کچھ حاصلِ احوال بھی ہو

سوشل میڈیا ایک ایسی طاقت ہے جو ذہنوں کا دھارا بدلنے میں معاون ہو سکتی ہے۔ اس کا مثبت استعمال کسی بھی معاشرے کوپُرامن اور باہمی یگانگت سے بھرپور معاشرہ بنا سکتا ہے۔ شومیِ قسمت کہ ہمارے ہاں سوشل میڈیا جس انداز سے سامنے آرہا ہے اس کا کردار زیادہ قابلِ تعریف دکھائی نہیں دیتا۔

 

آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ سوشل میڈیا کا فورم افراد اور اداروں کی کر دار کشی کرنے کے لئے بھی استعمال ہو رہا ہے۔ فیس بک پرجعلی اکائونٹ بنا کر پروپیگنڈہ کرنا ایک عام مشاہدہ ہے۔ ایسے بننے والے جعلی اکائونٹ کو ڈیل کرنے کے دو طریقے ہو سکتے ہیں جس پر ہماری حکومت کام کر رہی ہے۔  ایف آئی اے کے ذریعے روک تھام جس پر وہ کام کر رہی ہے مگر پھر بھی فیس بُک پر اکاونٹ بناکر غیر قانونی کارروائیاں کرنا نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ اس کے علاوہ سائبر ایکسپرٹس پر مشتمل ایک مانیٹرنگ سیل بنانے کے ضرورت ہے جو ان چیزوں کا مقابلہ کرسکے۔

 

ہمارے پاس سائبر لاء تو موجود ہے مگر ضرورت اِس امر کی ہے کہ ان قوانین پر عملدرآمد بھی کیا جائے۔ سوشل میڈیا ہمارے معاشرے کے لوگوں کی اخلاقی اقدار کو بہت حد تک متاثر کر رہا ہے۔ کچھ لوگ اِس کو مجرمانہ حرکتوں کے لئے بھی استعمال کرتے ہیں۔ آج کی دنیا ایک گلوبل ویلیج بن چکی ہے جس میں ہزاروں میل دور بیٹھے کسی بھی فرد سے بآسانی بات چیت ممکن ہے مگر بد قسمتی سے اِس کا مثبت استعمال کرنے کے بجائے دوسروں کو دھوکہ دے کر اپنے ذاتی فائدے کے لئے استعمال کرنا بھی بہت عام ہوچکا ہے۔سوشل میڈیا کو انسان کا مددگار ہونا چاہئے تباہی کا باعث نہیں۔ ایک فلاحی معاشرہ اِسی طرح پروان چڑھ سکتا ہے۔میڈیا ایک اتنی بڑی طاقت ہے کہ یہ لوگوں کے ذہنوں کو بدل سکتی ہے اور اُن کے سوچنے کے انداز کو ایک دوسری نہج پر ڈال دیتی ہے۔ صرف اس کو معاشرے کی اصلاح کے لئے استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔بدقسمتی سے آج کل میڈیا کے لئے خبر کا معیار بیشتر منفی خبر ہے۔ بُری خبروں کی سرخی زیادہ بڑی کرکے دکھائی جاتی ہے۔ اِس منفی اپروچ سے تاثر یہ ملتا ہے کہ معاشرے میں برائی زیادہ ہے۔یہ عمل،منفی رویّے ، منفی سوچ اور تنقیدی رویّے کو جنم دیتا ہے۔

 

پاکستان میں لوگوں کے بڑھتے ہوئے منفی رویّے کی ایک اہم وجہ ذرائع ابلاغ کا منفی استعمال ہے۔ تنقید، مذمت، چوری، کرپشن جیسی خبروں کو زیادہ جگہ دی جاتی ہے۔ لوگوں کے عیبوں کو اُبھارا جاتا ہے۔ یہ بات صحیح ہے کہ اصلاح کے لئے خامیوں کا علم ہونا بھی ضروری ہے مگر ایسی باتیں کتنے لوگوں تک پہنچنی چاہئیں، اِس کا تعین کرنا ضروری ہے۔

 

اِسی طرح سوشل میڈیا پر سیاسی جماعتوں کی لڑائیاں بہت عام ہیں۔ سیاسی بنیادوں پر اِس کو کسی کی کردار کشی کرنے کے لئے استعمال کیا جائے تو یہ انتہائی قابلِ مذمت ہے ۔

ان حالات میں ضروری ہے کہ گھروں میں والدین اپنے بچوں کو Sensitise کریں کہ وہ اچھے اور بُرے میں فرق کو پہچانیں اور یہ حقیقت بھی ماننی پڑے گی کہ سوشل میڈیا میں جس حد تک حیرت انگیز تبدیلیاں آئی ہیں اُس کی رسائی کوبلاک کرنا بھی مشکل ہے۔ اِس لئے انفرادی طور پر بھی اتنی سمجھ بُوجھ ہونی چاہئے کہ آپ منفی مواد کو رد کر سکیں ۔

 

ابھی کچھ عرصہ ہی ہوا ہے اس واقعے کو رونما ہوئے کہ جب ایک اچھے بھلے معزز شخص کو سوشل میڈیا کے ایک جعلی اکائونٹ سے مذہبی بنیادوں پر نشانہ بنایا گیا ۔۔۔۔۔

میڈیا ہماری سمت اور مقصد کے تعین میں بہت اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ہمیں کیا کرنا ہے اور ہمیں کِس نہج پہ سوچنا ہے، یہ ترجیحات میڈیا ہمارے لئے سیٹ کرتا ہے اور اس میں ممد و معاون ہوتا ہے۔بدقسمتی سے ہماری سوسائٹی میںایسے افراد کی کمی نہیں جو کسی اعلیٰ مقصد کے بغیر ہی زندگی گزار رہے ہیں۔ ایسے لوگ میڈیا کے اثرات کو بہت جلد قبول کرتے ہیں۔

 

کہتے ہیں کہ کوئی بھی چیز بُری نہیں ہوتی اُس کا استعمال اُسے اچھا یا بُرا بنا دیتا ہے۔ مگر چونکہ سوچ کے تانے بانے بھی میڈیا ہی سیٹ کرتا ہے اِس لئے دانشوروں کو ایسی سوچ وضع کرنی چاہئے جو مثبت ہو اورمعاشرے میں امن اور رواداری کا باعث بنے۔

ہمارا آج کا طالبعلم سوشل میڈیا پہ اپنا بہت وقت ضائع کرتا نظر آرہا ہے مطالعے کا فروغ کم ہوتاجارہا ہے۔ پوسٹوں کو لائیک کرنا ۔ اُن کو شئیر کرنا اور ان پر کومِنٹ کرناسراسر وقت کا ضیاع ہے۔ جو اُن کو عملی زندگی سے دور لے جاتا ہے یہ ایک طرح کے غیر اخلاقی اور غیرذمہ دار کردار کو پروان چڑھاتا ہے۔

 

آج کے دور میں میڈیا کو اپنا کردار انتہائی ذمہ داری سے ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ ٹی وی پہ کمرشل انٹر نیٹ کے تحت خبریں بیچی جاتی ہیں۔ ایسی پالیسی وضع کرنے کی ضرورت ہے کہ سنسنی خیزی نہ پھیلائی جائے۔ خبر کو نشر کرنے کا انداز کیسا ہونا چاہئے اس کا بھی تعین کرنے کی ضرورت ہے۔

میڈیا کے پاس ڈائریکٹر نیوز ایک واضح اختیار کے ساتھ مقرر ہوں اور اُن کو یہ علم ہونا چاہئے کہ اُنھیں مختلف نوعیت کی خبروں کے حوالے سے مخصوص اوقات میں کیا پوزیشن لینی ہے۔بریکنگ نیوز کو سب سے پہلے آن ائیر کرنا اور مختلف قسم کی خبروں کو کس طرح نشر کرنا ہے، یہ تعین کرنا بھی نہایت اہم ہے۔

 

بریکنگ نیوز کی دوڑ نے الیکٹرانک میڈیا خصوصاً نیوز چینلز کی Credibility کے ایشوز بھی پیدا کئے ہیں۔ اکثر اوقات جلدی میں بغیر تحقیق اور تصدیق کے خبر نشر کر دی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج ہم الیکٹرانک میڈیا کی خبروں پہ نہ تو یقین کرتے دکھائی دیتے ہیںاورنہ ہی اُنھیں حرفِ آخر سمجھتے ہیں۔ کیونکہ اکثر اوقات چینل خود ہی اپنی خبر کی تردید کردیتا ہے۔ مثال کے طور پر دھماکے سے متعلقہ خبریں نشر کرنا اور پھر تھوڑی دیر بعد اُن کی تردید کا سامنے آنا کہ یہ گیس سلنڈر کا دھماکہ تھا۔مسابقت اچھی بات ہے لیکن لوگوں کو اگر خبروں کے ذریعےinform Mis کیا جارہا ہو تو یہ اخلاقی طور پر بھی غلط بات ہے اور یہ کسی بھی چینل کے لئے نقصان کا باعث ہوتا ہے کیونکہ لوگ اُن کی خبروں پہ یقین کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔ میرے خیال میں سوشل میڈیا پر خبروں کا بغیر کسی تاخیر اور تحقیق کے آنا بھی اس کی وجہ ہے۔ ٹی وی چینلز سوشل میڈیا پر خبر آنے کے بعد اکثر پریشر میں آکر خبر کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔ جن کا عمومی سورس سوشل میڈیا ہوتا ہے نہ کہ ادارے کا اپنا رپورٹر۔

 

اسی طرح خبروں اور تفریح میں فرق سمجھنا ضروری ہے مگر ہمارے ہاں ان دونوں کو ملا کر ایک عجیب و غریب ملغوبہ بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ جرائم پیشہ افراد کے چہرے سے نقاب اٹھانے کے ساتھ ساتھ ان کے جرائم کرنے کے طریقے بھی ٹی وی پروگرامزکے ذریعے بتائے جاتے ہیں۔ فیشن کے نام پر اسلامی اقدار کی نفی کرنا اور غیر ملکی اور رومان انگیز ڈرامے دکھا کرنوجوانوں کے اخلاق کو متاثر کرنا بھی ایک منفی عمل ہے۔معاشرے کی تلخ حقیقتوں کی عکاسی کرنا اور ہمارے اندر پائی جانے والی برائیوں کو اُجاگر کرنے کے چکر میں عوام ان بُرائیوں کو اپنانا شروع کر دیتی ہے، اس طرح معاشرتی زوال پیدا ہوتا ہے۔فروغِ علم اور قومی یکجہتی کا فروغ پس منظر میں چلا جاتا ہے جب صحافت یا الیکٹرانک میڈیا مشن کے بجائے کاروبار بن جائے اور کاروبار کے فروغ کومعاشرے پر فوقیت دی جائے تو زوال کا پیدا ہونا بعید نہیں۔ اگر ٹی وی چینلوں کے اینکرپرسن تعصب کی بنیاد پر جان بوجھ کر اپنے مہمانوں سے اشتعال انگیز سوال کریں گے تو عین ممکن ہے کہ یہ تعصبات بعدازاں گلی محلوں میں نعروں کی شکل اختیار کرلیں اور معاشرے میں بدامنی کاباعث بنیں گے۔ 

 

میڈیابشمول سوشل میڈیا معاشرے کا حصہ اور اس کی عکاسی بھی ہے۔ اِس میںہرحصہ لینے والے کو اپنی ذمہ داری کا اِدراک اور احساس ہونا چاہئے ،چوبیس گھنٹے نئی خبر دینے کا پریشر اپنی جگہ، مگر من حیث القوم ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ خبروں کی دوڑ میں اور ریٹنگ کی مسابقت میں اتنا مصالحہ نہ ڈالا جائے کہ خبر کی نوعیت ہی تبدیل ہو جائے۔ ایسی Practices ہی روائتی جرنلزم کو Yellow جرنلزم کی طرف لے جاتی ہیں جو آخر کار معاشرے میں بگاڑ کا سبب بنتی ہیں۔


[email protected]

Comments



Note: No comments!



Leave a Reply

Success/Error Message Goes Here
Note: Please login your account and then leave comment!
TOP