ہلال نیوز

قبائلی اضلاع میں پاک فوج  اور پولیس کے تعاون سے   پولیس ٹریننگ کاانعقاد

دہشت گردی سے متاثرہ سابقہ قبائلی علاقوں میں امن کی بحالی کے بعد حکومت پاکستان نے پچیسویں آئینی ترمیم کے ذریعے  2018 میں ان علاقوں کو خیبر پختونخوا میں ضم کر دیا۔ حکومت نے ان ضم شدہ علاقوں کو اضلاع کا درجہ دے کر ان علاقوں میں پہلے سے جاری ترقیاتی کاموں کو جدید بنیادوں پر جاری رکھنے کے لئے فنڈز کی فراہمی کا سلسلہ شروع کیا۔اس سلسلے میں پاک فوج اور فرنٹیئر فورس کے تعاون سے ان ضم شد علاقوں میں انفراسٹرکچر پر خصوصی توجہ دی گئی اور محدود وسائل کے باوجود ہنگامی بنیادوں پر اس پر کام شروع کر دیا گیا۔
نئے ضم شدہ علاقوں میں تعلیم, صحت, روزگار اور دیگر عوامی سطح کے بنیادی وسائل کی فراہمی کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ بات بھی اہم تھی کہ ان علاقوں میں امن وامان قائم رکھنے کے لئے پولیس فورس تعینات کی جائے۔خیبر پختونخوا حکومت نے محدود وسائل اوران علاقوں میں روزگار کے مسائل کو مد نظر رکھتے ہوئے لیویز اور خاصہ دار فورس کے اہلکاروں کو پولیس میں ضم کرنے کا فیصلہ کیا۔ اور اپریل 2019 میں تقریبا 16000 خاصہ دار اور 12000 لیویز کے اہلکاروں کو خیبر پختونخوا پولیس میں ضم کرنے کا اعلان کیا۔ جس کو قبائلی مِشراں اور عوام نے بہت سراہا۔



صوبے میں سابقہ فاٹا کے انضمام اور مرکزی دھارے کے Sequal کے طور پر لیویز اور خاصہ دار فورس کو کے پی پولیس میں شامل کرلیا گیا۔ کے پی پولیس میں ضم ہونے والی فورس کی capacity بڑھانے کے لئے جدید بنیادوں پر ٹریننگ ایک اہم ضرورت تھی۔ تاکہ پولیس کی  استعداد سازی کے ساتھ ساتھ پولیسنگ کے بنیادی فرائض سرانجام دئیے جاسکیں۔ پاک فوج اور خیبرپختونخوا پولیس کی مدد سے سابقہ لیویز اور خاصہ دار اہلکاروں کو خصوصی پولیس تربیت فراہم کرنے کا سلسلہ شروع کیا گیا۔
لیویز اور خاصہ دار فورس کو تربیت فراہم کرنے کے لئے تین تین مہینے پر مشتمل ٹریننگ شیڈول ترتیب دیا گیا اور خیبر پختونخوا پولیس میں ضم شدہ اہل کاروں کو مختلف گروپس میں تقسیم کیا گیا۔ ٹریننگ شیڈول کے مطابق  قبائلی اضلاع میں  تقریبا 4000 اہلکاروں کو  ٹریننگ دینے کا عمل شروع ہوا جو ستمبر سے دسمبر2020 تک جاری رہا۔ 
نئے ضم شدہ اہلکاروں کو دور جدید کے تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوئے تربیت دی جا رہی ہے اور پاک فوج اور پولیس کے اعلیٰ تربیت یافتہ ٹرینرز ان اہلکاروں کو اعتماد، مشکل ماحول میں کام کو سنبھالنا، جسمانی فٹنس ، ہتھیاروں سے نمٹنا ، پولیس قوانین ، انسداد دہشت گردی ، پبلک ڈیلنگ اور نظم و ضبط کی تفہیم کے حوالے سے تربیت دے رہے ہیں۔ اس سلسلے میں ٹریننگ کے دورانئے کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ سب سے پہلے! بنیادی ٹریننگ میں نظم وضبط, ہتھیاروں کے استعمال کا طریقہ کار،ڈرل، کیموفلاج  Raid Ambush, ،فائر نگ اور فزیکل فٹنس جس میں بنیادی جسمانی ایکسر سائزز اور کھیل شامل ہیں۔
 دوسرے مرحلے میں پولیس کے قوانین سے آگاہی کی ٹریننگ جس میں پولیس لائنز اور پولیس سٹیشنز ریکارڈ، گرفتاری اور تحویل کا طریقہ کار,Pak penal codeاور Criminal Procedure Code کے اہم نکات, پٹرولنگ, فسادات پر قابو پانا اور ہجوم کو منتشر کرنے کا طریقہ کار اور Forensic شامل ہیں۔
 پولیس کی خصوصی تربیت کا سب سے اہم جزو موجودہ  حالات کے تناظر میں انسداد دہشت گردی کی ٹریننگ ہے  جس میں سرچ آپریشن، Quick Reaction Force ،   Mobile اور static check posts کا طریقہ کار، وی آئی پی سکیورٹی آئی ای ڈی  explosives سے نمٹنے اور latest equipment جیسے وائرلیس سیٹ, jammers,   میپ ریڈنگ(map reading ), واک تھرو گیٹس, سی ڈی آر کا طریقہ کار اور موبائل ٹریکرز شامل ہیں۔
خیبر پختونخوا پولیس میں نئے ضم شدہ اہلکاروں کو خصوصی تربیت دینے میں اس بات کا خصوصی خیال رکھا گیا ہے کہ practical training کے ساتھ ساتھ مختلف اداروں سے تعلق رکھنے والے guest speakers کو بھی مدعو کیا جائے تاکہ وہ اپنے تجربے سے حاصل علم کو ان اہلکاروں تک پہنچائیں جو ان کی پریکٹیکل ڈیوٹی میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ اس سلسلے میں خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں کے ،RPOs , DPOs, Principal Elite Police Training Centre, ، پرنسپل ٹریفک مینجمنٹ سکول, اے آئی جی بم ڈسپوزل یونٹ, ڈسٹرکٹ پولیس پراسیکیوٹر، پریذیڈینٹ ہائی کورٹ بار،کمشنر اور ڈی سیز شامل ہیں.
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے پاک فوج اور پولیس کی جانب سے مہمند میں جاری پولیس ٹریننگ کا مشاہدہ کیا اورپولیس کو دی جانے والی ٹریننگ پر بھرپور اعتماد کا اظہار کیا۔ انہوں نے متعلقہ حکام سے ضم شدہ اضلاع میں پولیس کی تربیت،  اسلحے اور گاڑیوں کی خریداری کے لئے درکار مالی وسائل ترجیحی بنیادوں پر فراہم کرنے کے احکامات جاری کئے۔  انہوں نے کہا کہ ضم شدہ اضلاع میں امن و امان کی بحالی اور ان علاقوں کی تعمیر و ترقی میں پاک فوج کا کردار قابل تحسین ہے۔ 
قبائلی اضلاع میں جاری پولیس ٹریننگ کے معیار کو برقرار رکھنے کے لئے پاک آرمی, فرنٹیئر کور اور پولیس کے  اعلیٰ حکام مختلف مواقع پر دورہ کر رہے ہیں تاکہ ٹریننگ کے معیار کے ساتھ ساتھ تربیت حاصل کرنے والے اہلکاروں، پاک آرمی اور پولیس کے ٹرینرز کی حوصلہ افزائی کی جا سکے۔ آئی جی پولیس خیبر پختونخوا ثنااللہ عباسی نے پولیس کو دی جانے والی ٹریننگ کے انعقاد میں اہم کردار ادا کیا اور ان کی کاوشوں سے خیبر پختونخوا پولیس سسٹم میں بہتری آرہی ہے۔ انہوں نے مختلف علاقوں میں جاری ٹریننگ کا مشاہدہ کیا اور کہا کہ پولیس ریفارمز پر کام جاری ہے اور پولیس کو مثالی بنانے کے لئے تمام وسائل برو کار لائے جائیں گے۔  
خیبر پختونخوا کے قبائلی اضلاع میں پولیس میں نئے ضم شدہ اہلکاروں کے پہلے بیچ کے چار ہزار اہلکاروں نے تربیت مکمل کر لی ہے اور وہ پاس آؤٹ ہو کر اپنے اپنے اضلاع میں ڈیوٹیاں سر انجام دیں گے۔ پاسنگ آؤٹ کے سلسلے میں مختلف قبائلی اضلاع میں سادہ اور پروقار تقاریب منعقد ہوئیں
  جس میں پاس آؤٹ ہونے والے اہلکاروں کے اہل خانہ، سول, ملٹری اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران سمیت  دیگر مہمانوں نے شرکت کی۔ 
 

Read 3 times


TOP