2018 - 1965 :  پاکستان کی دفاعی ذمہ داریاں​

قیامِ پاکستان سے لے کر اب تک پاکستان کے لئے سب سے اہم دفاعی چیلنج بھارت سے رہا ہے اور اب بھی ہے۔ لیکن پانچ دہائیوں سے زیادہ عرصے پر محیط اس طویل عرصے کے دوران پاکستان کی دفاعی ذمہ داریوں میں بے تحاشا اضافہ ہوا ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ پاکستان کے ارد گرد ہونے والے واقعات   اور اہم تبدیلیاںہیں۔ مثلاً دسمبر1979 میں افغانستان پر سوویت یونین کے قبضے سے پیدا ہونے والی صورتِ حال اور اس کے بعد کے حالات کی وجہ سے پاکستان کو اپنی مغربی سرحدوں کی حفاظت کا اہتمام کرنا پڑا۔9/11 کے واقعات نے دُنیا میں تلاطم پیداکردیا اور تقریباً تمام ممالک کو اپنے دفاع اور سلامتی سے متعلق نظریات پر نظر ثانی کرنی پڑی۔ پاکستان کا بھی ان تبدیلیوں سے متاثر ہونا ناگزیر تھا بلکہ ہمارا ملک اِن تبدیلیوں سے براہِ راست متاثر ہوا۔ کیونکہ پاکستان ان تین اہم خطوں یعنی جنوبی، مغربی اورو سطی ایشیا کے سنگم پرواقع ہے۔جہاں انتہا پسندی، دہشت گردی، علیحدگی پسندی، نارکوٹکس ٹریڈ او رہیومن سمگلنگ کی شکل میں قومی دفاع اور سلامتی کے لئے نِت نئے اور سنگین چیلنجز نمودار ہوئے ہیں۔1965 میں پاکستان پر بھارتی حملہ پاکستان کے دفاع کے لئے ایک کڑا امتحان تھا۔ لیکن گزشتہ 53 برس کے دوران یہ خطرہ زیادہ پیچیدہ، ہمہ جہتی اور ہمہ گیرنوعیت اختیار کرچکاہے۔ مگر پاکستان اس سے نمٹنے کے لئے پوری طرح تیار ہے اس سے نمٹنے کے لئے ہماری قومی حکمتِ عملی کیا ہے؟ دفاعی ضروریات کس نوعیت کی ہیں اور ان سے  عہدہ برآ ہونے کے لئے کون سے اقدامات ہیں؟ ان سب کا اس کالم میں احاطہ کرنے کی کوشش کی جائے گی لیکن سب سے پہلے 1965 کی جنگ اور اُس وقت پاکستان کی دفاعی ذمہ داریوں پر بات کی جائے گی۔ 1965 میں اگرچہ پاکستان کی مغرب میں ایران اور افغانستان کے ساتھ سرحدیں پُر سکون تھیں، تاہم مشرق میں بھارت کے ساتھ محاذ آرائی میں پاکستان کے لئے سب سے بڑا چیلنج نہ صرف برّی راستے سے ملک پر حملہ روکنا تھا، بلکہ مشرقی پاکستان کے دفاع کی بھی ذمہ داری شامل تھی۔ پاکستان کے مشرقی اور مغربی بازوئوں میں ایک ہزار سے زائد میل کا فاصلہ تھا۔ بھارت کے ساتھ جنگ کی صورت میں پاکستان کے دونوں حصوں کے درمیان رابطے کا واحد ذریعہ سمندر تھا جسے بھارتی بحریہ نے بلاک کیا ہوا تھا۔ اس لئے 1965 کی جنگ کے دوران پاکستان کی تمام ترکاوشیں مغربی پاکستان تک محدود تھیں۔ اس میں 3000 کلو میٹر سے زیادہ لمبی سرحد کے علاوہ فضائی اور بحری دفاع بھی شامل تھا۔ بھارت کی حکمتِ عملی میں زمینی حملے کے ذریعے زیادہ سے زیادہ پاکستانی علاقوںپر قبضہ کرکے پاکستان کو اپنی شرائط پر جنگ بندی پر مجبور کرنا تھا۔ سب سے خطرناک منصوبہ جموں سرحد عبور کرکے ڈسکہ کے راستے جی ۔ ٹی روڈ پر قبضہ کرنا تھا۔ جی۔ٹی روڈ اُس وقت پاکستان کے دفاع کے لئے ہی نہیں بلکہ معیشت کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی تھی۔ بھارت اس پر قبضہ کرکے مغربی پاکستان کو دو حصوں میں تقسیم کرنا چاہتا تھا لیکن پاکستان کی پیادہ فوج اور بکتر بند دستوں نے چونڈہ کے مقام پر ٹینکوں کی مشہور لڑائی میں دشمن کی پیش قدمی روک کر اس منصوبے کوخاک میں ملا دیا۔

 

 کسی بھی ریاست کی دفاعی حکمتِ عملی میں اوّلین ترجیح اس کی جغرافیائی سرحدوں کا دفاع ہے۔ پاکستان کی جغرافیائی سرحدیں ،جہاں تک موجودہ پاکستان کا تعلق ہے، چار ممالک یعنی بھارت، چین، افغانستان اورایران سے ملتی ہیں لیکن1965 میں مشرقی پاکستان ایک طرف سمندر(خلیج بنگال) اور باقی تقریباً تینوں طرف سے بھارت سے گھرا ہوا تھا۔ دوسرے نمبر پر آبادی کے بڑے بڑے مراکز یعنی شہروں کا دفاع آتا ہے۔ پاکستان کا دوسرابڑا شہر یعنی لاہور بھارتی سرحد سے محض چند کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔1965 کی جنگ میں بھارت نے اچانک حملہ کرکے اس پر قبضہ کرنے کی کوشش کی۔ لیکن پاکستانی فوج کی دفاعی حکمتِ عملی اور افواجِ پاکستان کی جاں فروشی نے اسے ناکام بنادیا۔ کراچی ملک کا نہ صرف آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑا شہرہے بلکہ پاکستان کے کاروبار، تجارت اور معاشی سرگرمیوں کا مرکز بھی ہے۔ دشمن نے سمندر کے راستے حملہ کرکے باقی ملک سے منقطع کرنے کی کوشش کی۔ لیکن پاکستانی بحریہ نے آگے بڑھ کر بھارت کے مغربی ساحل پر واقع دوارکا اور سومنات کے بحری اڈوں کو تباہ کرکے یہ کوشش بھی ناکام بنا دی۔ آبادی کے دو بڑے مراکزکے دفاع کے بعد اہم اقتصادی، صنعتی اور دفاعی تنصیبات کا دفاع ہے۔1965کی جنگ میں پاکستان کی بری فوج نے ملک کی شمال مشرقی اور جنوب مشرقی سرحدوں کا کامیابی سے دفاع کیا۔ پاک بحریہ نے بحیرۂ عرب پر بالادستی قائم کرنے کی بھارت کوشش کو ناکام بنا کر نہ صرف کراچی شہر اور بحیرہِ عرب کی اہم تنصیبات کا دفاع کیا، بلکہ بھارتی بحریہ کو اس کے ساحلی اڈوں میں مقید کرکے پاکستان کے سمندر کے راستے تجارت کی شاہراہوں کو کھُلا رکھا۔ بحری تجارتی شاہراہوں کا دفاع آج بھی اہم ہے اور1965 میں بھی اہم تھا۔ کیونکہ پاکستان کی درآمدات اور برآمدات پر مشتمل تجارت کا تقریباً80 فیصد حصہ سمندر کے راستے ہی ہوتا ہے۔ جہاں تک اہم صنعتی، اقتصادی مراکز کے دفاع کا تعلق تھا، پاکستان کی فضائیہ نے یہ فریضہ شاندار طریقے سے سرانجام دیا۔ جنگ کے دوران دشمن کے طیاروں کو پاکستانی صنعتی مراکز میں اہم تنصیبات پر بمباری کی جرأت نہ ہوئی اور اگر بھارتی فضائیہ نے پاکستانی شہروں کا رُخ کیابھی تو پاکستانی شاہینوں نے اُنہیں مار بھگایا۔ یہی وجہ ہے کہ 1965 کی جنگ میں بھارت کی طرف سے بھرپور حملے کے باوجود پاکستانی شاہراہیں، پل، ڈیم ، بیراج، کارخانے ، ریلوے کے مراکز ، صنعتی شہر اور اہم تنصیبات محفوظ رہیں۔ اس بات کے سب معترف ہیں کہ 1965 کی جنگ میں نہ صرف ہماری بری فوجوں نے دشمن کے، پاکستانی علاقوں پر قبضہ کرنے کے، عزائم کو ناکام بنایا، بلکہ ہماری بحریہ نے کھلے سمندر میں دشمن کی بحریہ کو واپس اپنے اڈوں پر جانے پر مجبور کیا اور پاک فضائیہ کو اپنے حریف پر مکمل بالادستی رہی۔

 

1971 میں مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے نتیجے میں پاکستان کی دفاعی ذمہ داریوں میں بنیادی تبدیلی رونما ہوئی۔ پاکستان اب مشرقی پاکستان کی دفاعی ذمہ داریوں سے فارغ تھا اور اُس کی تمام تر توجہ باقی ماندہ پاکستان یعنی مغربی پاکستان کے دفاع پر مرکوز تھی۔1971 کی جنگ میں مشرقی پاکستان کے دفاع میں ناکامی کی سب سے بڑی وجہ وہ سیاسی حالات تھے جن کی وجہ سے مشرقی پاکستان میں خانہ جنگی کی صورتِ حال پیداہوئی اور بھارت کو مداخلت کرنے کا موقع ملا۔ اگرچہ مارچ1971 سے پہلے مشرقی پاکستان میں فوجی دستوں کی تعداد میں اضافہ کردیا گیا تھا لیکن تقریباً4000 کلومیٹر طویل سرحد کے ساتھ تینوں طرف سے دشمن میں گھرے ہونے کی وجہ سے مشرقی پاکستان کا دفاع مشکل تھا۔ اس لئے پاکستان کو اپنے مشرقی بازو سے محروم ہونا پڑا۔ ملک اگرچہ آدھارہ گیا تھا لیکن دفاعی ذمہ داریوں میںکمی نہیں آئی، البتہ ان کی نوعیت بدل گئی۔ کیونکہ پاکستان کے لئے اب اس کی مشرقی سرحد کے دفاع کی اہم ذمہ داری نہیں تھی، بلکہ1973 کی عرب اسرائیل جنگ اور عربوں کی طرف سے اسرائیل کے حامی مغربی ممالک کے خلاف تیل کو بطورِ ہتھیار استعمال کرنے کے بعد مشرقِ وسطیٰ، خلیج فارس اور بحرِ ہند میں تیزی سے انقلابی تبدیلیاں رونما ہو رہی تھیں۔ اِن تبدیلیوں میں مشرقِ وسطیٰ اور خلیج فارس کے علاقے میں امریکہ اور نیٹو میں اُس کے اتحادیوں کی بحری قوت میں اضافہ اور بحرِ ہند کے خطے میں امریکہ اور سابق سوویت یونین کے درمیان مسابقت شامل تھیں۔ اس کے ساتھ ہی بھارت نے بحرِ ہند اور خصوصاً بحیرہ ٔعرب میں اپنی بحری سرگرمیوںمیں اضافہ کردیا تھا۔ ان سرگرمیوں میں کھلے سمندر میں جنگی بحری جہازوں کی تعدادمیں اضافے کے علاوہ بھارت کی طرف سے خلیج فارس اور مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کے ساتھ بحری رابطوں کو فروغ دینا بھی شامل تھا۔ پاکستان کے لئے یہ اقدامات انتہائی تشویش کا باعث تھے کیونکہ 1971 میں مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد پاکستان نے مغربی ایشیا اورمشرقِ وسطیٰ  کے ممالک مثلاً ایران، ترکی، سعودی عرب، متحدہ امارات اور لیبیا کے ساتھ تجارتی، اقتصادی اور دفاعی تعلقات کو فروغ دینے کی پالیسی اختیار کی تھی۔ ان ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات پاکستان کے لئے نہ صرف دفاعی بلکہ اقتصادی لحاظ سے بھی اہم تھے۔خصوصاً ایران اور خلیج فارس کی عرب ریاستوں کی طرف سے پاکستان کے دوطرفہ بنیادوں پر اہم رعایتوں اور مالی امداد کی فراہمی نے پاکستانی معیشت کو اُس جھٹکے سے سنبھلنے میں بہت مدد دی جو مشرقی پاکستان کی علیحدگی سے لگا تھا۔

 

شہدائے وطن کو سلام

راہِ حق پہ یوں جان اپنی لٹانے والو! سلام تم کو

ملک و ملت سے سارے وعدے نبھانے والو! سلام تم کو

کوئی جہاں میں نہیں ہے ایسا جو خون دے کر کرے اُجالا

لہو سے اپنے امن کے دیپک جلانے والو! سلام تم کو

وطن کی مٹی لہو لہو ہے لہو کی خوشبو بھی چار سُو ہے

وطن کی خاطر یوں خاک و خوں میں نہانے والو! سلام تم کو

جہاں تمہارا لہو گرا ہے وہ ذرّہ ذرّہ چمک رہا ہے

اس اپنی دھرتی کو کہکشاں سا بنانے والو! سلام تم کو

وطن پہ جانیں لٹا کے اپنی کِیا ہے ملت پہ بہت احساں

یہ سبز پرچم جہاں میں اونچا اٹھانے والو! سلام تم کو

زمانہ سارا حیراں کھڑا ہے میداں میں دُشمن تڑپ رہا ہے

یوں ہر میداں میں عدو کو نیچا دکھانے والو! سلام تم کو

ہر ایک سرحد گواہ ہے اس کی کہ تم نے حُرمت میں خوں بہایا

یوں سرحدوں پہ عدو سے پنجہ لڑانے والو! سلام تم کو

وہ رحمت دوجہاں کا صدقہ مقام اعلیٰ عطا کرے گا

مقام جنت میں رب سے اپنے یوں پانے والو! سلام تم کو

محمد سعید گل

 

 یہ وہ زمانہ تھا جب امریکہ نے بھی پاکستان کی امداد سے ہاتھ کھینچ لیا تھا۔ اس موقع پر ایران اور تیل پیدا کرنے والے عرب ممالک کی طرف سے مالی امداد پاکستان کے بہت کام آئی۔ مگر مغربی ایشیائی، مشرقِ وسطیٰ اور خلیج فارس کے ممالک کے ساتھ یہ رابطے صرف معاشی اور تجارتی شعبوں تک محدود نہ تھے۔ نوآزاد خلیجی ممالک مثلاً متحدہ عرب امارات، مسقط اور اومان، یمن اور کویت نے اپنے دفاعی انفرا سٹرکچر کی تعمیر کے لئے پاکستان کے ساتھ قریبی رابطے قائم کئے اور ان رابطوں کی بنیاد پر پاکستان نے بری، فضائی اور بحری فوج حتیٰ کہ پولیس کی تربیت کے لئے اپنے ماہرین بھیجے۔ گزشتہ تقریباً4 دہائیوں پر محیط پاکستان اور ان ممالک کے درمیان دفاعی تعاون نے، پاکستان کومشرق وسطیٰ، خلیج فارس اور بحیرئہ احمر کی علاقائی سلامتی اور دفاع کی حکمتِ عملی میں ایک اہم پارٹنر بنادیا ہے۔ سعودی عرب کی قیادت میں تشکیل پانے والے اسلامی فوجی اتحاد میں پاکستان کی شرکت اس سلسلے کی کڑی ہے۔ اس کا مقصد مشرقِ وسطیٰ اور خلیج فارس میںپاکستان کے دوست ممالک کو بیرونی جارحیت سے محفوظ رکھنا ہے۔ دسمبر1979 میں افغانستان پر سابق سوویت یونین کے فوجی قبضے نے پاکستان کی مغربی سرحد کو غیر محفوظ بنایا تھا۔ اسے محفوظ رکھنے کے لئے پاکستان کو افغان عوام کی مزاحمتی جنگ میں ایک فرنٹ لائن سٹیٹ کا کردار ادا کرنا پڑا۔ لیکن نائن الیون کے بعد دہشت گردی کے خلاف جنگ نے پاکستان کو نہ صرف افغانستان بلکہ چین اور ایران کے ساتھ اپنی سرحدوں کو محفوظ بنانے کاپابند کردیا۔ اس کی وجہ دہشت گردوں کا وہ نیٹ ورک ہے جو پاکستان اور افغانستان کے علاوہ وسطی ایشیا، چین، ایران، خلیج فارس اور مشرقِ وسطیٰ تک پھیلا ہوا ہے۔ اس نیٹ ورک کی کارروائیوں کو غیر مؤثر بنانے کے لئے پاکستان کو چین، افغانستان اور ایران کے ساتھ ملنے والی اپنی سرحدوں پر کنٹرول اور مانیٹرنگ کا ایک مؤثر اور مربوط نظام بنانے کی ضرورت ہے۔ افغانستان سے ملنے والی تقریباً اڑھائی ہزار کلو میٹر لمبی سرحد پر آہنی باڑ لگانے کا مقصد یہی ہے۔ اس سے دہشت گردوں اور دیگر ٹرانس نیشنل جرائم میں ملوث افراد کی نقل و حرکت روکنے میں مدد ملے گی۔ اس مشن کی تکمیل کے لئے پاکستان نے تقریباً دو لاکھ فوج شمال مغربی سرحدوں پر تعینات کررکھی ہے  اور مزید ساٹھ ہزار فوج تعینات کرنے کا منصوبہ ہے۔

 

پاک، چین، اکنامک کاریڈور یعنی CPEC  کی تعمیر کے بعد پاکستان کی دفاعی ذمہ داریوں میں ایک نیااور اہم اضافہ ہوا ہے۔ ان ذمہ داریوں کا ایک پہلو ملک سے گزرنے والے کاریڈور کے تینوں روٹس کی سکیورٹی ہے۔ پاکستان کی مسلح افواج نے اس کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے ایک ڈویژن پر مشتمل سپیشل فورس قائم کی ہے جس کاکام کاریڈور کے تینوں روٹس پر چلنے والے تجارتی قافلوں اور اہم تنصیبات کی حفاظت ہے۔ دوسرا پہلو بحیرہِ عرب اور اس کے ارد گردپانیوں مثلاً خلیج اومان، بحیرہِ احمر اور مشرقی افریقہ کے ساحل کے ساتھ ساتھ اہم تجارتی شاہراہوں کی حفاظت ہے۔ اس اہم اور وسیع فریضے کی انجام دہی میں پاک بحریہ کی ذمہ داریوں میں بہت نمایاں اضافہ ہوا ہے، کیونکہ کاریڈور کا جنوبی ٹرمینل، بلوچستان کے ساحل پر واقع بندر گاہ ، گوادر، اسی علاقے میں واقع ہے۔ کاریڈور کی تعمیر کے بعد گوادر کی بندرگاہ سے روانہ ہونے والے اور مختلف اطراف سے داخل ہونے والے تجارتی بحری جہازوں کی تعداد میں اضافہ ہو جائے گا۔ جن گزر گاہوں سے یہ تجارتی جہاز چین ، وسطی ایشیا اور پاکستان کا سامان لے کر جائیں گے اور اہم درآمدات لے کر آئیں گے، اُن کی حفاظت کاریڈور کا ایک بہت حصہ ہے۔ اس کے علاوہ بھارت خلیج فارس، مشرقِ وسطیٰ کے ممالک اور اسرائیل کے ساتھ دفاعی تعلقات استوار کرنے کی کوشش کررہاہے۔ ان تعلقات کی بنیادپر بھارت سی پیک کے ذریعے قائم ہونے والے پاکستان کے مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کے ساتھ روابط کو منقطع کرنے کی کوشش کرسکتا ہے۔ تیزی سے بدلتے ہوئے ان حالات میں پاکستان کی دفاعی ذمہ داریوں میں جو اضافہ ہوا ہے، اُن کے پیش نظر ہم کہہ سکتے ہیں کہ پاکستان اب نہ صرف جنوبی ایشیا، بلکہ وسطی ایشیا، شنگھائی تعاون تنظیم کا مستقل رُکن ہونے کی وجہ سے مغربی ایشیا کے ساتھ ساتھ خلیج فارس اور بحرِ ہند کی سلامتی اور دفاعی حکمتِ عملی کا ایک اہم جزو بن چکا ہے۔


مضمون نگار: معروف ماہر تعلیم اور کالم نویس ہیں۔  

[email protected]

Comments



Note: No comments!



Leave a Reply

Success/Error Message Goes Here
Note: Please login your account and then leave comment!
TOP