ہماری تاریخِ  شجاعت کا ایک لازوال باب

سیالکوٹ چھائونی سے راولپنڈی تبدیل ہوئے ابھی چند ہی روز ہوئے تھے کہ ایک تقریب میں آرمی میوزیم کے نگران جیلانی صاحب سے ملاقات ہوئی۔  انہوں نے پہلی فرصت میں میوزیم دیکھنے کی دعوت دی اور بتایا کہ حال ہی میں وہاں چند اور نادر اشیاء کا اضافہ ہوا ہے۔ خاص طور پر نشانِ حیدر سیکشن میں یادگار چیزیں موجود ہیں ۔ سچی بات ہے کہ جیلانی صاحب سے ملاقات سے قبل مجھے کسی آرمی میوزیم کے وجود کا علم نہیں تھا۔ بہر حال ایک شام وہاں جا پہنچا ۔ مختلف ہال کمروں کا سرسری جائزہ لیا تو اندازہ ہوا یہ جگہ متعدد شاموں کا تقاضا کرتی ہے ۔ جیلانی صاحب سے ان کے دفترمیں ملاقات ہوئی ۔ وہ حسبِ وعدہ مجھے نشانِ حیدر سیکشن میں لے گئے  جہاں شجاعت کا اعلیٰ ترین اعزاز پانے والوں کی ذاتی اشیاء محفوظ ہیں ۔ کیپٹن سرور شہید نشان حیدر کی وردی، میجر طفیل شہید کا ریوالور ، میجر عزیز بھٹی شہید اور میجر شبیر شریف شہید کی کتابیں نمایاں ہیں۔  اسی جگہ میجر اکرم شہید اور پائیلٹ آفیسر راشد منہاس کی ذاتی ڈائریاں بھی دکھائی دیتی ہیں ۔ قریب ہی لانس نائیک محفوظ شہید کے زیر استعمال رہنے والی چیزیں سجائی گئی ہیں ۔ میں شہداء کی انمول نشانیاں دیکھنے میں محو تھا کہ جیلانی صاحب کی آواز نے چونکا دیا۔ '' آپ نے سوار محمد حسین شہید کی الماری دیکھی ہے۔ '' میں نے فوراًسوار کی نشانیوں کی طرف رُخ کیا ۔ وردی کا جوڑا ، بیلٹ ، ٹوپی ، بوٹ اور ایک عدد کاپی میری نگاہوں کے سامنے تھی۔ لیکن ان سب سے جدا بلکہ پورے نشان حیدر سیکشن کا سب سے بڑا اثاثہ ایک فریم شدہ خط تھا جس کے چاروں طرف خون کی لکیریں دکھائی دے رہی تھیں۔ خط کے ساتھ خون میں تر لفافہ بھی تھا ۔ جیلانی صاحب نے بتایا کہ یہ ایک تاریخی خط ہے جو شہادت کے بعد سوار محمد حسین شہید کی جیب سے برآمد ہوا ۔ شہید کے مخاطب ان کے والد گرامی ہیں۔ وہ خط لکھنے کے بعد اسے پوسٹ نہ کر سکے اور مصروف ِ جنگ رہے کہ شہادت کا لمحہ آگیا۔ خون سے ان کی وردی تر ہوگئی اور یوں یہ خط بھی سوار کے ساتھ زندہ وجاوید ہو گیا۔میں اس خط کو دیکھ رہا تھا۔ ایک ایسے سپاہی کا خط جو دفاع وطن کا مقدس فریضہ سر انجام دے رہا ہے۔ اس خط کا انداز رجزیہ ہے۔ اس میں گھر کے آنگن کی مہک بھی ہے۔ وہ نصیحت کے ساتھ وصیت بھی کررہا ہے ۔ شاید اُنہیں شہادت کا یقین تھا۔

 

سوار محمد حسین شہید نشان حیدر کا یہ رنگین خط آج بھی آرمی میوزیم راولپنڈی میں عزم و عمل کی علامت کے طور پر موجود ہے۔ اس خط نے مجھے اک ولولہِ تازہ دیا اور میں نے ایسے خطوط کی تلاش کا آغاز کر دیا جو شہدائے وطن نے دوران جنگ محاذ سے تحریر کئے تھے۔

 

 یہ1974ء کا ذکر ہے مجھے یونٹ سے آئی ایس پی آر میں پوسٹ ہوئے ابھی ایک برس ہی ہوا تھا۔ یہ ایک مشکل فیصلہ تھا جس پر عمل درآمد سرکاری اور نجی مصروفیات کے باعث مزید دشوار ہو گیا ۔ آغاز میں شہیدوں کی فہرستوں کا حصول ناممکن تھا۔ کیونکہ میری کاوش خالصتاً نجی بنیادوں پر تھی۔ البتہ بعض عسکری اداروں نے بہت تعاون کیا ۔ شہیدوں کے ورثا سے خطوں کے ذریعے درخواست کی گئی۔ میں پانچ سو کے لگ بھگ خطوط جمع کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ اکثر خطوط ایسے تھے جو محاذ پر جانے سے پہلے تحریر کئے گئے تھے۔ لہٰذا ان میں محاذ کی کیفیت کی عکاسی نہیں تھی۔ پچاس کے لگ بھگ واقعی ہی شہیدوں کے خطوط تھے۔ اس مضمون میں چند ایک ایسے خطوط شامل ہیں جو شہید افسروں اور جوانوں نے  1965 اور1971 کی جنگ کے دوران تحریر کئے۔ ان خطوط کا مطالعہ کیجئے، ان میں حوصلے ، ولولے ، یقین ِ کامل اور پاک سر زمین پر مر مٹنے کے عزم کی مہک ہے۔

 

85 میڈیم رجمنٹ آرٹلری کے گنر محمد رفیق شہید نے آخری خط 4 دسمبر 1971 کو اپنے بیٹے محمد شفیق کے نام تحریر کیا۔ یہ یونٹ مغربی محاذ پر تعینات تھی۔ گنر رفیق لکھتے ہیں کہ میں فی الحال کوئٹہ میں نہیں ہوں ۔ لیکن آپ خط کوئٹہ ہی کے پتے پر لکھیں ۔ میں راضی خوشی ہوں ۔ کسی قسم کا فکر نہ کرنا۔ جو کچھ حالات ہیں آپ کو معلوم ہی ہیں ۔ آزمائش کا وقت آتا رہتا ہے۔ جس کے لئے ہم پاک فوج میں بھرتی ہوئے ہیں وہ وقت آگیا ہے۔ دعا کریں  خداوند ِ کریم ہم کو فتح دے۔ کسی قسم کا فکر نہ کرنا ۔ بالکل خیریت سے ہوں ۔ کسی قسم کی کوئی بات دل میں نہیں لانی۔ اسی خط میںگنر رفیق اپنی اہلیہ سے مخاطب ہوکر لکھتے ہیں ۔

 

''اللہ تعالیٰ نے آپ کو چار بچے دیئے ہیں۔ میں دوبارہ کہتا ہوں گھبرانا نہیں۔ بالکل نہیں خداوندِکریم بہتر کرے گا۔ جو کچھ خدا کو منظور ہو گا وہی ہوگا۔ بچوں کی حفاظت کریں ، ان کا خاص خیال رکھیں ۔ ضروری تاکید ہے۔ زندگی رہی تو  ملاقات ہوگی۔''

 

گنر رفیق شہادت کا رتبہ پا گئے ۔ وہ ایک بہادر اور ماہر توپچی تھے۔ انہوں نے نومبر1971 کے آخری ہفتے میں اپنے بھائی کے نام ایک خط میں ایک سو بیس روپے قرض واپس کرنے کا ذکر کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ بعض مجبوریوں کی وجہ سے یہ پیسے جلد ادا نہیں کر سکا۔ خط کے مزید الفاظ یوں ہیں۔

 

''جو ملک کے حالات ہیں آپ کو پتا ہی ہیں ۔ اچھا ہے اگر اس ذریعے سے ہمیں جنت مل جائے۔ سنا ہے کہ ہمارے گاؤں میں فوجی آدمی رہتے ہیں ۔ اس طرح ہم لوگ بھی گھروں میں رہتے ہیں ۔ کوئی بات نہیں وہ بھی ہماری اپنی فوج ہے۔ ہمیں خط لکھنے کی فرست (فرصت ) ہی اتنی ملی ہے ۔ لیکن باتیں بہت ہیں۔  محمد رفیق کی طرف سے سارے گاؤں کو سلام۔ جواب جلدی دیں ''۔

 

گنر محمد رفیق کے خطوط کا جواب پورے گاؤں کی دعائیں تھیں ۔ وہ جان دے کر اپنے گاؤں اور وطن ِ عزیز کا نام اُونچا کر گیا۔

تحصیل گجرات کے گاؤں کھوڑی رسول پور سے تعلق رکھنے والے نائیک حافظ غلام سرور انجینئر بٹالین کی برج کمپنی کے تجربہ کار سپاہی تھے۔ اگست 1965 میں گجرات کے گاؤں اعوان شریف پر بھارت کی گولہ باری کے موقع پر وہ چھٹی پر آئے ہوئے تھے۔ یونٹ پہنچے تو جنگ ستمبر کا آغاز ہو چکا تھا ۔ ان کی یونٹ قصور کے محاذ پر دفاع وطن کا فریضہ ادا کر رہی تھی۔ حافظ صاحب نے بڑی بے جگری سے جنگ میں حصہ لیا۔ ان کے دوست بتاتے تھے کہ وہ انتھک مجاہد تھے۔ جو اپنی ڈیوٹی عبادت سمجھ کے کر رہے تھے۔ 11 ستمبر 65 کو شہادت کے درجے پر فائز ہوئے۔ انہوں نے شہادت سے تین روز قبل آخری خط اپنے والد گرامی کو تحریر کیا جس کا متن حسبِ ذیل ہے:

 

'' السلام علیکم ! گزارش ہے کہ آپ کی طرف اس سے پہلے خط ارسال کر چکا ہوں ۔ آپ کو میری خیریت کا پتا چل گیا ہو گا۔ مگر میں آپ کی خیریت سے آگاہ نہیں ہو سکا۔ اس لئے دل کو چین نہیں آرہاہے۔ ایک تو آتی دفعہ آپ کو مل نہ سکا ، دل میں حسرت ہی رہی ۔ زندگی کا پتا نہیں ہوتا۔ اچھا آپ دعا کرتے رہیں ۔ اللہ تعالیٰ فضل کرے گا۔ جواب خط ملتے ہی دینا ہو گا۔ ضروری تاکید ہے۔ فکر کرنے کی کوئی بات نہیں ۔گھبرانا بالکل بھی نہیں۔ لاکھوں ماؤں کے بچے ہمارے ساتھ ہیں ۔ میری طرف سے والد صاحب اور والدہ صاحبہ کو سلام اور آداب ، اعظم ، صدیق اور صغراں کو بہت بہت پیار۔ میری طرف سے سب محلے والوں کو سلام ۔ فقط آپ کا بیٹا غلام سرور۔''

 

کور آف انجینئر کے سیپر(Sapper) محمد ارشاد عابد کی تاریخ شہادت 14 دسمبر1971 ہے۔ آپ فاضلکا سیکٹر میں شہید ہوئے۔ ارشاد عابد کا تعلق ضلع فیصل آباد کے چک نمبر ٢١١ گ ب سے ہے۔ انہوں نے فوجی ملازمت اختیار کرنے سے قبل گورنمنٹ مڈل سکول 210 گ ب اور مدرسہ جامع العلوم بیرون دولت دروازہ ملتان میں تعلیم حاصل کی ۔ ارشاد عابد شہید نے دوران جنگ تین خط تحریر کئے۔صرف ایک خط پر 8 دسمبر1971 کی تاریخ درج ہے ۔ بقایا دو خطوط پر تاریخ نہیں ۔ تاہم نفس مضمون سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ دو خط 8 دسمبر1971 کے بعد لکھے گئے ہیں۔ پہلے خط میں شہید دشمن سے دست بدست جنگ کی اطلاع دیتے ہوئے دعا کی درخواست کرتے ہیں اور اپنی بھابھی سے دریافت کرتے ہیں کہ میری جرسی تیار ہوگئی ہے کہ نہیں اگر تیار ہے تو فوراً بھجوا دیں ۔ والد صاحب کے نام خط میں لکھتے ہیں کہ آپ لوگوں کی دعاؤں سے خیریت سے اپنا کام سرانجام دے رہا ہوں ۔ آپ لوگوں کو کسی قسم کی فکر کرنے کی ضرورت نہیں ۔ آپ سب کو آج کل کے حالات کا پتہ ہے اور ہم سب ساتھی اپنے دشمن کی سختی کا جواب دے رہے ہیں ۔ وہ قسم خدا کی ! جب ہم نعرہ لگا کر حملہ آور ہوتے ہیں تو وہ اسی جگہ اپنا سب سامان چھوڑ کربھاگ جاتا ہے اور باتیں بہت ہیں ۔ لیکن آرمی کا ڈسپلن لکھنے کی اجازت نہیں دیتا۔ اُمید ہے کہ بھائی ریاض علی بہاولنگر چلا گیا ہوگا۔ آپ سب لوگ ہمارے سب ساتھیوںکے لئے دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو فتح نصیب فرمائے اور اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کی طاقت دے ۔ ارشاد عابد کا خط جو آخری خط معلوم ہوتا ہے ۔جلدی میں لکھا گیا ہے۔ لکھتے ہیں کہ میں اپنا کام خدا کو حاضر سمجھ کر پورا کر رہا ہوںاور کوئی فکر کی ضرورت نہیں ہے ۔ دوسرا میں نے جرسی کے بارے میں لکھا تھا۔ لیکن ابھی تک کوئی جواب نہیں کیا وجہ ہے؟ زندگی کا کوئی پتہ نہیں آپ لوگ خدا جانے کس بات پر جواب نہیں دیتے ۔ جواب ضرور دیں ۔ وہ تو اگر کبھی زندہ رہا تو ان شاء اللہ ملاقات ہوگی تو پھر باتیں ہوں گی ۔ آپ لوگوں کو ملک کے حالات کا پتا ہے اور آج آٹھ دن ہو گئے ہیں۔ جنگ شروع ہے۔ وقت بالکل بھی نہیں ۔ دو منٹ بھی نہیں ملتے آپ ضرور جواب دیں اور باقی میری پیاری بیٹی طاہرہ پروین کو بہت بہت پیار۔ اب تو وہ تھوڑی تھوڑی باتیں کرتی ہو گی۔ اچھا ہے۔ دعا ہے اللہ تعالیٰ اسے تندرست رکھے۔ ہم سب کے لئے دعا کریں ۔

 

طاہرہ پروین کا باپ محاذ سے زندہ واپس نہیں آیا۔ وہ سرحدوں کا محافظ تھا ۔ اپنی بیٹی اور ایسی لاکھوں بیٹیوں کی دعائیں سمیٹ کر درجہِ شہادت پر فائز ہو گیا ۔

3 فرنٹیئر فورس رجمنٹ کے سپاہی حسن شاہ شہید کا آخری خط بڑا ہی دلچسپ ہے جو انہوں نے سات ستمبر1965کو اپنے والد گرامی کے نام محاذ سے تحریر فرمایا ۔ معلوم ہوتا ہے کہ انہیں فرصت کے چند لمحات میسر آگئے اور شہید نے موقعے سے فائدہ اٹھا کر جنگ کی تفصیلا ت (اپنے علم کے مطابق) گھر ، کچے بانڈھ تحصیل ہنگو ضلع کوہاٹ ارسال کر دیں ۔ آگ اور خون کے طوفان میں سپاہی حسن شاہ شہید کا سیالکوٹ کے محاذ سے لکھا جانے والا آخری خط ملاحظہ کیجیئے ۔

'' والد صاحب سدا سلامت رہو۔ بعد سلام میں خیریت سے ہوں ، جنگ جاری ہے۔ ہماری یونٹ پھر اپنی پرانی جگہ آگئی ہے۔ آج صبح دشمن نے بوقت4 بجے حملہ کر دیا ۔ اور جس پل سے ہم نے خدا حافظ بولا تھا ، انہوں نے زور سے لے لیا تھا۔ مگر ہم نے دوبارہ آٹھ بجے جمع ہو کر حملہ کر کے پل واپس لے لیا اور پل سے آگے ان کا اور علاقہ بھی لے لیا ہے۔ شہید اور زخمی لوگ بھی ہیں ۔ مگر کچھ نہ کچھ ضرور ہوتے ہیں مورخہ5/9 کو دو دفعہ دشمن نے ہمارے سیالکوٹ ایمونیشن ڈنپ( ڈمپ) پر بم گرائے۔ مگر اللہ تعالیٰ نے بار بار ڈنپ (ڈمپ) بچا لیا اور ان جہازوں میں سے ہمارے جہاز وں نے ایک جہاز پکڑ لیا ۔ باقی جب رات ہم پنڈی میں تھے تو اس رات بھارت کے دو جہاز راولپنڈی پر بم گرانے آئے تھے۔ مگر راولپنڈی والوں نے تمام بلب بجھا دیئے تھے۔ انہوں نے غلطی سے بم گولڑہ شریف کے نزدیک گرائے ۔ہمارے جہازوں نے پیچھا کیا ۔ باقی کوئی خاص گپ شپ نہیں ہے۔ مجھے یہ باتیں لکھنے کا ٹائم کم ملے گا۔ باقی میری بالکل فکر نہ کریں ۔ میں بہت خوش ہوں ۔ صرف آپ لوگوں کی دعاؤں کی ضرورت ہے ۔ اگر فرصت ملی تو آپ کو خط ارسال کرتا رہوں گا۔ اللہ تعالیٰ کو منظور ہوا تو میں ہمیشہ یونٹ کے ساتھ آگے رہوں گا۔ باقی میری طرف سے تمام اہل گھر ، تمام گاؤں کو سلام بلکہ تمام پردہ نشینوں کو سلام ۔ والسلام ۔ حسن شاہ

نوٹ: یہ گپ شپ گھر والوں کو نہیں بتانا ضروری تاکید ہے ۔

7 آزاد کشمیر رجمنٹ کے نائیک محبوب خان نے شہادت سے 48 گھنٹے قبل 6 ستمبر1971 کو آخری خط تحریر کیا شہید محاذ سے اپنی والدہ گرامی کو رقم طراز ہیں:

'' میں خداوند کریم کے فضل و کرم اور آپ کی دعا سے ہر طرح سے باخیریت اپنی ڈیوٹی سرانجام دے رہا ہوں ۔ میں آپ کو جلدی خط لکھتا لیکن آپ کو بھی معلوم ہوگا کہ خط لکھنے کا ٹائم بالکل نہیں ہے۔ آپ اور میرے بچے میری کوئی فکر نہ کریں ۔ مجھے خداوند کریم نے اس وقت کے لئے پیدا کیا ہے اور میں اپنے مالک کا حکم بجا لا رہا ہوں اور آپ کو مبارک ہوجس کے تین بچے اپنے مالک کی رضا کے لئے اور اپنے وطن کی حفاظت کے لئے ایک بہت بڑے دشمن کے سامنے سینہ تان کر کھڑے ہیں اور دشمن پر کاری ضربیں لگا رہے ہیں۔ مجھے امید ہے کہ آپ ہمارے حق میں دعا گو ہوں گے۔ باقی میں عرض کر دینا چاہتا ہوں کہ اگر کوئی کمی بیشی ہو جائے تو آپ کو حوصلہ کرنا پڑے گا اور بڑے صبر سے وقت گزارنا ہو گا۔ باقی شاید مجھے دوسرا خط لکھنے کا جلدی وقت نہ ملے۔ اس لئے میری فکر بالکل نہ کرنا اور چھوٹے بچوں کا خیال رکھنا ۔ اگر معروف خان کا خط کراچی سے آیا ہے تو میری طرف سے اس کو خیر خیریت لکھیں اور چھو ٹے بھائی معظم خان کو بھی لکھیں کہ وہ کس جگہ ہے۔ معلوم نہیں اس کی یونٹ کس محاذ پر ہے۔ باقی محمد خان کے گھر بتا دینا کہ سب خیریت ہے۔ ہم روز ٹیلیفون پر ملتے ہیں ۔ آپ ہر نماز کے بعد ہم تینوں بچوں کے حق میں دعا کرنا ۔ خداوند کریم نے ہمیں جس مقصد کے لئے پیدا کیا ہے اس میں کامیاب کرے ۔ اب میں ختم کرتا ہوں میری طرف سے عزیزم بھائی اور دونوں ہمشیرہ کو السلام علیکم ۔ چھوٹے بچوں کو پیا ر ۔ میرے پیارے بچے محمد رفیق کو بہت بہت پیار۔ السلام علیکم ۔ خط کا جواب جلد دینا۔ نائیک محبوب خان ۔ ''

سپاہی محمد یونس شہید کا تعلق بھی 7 آزاد کشمیر رجمنٹ سے تھا ، وہ اپنی دلیری ، فرض شناسی اور جذبے کے باعث ساری یونٹ میں ممتاز تھے۔ انہوں نے چاند پہاڑی ( کشمیر ) سے ایک عجیب و غریب خط اپنے والد گرامی کو تحریر کیا ۔ یہ ان کا آخری خط ہے۔ اس پر پانچ دسمبر1971 ء کی تاریخ لکھی ہوئی ہے۔ یونس کی شہادت کے بعد یہ خط ان کے والد محترم کو موصول ہوا ۔ سپاہی محمد یونس لکھتے ہیں کہ بعد ادب آداب کے احوال آنکہ 9اے کے سے تبدیل ہو کر7 اے کے رجمنٹ میں کرنیل یوسف صاحب نے منگوا لیا ہے۔ حالات جنگی خطرناک ہیں صاف نظر آرہا ہے۔ میرا بال بچہ اللہ کے سپرد ہے ۔ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ مجھے شہادت عطا کرے۔ کرنیل یوسف صاحب نے میرا نام گوریلا میں دے دیا ہے۔ آپ میرا فکر نہ کریں ۔ دعا کریں سب کے لئے۔ خدا حافظ ۔ آپ کا تابعدار''۔

75 رجمنٹ آرٹلری کے نائیک کلرک بشیر احمد جنگ 1971 کے شہید ہیں۔ ان کی یونٹ کوئٹہ سے محاذ جنگ کی طرف روں دوا ں تھی کہ انہیں اپنے گھر بیٹے کی ولادت کی اطلاع ملی۔ جنگی صورت حال کے پیش نظر نائیک بشیر احمد چھٹی پر گھر نہیں جا سکتے تھے۔ لہٰذا انہوں نے بائیس نومبر1971 کو محاذ کے قریب ہی ایک خط تحریرکیا ، جس کا متن یہ ہے۔

''السلام علیکم کے بعد واضح ہو کہ یہاں خیریت ہے ۔ صورت حال یہ کہ خوشی کا پتہ چلا ہے۔ آپ کو بھی میری طرف سے مبارک ہو۔ حالات کے باعث خط نہیں لکھ سکا۔ چھٹی کی بھی کوئی امید نہیں ہے۔ نسیم اختر ( اہلیہ ) کو میری طرف سے تسلی دینا اور مبارک باد دینا اور لکھنا کہ اس کی صحت کیسی ہے۔ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ پاکستان کو فتح دے۔ آپ کی دعائیں ہمیں پار کریں گی۔ گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ نسیم کو میری طرف سے بہت بہت پوچھنا ۔ یہ میں اس لئے کہہ رہا ہوں کہ ہو سکتا ہے کہ اب جلدی ملاقات نہ ہو سکے۔ محسوس نہ کرنا۔ ملتان سے کوئی خط آئے تو میری طرف سے دعا اور سلام کہنا۔( فقط بشیر احمد )''

40 پنجاب رجمنٹ کے حوالدار محمد ریاضت شہید خط لکھنے کے معاملے میں اپنے والد گرامی جناب محمد سوار خان کے بقول سست تھے۔ انہوں نے آخری خط 6 دسمبر 71کو سیالکوٹ محاذ سے تحریر کیا ۔ اس خط میں حالات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دعا کے طلب گار ہیں۔ وہ لکھتے ہیںکہ دیگر احوال یہ ہے کہ موقع نہ ملنے کی وجہ سے روپے ارسال نہ کر سکا۔ لہٰذا مجھے جب بھی موقع ملا آپ کی خدمت میں روپے ارسال کروں گا۔ کوئی فکر نہ کریں میں بالکل خیریت سے ہوں ۔ صرف دعا کیا کریں ۔ آپ لوگوں کی دعا کی ضرورت ہے۔ تمام دنیا کے بچوں کے لئے دعا کریں ۔ باقی مجھے پتہ ہے گھر کے حالات کا۔ مگر میں ایک ایسی جگہ پر پڑا ہوں جہاں پر روپے بھیجنے کا کوئی بندوبست نہیں ۔ باقی آپ کو ہر مہینے 50روپے ظفر اقبال کے نام منی آرڈر ملے گا۔ جب تک جنگ شروع ہے گھر کے حالات سے آگاہ رکھنا۔ سب کو السلام علیکم ۔ چھوٹے بچوں کو پیار کرنا۔ ہو سکتا ہے کہ یہ آخری خط ہو۔ لہٰذا دعا کرنا ۔ خداوند کریم خیریت سے واپس لائے۔ فقط محمد ریاضت بقلم خود

فرنٹیئر فورس رجمنٹ کے راجہ محمد اسلم کی تاریخ شہادت 9 ستمبر1965 ہے۔ ان کا آخری خط7 ستمبر65ء کا تحریر کردہ ہے ۔ جو شہادت کی اطلاع کے بعد موصول ہوا ۔ راجہ محمد اسلم شہید سیالکوٹ کے محاذ پر دفاع وطن کی مقدس ڈیوٹی ادا کر رہے تھے۔ 7 ستمبر کو ضروری سامان لینے کے لئے محاذ سے چھاؤنی آئے اور اپنے بیٹے راجہ محمد ارشد کو یہ چند سطور تحریر کیں ۔

'' عزیزم محمد ارشد ! السلام علیکم ، ہم سب خیریت سے ہیں، آپ کسی قسم کی فکر نہ کریں ۔ میں کچھ عرصے کے لئے چھاؤنی آگیا ہوں ۔ سارا گاؤں مل کر دعا کرے ۔ آپ سب دعا کرتے جاویں ۔ ہم اللہ تعالیٰ کی رحمت سے ملک کی دفاع کے لئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔ اور سب خیریت ہے ۔ خط کا جواب جلدی دیں ۔ اچھا خدا حافظ کہتا ہوں ۔ اگر زندگی نے کبھی موقع دیا تو ملاقات ہو گی۔ ( خط میں اہلیہ کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا) دیکھو بچوں کا خیال رکھنا ، ان کو کسی قسم کی تکلیف نہ ہو ۔ صرف دعا کریں ۔

اچھا خدا حافظ ، والسلام 

تمھارے ابا جان ۔۔۔۔۔ راجہ محمد اسلم ''

45 پنجاب رجمنٹ کے حوالدار لال خان سیالکوٹ کے موضع دھمتل میں آسودہِ خاک ہیں ۔ ان کی تاریخ شہادت 14 دسمبر1971ء ہے۔ آپ شکرگڑھ کے محاذ پر بر سر پیکار تھے۔ انہوں نے شہادت سے دو ہفتے قبل گھر خط لکھا۔ وہ لکھتے ہیں کہ کل گھرسے خط آیا تھا ۔ انہوں نے لکھا ہے کہ کافی لوگ گھروں سے چلے گئے ہیں اور سامان وغیرہ بھی ساتھ لے گئے ہیں ۔ اور انہوں نے آپ کے بارے میں لکھا ہے کہ ابھی تک گاؤں میں ہیں ۔ عرض یہ ہے کہ جنگ شروع ہو چکی ہے۔ حالات اچھے نہیں ہیں ۔ جیسا کہ آپ بھی دیکھ رہے ہیں۔ ہم نے تو اپنی جانیں خدا کے سپرد کی ہوئی ہیں ۔ اور اللہ ہی ہمارا پاسبان ہے ۔ اکیلا میں نہیں بلکہ لاکھوں میرے ایسے بھائی جو میرے ساتھ ہیں ۔ آپ سے دعا کی درخواست ہے۔ دیگر بات یہ ہے کہ میں ایسی جگہ پر ہوں جس کے متعلق آپ کو بتا نہیں سکتا۔ بہر حال گھر کی مجھے ہر وقت فکر اور خیال رہتا ہے۔ ''

کور آف انجینئر کے حوالدار محمد بشیر خان شہید کو میلا چھاؤنی ( مشرقی پاکستان ) میں ابدی نیند سو رہے ہیں ۔ انہیں دشمن کی یلغار روکنے کے لئے کومیلا سیکٹر میں سرنگیں بچھانے کا فرض سونپا گیا تھا۔ وہ فرائض کی ادائیگی کے دوران پندرہ دسمبر71ء کو دشمن کی توپ کا گولہ لگنے سے شہید ہو گئے۔ انہوں نے تیس نومبر 71 ء کو آخری خط لکھا تھا۔ شہید لکھتے ہیں کہ میں کہیں جلدی میں باہر جا رہا تھا۔ اب خط لکھنا ضروری سمجھا۔ تاکہ فکر اندیشہ نہ ہو۔ عید ہم نے باہر ہی کی تھی۔ بس عید کیا تھی ۔ عید کی رات قیامت خیز رات تھی۔ پہلے شام کو کچھ کام کرنا تھا مگر ہماری حرکات کا دشمن کو علم ہو گیا تو اس نے ہمارے اوپر بم گرائے۔ مگر خدا کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ ہمارے کسی آدمی کو خراش تک نہیں آئی ۔ خیر کچھ کام ٹھنڈا ہونے کے بعد رات کی تاریکی میں ہم نے اپنا کام مکمل کیا اور پھر دس میل پیدل چل کر کو میلا پہنچے اور بس چند گھنٹے آرام کیا ۔ ایسی عید تو پہلے کبھی نہ ہوئی تھی۔ اس لئے زندگی بھر یہ عید کبھی نہ بھولے گی۔ اب دشمن کھلی جارحیت کر رہا ہے۔ ابھی تک جنگ کومیلا کے نزدیک پاکستانی علاقے میں نہیں ہوئی ۔ اور اگر اب اس نے ہماری پلٹن کو للکارا تو ہم منہ توڑ جواب دیں گے۔ والدہ صاحبہ کی خدمت میں سلام عرض ہو ۔ گھبرائیں نہیں ۔ خدا کے فضل و کرم سے ملاقات ہوگی۔ میں بالکل گھبراہٹ میں نہیں ہوں ۔ تسلی رکھیں خدا بہتر کرے گا۔ سب کو درجہ بدرجہ سلام ۔ والسلام  آپ کا بھائی محمد بشیر کومیلا کینٹ ''

7 آزاد کشمیر رجمنٹ کے نوجوان سپاہی محمد عزیز شہید تمغہ جرأت بھی ہیں ۔ انہوں نے آخری خط میں والد گرامی کو تسلی دیتے ہوئے کہا آپ کسی قسم کی فکر نہ کریں ۔ بے شک حالات اچھے نہیں ہیں ۔ مگر یہ بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش کے دن ہوتے ہیں۔ تو اس وقت جو مسلمان ثابت قدم رہے وہی سچا مسلمان کہلاتا ہے۔ ان شاء اللہ تعالیٰ دل مضبوط ہیں اور کسی قسم کی فکر نہیں ہے۔ بلکہ جہاد کرنے کا موقع کسی کسی کو نصیب ہوتا ہے۔ جناب والدہ صاحبہ کو بھی تسلی دیں۔ میری طرف سے تمام کنبے والوں کو بہت بہت سلام ، ان شاء اللہ زندگی ہوئی تو پھر ملاقات کریں گے۔ فقط  خدا حافظ ۔ آپ کا بیٹا محمد عزیز۔

اور اب ایک شہید افسر کے خط کا مطالعہ کیجئے ۔ میجر ادیب انور شہید کا تعلق دس فرنٹیئر فورس رجمنٹ سے تھا ۔ انہوں نے 7 دسمبر1971ء کو والدہ محترمہ کے نام یہ خط لکھا:

پیاری اماں جان !

السلام علیکم ! مجھے افسوس ہے کہ میں جلدی آپ کو خط نہ لکھ سکا ۔ میں یہ خط جلدی میں اس لئے لکھ رہا ہوں کہ آپ خواہ مخواہ فکر کر رہی ہوں گی کہ لڑائی چھڑ گئی ہے۔ آپ ریڈیو پر جیسے سنتے ہوں گے کہ دشمن کو بری طرح شکست ہو رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی مہربانی ہے۔ ان شاء اللہ دشمن کو جلد ہی شکست ِ فاش ہوگی۔ آپ کو پاکستان کی سلامتی کے لئے دعا کرنی چاہئے۔ کیونکہ دشمن کا یہی ارادہ ہے کہ پاکستان کے ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں ۔ اس وقت آپ کو فکر کے بجائے خوش ہونا چاہئے کہ ہم کافروں کے خلاف جنگ کر رہے ہیں ۔ یہ جنگ اسلام اور کفر کی جنگ ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ ہمیشہ ہمارے ساتھ ہے۔ آپ بالکل مطمئن رہیں اور صرف دعا کریں ساری افواج کی فتح کے لئے۔ میں شاید جلدی جلدی خط نہ لکھ سکوں ۔ اس لئے آپ فکر نہ کریں۔ جب بھی  مجھے وقت ملے گا میں فوراً خط لکھا کروں گا۔ میری طرف سے سب کو سلام ، آ پ کا بھیجا ہو پارسل مجھے ملا ہے۔ شکریہ ۔ والسلام

آپ کا بیٹا ادیب ''

جنگ کے دوران محاذسے تحریر کئے گئے شہیدوں کے یہ خط پاک افواج کے دفاعِ وطن کے لئے عزم صمیم کی عکاسی کرتے ہیں ۔ افسر اور جوان وردی کا کفن پہنے وطن عزیز کی سربلندی اور حفاظت کی خاطر ہر قسم کی قربانی دینے کے لئے ہمہ وقت تیار ہیں۔


بر یگیڈیئر (ر) صولت رضا نے 1970ء میں پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے صحافت کیا ۔ اگست1972ء میں پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول سے پاس آوٹ ہوئے اور رجمنٹ آف آرٹلری میں تعینات کیئے گئے۔ اکتوبر 1972ء میں ان کی خدمات آئی ا یس پی آر کے سپرد کر دی گئیں ۔ جہاں تیس برس خدمات انجام دینے کے بعد ریٹائر ہوئے۔

مصنف''کاکولیات ''اور ''غیر فوجی کالم '' کتب کے مصنف ہیں ۔ 

[email protected]

 

Comments



Note: No comments!



Leave a Reply

Success/Error Message Goes Here
Note: Please login your account and then leave comment!
TOP