کشمیر کی مٹی  ہمیں عزیز ہے

 

بھارتی فائرنگ سے معذور ہونے والے معصوم شہریوں کو مصنوعی اعضاء لگا کر اُنہیں

فعال شہری بنانے میں پاک فوج کے کردار سے متعلق میجر ریحان کی رپورٹ

 

اس جنت میں خوبصورت وادیاں ہیں ، جھیلیں ہیں، چشمے ہیں ، سر سبز جنگل ہیں، لہلہاتے کھیت ہیں، پرندوں کی چہچہاہٹ ہے اور ہواؤں کی سر سراہٹ ہے۔انہی سے لطف اندوز ہونے کے لئے پوری دنیا سے لوگ اس جنت نظیر کی سیر کرنے آتے ہیں۔یہاں کے لوگ ملنسار ہیں، مہمان نواز ہیں ، سادگی کا پیکر ہیں۔زیادہ تر لوگ کھیتی باڑی کرتے ہیں، بھیڑ بکریاں پالتے ہیں اور رزق حلال سے اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ بھرتے ہیں۔بچوں کو سکول جانے اور پڑھنے کا شوق ہے ۔ سکول دُور دُور ہیں، میلوں پیدل چل کر جانا پڑتا ہے۔صحت کی سہولیات کا بھی یہاںشدید فقدان ہے۔ ان مسائل کے ساتھ ساتھ لائن آف کنٹرول پر فائربندی ہونے کے باوجود بھارتی جارحیت کی وجہ سے لوگوں کو بہت سے مسائل کا سامنا کر نا پڑتا ہے۔بھارتی ناسور کبھی مارٹر گولے پھینک کر جنت کی فضا کو سوگوار کرتے ہیں تو کبھی IEDاور مائینز لگا کر لوگوں کی زندگیاں چھین لیتے ہیں۔ قیمتی اعضاء سے بچوں اور بو ڑھوں کو محروم کر دیتے ہیں اور یہاں کا حسن برباد کرتے ہیں۔

 

کشمیر میں سیز فائر کی خلاف ورزی سب سے زیادہ ضلع حویلی اور اس کے گردونواح میں ہے ۔ اس شرانگیزی سے سب سے زیادہ اسی علاقے کے لوگ متاثر ہوتے ہیں ۔یہاں کے متاثرہ لوگوں کے لئے ایم ڈی ایس فارورڈ کہوٹہ ایک مسیحا کی حیثیت رکھتا ہے۔یہ میڈیکل بٹالین یہاں کے لوگوں کے علاج، سرجری اور مصنوعی اعضاء لگوانے کے لئے کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔اس خصوصی رپورٹ میں ایسے ہی تین واقعات کا ذکر کیا گیا ہے۔

 

28دسمبر 2015کی ایک درد ناک دوپہر،ماں باپ کا فرمانبردار، ساتویں جماعت کا طالب علم،12سالہ عاقب، سکول سے واپسی پر اپنے گھر کی طرف رواں دواں تھا کہ اچانک اس کا پاؤں ایک مائن پر آتا ہے، زور دار دھماکہ ہوتا ہے اور عاقب اپنی ایک ٹانگ سے محروم ہو جاتا ہے۔رکھ چکڑی سیکٹر سے اسے ایم ڈی ایس فارورڈ کہوٹہ لایا گیاجہاں اسے ابتدائی طبی امداد دی گئی۔ابتدائی طبی امداد کے بعد سی ایم ایچ راولا کوٹ میں علاج جاری رہا۔وہاں سے آرمڈ فورسز انسٹیٹیوٹ آف ری ہیبلیٹیشن میڈیسن راولپنڈی بھیجا گیاجہاں اسے مصنوعی ٹانگ لگی۔بڑھتی عمر کے ساتھ ساتھ مصنوعی ٹانگ چھوٹی پڑ گئی۔ مصنوعی ٹانگ کی تبدیلی کے لئے عاقب کے والدین نے کمانڈنگ آفیسر لیفٹیننٹ کرنل محمد حاطف اقبال سے رجوع کیا جس پر انہوں نے دکھی والدین کی مدد کی ٹھان لی۔ آرمڈ فورسز انسٹیٹیوٹ آف ری ہیبلی ٹیشن میڈیسن راولپنڈی سے رابطہ قائم کیا گیا اور تین ہفتوں کی قلیل مدت میں مصنوعی ٹانگ تبدیل کروائی گئی۔

 

یکم اکتوبر2017بارہ سالہ یاسرہ، ڈاکٹر بننے کا شوق رکھتی ہے، سکول سے واپسی ، دوپہر کا وقت، بٹل سیکٹر، بھارتی شیلنگ شروع کر دیتے ہیںاور سول آبادی کو نشانہ بناتے ہیں اور یاسرہ اپنی ٹانگ سے محروم ہو جاتی ہے۔ابتدائی طبی امداد اسی میڈیکل بٹالین کے ایڈوانس ڈریسنگ اسٹیشن ہجیرہ میں دی گئی۔  سی ایم ایچ راولا کوٹ میں علاج جاری رہا۔چیف آف آرمی سٹاف کی ہدایت پر کمانڈنگ آفیسر نے یاسرہ کے والدین سے رابطہ قائم کیا۔ اس کے بعد اسے ایم ڈی ایس لایا گیا اور ابتدائی سرجری ہوئی۔ابتدائی سرجری کے بعد آرمڈ فورسز انسٹیٹیوٹ آف ری ہیبلی ٹیشن میڈیسن راولپنڈی سے مصنوعی ٹانگ لگوائی گئی۔

 

29ستمبر2017بائیس سالہ عالم بی ، شام کا وقت، بھیڑ بکریوں کے لئے گھاس کاٹنے جاتی ہے گھر واپسی پر اس کا پاؤں اچانک IEDپر آجاتا ہے ۔ IEDبلاسٹ ہو جاتی ہے اور عالم بی بی اپنی ٹانگ گنوا بیٹھتی ہے۔ابتدائی علاج ایم ڈی ایس فارورڈ کہوٹہ میں کیا جاتا ہے۔اس کے بعد سے ایک ٹانگ سے محروم ہونے کی وجہ سے وہ بے بسی کی زندگی گزار رہی ہوتی ہے۔والدین اپنی بیٹی کو محرومی کی زندگی سے نکالنے کے لئے کوشاں رہتے ہیں۔ مارچ 2018 میں والدین نے ایم ڈی ایس فارورڈ کہوٹہ کے کمانڈنگ آفیسر سے رابطہ قائم کیااور انہوں نے ہمیشہ کی طرح ایک بار پھر مصیبت زدہ والدین کی مدد کی ٹھان لی۔اور تین ہفتوں کی مختصر مدت میں آرمڈ فورسز انسٹیٹیوٹ آف ری ہیبلیٹیشن میڈیسن راولپنڈی سے مصنوعی ٹانگ لگوائی گئی۔

 

ان مریضوں کے انخلاء ، قیام و طعام اور سفر کا انتظام ایم ڈی ایس فارورڈ کہوٹہ نے کیا ۔ کمانڈنگ آفیسر نے ایک نرسنگ اسسٹنٹ کو ان کے ساتھ بھیجا تاکہ کسی بھی جگہ پر کسی قسم کی کوئی دقت پیش نہ آئے ۔ تینوں مریض مصنوعی ٹانگ لگنے کے بعد اپنی زندگی خوش و خرم گزار رہے ہیں ۔ اب روز مرہ کے کاموں میں انہیں دوسروں کا محتاج نہیں ہونا پڑتا۔عاقب اور یاسرہ نے سکول جانا شروع کر دیا ہے اور ان کا عزم ہے کہ وہ فوجی ڈاکٹر بن کر ملک و قوم کی خدمت کریں گے۔انہیں خوش دیکھ کر کشمیریوں کے دلوں میں پاک فوج کے لئے محبت اور احترام مزید بڑھ گیا ہے۔کشمیر کی عوام چیف آف آرمی سٹاف، آرمی میڈیکل کور اور ایم ڈی ایس فارورڈ کہوٹہ کو تہہ دل سے خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔

 یہ کہا جا سکتا ہے ایم ڈی ایس فارورڈ کہوٹہ ضلع حویلی کے لوگوں کی مشکلات کم کرنے میں پیش پیش ہے اور ایک مسیحا کی حیثیت رکھتا ہے ۔اور یہ پاک فوج کے مایہ ناز ڈاکٹروں اور سٹاف کی مہارت اور کام سے لگن کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ پاک فوج کی غیب سے مدد کرے اور یہ ہمیشہ مادرِ وطن کی بہتری اور بھلائی کے لئے کام کرتے رہیں۔

(آمین)

Comments



Note: No comments!



Leave a Reply

Success/Error Message Goes Here
Note: Please login your account and then leave comment!
TOP