کے علاوہ عبدالخالق نے 1965ء کی جنگ میں جرأت و بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے وطن عزیز کے دفاع کے لیے عسکری خدمات بھی سرانجام دیں۔ 1971ء کی جنگ کے دوران بنگال میں انہیں 90ہزار پاکستانی قیدیوں کے ساتھ انڈیا نے جنگی قیدی بنا لیا تھا ۔ان کے بیٹے محمد اعجاز کے بقول ان کی والدہ نے بتایا کہ انڈیا میں قید کے دوران انڈیا کے سپر سٹار اتھلیٹ صوبیدار ملکھا سنگھ جب انہیں قیدیوں کے کیمپ میں ملنے آئے تو وُہ ان کو اس طر ح قید میں دیکھ کر آبدیدہ ہو گئے اور ساتھ ہی ان کا حوصلہ بڑھایا اور تسلی دی ۔ ملکھا سنگھ نے انڈین آفیسر سے ان کا خیال رکھنے کو کہا۔عبدالخالق کے خاندانی ذرائع سے یہ بات بھی سامنے آئی کہ اُس وقت کی وزیراعظم اندرا گاندھی کو ان کی قید کا جب علم ہوا تو انہوں نے عبدالخالق کو رہا کر نے کی پیش کش کی مگر عبدالخالق نے اُن کی اس پیش کش کو یہ کہتے ہوئے ٹھکرادیا کہ میں ساتھیوں کے ساتھ ہی رہائی حا صل کروں گا، اس طر ح جب انڈیا اور پاکستان کے درمیان شملہ معاہدہ طے ہوا تو عبدالخالق اپنے ساتھیوں کے ساتھ ہی وطن واپس لوٹے۔زندہ قومیں اپنے ہیروز کو کبھی فراموش نہیں کر تیں۔1958ء میں عبدالخالق کو ان کی بے مثال کامیابیوں اور قومی خدما ت کے صلہ میں اُس وقت کے صدر پاکستان فیلڈ مارشل محمد ایوب خان نے صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی سے نوازا۔ پاکستان آرمی نے قومی خدمات کے پیش نظر انہیں ایک مربع زمین صوبہ سندھ میں بطور انعام پیش کی۔ پاکستان سپورٹس بورڈ نے ان کی خدمات کے اعتراف اور ان کی یاد کو تازہ رکھنے کے لیے جناح سپورٹس سٹیڈیم کے انٹری گیٹ نمبر 5کا نام عبدالخالق کے نام سے منسوب کیا ۔ عبدالخالق کی زندگی کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ یہ جانوروں اور پرندوں کے شکار کے بیحد شوقین تھے۔ انہوں نے تیتر ،بٹیر اور شکاری کتے بھی پال رکھے تھے۔ انہوں نے زندگی بھر اس شوق کو جاری رکھا۔ اس سے انہیں جسمانی فٹنس بحال رکھنے کا موقع بھی میسر رہا ۔ عبدالخالق نے اپنے اہلخانہ کے ساتھ عمرہ کی ادائیگی کے لیے کاغذات جمع کرائے مگر قدرت کو کچھ اور منظور تھا۔ یہ بیماری کی وجہ سے اس مقدس سفر پر روانہ نہ ہوسکے ۔کمر اور پیٹ میں شدید درد کی وجہ سے انہیں گائوںسے ملٹری ہسپتال راولپنڈی میں لایا گیا جہاں پر دوتین دن زیر علا ج رہے اور ساتھ ہی حکومت پاکستان کی طر ف سے برطانیہ میں مزید علاج کی منظور ی کے کاغذات تیار کیے گئے مگر قدرت نے مہلت نہ دی۔ہسپتال میں جب ان کی والدہ انہیں دیکھنے آئیں تو ان پر نزع کا عالم طاری تھا والدہ انہیں اس حال میں دیکھ کر رونے لگیں اور ان کا نام لے کر انہیں تین مرتبہ آوازدی عبدالخالق نے والدہ کی اس پکار پر آنکھیں کھولیں اور جن الفا ظ میں والدہ کو پکارا کرتے تھے انہیں الفا ظ میں کہا "جی بے جی"یہ ان کے آخری الفا ظ تھے اس کے ساتھ ان کی روح قفس عنصری سے پرواز کر گئی۔
ان کی نماز جنازہ جامع مسجد کے خطیب ریٹائرڈ ہیڈ ماسٹر عبدالحفیظ نے پڑھائی عبدالخالق کو10مارچ 1988ء کو سینکڑوں سوگواروں کی موجودگی میں آبائی گا ئوں میں سپرد خاک کردیا گیا۔دُعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی قبر انور پراپنی رحمتوں کا نزول فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ عبدالخالق بلا شبہ ملک و قوم کا عظیم سرمایہ تھے ان کی کھیل کے میدان میں خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا ۔
ان کے پسماندگان میں چار بیٹے غلام عباس ، محمد اشفاق، محمد اعجاز ، عبدالرزاق تین بیٹیاں اور ایک بیوہ شامل ہیں۔ ||

یہ تحریر 259مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP