قومی و بین الاقوامی ایشوز

قبائلی اضلاع میں سماجی و معاشی ترقی کا سفر

پاکستانی فوج نے پیشہ ورانہ مہارت اور بہترین فوجی حکمت عملی کے ذریعے دہشت گردی کا خاتمہ کیا ۔ متعدد آپریشنز کے ذریعے صوبہ خیبر پختونخوا سے متصل قبائلی علاقوں کو دہشتگرد عناصر سے پاک کیا۔ان علاقوں کے عوام دہشت گردی،بد امنی، تعلیم کی کمی اور بھوک جیسے مسائل سے دوچار تھے اور انتہائی کسمپرسی کی زندگی گزار رہے تھے۔ پاک فوج کے دہشت گردوں کے خلاف آپریشن قبائلی علاقوں کے عوام کے لیے روشنی کی کرن ثابت ہو ئے۔ پہلے مرحلے میں قبائلی علاقوں کو دہشت گرد عناصر سے پاک کیا گیا تو دوسرا مرحلہ سامنے تھا۔اس مرحلے میں قبائلی علاقوں کے عوام کو صحت، تعلیم کی سہولیات اور ان کو قومی دھارے میں شامل کرنا حکومت کی ترجیحات میں شامل تھا۔ان علاقوں کا الحاق صوبہ خیبر پختونخوا کے ساتھ 25 ویں ترمیم کے ذریعے 2018 میں عمل میں لایا گیا۔
اس الحاق کے ذریعے اب یہ قبائلی علاقے صوبہ خیبر پختونخوا کے 34  اضلاع میں شامل ہیں۔ان اضلاع کا نظام براہ راست صوبائی دارالحکومت پشاور سے چلایا جا رہا ہے۔ایک عرصہ انتشار اور دہشتگردی کا شکار رہنے کی وجہ سے مختلف قبایلی علاقہ جات زندگی کے مختلف شعبوں میں ملک کے دیگر علاقوں کی نسبت بہت پیچھے رہ گئے ۔ جس طرح ضلع مہمند میں زراعت صرف 9 فیصد ہے جس کی وجہ پانی کی عدم دستیابی ہے۔ اس مسئلے کے حل کے لیے ایف سی کی جانب سے سولر ٹیوب ویل لگائے گئے ہیں۔پینے کے صاف پانی کی دستیابی بھی ان ٹیوب ویلوں سے ممکن بنائی گئی ہے۔
ان علاقوں میں سڑکوں کا نظام انتہائی خراب ہے جس سے سفرمیں بہت مشکلات پیش آتی ہیں۔ اس نظام کو ورلڈ بینک کے اشتراک سے بہتر بنایا جا رہا ہے۔
حال ہی میں ایف سی نارتھ اور خیبر پختونخوا سپورٹس ڈائریکٹوریٹ نے مل کر پاکستان سپورٹس فیسٹیول کا انعقاد کیا جس میں با جوڑ، مہمند اور خیبر اضلاع کے جوانوں نے بھرپور حصہ لیا۔ یہ مقابلے قبائلی علاقوں میں سماجی ترقی کی ایک کڑی ہیں۔
قبائلی اضلاع میں تعلیم کا تناسب صرف 33فیصد ہے جو کہ خیبر پختونخوا ہ کے باقی اضلاع سے کم ہے۔ اس کمی کو پورا کرنے کے لیے لڑکیوں کے پرائمری سکول اور تربیتی مراکز  حکومت اور فوج کے اشتراک سے قائم کیے گئے ہیں۔
قبائلی اضلاع کے عوام کی ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے کیڈٹ کالج سپنکئی بنایا گیاجس سے پاس آ ؤٹ ہونے والے طلبہ پاک فوج میں شمولیت اختیار کر رہے ہیں۔لڑکیوں کے پرائمری سکول اور تربیتی مراکز حکومت اور فوج کے اشتراک سے قائم کیے گئے ہیں۔قدیر کلے، ملک میلہ، نزر نر، ہندی کچ جنوبی وزیرستان میں ایف سی سائوتھ نے سکول قائم کیے ہیں۔جہاں لڑکیوں کی تعلیم کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔
لنڈی کوتل میں ایف سی نارتھ کی جانب سے کالج طلبہ کے لیے ڈیجیٹل مارکیٹنگ کورس کروائے گئے ہیں تاکہ قبائلی اضلاع کے نوجوان اس جہت سے روشناس ہوں۔ جنوبی وزیرستان میں انگور اڈہ کے مقام پر ہا ئی سکول قائم کیا گیا ہے جو ایف سیکے زیرِ اہتمام پایۂ تکمیل تک پہنچنے والا ایک اہم  منصوبہ ہے۔
جنوبی وزیرستان میں ہلال الگد اور شورہ سر میں پاک فوج کی جانب سے صحت کے مراکز قائم کیے گئے ہیں۔ جنوبی وزیرستان میں تو ی خو لہ کے مقام پر بڑا ہسپتال بنایا گیا ہے جو کہ تمام طبی سہولیات سے آراستہ ہے۔ قبائلی اضلاع میں پاک فوج کی جانب سے فری میڈیکل کیمپ لگا ئے جاتے ہیں جن سے عوام فائدہ اٹھا تے ہیں۔
پاک فوج نے شمالی اور جنوبی وزیرستان میں بارودی سرنگوں سے عوام کی آگاہی مہم شروع کر رکھی ہے۔ جس سے عوام میں بارودی سرنگوں سے بچنے کا شعور بیدار ہوا ہے۔
ضلع مہمند میں ماربل، کرومائیٹ،ایمرلڈ، سوپ سٹون کے ذخائر موجود ہیں۔ معدنیات کو نکالنے کے لیے منتخب کمپنیوں کو دعوت دی گئی ہے۔اسی سلسلے میں مہمندماربل سٹی بنایا گیا ہے جو کہ معاشی ترقی میں اہم سنگِ میل ثابت ہو ا ہے۔
ضلع خیبر اور دیگر اضلاع میں پھل، سبزی اور اشیائے خورونوش کی فراہمی کے لیے بازار بنائے گئے ہیں جن سے عوام کو  براہ راست فائدہ ہوا ہے۔
ان بازاروں سے معاشی سرگرمیوں میں اضافہ ہوا ہے۔ مکین مارکیٹ کمپلکس میں 728 دکانیں عوام کو کاروباری غرض سے دی گئی ہیں۔ وانا جنوبی وزیرستان میں ایک بڑا کولڈ سٹوریج قائم کیا گیا ہے جو تجارتی مقاصد کے لیے بہت اہم ہے اورعوام اس سے مستفید ہو رہے ہیں۔پاک ہا لینڈ میٹل پرو جیکٹ اور پاک سوس الیکٹریکل انجینئرنگ کے منصوبے بھی قبائلی اضلاع کے لیے زیر غور ہیں۔کرونا وبا کے دوران قبائلی اضلاع کے عوام کو ویکسین لگوانے کے لیے پاک فوج نے خصوصی کیمپ  قائم کیے اورعلاقہ مکینوں کے لئے ویکسین کا عمل مکمل کروایا۔ 
دریں اثناء جنوبی وزیرستان کی تحصیل سروکئی میں 240 گھرانوں میں ایف سی کی جانب سے چیک تقسیم کئے گئے۔الغرض آج جو ہم قبائلی اضلاع کو ترقی کی راہ پر گامزن دیکھ رہے ہیں یہ پاک فوج کی  قربانیوں کا ثمر ہے۔
علاوہ ازیں طلبا کے مطالعاتی دوروں سے قبائلی اضلاع کے عوام اور پاکستان کے دیگر علاقوں سے تعلق رکھنے والے طلبہ کے درمیان رابطے بڑھ رہے ہیں جو قومی یک جہتی کے لیے خوش آئند ہے۔
پاک فوج کے سربراہ بھی وقتاً فوقتاً قبائلی اضلاع سے تعلق رکھنے والے طلبہ و طالبات سے ملاقات کرتے ہیں جس سے عوام میں پاک فوج پر اعتماد مزید پختہ ہو تا ہے۔ان سنگلاخ چٹانوں میں گھر ے اضلاع میں زندگی کو معمول کی طرف گامزن کرنا ایک چیلنج تھا۔ جسے پاک فوج نے احسن طریقے سے ممکن بنایاہے۔قبائلی اضلاع کے عوام نے پاک فوج کی جانب سے سماجی اور معاشی ترقی کے اقدامات کا خیر مقدم کیا ہے۔ قبائلی اضلاع کے عوام پاکستان اور پاک فوج سے محبت رکھتے اور قدر کرتے ہیں۔


 

یہ تحریر 268مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP