قومی و بین الاقوامی ایشوز

ریکوڈک منصوبہ:صوبہ بلوچستان اور پاکستان  کے لیے اقتصادی طور پر گیم چینجر 

رقبے کے لحاظ سے پاکستان کے سب سے بڑے اور آبادی کے لحاظ سے سب سے چھوٹے صوبے بلوچستان کی یہ بدقسمتی رہی ہے کہ اسے اس کے اپنوں نے ہی محرومیوں کے زخم دیے ہیں۔ یہاں کے جابرانہ اور آمرانہ سرداری نظام نے ایک عام بلوچ کو غلامی کی روایتی زنجیروں میں جکڑ رکھا ہے۔ بلوچستان کے بیشتر علاقے بنیادی سہولیات سے محروم اور غربت کی لکیر سے بھی نیچے ہیں۔ باقاعدہ منصوبے کے ذریعے بلوچستا ن کے عوام کو وفاق سے دور رکھا گیا۔ اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ اس فرسودہ سرداری نظام، غربت، سیاسی سماجی، معاشرتی حقوق کی محرومی نے عسکریت پسندی کو پروان چڑھایا۔ اسی کا فائدہ بھارت نے پاکستان کی سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچانے کے لیے بھرپور طریقے سے اٹھایا ۔ بلوچستان میں کام کرنے والی علیحدگی پسند تنظیموں کو مالی اور عسکری امداد پاکستان مخالف بیرونی طاقتوں کی مرہون منت ہے ۔ سی پیک اور گوادر کی کامیابی نہ بھارت کو اور نہ ہی چین مخالف مغربی طاقتوں کو قبول ہے جس کی وجہ سے بلوچستان ان طاقتوں کا سافٹ ٹارگٹ رہا ہے جہاں سے وہ پاکستان کے خلاف اپنے مذموم عزائم کو پورا کرسکتے ہیں ۔



یہ بھی حقیقت ہے کہ بلوچستان کی ترقی سے پاکستان کی ترقی ہے۔ بلوچستان کی زمین معدنیات سے مالامال ہے جبکہ اس کا گوادر پورٹ بھی دنیا بھر میں منفرد حیثیت کا حامل ہے۔ اسی زمین  پر ریکوڈک بھی موجود ہے جس کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ یہاں دنیا کا پانچواں بڑا سونے کا ذخیرہ موجود ہے، یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہاں تانبے کے بھی وسیع ذخائر موجود ہیں۔ 
بلوچستان کے علاقے چاغی جس کو معدنیات کا شوکیس کہا جاتا ہے، میں ایک چھوٹا سا قصبہ ہے جس کا نام ریکوڈک ہے۔محل وقوع کے لحاظ سے ریکوڈک افغان ایران کی سرحد سے قریب نوکنڈی سے 70 کلومیٹر شمال مغرب کے صحرائی علاقے میں آتا ہے ۔
حکومت پاکستان نے ان ذخائر کی تلاش کے لیے ریکوڈک منصوبہ شروع کیا  لیکن اس منصوبے کو 2011 میں پاکستانی عدالت عظمیٰ کی جانب سے ختم کرنے کی وجہ سے یہ معاملہ بین الاقوامی ثالثی عدالت میں چلا گیا۔
انٹرنیشنل کورٹ آف آربیٹریشن نے پاکستان پر تقریباً 6.4 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ لندن کورٹ آف آربیٹریشن میں بھی پاکستان کے خلاف ساڑھے چار ارب ڈالر کا جرمانہ عائد ہونا تھا۔ آخر کار دس سال کی قانونی لڑائی اور بات چیت کے ذریعے پاکستان ریکوڈک منصوبے پر کام کرنے والی کمپنی سے تنازع اور گیارہ ارب ڈالر کا جرمانہ ختم کرانے میں کامیاب ہوگیا۔ 



یہ بھی حقیقت ہے کہ بلوچستان کی ترقی سے پاکستان کی ترقی ہے۔ بلوچستان کی زمین معدنیات سے مالامال ہے جبکہ اس کا گوادر پورٹ بھی دنیا بھر میں منفرد حیثیت کا حامل ہے۔ اسی زمین  پر ریکوڈک بھی موجود ہے جس کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ یہاں دنیا کا پانچواں بڑا سونے کا ذخیرہ موجود ہے، یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہاں تانبے کے بھی وسیع ذخائر موجود ہیں۔ 


آج سے تقر یبا ً29 سال قبل بلوچستان حکومت نے ایک امریکی کمپنی کے ساتھ ریکوڈک کے پہاڑی علاقے میں سونے، تانبے اور دیگر معدنی ذخائر کی تلاش کے لیے1993 میں ایک امریکی کمپنی بروکن ہلز پراپرٹیز منرلز کے ساتھ معاہدہ کیا۔ بلوچستان ڈیویلپمنٹ کے ذریعے امریکی کمپنی کے ساتھ جوائنٹ وینچر کے طور پر چاغی ہلز ایکسپلوریشن کے نام سے کیے جانے والے معاہدے کے تحت 25 فیصد منافع حکومت بلوچستان کو ملنا تھا۔اس امریکی کمپنی نے بعدازاں ایک آسٹریلوی رجسٹرڈ ٹیتھیان کوپر کمپنی کے ساتھ شراکت کا معاہدہ کیا جس کی رو سے بلوچستان حکومت نے اس کمپنی کو 9ستمبر 2002 کو سونے، کوپر اور دیگر موجود معدنی وسائل کی تلاش کا لائسنس جاری کیا۔ بلوچستان حکومت نے لائسنس کی فراہمی کے لیے یہ شرط رکھی تھی کہ کمپنی یہاں سے حاصل ہونے والی معدنیات کو ریفائن کرنے کے لیے بیرون ملک نہیں لے جائے گی۔حکومت کی جانب سے چاغی میں ریفائنری کی شرط رکھنے کے ساتھ ساتھ بلوچستان کے حصے کو بڑھانے کی شرط بھی رکھی گئی۔کمپنی کی جانب سے ان شرائط کو ماننے کے حوالے سے پیش رفت نہ ہونے اور محکمہ بلوچستان مائننگ رولز 2002 کی شرائط پوری نہ ہونے کے باعث معدنیات کی لائسنس دینے والی اتھارٹی نے نومبر2011 میں ٹی سی سی کو مائننگ کا لائسنس دینے سے انکار کر دیا تھا۔اس فیصلے کے خلاف ٹی سی سی نے سیکریٹری مائنز اینڈ منرلز حکومت بلوچستان کے پاس اپیل دائر کی تھی جسے سیکریٹری نے مسترد کیا تھا۔


2019 میں پاکستان نے  جارحانہ اندازمیں یہ معاملہ حل کرنے کے لیے کوششوں کا آغاز کیا اورچلی کی کمپنی انٹوپگاسٹا کے ساتھ 950 ملین ڈالر کامعاہدہ ہوا۔ اس کمپنی نے 3.25 ارب ڈالرکے کلیم کوواپس لیا، یہ کمپنی اب ریکوڈک میں شامل نہیں ہوگی۔منصوبے کے حوالے سے معاہدہ کے تحت عدالت سے ہونے والے جرمانے کی ادائیگی وفاقی حکومت کرے گی۔ بلوچستان حکومت کو کوئی ادائیگی نہیں کرنا پڑے گی، بلوچستان کو مذکورہ منصوبے سے 25 فیصد شیئر کے ساتھ ساتھ5 فیصد رائلٹی بھی ملے گی۔ ریکوڈک سے پیداوار شروع ہونے کے بعد بلوچستان کو رائلٹی اور منافع کی مد میں سالانہ ڈیڑھ سو ارب روپے ملیں گے۔ 


سپریم کورٹ نے 2012 میں 1993 میں ہونے والا معاہدہ کالعدم قرار دے دیا تھا۔ ٹیتھیان کمپنی نے 2012 میں منسوخ ہونے والے معاہدے پر عالمی سرمایہ کاری ٹریبونل سے رجوع کیا تھا۔2019میں ٹریبونل نے پاکستان کو 4 ارب ڈالر جرمانہ،2 ارب ڈالر سود اور اخراجات کی ادائیگی کا حکم دیا تھا۔اتنی گھمبیر صورتحال اور اتنا بڑا جرمانہ ادا کرنا ہمارے بس سے باہر تھا اور ہم تمام عدالتوں سے مقدمہ اور اپیل ہار چکے تھے۔ 2019 میں پاکستان نے  جارحانہ اندازمیں یہ معاملہ حل کرنے کے لیے کوششوں کا آغاز کیا اورچلی کی کمپنی انٹوپگاسٹا کے ساتھ 950 ملین ڈالر کامعاہدہ ہوا۔ اس کمپنی نے 3.25 ارب ڈالرکے کلیم کوواپس لیا، یہ کمپنی اب ریکوڈک میں شامل نہیں ہوگی۔منصوبے کے حوالے سے معاہدہ کے تحت عدالت سے ہونے والے جرمانے کی ادائیگی وفاقی حکومت کرے گی۔ بلوچستان حکومت کو کوئی ادائیگی نہیں کرنا پڑے گی، بلوچستان کو مذکورہ منصوبے سے 25 فیصد شیئر کے ساتھ ساتھ5 فیصد رائلٹی بھی ملے گی۔ ریکوڈک سے پیداوار شروع ہونے کے بعد بلوچستان کو رائلٹی اور منافع کی مد میں سالانہ ڈیڑھ سو ارب روپے ملیں گے۔ 
گزشتہ سال سارے بلوچستان سے معدنی  رائلٹی اور ایکسائز ڈیوٹی کی مد میں 4 ارب روپے کا ریونیو ملا تھا۔ اس سے اندازہ لگا لیں کہ یہ پراجیکٹ کتنی اہمیت کا حامل ہے۔ مثبت پیش رفت میں بلوچستان کے وزیراعلیٰ میر عبدالقدوس بزنجو اور بیرک گولڈ کمپنی کے صدر مارک برسٹو نے  ریکو ڈک کے حوالے سے نیا معاہدہ بھی طے کیا  ہے۔  بیرک گولڈ اوراس کی شراکت دارکمپنیاں 10 ارب ڈالرسے زیادہ سرمایہ کاری کریں گی جس سے بلوچستان میں ملازمتوں کے آٹھ ہزار مواقع پیدا ہوں گے اور پاکستان کو بے پناہ فوائد ملیں گے۔
حکومت بلوچستان کو معاہدے سے مجموعی طور پر33 فیصد سے زائد مالی فائدہ حاصل ہوگا۔ معاہدے میں بلوچستان کے تمام ٹیکسوں اور سی ایس آر کا تحفظ کیا گیا ہے۔ معاہدے میں علاقے کی ترقی کا خصوصی پیکج بھی شامل کیا گیا ہے۔
ہم مقامی طور پر اتنا بڑا مائننگ پروجیکٹ چلانے کی اہلیت نہیں رکھتے اور ہمارے مقامی سرمایہ کار چھوٹے سکیل پر کان کنی کر رہے ہیں اور سستے داموں ہمارے قیمتی معدنی ذخائر خام حالت میں برآمد کر رہے ہیں۔ یہ منصوبہ دیگر بڑے بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے لیے بھی پیغام ہے۔ دیگر بڑے معدنی ذخائر کی کان کنی اور پروسیسنگ کے لیے سرمایہ کاری ہو گی۔
ریکوڈک منصوبے کا سب سے اہم  اور مثبت پہلو یہ ہے کہ اس منصوبے کا آغاز پاکستان اور بلوچستان میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کی دل چسپی کا مرکز بن سکتا ہے ۔ جبکہ ہم یہ باور کرانے میں بھی کامیاب ہوئے ہیں کہ بلوچستان میں امن اور استحکام کی صورتحال ماضی کے مقابلے میں بہت بہتر ہے ۔ یہ امر روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ ریکوڈک منصوبہ نہ صرف صوبہ بلوچستان بلکہ پاکستان کی اقتصادی صورتحال کے لیے بھی گیم چینجر ثابت ہونے جارہا ہے ۔ ||



 

مضمون نگار معروف صحافی اور تجزیہ کار ہیں۔ [email protected]

یہ تحریر 346مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP