متفرقات

اولمپیئن ملک محمدنواز

صدارتی ایوارڈ یافتہ ایشین گولڈ میڈلسٹ اتھلیٹ آنریری کیپٹن  اولمپیئن ملک محمد نواز(ر) کا شمار وطن عزیز کے ایسے کھلاڑیوں میں ہوتا ہے جنہوں نے بین الاقوامی سطح پر جیولن تھرو (نیزہ پھینکنے) میں ممتاز مقام حاصل کیا۔ پاکستان کی تاریخ میں ٹریک اینڈ فیلڈ کے میدان میں بہت کم ایسے کھلاڑی منظر عام پر آئے جنہوں نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دنیا میں نام پیدا کیا ہو۔ اگر یہ کہا جا ئے کہ پاکستان کی اتھلیٹکس کی تاریخ ان کے نام کے بغیر ادھوری ہے تو بے جا نہ ہو گا۔ 
محمد نواز 1924ء میں ملک باز خان کے ہاں تحصیل تلہ گنگ کے گائوں بڈھیال میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کھیتی باڑی کے پیشہ سے وابستہ تھے۔ محمد نواز نے ملازمت کا آغاز 20جولائی 1942ء کو انڈین برٹش آرمی سے کیا۔ ان کا تعلق 15پنجاب رجمنٹ نشان حیدر سے تھا۔ یہ بٹالین 1971ء کی جنگ میں شہید ہونے والے محفوظ شہید اور محمد نواز کے نام کی وجہ سے پہچانی جاتی ہے۔ محمد نواز نے کھیل کے میدان میں قومی مقابلوں کے علاوہ ایشین گیمز، ورلڈ ملٹری گیمز اور متعدد مرتبہ بین الاقوامی مقابلوں میں بے مثال کامیابیاں حاصل کیں۔ ان کو 2مرتبہ اولمپک گیمز میں بھی پاکستان کی نمائندگی کا اعزاز حاصل ہے۔ 1950ء میں انٹر نیشنل اتھلیٹکس مقابلوں کا انعقاد لاہور میں ہوا جن میں محمد نواز نے پہلی مرتبہ جیولن تھرو میں سلور میڈل حاصل کیا۔ 1954ء میں ایک مرتبہ پھر محمد نواز ساہیوال میں منعقد ہونے والے انٹر نیشنل اتھلیٹکس مقابلوں میں سلور میڈل حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔ 1954ء میں ہی ایشین گیمز فلپائن کے شہر منیلا میں منعقد ہوئیں ۔ جن میں محمد نواز نے جیولن تھرو میں گولڈ میڈل حاصل کرتے ہوئے عالمی سطح پر پاکستان کا نام روشن کیا۔اسی سال کامن ویلتھ گیمز کا انعقاد کینیڈا کے شہر وینکوور میں ہوا۔ ان مقابلوں میں بھی انہوں نے سلور میڈل جیتا۔ 1955ء میں یونان کے شہر ایتھنز میں SESAME مقابلوں کا انعقاد ہوا۔ محمد نواز اس مرتبہ جیولن تھرو میں گولڈ میڈل اپنے نام کرنے میں کامیاب رہے۔
1956ء میں انڈیا کے شہر نیو دہلی میں پاکستان اور بھارت کی ٹیموں کے درمیان اتھلیٹکس مقابلوں میں محمد نواز نے جیولن تھرو میں سلورمیڈل حاصل کیا۔ اسی سال انہوں نے اولمپک گیمز میں آسٹریلیا کے شہر میلبور ن میں پاکستان کی طرف سے کھیلنے کااعزاز حاصل کیا۔ 1957میں ایران کے شہر تہران میں منعقد ہونے والے مقابلوں میں انہوں نے جیولن تھرو میں گولڈ میڈل جیتا۔ اسی سال انٹر نیشنل اتھلیٹکس مقابلے سکاٹ لینڈ کے شہر ایڈنبرگ میں منعقد ہوئے ۔ اس مرتبہ بھی محمد نواز نے کامیابیوں کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے گولڈ میڈل اپنے نام کیا ۔اسی سال انٹرنیشنل اتھلیٹکس مقابلوں کا انعقاد آئرلینڈ کے شہر ڈبلن میں ہوا ۔ ان مقابلوں میں بھی گولڈ میڈل ان کا مقدر ٹھہرا۔ 1957ء میں ہی سیزم (ورلڈ ملٹری) اتھلیٹکس مقابلوں کا انعقاد جرمنی میں ہوا ۔ ان مقابلوں میں محمد نواز برونز میڈل حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔ 1958ء میں ایشین گیمز جاپان کے شہر ٹوکیو میں منعقد ہوئیں جن میں محمد نواز نے اپنے اعزاز کا دفاع کرتے ہوئے ایک مرتبہ پھر جیولن تھرو میں گولڈ میڈل جیت کر پاکستان کے پرچم کو سر بلند کیا۔ اسی سال جاپان میں انہوں نے اوپن اتھلیٹکس اور انٹرنیشنل مقابلوں میں اپنے ایونٹ میں 2گولڈ میڈل حاصل کیے۔ 1958ء میں ہی لندن میں کامن ویلتھ اور گریٹ برٹن کی ٹیموں کے درمیان مقابلے منعقد ہوئے۔ ان مقابلوں میں محمد نواز سلور میڈل حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔ اسی سال ہانگ کانگ میں انٹر نیشنل مقابلوں میں اپنے ایونٹ میں گولڈ میڈل حاصل کیا۔ 1958ء میں بیلجیئم کے شہر برسلز میں سیزم (ورلڈ ملٹری) مقابلوں کا انعقاد ہوا۔ اس مرتبہ محمد نواز برونز میڈل حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔ 1959ء میں سکاٹ لینڈ کے شہر ایڈن برگ میں انٹر نیشنل مقابلوں میں انہوں نے سلور میڈل حاصل کیا۔ 1960ء میں ٹرائی اینگل اتھلیٹکس مقابلے لاہور میں منعقد ہوئے۔ ان مقابلوں میں محمد نواز نے جیولن تھرو میں گولڈ میڈل جیتا۔ اسی سال انہوں نے مصر کے شہر قاہرہ میں انٹر نیشنل مقابلوں میں گولڈ میڈل جیتنے کا اعزاز حاصل کیا۔ 1960ء میں ہی سکاٹ لینڈ کے شہر ایڈن برگ میں انٹرنیشنل اتھلیٹکس مقابلوں میں محمد نواز جیولن تھرو میں گولڈ میڈل حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔ اسی سال روم اولمپک گیمز میں پاکستان کی نمائندگی کی ۔ 
1962ء میں انہوں نے سیزم (ورلڈ ملٹری )مقابلوں میں ہالینڈ کے شہر ویٹ میں جیولن تھرو میں گولڈ میڈل حاصل کیا۔ 1962ء میں ہی ملائشیاء کے شہر ایپو میں انٹر نیشنل مقابلوں میں محمد نواز نے سلور میڈل جیتا۔1962ء میں ہی انڈونیشیا کے شہر جکارتہ میں ایشین گیمز منعقد ہوئیں جن میں محمد نوا زنے تیسری مر تبہ کھیلتے ہوئے سلور میڈل جیتنے کا اعزاز حاصل کیا ۔1963میں بیلجیئم کے شہر برسلزمیں SESAME مقابلوں میں انہوں نے برونز میڈل جیتا ۔1964ء میںسیزم ورلڈ ملٹری اتھلیٹکس مقابلے سپین کے شہر لکرونا میں منعقد ہوئے ۔ان مقابلوں میں محمد نوا ز نے اپنے ایونٹ میں سلور میڈل حا صل کیا۔ 1966ء میں کامن ویلتھ گیمز کنگسٹن میں منعقدہوئیں جن میں محمد نوا ز برونز میڈل حا صل کرنے میں کامیاب ر ہے۔ اسی سال بنکاک میں انہیں ایشین گیمز میں چوتھی مر تبہ کھیلنے کا موقع ملا ۔اس بار وہ میڈل تک رسائی حا صل نہ کرسکے اور چو تھے نمبر پر رہے ۔یہ ان کے سپورٹس کیرئیر کا آخری انٹرنیشنل مقابلہ تھا ۔ 
محمد نواز کے بیٹے محمد حیات نے دوران گفتگو بتا یا کہ یونان میں اتھلیٹکس مقابلو ں میں سیزم مقابلوں کا انعقاد ہوا جس میں محمد نوا ز نے جیولن تھرومیں گولڈ میڈل حا صل کیا۔ فائنل رائونڈ میں ان کے مد مقابل کھلاڑی کا تعلق امریکہ سے تھا۔ اُس نے پہلی تھرو میں کامیابی حا صل کی۔سب کو یقین تھا کہ امریکہ کا کھلاڑی فائنل مقابلہ جیت جائیگا ۔ہر طرف اس کھلاڑی کی فتح کی آوازیں آنا شرو ع ہو گئیں مگر محمد نوا ز نے ہمت نہ ہاری اور اپنی تمام توانا ئیاں صرف کر تے ہوئے عمدہ نیزہ پھینک کر فتح حا صل کی۔ ان مقابلوں میں پاکستان کے سفیر کو مہمان کے طو ر پر مدعو کیا گیا تھا ۔انہوں نے اس شاندار کامیابی پر گرائونڈ میں آکر محمدنواز کوگلے لگایا اور مبارک باد دی اور کہا کہ آپ کی اس جیت کی وجہ سے ہمارا قومی پرچم فضا میں سربلند ہوا اورقومی ترانے کی دھن فضا میں گونجتی رہی، آج ہمارا سر فخر سے بلند ہوا ہے۔
 قارئین یہ وُہ دور تھا جب پاکستان دُنیا کے نقشے پر نیا نیا اُبھرا تھاتو وطن عزیز کے کھلاڑی ہی عالمی سطح پر اس کی پہچان کا ذریعہ بنے۔ 1948ء میں بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح نے کراچی میں اولمپک گیمز میں شرکت کر نے والے کھلاڑیوں سے خطاب کر تے ہوئے فرما یا تھاکہ ہمارا ملک نوزائیدہ  ہے۔ دنیا کی دوسری قوموں کے سامنے اپنے ملک اور اپنے جھنڈے کو متعارف کروانے کا واحد راستہ اولمپکس ہیں۔بابا ئے قوم کے اس خطاب سے کھیل اور کھلاڑی کی اہمیت کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ۔قومی ہیرو محمدنوا زکے بیٹے نے دوران گفتگویہ بھی بتا یا کہ ایک مرتبہ جب محمد نواز ایشین گیمز میں گولڈ میڈل جیت کر وطن واپس لو ٹے تو ان کا انو کھے انداز میں لاہور میں استقبال کیا گیا ۔ گورنر ہائوس سے کچھ فاصلے پر ان کو ٹیم کے ساتھ ہاتھی پربٹھا کر جلوس کی صورت میں خوشی کے شادیانے بجاتے ہوئے گورنر ہا ئوس لا یا گیا جہاں اُس وقت کے گورنر مغربی پاکستان نواب ملک امیر محمد خان آف کالا با غ نے ان کا استقبال کیا۔ انہوں نے کھلاڑیوں اور کوچز سے مصافحہ کر تے ہوئے سب کو مبارکباد دی ۔نواب صاحب نے جب محمد نواز سے ہاتھ ملایا تو ان سے پوچھا کہ آپ کہاں کے رہنے والے ہیں۔ انہوں نے جواباََ بتایا کہ میرا تعلق ضلع کیمبل پور سے ہے (موجودہ اٹک) تو نواب صا حب نے فوراََ پنجابی زبان میں پوچھا کہ آگے علاقہ کون سا ہے تو انہوں نے بتایا کہ تحصیل تلہ گنگ کے گا ئوں بڈھیال کا رہنے والا ہو ں،یہ سن کر وُہ بہت خوش ہو ئے۔ ان کو اس علاقے سے والہانہ لگائو تھا کیونکہ وُہ خود بھی اعوان قبیلہ سے تعلق رکھتے تھے اور اس تحصیل میں زیادہ تر اعوان ہی آباد تھے جن سے ان کے گہرے مراسم تھے۔ نواب صا حب نے مسکراتے ہوئے اپنے بیٹے ملک اللہ یار خان جو ان کے ساتھ مو جو د تھے، سے کہا کہ یہ لڑکا تلہ گنگ کا اعوان ہے۔ ملک اللہ یار نے انہیں مبارکباد دی اور ساتھ ہی کالا باغ آنے کی دعوت بھی دی ۔محمد نوا ز کے لیے کالا باغ سے سپیشل جیپ بھیجی گئی۔ اس دو ر میں یہ عمل کسی اعزاز سے کم نہیں تھا کہ نواب صاحب کی ذاتی جیپ کسی کھلاڑی کو لانے کے لیے استعمال میں لائی جائے۔ کالا باغ میں محمد نواز کے اعزاز میں دعوت کا انتظام کیا گیا تھا۔ جشن کا سماں تھا۔ نواب صا حب نے اس قومی ہیرو کو تحائف کے ساتھ رخصت کیا ۔
اس کے علا وہ محمد نوا ز نے کوچنگ کے شعبہ میں بھی پاکستان آرمی میں گراں قدر خدمات انجام دیں ۔آسمان کو چھو لینے والی ان قومی خدمات کے صلہ میں ان کو 1966ء میں اُس وقت کے صدر پاکستان فیلڈ مارشل محمد ایوب خا ن نے صدارتی تمغہ برائے حسن کارکر دگی سے نوا ز ا ۔پاکستان آرمی نے آنریری کیپٹن کے عہدہ سے سر فراز کیا اور دو مربعہ زمین صوبہ سندھ میں بطور انعام پیش کی ۔حکومت پاکستان کی طرف سے تمغہ خدمت ملٹری درجہ اول سے نواز ا گیا ۔ محمد نوا ز کو Wounder Boy From Talagangکے لقب سے جانا جاتا تھا۔ پاکستان سپورٹس بورڈ نے ان کی کھیل کے میدان میں بے مثال کامیابیوں کے اعتراف میں جناح سپورٹس سٹیڈیم اسلام آباد کے ایک انٹری گیٹ کا نام نواز گیٹ رکھا۔انہیں کامن ویلتھ گیمز میں مارچ پاسٹ کے موقع پر پاکستانی دستے کو فلیگ کے ساتھ لیڈ کرنے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔
1989ء میں سیف گیمز پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں منعقد ہوئیں۔ محمد نوا ز نے انہیں کامیاب بنانے میں اپنا بھرپور کردار ادا کیا ۔ ان مقابلوں کی افتتاحی تقریب کے مہمان خصوصی اس وقت کے صدر پاکستان  غلام اسحاق خان تھے۔ روایتی طور پر سیف گیمزکا آغاز مشعل روشن کر کے کیا گیا۔محمد نواز مشعل روشن کرنے والی ٹیم میں شامل تھے۔ بلاشبہ اس ٹیم میں شامل ہونا ان کے لیے باعث اعزاز تھا ۔   



محمد نوازنے پاکستان آرمی میں دوران سر وس عسکری خدمات بھی انجام دیں۔ انہوں نے 1965ء کی پاک بھارت جنگ میں چونڈا سیکٹر اور 1971ء کی جنگ میں لاہور کے محاذ پر جرأ ت و بہادری کا مظاہرہ کر تے ہوئے وطن عزیز کا دفاع کیا ۔ محمد نوا ز تمام تر کامیابیوں کے بعد 20نو مبر1974ء کو پاکستان آرمی سے ریٹائرڈ ہو گئے۔ 
ریٹائرمنٹ کے بعد انہوں نے پنجاب سپورٹس بورڈ میں کئی سال تک بطور اتھلیٹک کوچ خدمات انجام دیں۔ اس کے علاوہ آبائی گائوں میں ہمیشہ سماجی کا موں میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے رہے ۔ماضی میں محمد نواز کا ایک انٹر ویو پی ٹی وی پر نشر کیا گیا تھا جس میں انہوں نے دوران گفتگو بتایا تھا کہ 1954ء میں ساہیوال میں اتھلیٹکس مقابلوں میں فن لینڈ کے ایک اتھلیٹ نے جیولن تھرو کے ایونٹ میں شرکت کی جو اولمپک گیمز میں گولڈ میڈل جیت چکا تھا۔ انہوں نے اسے عمدہ کھیل پیش کرتے ہوئے دیکھا۔ اس سے باقاعدہ تربیت حاصل کی اوراس کے جدید میٹیریل سے تیار ہونے والے جیولن (نیزہ) سے ٹریننگ حاصل کرنے کا موقع ملا۔ ان کا خیال تھا کہ اگر یہ موقع انہیں میسر نہ آتا تو شاید یہ ایشین گیمز میں گولڈ میڈل حاصل نہ کرسکتے۔ 
قارئین! یہ وہ دورتھا جب پاکستان میں جدید کوچنگ کی سہولیات بہت کم میسر تھیں۔ وطن عزیز میں بانس سے تیار کیے گئے جیولن کھیل کے میدان میں استعمال کیے جا رہے تھے۔ کھیل کے جدید سامان سے قومی کھلاڑی نا آشنا تھے۔ دوران انٹر ویو ایک اورسوال کے جواب میں محمد نواز نے بتایا تھا کہ کوچنگ کے علاوہ کھلاڑی میں محنت، کوشش،سیکھنے کی صلاحیت، خود اعتمادی اور مقابلہ کرنے کا جذبہ کا ہونا ضروری ہے۔ کھلاڑی اپنے آپ کو دوسرے کھلاڑی سے بہتر خیال کرتے ہوئے آگے بڑھے تب ہی کامیابی اس کے قدم چوم سکتی ہے۔پاکستان کا یہ نا مور کھلاڑی2004ء میںحرکت قلب بندہو جانے کی وجہ سے انتقال کر گیا ۔ان کی نماز جنازہ میں اعلیٰ عسکری اور سول سو سائٹی کی اہم شخصیات کے علاوہ اہلِ علاقہ نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ انہیں سیکڑوں سوگواروں کی موجودگی میں آبائی گائوں میں سپرد خا ک کر دیا گیا۔ان کی نماز جنازہ حافظ امام دین نے پڑھائی ۔ ان کی قبرپر عسکری اور سول سوسائٹی کی اہم شخصیات کی طرف سے پھولوں کی چادریں چڑھا کر انہیں خراج تحسین پیش کیا گیا ۔دُعا ہے کہ مالک کائنات ان کی قبرانورپر اپنی رحمتوں کا نزول فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔(آمین) ||
 

یہ تحریر 352مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP