ہلال نیوز

گھوٹکی ٹرین حادثہ۔ پاکستان آرمی  کا ریلیف اور ریسکیو آپریشن

گزشتہ دنوں ضلع گھوٹکی ریتی ریلوے سٹیشن کے قریب ہونے والے افسوس ناک ٹرین حادثہ میں جہاں قیمتی انسانی جانیں گئیں وہاں سو سے زائد افراد زخمی ہوئے۔ پوری قوم اس حادثہ پر غمگین رہی۔ حادثہ رات کی تاریکی میں ہوا جس کی وجہ سے امدادی سرگرمیوں کے آغاز اور فرائض کو ادا کرنے میں شدید دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا۔
پاکستان آرمی کے دستے قریب ترین پنوں عاقل چھائونی سے اطلاع ملتے ہی روانہ کئے گئے اور امدادی کارروائیوں کا آغاز کیا گیا۔ اس ریسکیو اور ریلیف آپریشن میں پاکستان آرمی کے ایف ایف اور این ایل آئی رجمنٹ کے افسروںاور جوانوں نے حصہ لیا۔ آرمی الیکٹریکل مکینیکل اینڈ انجینئرز کے جوانوں نے ریکوری وہیکل کے ذریعے تباہ شدہ بوگیوں کو جائے حادثہ سے منتقل کیا تاکہ ٹریک کو کلیئر کیا جاسکے۔



ایمرجنسی ری ایکشن ٹیم (ای آر ٹی) نے کرینوں کے ذریعے ٹریک کو کلیئر کرنے کے فرائض انجام دئیے تاکہ ٹرینوں کی آمدورفت جلد سے جلد بحال ہوسکے۔ آرمی میڈیکل کور کے ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل سٹاف نے عارضی  کیمپ قائم کیا۔ معمولی زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد فراہم کی گئی اور آرمی ایمبولینسز کے ذریعے شدید زخمیوں کو سی ایم ایچ ہسپتال پنوں عاقل، شیخ زید ہسپتال رحیم یار خان، گھوٹکی، میرپور ماتھیلو منتقل کیا گیا۔
راولپنڈی سے آرمی سپیشل انجینئرز ٹیم اربن سرچ اینڈ ریسکیو ( یو ایس اے آر) نے ریلیف اور ریسکیو آپریشن میں کام کی رفتار کو تیز کرنے کے لئے ڈسک کٹر، ہائیڈرالک اسپریڈر، لائف لوکیٹر اور سرچ کیمروں کو استعمال کیا تاکہ متاثرہ بوگیوں میں پھنسے افراد کو جلد تلاش کیا جاسکے اور نکالا جاسکے۔ ملتان سے اس آپریشن میں حصہ لینے کے لئے ہیلی کاپٹر بھی روانہ کئے گئے جن کی مدد سے زخمیوں کو فوری ہسپتال منتقل کیا گیا۔



پاکستان آرمی کے ساتھ پاکستان رینجرز (سندھ)، ریسکیو 1122 ہر مرحلہ پر امدادی سرگرمیوں کا حصہ رہے۔ جائے حادثہ آبادی سے دور ہونے کی وجہ سے یہاں قائم عارضی ریلیف  کیمپ میں مسافروں کو تیار کھانے بھی فراہم کئے گئے۔ پنوں عاقل میں ریلیف کنٹرول سینٹر قائم کیا گیا جو ریلیف اور ریسکیو آپریشن کے اختتام تک قائم رہا۔ یہاں سے امدادی سرگرمیوں کو مانیٹر کیا جاتا رہا اور ضروری وسائل مہیا کئے جاتے رہے۔



 جنرل آفیسر کمانڈنگ پنوں عاقل میجر جنرل غلام شبیرناریجو، ڈی جی رینجرز (سندھ) میجر جنرل افتخار نے جائے حادثہ کا دورہ کیا اور امدادی سرگرمیوں کا معائنہ کیا اور وہاں شدید گرمی میں انسانی خدمت میں مصروف افسروں اور جوانوں کے جذبے کو سراہا۔ انہوں نے زخمیوں کی عیادت کی اور حادثے میں شہید ہونے والوں کے درجات کی بلندی کے لئے دعا کی۔
 

Read 76 times


TOP